ایران :نوجوان نے نو منتخب گورنرکو دوران خطاب تھپڑماردیا

iran-governor-slap21.jpg


ایران میں نوجوان نے نو منتخب گورنر کو عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران تھپڑ ماردیا۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی صوبے مشرقی آذر بائیجان میں نوجوان نے نومنتخب گورنر زین العابدین خرم کو تھپڑ رسید کر دیا جب وہ جنوب مشرقی شہر تبریز کی امام خمینی مسجد میں تقریر کر رہے تھے۔

خبر رساں ایجنسی نے اس واقعہ کی فوٹیج بھی جاری کی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نوجوان آرام سے چلتا ہوا گورنر کے قریب آکر انہیں تھپڑ مار دیا اور وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم گورنر کے سیکیورٹی گارڈز نے فرار کی کوشش کرنے والے نوجوان کو پکڑ لیا اور اسٹیج سے نیچے لے گئے۔

نومنتخب گورنر کے امام خمینی مسجد میں خطاب کے دوران آیت اللہ خمینی دفتر کے نمائندگان اور دیگر اعلی عہدے دار بھی موجود تھے۔


ایرانی میڈیا کے مطابق گورنر کو تھپڑ مارنے والے نوجوان کی شناخت ایوب علی زادے کے نام سے ہوئی ہے جس کا تعلق ملک کی مسلح افواج سے ہے۔

اس حوالے سے گورنر زین العابدین خرم نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کے دوران بتایا کہ وہ حملہ آور کو ذاتی طور پر نہیں جانتے، نوجوان نے پولیس کو بیان دیا کہ اس حملے کا مقصد کسی طور بھی سیاسی نہیں بلکہ ذاتی تھا کہ کورونا ویکسینیشن سینٹر میں خاتون نرس کے بجائے مرد سٹاف کی جانب سے اس نوجوان کی اہلیہ کو ویکسین لگائی گئی تھی جس پر اسے غصہ تھا جس کے نتیجے میں یہ واقعہ پیش آیا۔
 
Advertisement

The Sane

Chief Minister (5k+ posts)
iran-governor-slap21.jpg


ایران میں نوجوان نے نو منتخب گورنر کو عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران تھپڑ ماردیا۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی صوبے مشرقی آذر بائیجان میں نوجوان نے نومنتخب گورنر زین العابدین خرم کو تھپڑ رسید کر دیا جب وہ جنوب مشرقی شہر تبریز کی امام خمینی مسجد میں تقریر کر رہے تھے۔

خبر رساں ایجنسی نے اس واقعہ کی فوٹیج بھی جاری کی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نوجوان آرام سے چلتا ہوا گورنر کے قریب آکر انہیں تھپڑ مار دیا اور وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم گورنر کے سیکیورٹی گارڈز نے فرار کی کوشش کرنے والے نوجوان کو پکڑ لیا اور اسٹیج سے نیچے لے گئے۔

نومنتخب گورنر کے امام خمینی مسجد میں خطاب کے دوران آیت اللہ خمینی دفتر کے نمائندگان اور دیگر اعلی عہدے دار بھی موجود تھے۔


ایرانی میڈیا کے مطابق گورنر کو تھپڑ مارنے والے نوجوان کی شناخت ایوب علی زادے کے نام سے ہوئی ہے جس کا تعلق ملک کی مسلح افواج سے ہے۔

اس حوالے سے گورنر زین العابدین خرم نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کے دوران بتایا کہ وہ حملہ آور کو ذاتی طور پر نہیں جانتے، نوجوان نے پولیس کو بیان دیا کہ اس حملے کا مقصد کسی طور بھی سیاسی نہیں بلکہ ذاتی تھا کہ کورونا ویکسینیشن سینٹر میں خاتون نرس کے بجائے مرد سٹاف کی جانب سے اس نوجوان کی اہلیہ کو ویکسین لگائی گئی تھی جس پر اسے غصہ تھا جس کے نتیجے میں یہ واقعہ پیش آیا۔
یہاں تین دفعہ کے دلوں کے وزیرِ اعظم کو لتر پڑ چُکا ہے، وہ تو صرف پہلی دفعہ گورنر بنا ہے

maxresdefault.jpg
 
Sponsored Link