ایمان مزاری کے ماضی کے متنازعہ بیانات اور شیریں مزاری کا ردعمل

shireen-imaan-mazari11.jpg

تحریک انصاف کی رہنما اور وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اور ان کے بیٹی ایمان زینب مزاری کے مابین سیاسی نقطہ نظر کا اختلاف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کیونکہ دونوں ماں بیٹی کے درمیان اکثر سوشل میڈیا پر نوک جھونک دکھائی دیتی ہے۔

وفاقی وزیر کی صاحبزادی ایمان زینب مزاری اکثر اپنی ٹویٹس کے باعث خبروں کی زینت بنی رہتی ہیں۔ حالیہ ٹویٹ میں انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ اگرملک کو جادو ٹونے سے ہی چلانا تھا تو پھراس قوم کا پیسہ اتنی بڑی کابینہ پر کیوں ضائع ہو رہا ہے؟

انہوں نے مزید کہا ملک کا مذاق جادو ٹونے سے اڑایا جا رہا ہےاورآپ چاہتے ہیں کہ جادو کرنے والوں پر بات بھی نہ ہو، ایسا تو ہرگزنہیں ہوگا۔


ان کی یہ ٹویٹ بی بی سی میں پاکستانی خاتون صحافی عاصمہ شیرازی کے لکھے گئے کالم کے بعد ان کیخلاف سوشل میڈیا پرچلائےجانے والے ٹرینڈز کے تناظرمیں ہی تھا۔ جس کے جواب میں شیریں مزاری نے ٹوئٹر پر ہی بیٹی کو جواب دیتے ہوئے لکھا "مجھے شرمندگی ہے کہ آپ اس حد تک جا کر ذاتی حملے کر رہی ہیں، جب کہ بطورایک وکیل آپ کو علم ہونا چاہیے کہ بغیرکسی ثبوت کے ایسے الزامات عائد کرنا ہتک عزت ہے۔

مگر ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ وہ موجودہ حکومت یا اپنی والدہ کے سیاسی نظریے سے اختلاف رکھتی ہیں وہ حکومت کے علاوہ پاک فوج کے حوالے سے بھی متنازع بیان دے چکی ہیں جس پر خاصی بحث ہو چکی ہے۔ دسمبر 2017 میں ایمان مزاری نے تحریک لبیک کا دھرنا ختم کرانے میں فوج کے کردار اور گرفتار دھرنا شرکا کی رہائی پران میں پیسے تقسیم کرنے سے متعلق معاملے پر بھی ایک بیان دیا تھا جس میں نہایت سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔

ایمان مزاری نے کہا تھا کہ اگر آپ کو تھوڑی سی بھی امید ہے کہ پاکستان ایک دن پروگریسو اور جمہوری ملک بن سکے گا جہاں لوگوں کی زندگی اور ان کےحقوق کو تحفظ ہو گا توآپ کو بولنا چاہیے، ڈرنے کا وقت ختم ہو گیا۔ اس پر بھی جواب میں شیریں مزاری نے کہا تھا کہ ایمان کے بیان سے متفق نہیں ہوں۔ پاک فوج کیخلاف بیان بیٹی کی اپنی رائے ہے، جس سے کوئی بھی اختلاف کرسکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا تھا ایمان بالغ ہے اور یہ اس کا اپنا نکتہ نظرہے، ہمیں زندگی کے تجربات سے سیکھنا چاہیے۔ 2018 میں بھی ایمان نے ایک بار پھر پاک فوج کی مخالفت کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کو بھی تسلی دے دی تھی۔

ایمان زینب نے لکھا تھا، سویلینز پر بہت ترس آنے لگا ہے، کرپشن پر بھی صرف انہیں نکالا اورغداری کا لیبل بھی صرف انہی پر لگایا گیا۔ انہوں نے نوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ نوازشریف جتنا میں آپ کو اورآپ کی سیاست کو ناپسند کرتی ہوں ، میں آپ کے سوال کا جواب دے سکتی ہوں ، آپ کو اس لیے نکالا کیونکہ آپ سویلین ہیں اور فوجی نہیں۔

وہ پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا کو بھی تنقید کا نشانہ بنا چکی ہیں، جنوری 2019 میں فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کے دوران مہمند ڈیم کے کنٹریکٹ سے متعلق سوال پرتلخی بھرے لہجے میں صحافی سے کہا تھا کہ ایسے سوال کی صرف آپ سے توقع تھی۔ آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اس کا مائیک پھینک دیتا۔

news-1543069782-8221.jpg


فیصل واوڈا کے اس جواب پر صحافیوں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بائیکاٹ کردیا تھا۔ ان کے اس رویے کوتوہین آمیز قرار دیتے ہوئے ایمان زینب مزاری نے ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ فیصل واوڈا میں ساکھ اور وقار کے فقدان کے حوالے سے بحث کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔ ایسے وقت میں جب صحافت پہلے ہی گھٹن کا شکار ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ فیصل واوڈا کی جانب سے صحافی پر اس قسم کا حملہ آزادی صحافت کے ساتھ حکومت کے توہین آمیز رویے کی مثال ہے۔
 
Advertisement
Sponsored Link