جَھنڈو خان کا خطاب

Zinda_Rood

Minister (2k+ posts)
وزیراعظم عمران خان العمروف جَھنڈو خان نے وزیراعظم منتخب ہونے سے لے کر اب تک اپنے تمام تر ایکشنز سے یہ ثابت کیا ہے کہ حکمرانی کیلئے جس سمجھ بوجھ اور وزڈم کی ضرورت ہے وہ جَھنڈو خان میں عنقا ہے۔ حکمران کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ عوام کے رجحان کو سمجھتا ہو، بہ الفاظ دیگر اس کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہونا چاہئے۔ کثرتِ جہالت اور ایک مخصوص مذہبی نظریے کی وجہ سے پاکستانی قوم کی اکثریت مذہبی معاملات میں جنونیت کی حامل ہے، جَھنڈو خان کو یہ ادراک ہونا چاہئے تھا کہ ایسی عوام کو بطور حکمران کس طرح ڈیل کرنا ہے۔ایسی عوام جو توہینِ رسالت اور ختمِ نبوت وغیرہ کے نام پر بلاوجہ مرنے مارنے پر اتر آتی ہو، اس کو ہر وقت یہ باور کرانے کی کیا ضرورت ہے کہ دنیا بھر میں ہر جگہ ان کے پیغمبر کی توہین ہورہی ہے۔ یہ تو بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ دینے کے مترادف ہے۔ جَھنڈو خان مگر اس بات کو سمجھ نہ پایا اور پچھلے کئی مہینوں سے مسلسل بلاسفیمی ، بلاسفیمی کی تکرار کرتاآرہا ہے۔ ایک مولوی کی آواز اتنی دور نہیں جاتی، جتنی ملک کے وزیراعظم کی جاتی ہے۔ مولوی کو ٹی وی پر اتنی کوریج نہیں ملتی، وزیراعظم تقریر کرے تو تمام چینلز نشر کرتے ہیں۔

جَھنڈو خان آج خطاب کرکے بتارہا ہے کہ اگر فرانس کے ساتھ تعلقات توڑے تو پاکستان کو کس قدر نقصان ہوسکتا ہے، میں اس جَھنڈو خان سے پوچھتا ہوں کہ یہ بات تمہیں تب معلوم نہیں تھی جب تم نے بلاوجہ ہر تقریر میں فرانس کے خلاف بیان بازی شروع کی ہوئی تھی، ہر صبح اٹھتے ہی تم فرانس کے خلاف ٹویٹ داغ دیتے تھے۔۔ جَھنڈو خان کے رجحان کو دیکھتے ہوئے اس کو خوش کرنے کیلئے اس کے وزراء نے بھی فرانس کے خلاف بیان بازی شروع کردی، شیریں مزاری فرانس کے خلاف غلط ٹویٹیں کرتی پکڑی گئی اور فرانس کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے شیریں مزاری کی خوب کلاس لی گئی، جس کے بعد اس نے اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کردی ۔ حکومتی سرپرستی میں ملک بھر میں فرانس کے خلاف ایک فضا تیار کی گئی اور ایک گھمبیر فضا تیار کرنے کے بعد جب ملک بھر میں آگ کے شعلے لپک پڑے ہیں، جنونی مارنے مارنے پر تل آئے ہیں، تو اب جا کر جَھنڈو خان کو ادراک ہوا ہے کہ پاکستان تو فرانس کے خلاف جا ہی نہیں سکتا، اب جَھنڈو خان سے کچھ کنٹرول نہیں ہورہا، کبھی جیل سے مولوی خادم رضوی کے لونڈے سے خط لکھوا لکھوا کر جاری کئے جارہے ہیں اور کبھی کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں سے مذاکرات کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

جَھنڈو خان نے اپنے خطاب میں مزید فرمایا کہ میں ایک ایسا مشن لانچ کرنے لگا ہوں جس کے بعد مغربی دنیا بلاسفیمی کرتے ہوئے ڈرے گی، میرے خیال میں ایک ہی طریقہ ہوسکتا ہے مغربی دنیا کو ڈرانے کا کہ جَھنڈو خان اپنے سینے کے ساتھ بم باندھ لے اور جاکر فرانس کے صدر پر پھٹ جائے، تب ہی مغربی دنیا خوفزدہ ہوسکتی ہے کہ بھئی مسلمانوں کے تو وزیراعظم بھی خود کش حملے کرسکتے ہیں، عام جنتا تو کرتی ہی ہے۔

جَھنڈو خان کو نہ جانے کس احمق نے مشورہ دیا کہ تم جا کر خطاب کرو اور جنونیوں کو ایکسپلین کرو کہ کیوں پاکستان فرانس کے ساتھ تعلقات نہیں توڑ سکتا، جَھنڈو خان کو علم ہونا چاہئے کہ پاکستان میں محض آٹھ سے دس فیصد طبقہ ہے جو عقل کی بات سنتا ہے اور سمجھتا ہے، باقی سب جنونی ہیں، ان کیلئے بات کی کوئی اہمیت نہیں، صرف لات کی اہمیت ہے، تم کو اپنا منہ کھولنے کی زیادہ ضرورت ہی نہیں ہے، چپ کرکے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے ریاستی عملداری نافذ کرو۔ نوازشریف نے ایک بیان نہیں دیا، ایک وضاحت نہیں دی اور خاموشی سے ممتاز قادری کو پھانسی پر ٹانگ دیا۔مذہبی معاملے میں قوم پہلے ہی جنونی ہے اوپر سے تم ہر وقت اپنا بڑا سا منہ کھول کر کچھ نہ کچھ اگلتے رہتے ہو، یقین مانو یہ باتیں جو آج تم بطور وضاحت کررہے ہو یہ کل تمہارے ہی گلے پڑیں گی، قوم کا جنونی طبقہ فرانس کا حامی کہہ کر تمہاری جان کو آجائے گا، اس جنونیت زدہ قوم کو اگر یہ فکر ہوتی کہ ملک کا نقصان ہوجائے گا تو آج ملک کا یہ حال نہ ہوتا، ان کو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا،۔۔

آخر میں ایک اور بات میں جَھنڈو خان سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ جو تم نے لنگر خانے، پناہ گاہیں اور احساس پروگرام کے ذریعے قوم کو مزید فارغ کرنے کی پالیسی بنا رکھی ہے، اس کو ختم کرو۔ اس قوم کو زیادہ سے زیادہ مصروف کرنے کی ضرورت ہے، یہ لنگر خانے ختم کرو، اسلامی مدارس بھی ختم کرو، لوگوں کو کام کاج پر لگاؤ، تاکہ وہ خود کمائیں۔ سلسلہ روزگار میں مصروف شخص کے پاس تو اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ وہ ان مذہبی فضولیات کیلئے سڑکوں پر آسکے، تم قوم کو فارغ رکھوگے تو وہ فساد پر فساد برپا کریں گے۔۔۔

 
Advertisement

amber123

Chief Minister (5k+ posts)
عمران خان بار بار ساری کرپٹ لوکوں کو شکست دیتا آرہا ہے یہاں بھی سر خرو ہو گا۔۔۔ انشا اللہ
وہ اسلام کے لیے دب دے بلند آواز ہے۔۔
کیا لندن جاتی امرہ یا گڑھی خدا بخش سے کوئی آواز اٹھی سواۓ مووع پرستی کے۔
 

Resident Evil

Senator (1k+ posts)
وزیراعظم عمران خان العمروف جَھنڈو خان نے وزیراعظم منتخب ہونے سے لے کر اب تک اپنے تمام تر ایکشنز سے یہ ثابت کیا ہے کہ حکمرانی کیلئے جس سمجھ بوجھ اور وزڈم کی ضرورت ہے وہ جَھنڈو خان میں عنقا ہے۔ حکمران کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ عوام کے رجحان کو سمجھتا ہو، بہ الفاظ دیگر اس کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہونا چاہئے۔ کثرتِ جہالت اور ایک مخصوص مذہبی نظریے کی وجہ سے پاکستانی قوم کی اکثریت مذہبی معاملات میں جنونیت کی حامل ہے، جَھنڈو خان کو یہ ادراک ہونا چاہئے تھا کہ ایسی عوام کو بطور حکمران کس طرح ڈیل کرنا ہے۔ایسی عوام جو توہینِ رسالت اور ختمِ نبوت وغیرہ کے نام پر بلاوجہ مرنے مارنے پر اتر آتی ہو، اس کو ہر وقت یہ باور کرانے کی کیا ضرورت ہے کہ دنیا بھر میں ہر جگہ ان کے پیغمبر کی توہین ہورہی ہے۔ یہ تو بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ دینے کے مترادف ہے۔ جَھنڈو خان مگر اس بات کو سمجھ نہ پایا اور پچھلے کئی مہینوں سے مسلسل بلاسفیمی ، بلاسفیمی کی تکرار کرتاآرہا ہے۔ ایک مولوی کی آواز اتنی دور نہیں جاتی، جتنی ملک کے وزیراعظم کی جاتی ہے۔ مولوی کو ٹی وی پر اتنی کوریج نہیں ملتی، وزیراعظم تقریر کرے تو تمام چینلز نشر کرتے ہیں۔

جَھنڈو خان آج خطاب کرکے بتارہا ہے کہ اگر فرانس کے ساتھ تعلقات توڑے تو پاکستان کو کس قدر نقصان ہوسکتا ہے، میں اس جَھنڈو خان سے پوچھتا ہوں کہ یہ بات تمہیں تب معلوم نہیں تھی جب تم نے بلاوجہ ہر تقریر میں فرانس کے خلاف بیان بازی شروع کی ہوئی تھی، ہر صبح اٹھتے ہی تم فرانس کے خلاف ٹویٹ داغ دیتے تھے۔۔ جَھنڈو خان کے رجحان کو دیکھتے ہوئے اس کو خوش کرنے کیلئے اس کے وزراء نے بھی فرانس کے خلاف بیان بازی شروع کردی، شیریں مزاری فرانس کے خلاف غلط ٹویٹیں کرتی پکڑی گئی اور فرانس کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے شیریں مزاری کی خوب کلاس لی گئی، جس کے بعد اس نے اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کردی ۔ حکومتی سرپرستی میں ملک بھر میں فرانس کے خلاف ایک فضا تیار کی گئی اور ایک گھمبیر فضا تیار کرنے کے بعد جب ملک بھر میں آگ کے شعلے لپک پڑے ہیں، جنونی مارنے مارنے پر تل آئے ہیں، تو اب جا کر جَھنڈو خان کو ادراک ہوا ہے کہ پاکستان تو فرانس کے خلاف جا ہی نہیں سکتا، اب جَھنڈو خان سے کچھ کنٹرول نہیں ہورہا، کبھی جیل سے مولوی خادم رضوی کے لونڈے سے خط لکھوا لکھوا کر جاری کئے جارہے ہیں اور کبھی کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں سے مذاکرات کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

جَھنڈو خان نے اپنے خطاب میں مزید فرمایا کہ میں ایک ایسا مشن لانچ کرنے لگا ہوں جس کے بعد مغربی دنیا بلاسفیمی کرتے ہوئے ڈرے گی، میرے خیال میں ایک ہی طریقہ ہوسکتا ہے مغربی دنیا کو ڈرانے کا کہ جَھنڈو خان اپنے سینے کے ساتھ بم باندھ لے اور جاکر فرانس کے صدر پر پھٹ جائے، تب ہی مغربی دنیا خوفزدہ ہوسکتی ہے کہ بھئی مسلمانوں کے تو وزیراعظم بھی خود کش حملے کرسکتے ہیں، عام جنتا تو کرتی ہی ہے۔

جَھنڈو خان کو نہ جانے کس احمق نے مشورہ دیا کہ تم جا کر خطاب کرو اور جنونیوں کو ایکسپلین کرو کہ کیوں پاکستان فرانس کے ساتھ تعلقات نہیں توڑ سکتا، جَھنڈو خان کو علم ہونا چاہئے کہ پاکستان میں محض آٹھ سے دس فیصد طبقہ ہے جو عقل کی بات سنتا ہے اور سمجھتا ہے، باقی سب جنونی ہیں، ان کیلئے بات کی کوئی اہمیت نہیں، صرف لات کی اہمیت ہے، تم کو اپنا منہ کھولنے کی زیادہ ضرورت ہی نہیں ہے، چپ کرکے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے ریاستی عملداری نافذ کرو۔ نوازشریف نے ایک بیان نہیں دیا، ایک وضاحت نہیں دی اور خاموشی سے ممتاز قادری کو پھانسی پر ٹانگ دیا۔مذہبی معاملے میں قوم پہلے ہی جنونی ہے اوپر سے تم ہر وقت اپنا بڑا سا منہ کھول کر کچھ نہ کچھ اگلتے رہتے ہو، یقین مانو یہ باتیں جو آج تم بطور وضاحت کررہے ہو یہ کل تمہارے ہی گلے پڑیں گی، قوم کا جنونی طبقہ فرانس کا حامی کہہ کر تمہاری جان کو آجائے گا، اس جنونیت زدہ قوم کو اگر یہ فکر ہوتی کہ ملک کا نقصان ہوجائے گا تو آج ملک کا یہ حال نہ ہوتا، ان کو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا،۔۔

آخر میں ایک اور بات میں جَھنڈو خان سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ جو تم نے لنگر خانے، پناہ گاہیں اور احساس پروگرام کے ذریعے قوم کو مزید فارغ کرنے کی پالیسی بنا رکھی ہے، اس کو ختم کرو۔ اس قوم کو زیادہ سے زیادہ مصروف کرنے کی ضرورت ہے، یہ لنگر خانے ختم کرو، اسلامی مدارس بھی ختم کرو، لوگوں کو کام کاج پر لگاؤ، تاکہ وہ خود کمائیں۔ سلسلہ روزگار میں مصروف شخص کے پاس تو اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ وہ ان مذہبی فضولیات کیلئے سڑکوں پر آسکے، تم قوم کو فارغ رکھوگے تو وہ فساد پر فساد برپا کریں گے۔۔۔

جھنڈو خان میں اور کچھ اہلیّت ہو نہ ہو،، جنانیوں کو پانی پانی کرنے میں پوری دنیا میں شہرت رکھتا ہے
تم جھنڈوخان سے یہ سہولت اپنے گھر کے لئے بالکل مفت حاصل کر سکتے ہو
 

wasiqjaved

Minister (2k+ posts)
وزیراعظم عمران خان العمروف جَھنڈو خان نے وزیراعظم منتخب ہونے سے لے کر اب تک
Chal Nikal!
 

Zinda_Rood

Minister (2k+ posts)
جَھنڈو خان فرماتا ہے کہ میں مغرب کے لوگوں کو بتاؤں گا کہ بلاسفیمی سے ہم مسلمانوں کو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔۔ مطلب اپنا علاج نہیں کروانا اور دوسروں سے فرمائشیں کرنی ہے کہ وہ خود کو مسلمانوں کے حساب سے ایڈجسٹ کریں۔ کوئی جَھنڈو خان کو بتائے کہ جس کو مرض لاحق ہو، علاج وہ کرواتا ہے، دوسروں پر لازم نہیں ہوتا کہ کسی پاگل جنونی مریض کیلئے اپنے رولز بدل ڈالیں۔۔۔
 

Modest

Minister (2k+ posts)
جَھنڈو خان فرماتا ہے کہ میں مغرب کے لوگوں کو بتاؤں گا کہ بلاسفیمی سے ہم مسلمانوں کو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔۔ مطلب اپنا علاج نہیں کروانا اور دوسروں سے فرمائشیں کرنی ہے کہ وہ خود کو مسلمانوں کے حساب سے ایڈجسٹ کریں۔ کوئی جَھنڈو خان کو بتائے کہ جس کو مرض لاحق ہو، علاج وہ کرواتا ہے، دوسروں پر لازم نہیں ہوتا کہ کسی پاگل جنونی مریض کیلئے اپنے رولز بدل ڈالیں۔۔۔
Tere maghribi aaqao ki jo gaand hum ne Afghanistan mein maari hai, os ki wajah se wo Imran Khan ki minnatein kar rahe hai keh taliban se un ki gaand churhae.
 

Muskerahat

Chief Minister (5k+ posts)
جَھنڈو خان فرماتا ہے کہ میں مغرب کے لوگوں کو بتاؤں گا کہ بلاسفیمی سے ہم مسلمانوں کو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔۔ مطلب اپنا علاج نہیں کروانا اور دوسروں سے فرمائشیں کرنی ہے کہ وہ خود کو مسلمانوں کے حساب سے ایڈجسٹ کریں۔ کوئی جَھنڈو خان کو بتائے کہ جس کو مرض لاحق ہو، علاج وہ کرواتا ہے، دوسروں پر لازم نہیں ہوتا کہ کسی پاگل جنونی مریض کیلئے اپنے رولز بدل ڈالیں۔۔۔
your mother give you birth because of pig . that is why you are barking against imran khan
 

Diabetes

MPA (400+ posts)
وزیراعظم عمران خان العمروف جَھنڈو خان نے وزیراعظم منتخب ہونے سے لے کر اب تک اپنے تمام تر ایکشنز سے یہ ثابت کیا ہے کہ حکمرانی کیلئے جس سمجھ بوجھ اور وزڈم کی ضرورت ہے وہ جَھنڈو خان میں عنقا ہے۔ حکمران کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ عوام کے رجحان کو سمجھتا ہو، بہ الفاظ دیگر اس کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہونا چاہئے۔ کثرتِ جہالت اور ایک مخصوص مذہبی نظریے کی وجہ سے پاکستانی قوم کی اکثریت مذہبی معاملات میں جنونیت کی حامل ہے، جَھنڈو خان کو یہ ادراک ہونا چاہئے تھا کہ ایسی عوام کو بطور حکمران کس طرح ڈیل کرنا ہے۔ایسی عوام جو توہینِ رسالت اور ختمِ نبوت وغیرہ کے نام پر بلاوجہ مرنے مارنے پر اتر آتی ہو، اس کو ہر وقت یہ باور کرانے کی کیا ضرورت ہے کہ دنیا بھر میں ہر جگہ ان کے پیغمبر کی توہین ہورہی ہے۔ یہ تو بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ دینے کے مترادف ہے۔ جَھنڈو خان مگر اس بات کو سمجھ نہ پایا اور پچھلے کئی مہینوں سے مسلسل بلاسفیمی ، بلاسفیمی کی تکرار کرتاآرہا ہے۔ ایک مولوی کی آواز اتنی دور نہیں جاتی، جتنی ملک کے وزیراعظم کی جاتی ہے۔ مولوی کو ٹی وی پر اتنی کوریج نہیں ملتی، وزیراعظم تقریر کرے تو تمام چینلز نشر کرتے ہیں۔

جَھنڈو خان آج خطاب کرکے بتارہا ہے کہ اگر فرانس کے ساتھ تعلقات توڑے تو پاکستان کو کس قدر نقصان ہوسکتا ہے، میں اس جَھنڈو خان سے پوچھتا ہوں کہ یہ بات تمہیں تب معلوم نہیں تھی جب تم نے بلاوجہ ہر تقریر میں فرانس کے خلاف بیان بازی شروع کی ہوئی تھی، ہر صبح اٹھتے ہی تم فرانس کے خلاف ٹویٹ داغ دیتے تھے۔۔ جَھنڈو خان کے رجحان کو دیکھتے ہوئے اس کو خوش کرنے کیلئے اس کے وزراء نے بھی فرانس کے خلاف بیان بازی شروع کردی، شیریں مزاری فرانس کے خلاف غلط ٹویٹیں کرتی پکڑی گئی اور فرانس کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے شیریں مزاری کی خوب کلاس لی گئی، جس کے بعد اس نے اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کردی ۔ حکومتی سرپرستی میں ملک بھر میں فرانس کے خلاف ایک فضا تیار کی گئی اور ایک گھمبیر فضا تیار کرنے کے بعد جب ملک بھر میں آگ کے شعلے لپک پڑے ہیں، جنونی مارنے مارنے پر تل آئے ہیں، تو اب جا کر جَھنڈو خان کو ادراک ہوا ہے کہ پاکستان تو فرانس کے خلاف جا ہی نہیں سکتا، اب جَھنڈو خان سے کچھ کنٹرول نہیں ہورہا، کبھی جیل سے مولوی خادم رضوی کے لونڈے سے خط لکھوا لکھوا کر جاری کئے جارہے ہیں اور کبھی کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں سے مذاکرات کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

جَھنڈو خان نے اپنے خطاب میں مزید فرمایا کہ میں ایک ایسا مشن لانچ کرنے لگا ہوں جس کے بعد مغربی دنیا بلاسفیمی کرتے ہوئے ڈرے گی، میرے خیال میں ایک ہی طریقہ ہوسکتا ہے مغربی دنیا کو ڈرانے کا کہ جَھنڈو خان اپنے سینے کے ساتھ بم باندھ لے اور جاکر فرانس کے صدر پر پھٹ جائے، تب ہی مغربی دنیا خوفزدہ ہوسکتی ہے کہ بھئی مسلمانوں کے تو وزیراعظم بھی خود کش حملے کرسکتے ہیں، عام جنتا تو کرتی ہی ہے۔

جَھنڈو خان کو نہ جانے کس احمق نے مشورہ دیا کہ تم جا کر خطاب کرو اور جنونیوں کو ایکسپلین کرو کہ کیوں پاکستان فرانس کے ساتھ تعلقات نہیں توڑ سکتا، جَھنڈو خان کو علم ہونا چاہئے کہ پاکستان میں محض آٹھ سے دس فیصد طبقہ ہے جو عقل کی بات سنتا ہے اور سمجھتا ہے، باقی سب جنونی ہیں، ان کیلئے بات کی کوئی اہمیت نہیں، صرف لات کی اہمیت ہے، تم کو اپنا منہ کھولنے کی زیادہ ضرورت ہی نہیں ہے، چپ کرکے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے ریاستی عملداری نافذ کرو۔ نوازشریف نے ایک بیان نہیں دیا، ایک وضاحت نہیں دی اور خاموشی سے ممتاز قادری کو پھانسی پر ٹانگ دیا۔مذہبی معاملے میں قوم پہلے ہی جنونی ہے اوپر سے تم ہر وقت اپنا بڑا سا منہ کھول کر کچھ نہ کچھ اگلتے رہتے ہو، یقین مانو یہ باتیں جو آج تم بطور وضاحت کررہے ہو یہ کل تمہارے ہی گلے پڑیں گی، قوم کا جنونی طبقہ فرانس کا حامی کہہ کر تمہاری جان کو آجائے گا، اس جنونیت زدہ قوم کو اگر یہ فکر ہوتی کہ ملک کا نقصان ہوجائے گا تو آج ملک کا یہ حال نہ ہوتا، ان کو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا،۔۔

آخر میں ایک اور بات میں جَھنڈو خان سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ جو تم نے لنگر خانے، پناہ گاہیں اور احساس پروگرام کے ذریعے قوم کو مزید فارغ کرنے کی پالیسی بنا رکھی ہے، اس کو ختم کرو۔ اس قوم کو زیادہ سے زیادہ مصروف کرنے کی ضرورت ہے، یہ لنگر خانے ختم کرو، اسلامی مدارس بھی ختم کرو، لوگوں کو کام کاج پر لگاؤ، تاکہ وہ خود کمائیں۔ سلسلہ روزگار میں مصروف شخص کے پاس تو اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ وہ ان مذہبی فضولیات کیلئے سڑکوں پر آسکے، تم قوم کو فارغ رکھوگے تو وہ فساد پر فساد برپا کریں گے۔۔۔

I never saw those 10%. In my opinion 100% population is like that. Few people who think like you and me are outliers. Yeh qom tamashbeen hai. Yeh sirf marna or maarna hi chahte hein. Jannat ki khawahish mein. inhon nein apni or doosroon ki zindgi jahanum bana rakhi hai. Paida hote hi yeh merny ki tayyari kerte hein. Yeh kabhi bhi theek nahi hongy.
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
جَھنڈو خان فرماتا ہے کہ میں مغرب کے لوگوں کو بتاؤں گا کہ بلاسفیمی سے ہم مسلمانوں کو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔۔ مطلب اپنا علاج نہیں کروانا اور دوسروں سے فرمائشیں کرنی ہے کہ وہ خود کو مسلمانوں کے حساب سے ایڈجسٹ کریں۔ کوئی جَھنڈو خان کو بتائے کہ جس کو مرض لاحق ہو، علاج وہ کرواتا ہے، دوسروں پر لازم نہیں ہوتا کہ کسی پاگل جنونی مریض کیلئے اپنے رولز بدل ڈالیں۔۔۔
تو عمران خان نے اس بات کے ضمن میں مثال بھی دی ہے ہالوکاسٹ کی۔
Article 10 of the Human Rights Act: Freedom of expression
1. Everyone has the right to freedom of expression. This right shall include freedom to hold opinions and to receive and impart information and ideas without interference by public authority and regardless of frontiers. This Article shall not prevent States from requiring the licensing of broadcasting, television or cinema enterprises.

2. The exercise of these freedoms, since it carries with it duties and responsibilities, may be subject to such formalities, conditions, restrictions or penalties as are prescribed by law and are necessary in a democratic society, in the interests of national security, territorial disorder or crime, for the protection of health or morals, for the protection of the reputation or rights of others, for preventing the disclosure of information received in confidence, or for maintaining the authority and impartiality of the judiciary.

Moreover, the comments of the EU Court:

Law – Article 10
: Prescribed by law, the interference had pursued the legitimate aim of preventing disorder by safeguarding religious peace and protecting religious feelings, which corresponded to protecting the rights of others within the meaning of Article 10 § 2 of the Convention.

As the subject matter of the instant case was of a particularly sensitive nature, the domestic authorities had a wide margin of appreciation, as they were in a better position to evaluate which statements were likely to disturb the religious peace in their country.

Source:
https://hudoc.echr.coe.int/eng#{%22itemid%22:[%22002-12171%22]}

Also suggested to read:
 
Last edited:
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں