تم پھر جھوٹے تو نہیں؟

اے محلہ داروں کی مشترکہ کوشش کے ناقص نتیجے۔تمہارے گھر میں غلطی سے اپنا بچہ بھی پیدا ہو جائے تو تم اس کا الزام بھی اداروں کو دیتے ہو
 

israr0333

Minister (2k+ posts)
Why are u feeling happy to write an an article against ur country.. Don't u think we have make our country strong rather than making a problem daily where government is already fighting on alots of platforms with too many enemies.. Plz proud to be Pakistani and support your country.
 

Diabetes

MPA (400+ posts)
What is the motive of kidnapping her? What kidnappers wanted from her? What they ask her to do? What information she provided to them? Why they were beating her? Why they released her? Mr. Bubbar Sher, you need to answer these questions too, so the scenario can be analysed.
 

Visionartist

MPA (400+ posts)
اصل سٹوری سے پہلے تھوڑی یادہانی کروا تا جاوں جب تم کہتے تھے۔ اسامہ بن لادن ہمارے پاس نہیں مگر وہ ایبٹ آباد چھاونی کے ملازمین کے درمیان رہائش پزیر نکلا، تم کہتے تھے کونسی کوئٹہ شوری ہمیں کیا معلوم کہاں ہے ملا عمر اور پھر پتا چلا کہ ملا عمر بھی کوئٹہ میں تھا اس کے بعد اخوندزادہ، اور ملا عبدالغنی بھی کوئٹہ میں تھے ان کے تمام اراکین شوری بھی ادھر ہی قیام پزیر رہے۔ آپ کی کسی بات کایقین کرنے کی بجاے ہم اسی لئے غیر ملکی میڈیا کی طرف دیکھتے ہیں کیونکہ آپ جھوٹے ہو
ملکی سیکیورٹی اور بھارت سے مخاصمت کے عروج پر کچھ سفارت خانوں کی سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ ان پر نگرانی بھی سخت سے سخت کی جارہی تھی ۔ خفیہ کیمروں سے مانیٹرنگ کے علاوہ سادہ لباس اہلکاروں کی چوبیس گھنٹے سفرتخانوں کے اردگرد موجودگی بھی یقینی بنای گئی تھی۔ سفارتخانون کے ایریاز میں افغانستان کا سفارتخانہ اور انڈین قونصلیٹ سب سے حساس جگہیں بن چکی تھیں۔ ایسے حالات میں افغان سفیر کی بیٹی پیدل واک کرتی ہوی اپنی سرکاری رہائش گاہ سے نکلتی ہے تو اردگرد موجود ایجنسیوں کے ہرکارے حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ فورا ہی اوپر اطلاعیں دی جانے لگتی ہیں کہ سفارتی پروٹوکل کے برعکس سفیر کی بیٹی پیدل جارہی ہے تاکہ اسطرف ہماری توجہ نہ جاے لگتا ہے اس کا یہ دورہ بہت اہم اور معنی خیز ہے۔ فورا ہی قریب موجود ایسی ٹیکسیوں کو لڑکی کا پیچھا کرنے کا آرڈر دے دیا گیا جو قرب و جوار میں انہی امور کی انجام دہی کیلئے موجود رہتی تھیں۔ ان کے ڈرائیورز خفیہ ایجنسی کی ڈیوٹی پر مامور تھے
سفیر کی بیٹی نے تحفہ خریدنا تھا وہ اپنے کام کیلئے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتی تو ایجنسیوں کے اہلکار اور بھی شک میں پڑجاتے اوپر مسلسل رپورٹس بھجوای جارہی تھیں۔ باالآخر اوپر سے آرڈر آیا کہ اسے گرفتارکرلیاجاے لہذا جس ٹیکسی میں وہ موجود تھی اس کے ڈرائیور نے اسلحہ نکال کر اسے رسیون سے جکڑ دیا اور دوسرے اہلکاروں نے دائیں بائیں بیٹھ کر لڑکی سے تفتیش شروع کردی۔ یاد رہے کہ یہ وہی ایجنسی ہے جس کے اہلکار دن دیہاڑے مخالف صحافیوں کو اٹھا کر لے جاتے رہے ہیں اور کسی کی لاش راول ڈیم سے اور کسی کی بلوچستان سے ملتی رہی ہے
خیر لڑکی سے تو کچھ نہ ملا مگر اوپر سے گھبراے ہوے لہجے میں باس نے کہا کہ اسے فورا چھوڑ دو کیونکہ یہ سفیر کی بیٹی ہے جسکے بعد اس لڑکی کو چھوڑ دیا گیا
ایک لفافی ولاگر عمران ریاض خان نے ایک خودساختہ نیوی گیشن دکھا کر بتایا کہ یہ لڑکی فلاں فلاں جگہ گئی ہے۔ یوتھئیے عقل کے اندھے اس پر یقین کرکے بیٹھ گئے حالانکہ یہ بات اتنے وثوق سے کہنا ہی جہالت کی نشانی ہے۔ اگر میں کسی کو اغوا کرکے ٹیکسی میں ہی ادھر ادھر گھماتا جاوں تو اس بے چارے کے موبائل کی لوکیشن تو وہی بتاے گی جدھر جدھر ہم گئے ہونگے۔ پھر کہا گیا کہ ایک جگہ اس لڑکی نے انٹرنیٹ بھی استعمال کیا تھا۔ جواب وہی کہ جاہل انسان جب ایک فرد اغوا کرنے والے کے رحم و کرم پر ہوتا ہے تو اس کا فون بھی چھین لیا جاتا ہے اب اس فون کو کوی بھی دھوکا دینے کیلئے استعمال کرے تو اس سے اغوا ہونے والا بے چارہ جھوٹا کیسے ثابت ہوگیا؟ اس میں اتنا شرلاک ہولمز بننے کی کونسی بات ہے؟ اسی ایک بات کو بنیاد بنا کر عمران ریاض نے کہا کہ لڑکی تو ادھر ادھر گھومتی رہی حالانکہ اس سے یہ ثابت نہین ہوتا کہ لڑکی اغوا نہیں ہوی۔ دوسرا نقطہ یہ دیا جس پر یوتھئے واہ واہ کررہے تھے کہ چاروں ٹیکسی ڈرائیور رابطے میں آچکے ہیں۔ عجیب جہالت ہے جب شیخو کنجر یہ بیان دے دے کہ لڑکی اغوا نہین ہوی تو ٹیکسی ڈرائیورز تو ہنستے ہوے رابطے کریں گے اور ویسے بھی یہ خفیہ اہلکار تھے تو ان کو کس کا ڈر ہے کہ وہ رابطے نہ کریں؟ ہاں کوی سویلین ڈرائیور ہوتا تو اب تک بھاگ چکا ہوتا ۔ ایک پاکستانی ایجنسی یہ بھیانک غلطی کرچکی ہے جس سے پاکستان پر پوری دنیا میں سبکی کے علاوہ پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں تو اب اس پر مٹی ڈالی جارہی ہے
ٹیکسی ڈرائیورز درحقیقت ایجنسیوں کے اہلکار ہی تھے اور ان سے جو بھیانک غلطی ہوی وہ ان کا قصور نہیں تھا بلکہ اوپر سے آرڈر تھے لہذا ان کو چھوڑ دینا چاہئے مگر اس خفیہ ایجنسی کے بڑوں کو سزا ملنی چاہئے جن کی وجہ سے یہ ایڈونچر تخیلق

THE MAN HAS WET RELATIONSHIPS WITH SILSILA OR RELATED LADIES. SO HE DEVELOPED A BEAUTIFUL STORY TO PRTECT HER. WE ARE KEEEN TO HEAR HIS RELATIONS WITH SILSILA.PLEASE GIVE US MORE DETAILS.
get the impression that the writer had a very wet dream last night, and he missed out on the first jamaat this morning.
 

amber123

Chief Minister (5k+ posts)
اصل سٹوری سے پہلے تھوڑی یادہانی کروا تا جاوں جب تم کہتے تھے۔ اسامہ بن لادن ہمارے پاس نہیں مگر وہ ایبٹ آباد چھاونی کے ملازمین کے درمیان رہائش پزیر نکلا، تم کہتے تھے کونسی کوئٹہ شوری ہمیں کیا معلوم کہاں ہے ملا عمر اور پھر پتا چلا کہ ملا عمر بھی کوئٹہ میں تھا اس کے بعد اخوندزادہ، اور ملا عبدالغنی بھی کوئٹہ میں تھے ان کے تمام اراکین شوری بھی ادھر ہی قیام پزیر رہے۔ آپ کی کسی بات کایقین کرنے کی بجاے ہم اسی لئے غیر ملکی میڈیا کی طرف دیکھتے ہیں کیونکہ آپ جھوٹے ہو
ملکی سیکیورٹی اور بھارت سے مخاصمت کے عروج پر کچھ سفارت خانوں کی سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ ان پر نگرانی بھی سخت سے سخت کی جارہی تھی ۔ خفیہ کیمروں سے مانیٹرنگ کے علاوہ سادہ لباس اہلکاروں کی چوبیس گھنٹے سفرتخانوں کے اردگرد موجودگی بھی یقینی بنای گئی تھی۔ سفارتخانون کے ایریاز میں افغانستان کا سفارتخانہ اور انڈین قونصلیٹ سب سے حساس جگہیں بن چکی تھیں۔ ایسے حالات میں افغان سفیر کی بیٹی پیدل واک کرتی ہوی اپنی سرکاری رہائش گاہ سے نکلتی ہے تو اردگرد موجود ایجنسیوں کے ہرکارے حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ فورا ہی اوپر اطلاعیں دی جانے لگتی ہیں کہ سفارتی پروٹوکل کے برعکس سفیر کی بیٹی پیدل جارہی ہے تاکہ اسطرف ہماری توجہ نہ جاے لگتا ہے اس کا یہ دورہ بہت اہم اور معنی خیز ہے۔ فورا ہی قریب موجود ایسی ٹیکسیوں کو لڑکی کا پیچھا کرنے کا آرڈر دے دیا گیا جو قرب و جوار میں انہی امور کی انجام دہی کیلئے موجود رہتی تھیں۔ ان کے ڈرائیورز خفیہ ایجنسی کی ڈیوٹی پر مامور تھے
سفیر کی بیٹی نے تحفہ خریدنا تھا وہ اپنے کام کیلئے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتی تو ایجنسیوں کے اہلکار اور بھی شک میں پڑجاتے اوپر مسلسل رپورٹس بھجوای جارہی تھیں۔ باالآخر اوپر سے آرڈر آیا کہ اسے گرفتارکرلیاجاے لہذا جس ٹیکسی میں وہ موجود تھی اس کے ڈرائیور نے اسلحہ نکال کر اسے رسیون سے جکڑ دیا اور دوسرے اہلکاروں نے دائیں بائیں بیٹھ کر لڑکی سے تفتیش شروع کردی۔ یاد رہے کہ یہ وہی ایجنسی ہے جس کے اہلکار دن دیہاڑے مخالف صحافیوں کو اٹھا کر لے جاتے رہے ہیں اور کسی کی لاش راول ڈیم سے اور کسی کی بلوچستان سے ملتی رہی ہے
خیر لڑکی سے تو کچھ نہ ملا مگر اوپر سے گھبراے ہوے لہجے میں باس نے کہا کہ اسے فورا چھوڑ دو کیونکہ یہ سفیر کی بیٹی ہے جسکے بعد اس لڑکی کو چھوڑ دیا گیا
ایک لفافی ولاگر عمران ریاض خان نے ایک خودساختہ نیوی گیشن دکھا کر بتایا کہ یہ لڑکی فلاں فلاں جگہ گئی ہے۔ یوتھئیے عقل کے اندھے اس پر یقین کرکے بیٹھ گئے حالانکہ یہ بات اتنے وثوق سے کہنا ہی جہالت کی نشانی ہے۔ اگر میں کسی کو اغوا کرکے ٹیکسی میں ہی ادھر ادھر گھماتا جاوں تو اس بے چارے کے موبائل کی لوکیشن تو وہی بتاے گی جدھر جدھر ہم گئے ہونگے۔ پھر کہا گیا کہ ایک جگہ اس لڑکی نے انٹرنیٹ بھی استعمال کیا تھا۔ جواب وہی کہ جاہل انسان جب ایک فرد اغوا کرنے والے کے رحم و کرم پر ہوتا ہے تو اس کا فون بھی چھین لیا جاتا ہے اب اس فون کو کوی بھی دھوکا دینے کیلئے استعمال کرے تو اس سے اغوا ہونے والا بے چارہ جھوٹا کیسے ثابت ہوگیا؟ اس میں اتنا شرلاک ہولمز بننے کی کونسی بات ہے؟ اسی ایک بات کو بنیاد بنا کر عمران ریاض نے کہا کہ لڑکی تو ادھر ادھر گھومتی رہی حالانکہ اس سے یہ ثابت نہین ہوتا کہ لڑکی اغوا نہیں ہوی۔ دوسرا نقطہ یہ دیا جس پر یوتھئے واہ واہ کررہے تھے کہ چاروں ٹیکسی ڈرائیور رابطے میں آچکے ہیں۔ عجیب جہالت ہے جب شیخو کنجر یہ بیان دے دے کہ لڑکی اغوا نہین ہوی تو ٹیکسی ڈرائیورز تو ہنستے ہوے رابطے کریں گے اور ویسے بھی یہ خفیہ اہلکار تھے تو ان کو کس کا ڈر ہے کہ وہ رابطے نہ کریں؟ ہاں کوی سویلین ڈرائیور ہوتا تو اب تک بھاگ چکا ہوتا ۔ ایک پاکستانی ایجنسی یہ بھیانک غلطی کرچکی ہے جس سے پاکستان پر پوری دنیا میں سبکی کے علاوہ پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں تو اب اس پر مٹی ڈالی جارہی ہے
ٹیکسی ڈرائیورز درحقیقت ایجنسیوں کے اہلکار ہی تھے اور ان سے جو بھیانک غلطی ہوی وہ ان کا قصور نہیں تھا بلکہ اوپر سے آرڈر تھے لہذا ان کو چھوڑ دینا چاہئے مگر اس خفیہ ایجنسی کے بڑوں کو سزا ملنی چاہئے جن کی وجہ سے یہ ایڈونچر تخیلق پایا
تم کہنہ کیا چاہتے ہو۔۔۔۔
تمام واردات میں تم حاضر تھے
کتنے پیسوں ہر کہانی سازی ہوئی
پاکستان خالا جی کا ویڑہ ہے کہ ہر ایرا غیرا دندانتا پھرے
سو بے غیرتوں کے بعد کچھ محب وطن بھی ہوتے ہیں تو بین بجنے شروع ہوتے ہیں۔
 

mcuk2001

Senator (1k+ posts)
تیرا باپ یا بھای بھی مار کر راول ڈیم میں پھینکا جاے گا تو مجھے یاد کرنا
35298459_10156160722035700_5284414004494598144_n.jpg
 

Bubber Shair

Minister (2k+ posts)
اور جس کا کوی باپ ہی نہ ہو وہ بعض اوقات چاپلوسی میں اتنا بڑھ جاتے ہیں کہ اگلے بندے کے قدم چومنے لگتے ہیں چاہے اس کے اندر ہزاروں عیب اور گناہ ہوں، بشر تو پھر بشرہے یہ تیرے جیسے خوشامدی ہیں جو اسے انسان سے خدا بنالیتے ہیں
 

Bubber Shair

Minister (2k+ posts)
تو بھی تو عید چھوڑ کر ادھر بے حیا نشئیوں کا دفاع کررہا ہے تجھے کونسا جلاب ہوا ہے۔ منہ کا یا پچھواڑے کا؟
ye koi bohat hi haramkhor kisam ka insaan hai, Eid waley din bhi is ko moo ka julab ho gya hai.
 

Bubber Shair

Minister (2k+ posts)
تم کہنہ کیا چاہتے ہو۔۔۔۔
تمام واردات میں تم حاضر تھے
کتنے پیسوں ہر کہانی سازی ہوئی
پاکستان خالا جی کا ویڑہ ہے کہ ہر ایرا غیرا دندانتا پھرے
سو بے غیرتوں کے بعد کچھ محب وطن بھی ہوتے ہیں تو بین بجنے شروع ہوتے ہیں۔
تمہیں دماغی کمی کا شدید مسئلہ لاحق ہے۔ یوں تو پاکستان کے اندر فرانسیسی انجینیرز کی ہلاکت آگسٹا آبدوز کی وجہ سے اور اب داسو ڈیم کے انجینیرز کی ہلاکت سے سمجھ جانا چاہئے کہ پاکستان خالا جی کا ویڑہ ہی ہے جہاں جو مرضی جو گیم چاہے کھیلتا رہے سیکیورٹی لیپس ہیں
لیکن اس واقعہ میں گیر ملکی نہیں ملکی ایجنسی ملوث ہے تم اگر اسلام آباد کے بلیو ایریا میں گئے ہو تو دیکھ سکتے ہو کہ کیسے اسلام آباد میں ایمبیسیز کی سیکیورٹی ہوتی ہے اور کوی بندہ چاہے پیدل وہان جاے اس کی نگرانی ہوتی ہے
 

Bubber Shair

Minister (2k+ posts)
THE MAN HAS WET RELATIONSHIPS WITH SILSILA OR RELATED LADIES. SO HE DEVELOPED A BEAUTIFUL STORY TO PRTECT HER. WE ARE KEEEN TO HEAR HIS RELATIONS WITH SILSILA.PLEASE GIVE US MORE DETAILS.
میں نے تو اس لڑکی کا نام بھی اسی لئے نہیں لکھا تھا کیونکہ مسلمان کی حیثیت سے مجھے یہی تربیت ملی ہے کہ خواتین کا احترام کرو ، تم نے یہ بات مذاق میں لکھی ہے مگر جانتے نہیں کہ یہ چھوٹا سا مذاق تمہیں جہنم میں لے جاسکتا ہے، عورتوں پر بہتان تراشی کرنے والے کو اسلام منافق قرار دیتا ہے اور منافق جہنم کے سب سے نچلے حصے میں ہونگے فرمایا کہ انہیں پینے کو گرم پانی دیا جاے گا اور کھانے کو ایسا پھل جو پیٹ میں جاکر آگ لگا دے
 

Bubber Shair

Minister (2k+ posts)
What is the motive of kidnapping her? What kidnappers wanted from her? What they ask her to do? What information she provided to them? Why they were beating her? Why they released her? Mr. Bubbar Sher, you need to answer these questions too, so the scenario can be analysed.
ارسطو صاحب ہر سوال کا جواب تھریڈ میں موجود ہے پھر بھی نہیں پڑھا تو اس انداز میں پڑھو کہ آپ کے سوالات کا جواب تھریڈ کی کس لائین میں ہے؟ ایک سوال کا جواب دے دیتا ہوں کہ اغوا کیوں کیا گیا، تھریڈ کی شروعات میں کہاگیا ہے کہ پیدل جانے کی وجہ سے شک تھا اور پھر کھڈا مارکیٹ سے جب ٹیکسی لی تو شک اور بھی یقین میں بدل گیا اس ٹیکسی کا پیچھا کیا گیا
 

amber123

Chief Minister (5k+ posts)
تمہیں دماغی کمی کا شدید مسئلہ لاحق ہے۔ یوں تو پاکستان کے اندر فرانسیسی انجینیرز کی ہلاکت آگسٹا آبدوز کی وجہ سے اور اب داسو ڈیم کے انجینیرز کی ہلاکت سے سمجھ جانا چاہئے کہ پاکستان خالا جی کا ویڑہ ہی ہے جہاں جو مرضی جو گیم چاہے کھیلتا رہے سیکیورٹی لیپس ہیں
لیکن اس واقعہ میں گیر ملکی نہیں ملکی ایجنسی ملوث ہے تم اگر اسلام آباد کے بلیو ایریا میں گئے ہو تو دیکھ سکتے ہو کہ کیسے اسلام آباد میں ایمبیسیز کی سیکیورٹی ہوتی ہے اور کوی بندہ چاہے پیدل وہان جاے اس کی نگرانی ہوتی ہے
دو بڑی سپر پاورز کو مٹی چٹانے میں کچھ رگڑیں لگ بھی جاہیں تو گاٹے کا سودا نہیں۔۔۔
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں