تحریک عدم اعتماد:ناراض اراکین کو اسپیکر کی رہائش گاہ پر کیوں پناہ لینا پڑی؟


وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حامی بی اے پی اور اپوزیشن اراکین نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی رہائش گاہ پر پناہ لے لی، 4 ارکان لاپتا ہونے کے بعد اسمبلی کے 34 اراکین نے پناہ لی۔

تفصیلات کے مطابق تحریک عدم اعتماد کے حامی 35 اراکین نے خطرے کے پیش نظر اسپیکر کی رہائش گاہ پر پناہ لے لی، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے قائم مقام صدر ظہور بلیدی نے کہا ہے کہ 4 ارکان کے لاپتا ہونے کے بعد اسمبلی کے 65 میں سے 35 اراکین نے خطرے کے پیش نظر بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر کی رہائش گاہ پر پناہ لے لی ہے۔

ظہور بلیدی کا مزید کہنا تھا کہ لاپتا اراکین سے رابطہ نہیں ہو پا رہا، مزید اراکین پر دباؤ کے حربے استعمال کئے جانے کا خدشہ ہے۔

ظہوربلیدی نے آئی جی بلوچستان سے سکیورٹی فراہم کرنے اور لاپتا اراکین کو بازیاب کرانے کی اپیل بھی کی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہے جبکہ اس پر رائے شماری کا عمل 25 اکتوبر کو ہوگا۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد صوبائی اسمبلی میں پیش کردی گئی ہے، 33 ارکان نے تحریک کی حمایت کردی، رکن اسمبلی سردار عبدالرحمان کھتیران نے تحریک پیش کی، تحریک میں جام کمال کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حامی بی اے پی اور اپوزیشن اراکین نے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی رہائش گاہ پر پناہ لے لی، 4 ارکان لاپتا ہونے کے بعد اسمبلی کے 34 اراکین نے پناہ لی۔

تفصیلات کے مطابق تحریک عدم اعتماد کے حامی 35 اراکین نے خطرے کے پیش نظر اسپیکر کی رہائش گاہ پر پناہ لے لی، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے قائم مقام صدر ظہور بلیدی نے کہا ہے کہ 4 ارکان کے لاپتا ہونے کے بعد اسمبلی کے 65 میں سے 35 اراکین نے خطرے کے پیش نظر بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر کی رہائش گاہ پر پناہ لے لی ہے۔

ظہور بلیدی کا مزید کہنا تھا کہ لاپتا اراکین سے رابطہ نہیں ہو پا رہا، مزید اراکین پر دباؤ کے حربے استعمال کئے جانے کا خدشہ ہے۔

ظہوربلیدی نے آئی جی بلوچستان سے سکیورٹی فراہم کرنے اور لاپتا اراکین کو بازیاب کرانے کی اپیل بھی کی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہے جبکہ اس پر رائے شماری کا عمل 25 اکتوبر کو ہوگا۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد صوبائی اسمبلی میں پیش کردی گئی ہے، 33 ارکان نے تحریک کی حمایت کردی، رکن اسمبلی سردار عبدالرحمان کھتیران نے تحریک پیش کی، تحریک میں جام کمال کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
 
Advertisement

The wizard

MPA (400+ posts)
So zardari wanna blackmail army through Balochistan while capturing power in Balochistan because he know army is not ready to give ppp government again
 
Last edited:
Sponsored Link