بندروں اور چوہوں سے انسانوں میں پھیلنے والی بیماری"منکی پاکس" کیا ہے؟

10monkeypox.jpg

افریقی ممالک میں پائی جانے والی نایاب بیماری"منکی پاکس"بندروں اور چوہوں سے انسانوں میں پھیلنے والی ایک بیماری ہے جس نے دنیا کے 11 ملکوں میں لوگوں کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔

عالمی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق 1958 میں سامنے آنے والی اس بیماری کاسب سے پہلا کیس1970 میں افریقی ملک کانگو میں سامنے آیا جہاں ایک نو سالہ بچہ اس کا شکار ہوا تھا، اس وائرس کا شکار ہونےوا لے مریض کو بخار، تھکن،جسم درد ، سردی لگنا شروع ہوجاتی ہے اور تھوڑے دن بعد اس کے جسم کے مختلف حصوں میں دانے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں جس میں شدید خارش ہوتی ہے۔


رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر یہ وائرس صرف افریقی ممالک میں پایا گیا مگر پہلی بار یہ وائرس امریکہ یورپ اور آسٹریلیا سمیت دنیا کے 11 ممالک میں پھیل چکا ہے، ماہرین اس بات پر تشویش میں مبتلا ہے کہ یہ وائرس ان لوگوں کے جسموں میں پایا گیا ہے جو کبھی افریقہ گئے ہی نہیں، جنگلی جانوروں خصوصاً بندروں اور چوہوں سے پھیلنے والا یہ وائرس جانوروں سے انسانوں اور متاثرہ شخص سے دوسرے لوگوں میں منتقل ہونے کی اہلیت رکھتا ہے۔

تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ اس وائرس کے دنیا کی بڑی آبادی کو نقصان پہنچانے کے امکانات نہیں ہیں، اس وائرس کا شکار شخص کو تین سے پانچ ہفتوں میں اثرات نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں اور 2 سے 4 ہفتوں کے درمیان مریض اس وائرس کو ہسپتال منتقل ہوئے بغیر ہی شکست دے کر صحتیاب ہوجاتا ہے۔


اس وائرس سےہلاکتوں کی شرح انتہائی کم ہے یعنی 10 میں سے ایک مریض کیلئے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے، یہ وائرس بچوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے، یورپین سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول کے ماہرین نے اس وائرس کے حوالے سے آگاہی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے متاثرہ مریض کو آئیسولیشن میں رکھا جائے اور زیادہ متاثر ہونے والے شخص کو ادویات دی جائیں۔
 
Advertisement

samisam

Chief Minister (5k+ posts)
پھر تو کالے لنگور نہال کنجر اور مثلی میراثی اور چوڑے سے بچنا چاہئے یہ نہال کنجر مثلی عرف ہاشمی بہت بڑا اور باندر بیماری کا سپر سپریڈرہے اس حرامی کی تو شکل ہی باندر بیماری کے جراثیم کی ہے
 
Sponsored Link