خادم رضوی کا جنازہ۔۔ فرانس کا نیا قانون۔ تہذیبوں کا تصادم

Zinda_Rood

Minister (2k+ posts)
آج مینارِ پاکستان گراؤنڈ میں مولوی خادم رضوی کا جنازہ پڑھایا گیا۔۔ اتنا بڑا جنازہ شاید ہی پاکستانی تاریخ میں کسی کا ہو۔ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد نے شرکت کی کہ نہ صرف مینارِ پاکستان کا گراؤنڈ بھر گیا، بلکہ اردگرد کا علاقہ دور دور تک لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک ایسا شخص جس نے اپنی تقریروں کے ذریعے صرف اور صرف تشدد اور نفرت کا سبق دیا، جس کی گفتگو میں گالم گلوچ کی بھرمار ہوتی تھی، اورجس نے چند ہی سال میں اس ملک میں ایسی فضاء قائم کردی کہ توہینِ رسالت کے نام پر قتل کرنا، مقدمے درج کرانا عام ہوگیا، ایسے شخص کے ساتھ پاکستان کے مسلمانوں کا اس قدر والہانہ محبت کا اظہار اس بات کی غماضی کرتا ہے کہ نظریاتی طور پر مولوی خادم رضوی پاکستانی قوم کی ترجمانی کرتا رہا۔ بہ الفاظِ دیگر پاکستانی قوم اسی متشدد سوچ کی حامل ہے جس کا پرچار مولوی خادم رضوی کرتا رہا۔ ممتاز قادری کے جنازے میں بھی قوم نے اسی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا۔ اس متشددانہ رویہ کو صرف پاکستانی قوم تک محدود کردینا غلط ہوگا، یہ رویہ بحثیت مجموعی پوری امتِ مسلمہ میں پایا جاتا ہے۔ علم الدین جو کہ ممتاز قادری کی طرح ایک قاتل تھا، اس کے ساتھ بھی مسلمانوں نے ایسی ہی گرمجوش محبت کا اظہار کیا تھا، عامی تو ایک طرف رہے، اقبال اور جناح جیسے مسلم رہنما بھی علم الدین کو کاندھوں پر اٹھائے نظر آئے۔۔ آج بھی دنیا بھر کے مسلمان اپنی اسی پرتشدد روایت پر قائم ہیں۔ اس لئے مغربی ممالک میں دنیا کے مختلف مسلم ممالک سے آکر رہائش پذیر ہونے والے مسلمان وقتاً فوقتاً پرتشدد حملوں سے اس حقیقت کا اعادہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ایک جنگجو قبائلی آئیڈیالوجی کے حامل ہیں۔

یہی وہ سوچ اور رویہ ہے جس کی نشاندہی جب مغرب میں کی جاتی ہے تو اس کو اسلاموفوبیا قرار دیا جاتا ہے، مگر اب مغرب میں فرانس نے "اِنف اِز اِنف" کہتے ہوئے لیڈ لے لی ہے اور مسلمانوں کو سدھارنے کیلئے
نئے قانون کے خدو خال تشکیل دے دیئے ہیں۔ مسلم رہنماؤں کو اس چارٹر پر دستخط کرنے کیلئے پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے۔ اس نئے قانون کے تحت مسلمانوں کے بچوں کے گھروں پر تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہوگی، مسلمانوں کے بچوں کو لازماً سکول جانا ہوگا، مسلمانوں کے بچوں کو مخصوص شناختی نمبر الاٹ کئے جائیں گے جن سے ان کی نگرانی کی جائے گی آیاکہ وہ سکول حاضر ہورہے ہیں یا نہیں۔ مزید برآں مساجد کے امام حکومت تعینات کرے گی اور حکومت معزول کرے گی۔ مساجد کو باہر سے کوئی فنڈنگ نہیں ہوسکے گی۔ سیاسی اسلام پر مکمل طور پر پابندی ہوگی، اسلام کو ایک سیاسی تحریک کے نہیں بلکہ صرف مذہب کے طور پر لینا ہوگا، وہ بھی ہر فرد کے پرائیویٹ معاملے کے طور پر۔ اسلام میں جو اجتماعیت کا تصور ہے جو مذہب کو فرد کا پرائیویٹ معاملہ قرار ہونے نہیں دیتا، یہ قانون اس کی اچھی طرح بیخ کنی کرے گا۔ یعنی مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کو اگر فرانس میں رہنا ہے تو فرانس کی اقدار اپنانی ہوں گی، مذہب کے معاملے میں ان کے اندر جو حساسیت پائی جاتی ہے، اس سے چھٹکارا پانا ہوگا۔ یہ خاکوں، کارٹونوں یا کتاب جلانے جیسے معمولی واقعات پر ردعمل دینے سے باز رہنا ہوگا۔۔ تب ہی وہ مغرب میں رہ پائیں گے، وگرنہ ان کو اپنے اپنے فرسودہ ممالک میں واپس بھیج دیا جائے گا۔

اس قضیے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مسلمان سدھار مشن کی لیڈ فرانس لے رہا ہے۔۔ فرانس کوئی عام ملک نہیں ہے، تاریخی طور پر فرانس کا جدید دنیا کی تشکیل میں بہت بڑا حصہ ہے۔ یہ جدید جمہوریت، سیکولرزم، آزادی اظہار وغیرہ بھی فرانس کے دورِ انقلاب کی دین ہیں۔ جدید دنیا کی بنیادیں اسی دور میں استوار کی گئی تھیں جس کو ایج آف انلائٹنمنٹ کہا جاتا ہے۔ روسو کے سوشل کانٹریکٹ (معاہدہ عمرانی) کے تحت ہی آج کے جدید معاشرے قائم ہیں۔ جان لاک، والٹیئر، مونٹیسکیو ان سب نے اسی دورِ روشن خیالی میں جدید سیاست اور ریاست کے خدوخال تشکیل دیئے۔ اس دور میں بھی فرانس نے ہی امامت سنبھالی تھی اور آج بھی فرانس ہی سب سے آگے ہے۔ فرانس میں یہ نیا قانون پاس ہوکر اس پر عملدرآمد شروع ہوگیا تو یورپ اور امریکہ میں بھی جلد ہی ایسے قوانین لانے کا زور اٹھے گا، کیونکہ مسلمانوں نے اپنی شدت پسندانہ حرکات سے ایک دنیا کو پریشان کررکھا ہے۔ انڈیا میں چونکہ مسلمان اچھی خاصی بڑی تعداد میں ہیں، اسلئے انہوں نے انڈیا میں سیکولرزم کو پنپنے نہیں دیا اور وہاں وہ حال کیا ہے کہ اب وہ سیکولرزم کو چھوڑ کر ہندوتوا کی طرف چل نکلے ہیں۔۔

میری نظر میں یہ دو تہذیبوں کا تصادم ہے، ایک تہذیب وہ جو تیز رفتاری سے علم و ہنر کی شاہراہ پر گامزن ہے اور دوسری وہ تہذیب ہے جس کے پلے ککھ بھی نہیں ہے اور وہ تہذیبِ اول کے اگائے ہوئے پھل کھا کر خود کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ سوچیے جب تہذیبِ اول ان کو الگ کرکے پھینک دے گی تب ان کا کیا حشر ہوگا، کیا یہ واپس پتھر کے دور میں نہیں پہنچ جائیں گے۔۔؟
 
Last edited:

ARSHAD2011

Senator (1k+ posts)
آج مینارِ پاکستان گراؤنڈ میں مولوی خادم رضوی کا جنازہ پڑھایا گیا۔۔ اتنا بڑا جنازہ شاید ہی پاکستانی تاریخ میں کسی کا ہو۔ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد نے شرکت کی کہ نہ صرف مینارِ پاکستان کا گراؤنڈ بھر گیا، بلکہ اردگرد کا علاقہ دور دور تک لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک ایسا شخص جس نے اپنی تقریروں کے ذریعے صرف اور صرف تشدد اور نفرت کا سبق دیا، جس کی گفتگو میں گالم گلوچ کی بھرمار ہوتی تھی، اورجس نے چند ہی سال میں اس ملک میں ایسی فضاء قائم کردی کہ توہینِ رسالت کے نام پر قتل کرنا، مقدمے درج کرانا عام ہوگیا، ایسے شخص کے ساتھ پاکستان کے مسلمانوں کا اس قدر والہانہ محبت کا اظہار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ نظریاتی طور پر مولوی خادم رضوی پاکستانی قوم کی ترجمانی کرتا رہا۔ بہ الفاظِ دیگر پاکستانی قوم اسی متشدد سوچ کی حامل ہے جس کا پرچار مولوی خادم رضوی کرتا رہا۔ ممتاز قادری کے جنازے میں بھی قوم نے اسی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا۔ اس متشددانہ رویہ کو صرف پاکستانی قوم تک محدود کردینا غلط ہوگا، یہ رویہ بحثیت مجموعی پوری امتِ مسلمہ میں پایا جاتا ہے۔ علم الدین جو کہ ممتاز قادری کی طرح ایک قاتل تھا، اس کے ساتھ بھی مسلمانوں نے ایسی ہی گرمجوش محبت کا اظہار کیا تھا، عامی تو ایک طرف رہے، اقبال اور جناح جیسے مسلم رہنما بھی علم الدین کو کاندھوں پر اٹھائے نظر آئے۔۔ آج بھی دنیا بھر کے مسلمان اپنی اسی پرتشدد روایت پر قائم ہیں۔ اس لئے مغربی ممالک میں دنیا کے مختلف مسلم ممالک سے آکر رہائش پذیر ہونے والے مسلمان وقتاً فوقتاً پرتشدد حملوں سے اس حقیقت کا اعادہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ایک جنگجو قبائلی آئیڈیالوجی کے حامل ہیں۔

یہی وہ سوچ اور رویہ ہے جس کی نشاندہی جب مغرب میں کی جاتی ہے تو اس کو اسلاموفوبیا قرار دیا جاتا ہے، مگر اب مغرب میں فرانس نے "اِنف اِز اِنف" کہتے ہوئے لیڈ لے لی ہے اور مسلمانوں کو سدھارنے کیلئے
نئے قانون کے خدو خال تشکیل دے دیئے ہیں۔ مسلم رہنماؤں کو اس چارٹر پر دستخط کرنے کیلئے پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے۔ اس نئے قانون کے تحت مسلمانوں کے بچوں کے گھروں پر تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہوگی، مسلمانوں کے بچوں کو لازماً سکول جانا ہوگا، مسلمانوں کے بچوں کو مخصوص شناختی نمبر الاٹ کئے جائیں گے جن سے ان کی نگرانی کی جائے گی آیاکہ وہ سکول حاضر ہورہے ہیں یا نہیں۔ مزید برآں مساجد کے امام حکومت تعینات کرے گی اور حکومت معزول کرے گی۔ مساجد کو باہر سے کوئی فنڈنگ نہیں ہوسکے گی۔ سیاسی اسلام پر مکمل طور پر پابندی ہوگی، اسلام کو ایک سیاسی تحریک کے نہیں بلکہ صرف مذہب کے طور پر لینا ہوگا، وہ بھی ہر فرد کے پرائیویٹ معاملے کے طور پر۔ اسلام میں جو اجتماعیت کا تصور ہے جو مذہب کو فرد کا پرائیویٹ معاملہ قرار ہونے نہیں دیتا، یہ قانون اس کی اچھی طرح بیخ کنی کرے گا۔ یعنی مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کو اگر فرانس میں رہنا ہے تو فرانس کی اقدار اپنانی ہوں گی، مذہب کے معاملے میں ان کے اندر جو حساسیت پائی جاتی ہے، اس سے چھٹکارا پانا ہوگا۔ یہ خاکوں، کارٹونوں یا کتاب جلانے جیسے معمولی واقعات پر ردعمل دینے سے باز رہنا ہوگا۔۔ تب ہی وہ مغرب میں رہ پائیں گے، وگرنہ ان کو اپنے اپنے فرسودہ ممالک میں واپس بھیج دیا جائے گا۔

اس قضیے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مسلمان سدھار مشن کی لیڈ فرانس لے رہا ہے۔۔ فرانس کوئی عام ملک نہیں ہے، تاریخی طور پر فرانس کا جدید دنیا کی تشکیل میں بہت بڑا حصہ ہے۔ یہ جدید جمہوریت، سیکولرزم، آزادی اظہار وغیرہ بھی فرانس کے دورِ انقلاب کی دین ہیں۔ جدید دنیا کی بنیادیں اسی دور میں استوار کی گئی تھیں جس کو ایج آف انلائٹنمنٹ کہا جاتا ہے۔ روسو کے سوشل کانٹریکٹ (معاہدہ عمرانی) کے تحت ہی آج کے جدید معاشرے قائم ہیں۔ جان لاک، والٹیئر، مونٹیسکیو ان سب نے اسی دورِ روشن خیالی میں جدید سیاست اور ریاست کے خدوخال تشکیل دیئے۔ اس دور میں بھی فرانس نے ہی امامت سنبھالی تھی اور آج بھی فرانس ہی سب سے آگے ہے۔ فرانس میں یہ نیا قانون پاس ہوکر اس پر عملدرآمد شروع ہوگیا تو یورپ اور امریکہ میں بھی جلد ہی ایسے قوانین لانے کا زور اٹھے گا، کیونکہ مسلمانوں نے اپنی شدت پسندانہ سوچ سے ایک دنیا کو پریشان کررکھا ہے۔ انڈیا میں چونکہ مسلمان اچھی خاصی بڑی تعداد میں ہیں، اسلئے انہوں نے انڈیا میں سیکولرزم کو پنپنے نہیں دیا اور وہاں وہ حال کیا ہے کہ اب وہ سیکولرزم کو چھوڑ کر ہندوتوا کی طرف چل نکلے ہیں۔۔

میری نظر میں یہ دو تہذیبوں کا تصادم ہے، ایک تہذیب وہ جو تیز رفتاری سے علم و ہنر کی شاہراہ پر گامزن ہے اور دوسری وہ تہذیب ہے جس کے پلے ککھ بھی نہیں ہے اور وہ تہذیبِ اول کے اگائے ہوئے پھل کھا کر خود کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ سوچیے جب تہذیبِ اول ان کو الگ کرکے پھینک دے گی تب ان کا کیا حشر ہوگا، کیا یہ واپس پتھر کے دور میں نہیں پہنچ جائیں گے۔۔؟


This is the answer to people's like you by the Ontario premier.

 

Aliimran1

Chief Minister (5k+ posts)

QADIANI FITNA​

یہود و نصاریٰ اور ہنود ہوں یا پھر قادیانی فتنہ ان کی صدیوں سے
ایک ہی کوشش رہی ہے محبت رسول و اہل بیت کو مسلمانوں کے دلوں
نکال دیں مگر کیسی بات ہے کہ جتنا وہ اس کی کوشش کرتے ہیں اتنی
شدت سے اس میں اضافہ ہوتا ہے
میرے جیسے گناہ گار بھی ---- اس محبت رسول و اہل بیت میں اپنی
جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے تیار رہتا ہے --- یا رسول الله میری
جان آپ پر نثار
 
Last edited:

BrotherKantu

Chief Minister (5k+ posts)
جب تک ہم خود اسلام کو اس کی روح پر عمل نہیں کریں گے دوسرے اسی طرح اسلام پر پابندیاں لگاتے رہیں گے.

آپ کے سامنے ہے.
اسلام سب سے زیادہ تعلم اور صفائی پر زور دیتا ہے اور دنیا کو چھوڑیں پاکستان اور اس کی عوام کا حال دیکھیں. گندگی اور جہالت ہی ہے ہر طرف. اس اسلام کو دنیا ماننے سے انکار نا کرے تو اور کیا کرے.


.
 

Tit4Tat

Senator (1k+ posts)
آج مینارِ پاکستان گراؤنڈ میں مولوی خادم رضوی کا جنازہ پڑھایا گیا۔۔ اتنا بڑا جنازہ شاید ہی پاکستانی تاریخ میں کسی کا ہو۔ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد نے شرکت کی کہ نہ صرف مینارِ پاکستان کا گراؤنڈ بھر گیا، بلکہ اردگرد کا علاقہ دور دور تک لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک ایسا شخص جس نے اپنی تقریروں کے ذریعے صرف اور صرف تشدد اور نفرت کا سبق دیا، جس کی گفتگو میں گالم گلوچ کی بھرمار ہوتی تھی، اورجس نے چند ہی سال میں اس ملک میں ایسی فضاء قائم کردی کہ توہینِ رسالت کے نام پر قتل کرنا، مقدمے درج کرانا عام ہوگیا، ایسے شخص کے ساتھ پاکستان کے مسلمانوں کا اس قدر والہانہ محبت کا اظہار اس بات کی غماضی کرتا ہے کہ نظریاتی طور پر مولوی خادم رضوی پاکستانی قوم کی ترجمانی کرتا رہا۔ بہ الفاظِ دیگر پاکستانی قوم اسی متشدد سوچ کی حامل ہے جس کا پرچار مولوی خادم رضوی کرتا رہا۔ ممتاز قادری کے جنازے میں بھی قوم نے اسی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا۔ اس متشددانہ رویہ کو صرف پاکستانی قوم تک محدود کردینا غلط ہوگا، یہ رویہ بحثیت مجموعی پوری امتِ مسلمہ میں پایا جاتا ہے۔ علم الدین جو کہ ممتاز قادری کی طرح ایک قاتل تھا، اس کے ساتھ بھی مسلمانوں نے ایسی ہی گرمجوش محبت کا اظہار کیا تھا، عامی تو ایک طرف رہے، اقبال اور جناح جیسے مسلم رہنما بھی علم الدین کو کاندھوں پر اٹھائے نظر آئے۔۔ آج بھی دنیا بھر کے مسلمان اپنی اسی پرتشدد روایت پر قائم ہیں۔ اس لئے مغربی ممالک میں دنیا کے مختلف مسلم ممالک سے آکر رہائش پذیر ہونے والے مسلمان وقتاً فوقتاً پرتشدد حملوں سے اس حقیقت کا اعادہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ایک جنگجو قبائلی آئیڈیالوجی کے حامل ہیں۔

یہی وہ سوچ اور رویہ ہے جس کی نشاندہی جب مغرب میں کی جاتی ہے تو اس کو اسلاموفوبیا قرار دیا جاتا ہے، مگر اب مغرب میں فرانس نے "اِنف اِز اِنف" کہتے ہوئے لیڈ لے لی ہے اور مسلمانوں کو سدھارنے کیلئے
نئے قانون کے خدو خال تشکیل دے دیئے ہیں۔ مسلم رہنماؤں کو اس چارٹر پر دستخط کرنے کیلئے پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے۔ اس نئے قانون کے تحت مسلمانوں کے بچوں کے گھروں پر تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہوگی، مسلمانوں کے بچوں کو لازماً سکول جانا ہوگا، مسلمانوں کے بچوں کو مخصوص شناختی نمبر الاٹ کئے جائیں گے جن سے ان کی نگرانی کی جائے گی آیاکہ وہ سکول حاضر ہورہے ہیں یا نہیں۔ مزید برآں مساجد کے امام حکومت تعینات کرے گی اور حکومت معزول کرے گی۔ مساجد کو باہر سے کوئی فنڈنگ نہیں ہوسکے گی۔ سیاسی اسلام پر مکمل طور پر پابندی ہوگی، اسلام کو ایک سیاسی تحریک کے نہیں بلکہ صرف مذہب کے طور پر لینا ہوگا، وہ بھی ہر فرد کے پرائیویٹ معاملے کے طور پر۔ اسلام میں جو اجتماعیت کا تصور ہے جو مذہب کو فرد کا پرائیویٹ معاملہ قرار ہونے نہیں دیتا، یہ قانون اس کی اچھی طرح بیخ کنی کرے گا۔ یعنی مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کو اگر فرانس میں رہنا ہے تو فرانس کی اقدار اپنانی ہوں گی، مذہب کے معاملے میں ان کے اندر جو حساسیت پائی جاتی ہے، اس سے چھٹکارا پانا ہوگا۔ یہ خاکوں، کارٹونوں یا کتاب جلانے جیسے معمولی واقعات پر ردعمل دینے سے باز رہنا ہوگا۔۔ تب ہی وہ مغرب میں رہ پائیں گے، وگرنہ ان کو اپنے اپنے فرسودہ ممالک میں واپس بھیج دیا جائے گا۔

اس قضیے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مسلمان سدھار مشن کی لیڈ فرانس لے رہا ہے۔۔ فرانس کوئی عام ملک نہیں ہے، تاریخی طور پر فرانس کا جدید دنیا کی تشکیل میں بہت بڑا حصہ ہے۔ یہ جدید جمہوریت، سیکولرزم، آزادی اظہار وغیرہ بھی فرانس کے دورِ انقلاب کی دین ہیں۔ جدید دنیا کی بنیادیں اسی دور میں استوار کی گئی تھیں جس کو ایج آف انلائٹنمنٹ کہا جاتا ہے۔ روسو کے سوشل کانٹریکٹ (معاہدہ عمرانی) کے تحت ہی آج کے جدید معاشرے قائم ہیں۔ جان لاک، والٹیئر، مونٹیسکیو ان سب نے اسی دورِ روشن خیالی میں جدید سیاست اور ریاست کے خدوخال تشکیل دیئے۔ اس دور میں بھی فرانس نے ہی امامت سنبھالی تھی اور آج بھی فرانس ہی سب سے آگے ہے۔ فرانس میں یہ نیا قانون پاس ہوکر اس پر عملدرآمد شروع ہوگیا تو یورپ اور امریکہ میں بھی جلد ہی ایسے قوانین لانے کا زور اٹھے گا، کیونکہ مسلمانوں نے اپنی شدت پسندانہ حرکات سے ایک دنیا کو پریشان کررکھا ہے۔ انڈیا میں چونکہ مسلمان اچھی خاصی بڑی تعداد میں ہیں، اسلئے انہوں نے انڈیا میں سیکولرزم کو پنپنے نہیں دیا اور وہاں وہ حال کیا ہے کہ اب وہ سیکولرزم کو چھوڑ کر ہندوتوا کی طرف چل نکلے ہیں۔۔

میری نظر میں یہ دو تہذیبوں کا تصادم ہے، ایک تہذیب وہ جو تیز رفتاری سے علم و ہنر کی شاہراہ پر گامزن ہے اور دوسری وہ تہذیب ہے جس کے پلے ککھ بھی نہیں ہے اور وہ تہذیبِ اول کے اگائے ہوئے پھل کھا کر خود کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ سوچیے جب تہذیبِ اول ان کو الگ کرکے پھینک دے گی تب ان کا کیا حشر ہوگا، کیا یہ واپس پتھر کے دور میں نہیں پہنچ جائیں گے۔۔؟

Your write up is based on wrong assumption which you presented as fact that molvi khadim qaum ka tarjuman hay, Pakistan is a very diversified country
 

shafali

Minister (2k+ posts)
The problems in the West are deeper than just a reaction to Muslim actions. Even if the Muslims sold their souls, they will not be accepted. Just look at the treatment of black people in the West.
 

atensari

Prime Minister (20k+ posts)
ایک تہذیب میں اشتعال انگیزی اور نفرت پھیلانے کو آزادی اور ریاستی سرپرستی حاصل ہے اور دوسری تہذیب کو نصیحت کی جاتی ہے
 
Last edited:

atensari

Prime Minister (20k+ posts)
دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا

اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا
اِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا


 

Doctor sb

Senator (1k+ posts)
ایک تہذیب وہ ہے جس کی اقدار، مذہبی شعائر، وسائل، اور اوطان پر سامراجی طاغوتی طاقتیں ہر دم حملہ آور ہیں، جو دم تو اکیسویں صدی کا بھرتی ہیں لیکن ان کی ریشہ دوانیاں، سازشیں اور چالیں اٹھاروی صدی عیسوی والی ہیں- اس تہذہب میں شمار ہونے والے مظلوم اور لاچار ہیں اور محض 50 تا 70 سال ہوۓ کہ ان طاغوتی طاقتوں کے شکنجے سے نکل پاۓ ہیں اور اپنی خودمختاری، خودانحصاری، اور اپنے وسائل کے مالک ہونے کی ناکام سعی کر رہے ہیں - یقیناً یہ تہذہبی تصادم ہے
 

HSiddiqui

Minister (2k+ posts)
آج مینارِ پاکستان گراؤنڈ میں مولوی خادم رضوی کا جنازہ پڑھایا گیا۔۔ اتنا بڑا جنازہ شاید ہی پاکستانی تاریخ میں کسی کا ہو۔ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد نے شرکت کی کہ نہ صرف مینارِ پاکستان کا گراؤنڈ بھر گیا، بلکہ اردگرد کا علاقہ دور دور تک لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک ایسا شخص جس نے اپنی تقریروں کے ذریعے صرف اور صرف تشدد اور نفرت کا سبق دیا، جس کی گفتگو میں گالم گلوچ کی بھرمار ہوتی تھی، اورجس نے چند ہی سال میں اس ملک میں ایسی فضاء قائم کردی کہ توہینِ رسالت کے نام پر قتل کرنا، مقدمے درج کرانا عام ہوگیا، ایسے شخص کے ساتھ پاکستان کے مسلمانوں کا اس قدر والہانہ محبت کا اظہار اس بات کی غماضی کرتا ہے کہ نظریاتی طور پر مولوی خادم رضوی پاکستانی قوم کی ترجمانی کرتا رہا۔ بہ الفاظِ دیگر پاکستانی قوم اسی متشدد سوچ کی حامل ہے جس کا پرچار مولوی خادم رضوی کرتا رہا۔ ممتاز قادری کے جنازے میں بھی قوم نے اسی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا۔ اس متشددانہ رویہ کو صرف پاکستانی قوم تک محدود کردینا غلط ہوگا، یہ رویہ بحثیت مجموعی پوری امتِ مسلمہ میں پایا جاتا ہے۔ علم الدین جو کہ ممتاز قادری کی طرح ایک قاتل تھا، اس کے ساتھ بھی مسلمانوں نے ایسی ہی گرمجوش محبت کا اظہار کیا تھا، عامی تو ایک طرف رہے، اقبال اور جناح جیسے مسلم رہنما بھی علم الدین کو کاندھوں پر اٹھائے نظر آئے۔۔ آج بھی دنیا بھر کے مسلمان اپنی اسی پرتشدد روایت پر قائم ہیں۔ اس لئے مغربی ممالک میں دنیا کے مختلف مسلم ممالک سے آکر رہائش پذیر ہونے والے مسلمان وقتاً فوقتاً پرتشدد حملوں سے اس حقیقت کا اعادہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ایک جنگجو قبائلی آئیڈیالوجی کے حامل ہیں۔

یہی وہ سوچ اور رویہ ہے جس کی نشاندہی جب مغرب میں کی جاتی ہے تو اس کو اسلاموفوبیا قرار دیا جاتا ہے، مگر اب مغرب میں فرانس نے "اِنف اِز اِنف" کہتے ہوئے لیڈ لے لی ہے اور مسلمانوں کو سدھارنے کیلئے
نئے قانون کے خدو خال تشکیل دے دیئے ہیں۔ مسلم رہنماؤں کو اس چارٹر پر دستخط کرنے کیلئے پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے۔ اس نئے قانون کے تحت مسلمانوں کے بچوں کے گھروں پر تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہوگی، مسلمانوں کے بچوں کو لازماً سکول جانا ہوگا، مسلمانوں کے بچوں کو مخصوص شناختی نمبر الاٹ کئے جائیں گے جن سے ان کی نگرانی کی جائے گی آیاکہ وہ سکول حاضر ہورہے ہیں یا نہیں۔ مزید برآں مساجد کے امام حکومت تعینات کرے گی اور حکومت معزول کرے گی۔ مساجد کو باہر سے کوئی فنڈنگ نہیں ہوسکے گی۔ سیاسی اسلام پر مکمل طور پر پابندی ہوگی، اسلام کو ایک سیاسی تحریک کے نہیں بلکہ صرف مذہب کے طور پر لینا ہوگا، وہ بھی ہر فرد کے پرائیویٹ معاملے کے طور پر۔ اسلام میں جو اجتماعیت کا تصور ہے جو مذہب کو فرد کا پرائیویٹ معاملہ قرار ہونے نہیں دیتا، یہ قانون اس کی اچھی طرح بیخ کنی کرے گا۔ یعنی مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کو اگر فرانس میں رہنا ہے تو فرانس کی اقدار اپنانی ہوں گی، مذہب کے معاملے میں ان کے اندر جو حساسیت پائی جاتی ہے، اس سے چھٹکارا پانا ہوگا۔ یہ خاکوں، کارٹونوں یا کتاب جلانے جیسے معمولی واقعات پر ردعمل دینے سے باز رہنا ہوگا۔۔ تب ہی وہ مغرب میں رہ پائیں گے، وگرنہ ان کو اپنے اپنے فرسودہ ممالک میں واپس بھیج دیا جائے گا۔

اس قضیے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مسلمان سدھار مشن کی لیڈ فرانس لے رہا ہے۔۔ فرانس کوئی عام ملک نہیں ہے، تاریخی طور پر فرانس کا جدید دنیا کی تشکیل میں بہت بڑا حصہ ہے۔ یہ جدید جمہوریت، سیکولرزم، آزادی اظہار وغیرہ بھی فرانس کے دورِ انقلاب کی دین ہیں۔ جدید دنیا کی بنیادیں اسی دور میں استوار کی گئی تھیں جس کو ایج آف انلائٹنمنٹ کہا جاتا ہے۔ روسو کے سوشل کانٹریکٹ (معاہدہ عمرانی) کے تحت ہی آج کے جدید معاشرے قائم ہیں۔ جان لاک، والٹیئر، مونٹیسکیو ان سب نے اسی دورِ روشن خیالی میں جدید سیاست اور ریاست کے خدوخال تشکیل دیئے۔ اس دور میں بھی فرانس نے ہی امامت سنبھالی تھی اور آج بھی فرانس ہی سب سے آگے ہے۔ فرانس میں یہ نیا قانون پاس ہوکر اس پر عملدرآمد شروع ہوگیا تو یورپ اور امریکہ میں بھی جلد ہی ایسے قوانین لانے کا زور اٹھے گا، کیونکہ مسلمانوں نے اپنی شدت پسندانہ حرکات سے ایک دنیا کو پریشان کررکھا ہے۔ انڈیا میں چونکہ مسلمان اچھی خاصی بڑی تعداد میں ہیں، اسلئے انہوں نے انڈیا میں سیکولرزم کو پنپنے نہیں دیا اور وہاں وہ حال کیا ہے کہ اب وہ سیکولرزم کو چھوڑ کر ہندوتوا کی طرف چل نکلے ہیں۔۔

میری نظر میں یہ دو تہذیبوں کا تصادم ہے، ایک تہذیب وہ جو تیز رفتاری سے علم و ہنر کی شاہراہ پر گامزن ہے اور دوسری وہ تہذیب ہے جس کے پلے ککھ بھی نہیں ہے اور وہ تہذیبِ اول کے اگائے ہوئے پھل کھا کر خود کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ سوچیے جب تہذیبِ اول ان کو الگ کرکے پھینک دے گی تب ان کا کیا حشر ہوگا، کیا یہ واپس پتھر کے دور میں نہیں پہنچ جائیں گے۔۔؟

آج مینارِ پاکستان گراؤنڈ میں مولوی خادم رضوی کا جنازہ پڑھایا گیا۔۔ اتنا بڑا جنازہ شاید ہی پاکستانی تاریخ میں کسی کا ہو۔ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد نے شرکت کی کہ نہ صرف مینارِ پاکستان کا گراؤنڈ بھر گیا، بلکہ اردگرد کا علاقہ دور دور تک لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک ایسا شخص جس نے اپنی تقریروں کے ذریعے صرف اور صرف تشدد اور نفرت کا سبق دیا، جس کی گفتگو میں گالم گلوچ کی بھرمار ہوتی تھی، اورجس نے چند ہی سال میں اس ملک میں ایسی فضاء قائم کردی کہ توہینِ رسالت کے نام پر قتل کرنا، مقدمے درج کرانا عام ہوگیا، ایسے شخص کے ساتھ پاکستان کے مسلمانوں کا اس قدر والہانہ محبت کا اظہار اس بات کی غماضی کرتا ہے کہ نظریاتی طور پر مولوی خادم رضوی پاکستانی قوم کی ترجمانی کرتا رہا۔ بہ الفاظِ دیگر پاکستانی قوم اسی متشدد سوچ کی حامل ہے جس کا پرچار مولوی خادم رضوی کرتا رہا۔ ممتاز قادری کے جنازے میں بھی قوم نے اسی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا۔ اس متشددانہ رویہ کو صرف پاکستانی قوم تک محدود کردینا غلط ہوگا، یہ رویہ بحثیت مجموعی پوری امتِ مسلمہ میں پایا جاتا ہے۔ علم الدین جو کہ ممتاز قادری کی طرح ایک قاتل تھا، اس کے ساتھ بھی مسلمانوں نے ایسی ہی گرمجوش محبت کا اظہار کیا تھا، عامی تو ایک طرف رہے، اقبال اور جناح جیسے مسلم رہنما بھی علم الدین کو کاندھوں پر اٹھائے نظر آئے۔۔ آج بھی دنیا بھر کے مسلمان اپنی اسی پرتشدد روایت پر قائم ہیں۔ اس لئے مغربی ممالک میں دنیا کے مختلف مسلم ممالک سے آکر رہائش پذیر ہونے والے مسلمان وقتاً فوقتاً پرتشدد حملوں سے اس حقیقت کا اعادہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ایک جنگجو قبائلی آئیڈیالوجی کے حامل ہیں۔

یہی وہ سوچ اور رویہ ہے جس کی نشاندہی جب مغرب میں کی جاتی ہے تو اس کو اسلاموفوبیا قرار دیا جاتا ہے، مگر اب مغرب میں فرانس نے "اِنف اِز اِنف" کہتے ہوئے لیڈ لے لی ہے اور مسلمانوں کو سدھارنے کیلئے
نئے قانون کے خدو خال تشکیل دے دیئے ہیں۔ مسلم رہنماؤں کو اس چارٹر پر دستخط کرنے کیلئے پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے۔ اس نئے قانون کے تحت مسلمانوں کے بچوں کے گھروں پر تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہوگی، مسلمانوں کے بچوں کو لازماً سکول جانا ہوگا، مسلمانوں کے بچوں کو مخصوص شناختی نمبر الاٹ کئے جائیں گے جن سے ان کی نگرانی کی جائے گی آیاکہ وہ سکول حاضر ہورہے ہیں یا نہیں۔ مزید برآں مساجد کے امام حکومت تعینات کرے گی اور حکومت معزول کرے گی۔ مساجد کو باہر سے کوئی فنڈنگ نہیں ہوسکے گی۔ سیاسی اسلام پر مکمل طور پر پابندی ہوگی، اسلام کو ایک سیاسی تحریک کے نہیں بلکہ صرف مذہب کے طور پر لینا ہوگا، وہ بھی ہر فرد کے پرائیویٹ معاملے کے طور پر۔ اسلام میں جو اجتماعیت کا تصور ہے جو مذہب کو فرد کا پرائیویٹ معاملہ قرار ہونے نہیں دیتا، یہ قانون اس کی اچھی طرح بیخ کنی کرے گا۔ یعنی مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کو اگر فرانس میں رہنا ہے تو فرانس کی اقدار اپنانی ہوں گی، مذہب کے معاملے میں ان کے اندر جو حساسیت پائی جاتی ہے، اس سے چھٹکارا پانا ہوگا۔ یہ خاکوں، کارٹونوں یا کتاب جلانے جیسے معمولی واقعات پر ردعمل دینے سے باز رہنا ہوگا۔۔ تب ہی وہ مغرب میں رہ پائیں گے، وگرنہ ان کو اپنے اپنے فرسودہ ممالک میں واپس بھیج دیا جائے گا۔

اس قضیے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مسلمان سدھار مشن کی لیڈ فرانس لے رہا ہے۔۔ فرانس کوئی عام ملک نہیں ہے، تاریخی طور پر فرانس کا جدید دنیا کی تشکیل میں بہت بڑا حصہ ہے۔ یہ جدید جمہوریت، سیکولرزم، آزادی اظہار وغیرہ بھی فرانس کے دورِ انقلاب کی دین ہیں۔ جدید دنیا کی بنیادیں اسی دور میں استوار کی گئی تھیں جس کو ایج آف انلائٹنمنٹ کہا جاتا ہے۔ روسو کے سوشل کانٹریکٹ (معاہدہ عمرانی) کے تحت ہی آج کے جدید معاشرے قائم ہیں۔ جان لاک، والٹیئر، مونٹیسکیو ان سب نے اسی دورِ روشن خیالی میں جدید سیاست اور ریاست کے خدوخال تشکیل دیئے۔ اس دور میں بھی فرانس نے ہی امامت سنبھالی تھی اور آج بھی فرانس ہی سب سے آگے ہے۔ فرانس میں یہ نیا قانون پاس ہوکر اس پر عملدرآمد شروع ہوگیا تو یورپ اور امریکہ میں بھی جلد ہی ایسے قوانین لانے کا زور اٹھے گا، کیونکہ مسلمانوں نے اپنی شدت پسندانہ حرکات سے ایک دنیا کو پریشان کررکھا ہے۔ انڈیا میں چونکہ مسلمان اچھی خاصی بڑی تعداد میں ہیں، اسلئے انہوں نے انڈیا میں سیکولرزم کو پنپنے نہیں دیا اور وہاں وہ حال کیا ہے کہ اب وہ سیکولرزم کو چھوڑ کر ہندوتوا کی طرف چل نکلے ہیں۔۔

میری نظر میں یہ دو تہذیبوں کا تصادم ہے، ایک تہذیب وہ جو تیز رفتاری سے علم و ہنر کی شاہراہ پر گامزن ہے اور دوسری وہ تہذیب ہے جس کے پلے ککھ بھی نہیں ہے اور وہ تہذیبِ اول کے اگائے ہوئے پھل کھا کر خود کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ سوچیے جب تہذیبِ اول ان کو الگ کرکے پھینک دے گی تب ان کا کیا حشر ہوگا، کیا یہ واپس پتھر کے دور میں نہیں پہنچ جائیں گے۔۔؟

آج مینارِ پاکستان گراؤنڈ میں مولوی خادم رضوی کا جنازہ پڑھایا گیا۔۔ اتنا بڑا جنازہ شاید ہی پاکستانی تاریخ میں کسی کا ہو۔ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد نے شرکت کی کہ نہ صرف مینارِ پاکستان کا گراؤنڈ بھر گیا، بلکہ اردگرد کا علاقہ دور دور تک لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک ایسا شخص جس نے اپنی تقریروں کے ذریعے صرف اور صرف تشدد اور نفرت کا سبق دیا، جس کی گفتگو میں گالم گلوچ کی بھرمار ہوتی تھی، اورجس نے چند ہی سال میں اس ملک میں ایسی فضاء قائم کردی کہ توہینِ رسالت کے نام پر قتل کرنا، مقدمے درج کرانا عام ہوگیا، ایسے شخص کے ساتھ پاکستان کے مسلمانوں کا اس قدر والہانہ محبت کا اظہار اس بات کی غماضی کرتا ہے کہ نظریاتی طور پر مولوی خادم رضوی پاکستانی قوم کی ترجمانی کرتا رہا۔ بہ الفاظِ دیگر پاکستانی قوم اسی متشدد سوچ کی حامل ہے جس کا پرچار مولوی خادم رضوی کرتا رہا۔ ممتاز قادری کے جنازے میں بھی قوم نے اسی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا۔ اس متشددانہ رویہ کو صرف پاکستانی قوم تک محدود کردینا غلط ہوگا، یہ رویہ بحثیت مجموعی پوری امتِ مسلمہ میں پایا جاتا ہے۔ علم الدین جو کہ ممتاز قادری کی طرح ایک قاتل تھا، اس کے ساتھ بھی مسلمانوں نے ایسی ہی گرمجوش محبت کا اظہار کیا تھا، عامی تو ایک طرف رہے، اقبال اور جناح جیسے مسلم رہنما بھی علم الدین کو کاندھوں پر اٹھائے نظر آئے۔۔ آج بھی دنیا بھر کے مسلمان اپنی اسی پرتشدد روایت پر قائم ہیں۔ اس لئے مغربی ممالک میں دنیا کے مختلف مسلم ممالک سے آکر رہائش پذیر ہونے والے مسلمان وقتاً فوقتاً پرتشدد حملوں سے اس حقیقت کا اعادہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ایک جنگجو قبائلی آئیڈیالوجی کے حامل ہیں۔

یہی وہ سوچ اور رویہ ہے جس کی نشاندہی جب مغرب میں کی جاتی ہے تو اس کو اسلاموفوبیا قرار دیا جاتا ہے، مگر اب مغرب میں فرانس نے "اِنف اِز اِنف" کہتے ہوئے لیڈ لے لی ہے اور مسلمانوں کو سدھارنے کیلئے
نئے قانون کے خدو خال تشکیل دے دیئے ہیں۔ مسلم رہنماؤں کو اس چارٹر پر دستخط کرنے کیلئے پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے۔ اس نئے قانون کے تحت مسلمانوں کے بچوں کے گھروں پر تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہوگی، مسلمانوں کے بچوں کو لازماً سکول جانا ہوگا، مسلمانوں کے بچوں کو مخصوص شناختی نمبر الاٹ کئے جائیں گے جن سے ان کی نگرانی کی جائے گی آیاکہ وہ سکول حاضر ہورہے ہیں یا نہیں۔ مزید برآں مساجد کے امام حکومت تعینات کرے گی اور حکومت معزول کرے گی۔ مساجد کو باہر سے کوئی فنڈنگ نہیں ہوسکے گی۔ سیاسی اسلام پر مکمل طور پر پابندی ہوگی، اسلام کو ایک سیاسی تحریک کے نہیں بلکہ صرف مذہب کے طور پر لینا ہوگا، وہ بھی ہر فرد کے پرائیویٹ معاملے کے طور پر۔ اسلام میں جو اجتماعیت کا تصور ہے جو مذہب کو فرد کا پرائیویٹ معاملہ قرار ہونے نہیں دیتا، یہ قانون اس کی اچھی طرح بیخ کنی کرے گا۔ یعنی مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کو اگر فرانس میں رہنا ہے تو فرانس کی اقدار اپنانی ہوں گی، مذہب کے معاملے میں ان کے اندر جو حساسیت پائی جاتی ہے، اس سے چھٹکارا پانا ہوگا۔ یہ خاکوں، کارٹونوں یا کتاب جلانے جیسے معمولی واقعات پر ردعمل دینے سے باز رہنا ہوگا۔۔ تب ہی وہ مغرب میں رہ پائیں گے، وگرنہ ان کو اپنے اپنے فرسودہ ممالک میں واپس بھیج دیا جائے گا۔

اس قضیے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مسلمان سدھار مشن کی لیڈ فرانس لے رہا ہے۔۔ فرانس کوئی عام ملک نہیں ہے، تاریخی طور پر فرانس کا جدید دنیا کی تشکیل میں بہت بڑا حصہ ہے۔ یہ جدید جمہوریت، سیکولرزم، آزادی اظہار وغیرہ بھی فرانس کے دورِ انقلاب کی دین ہیں۔ جدید دنیا کی بنیادیں اسی دور میں استوار کی گئی تھیں جس کو ایج آف انلائٹنمنٹ کہا جاتا ہے۔ روسو کے سوشل کانٹریکٹ (معاہدہ عمرانی) کے تحت ہی آج کے جدید معاشرے قائم ہیں۔ جان لاک، والٹیئر، مونٹیسکیو ان سب نے اسی دورِ روشن خیالی میں جدید سیاست اور ریاست کے خدوخال تشکیل دیئے۔ اس دور میں بھی فرانس نے ہی امامت سنبھالی تھی اور آج بھی فرانس ہی سب سے آگے ہے۔ فرانس میں یہ نیا قانون پاس ہوکر اس پر عملدرآمد شروع ہوگیا تو یورپ اور امریکہ میں بھی جلد ہی ایسے قوانین لانے کا زور اٹھے گا، کیونکہ مسلمانوں نے اپنی شدت پسندانہ حرکات سے ایک دنیا کو پریشان کررکھا ہے۔ انڈیا میں چونکہ مسلمان اچھی خاصی بڑی تعداد میں ہیں، اسلئے انہوں نے انڈیا میں سیکولرزم کو پنپنے نہیں دیا اور وہاں وہ حال کیا ہے کہ اب وہ سیکولرزم کو چھوڑ کر ہندوتوا کی طرف چل نکلے ہیں۔۔

میری نظر میں یہ دو تہذیبوں کا تصادم ہے، ایک تہذیب وہ جو تیز رفتاری سے علم و ہنر کی شاہراہ پر گامزن ہے اور دوسری وہ تہذیب ہے جس کے پلے ککھ بھی نہیں ہے اور وہ تہذیبِ اول کے اگائے ہوئے پھل کھا کر خود کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ سوچیے جب تہذیبِ اول ان کو الگ کرکے پھینک دے گی تب ان کا کیا حشر ہوگا، کیا یہ واپس پتھر کے دور میں نہیں پہنچ جائیں گے۔۔؟
He is dead, May Allah forgive his sins, as far as his being any sort of Islamic scholar or leader, I am an average practicing Muslim, who avoid getting into any arguement in religous beliefs, but I feel compelled to say I cannot call in 100 years a person like Maulana Khadim my leader or a person from whom I will take any information about my religion "ISLAM", Allah knows best, my reasons as I haven't seen one thing in him as an inspiring Muslim or representing what Quran asks and Ahadiths have advised.
 

atensari

Prime Minister (20k+ posts)
ایک تہذیب لاکھوں انسانوں کا قتل عام کرکے انسانی حقوق کے سالانہ نتائج کا اعلان کرتی ہے. اس تہذیب نے جن ممالک میں سب سے زیادہ قتل کئے ہوتے ہیں، جن ممالک سے اس کے اہم قریبی سفارتی اور تجارتی تعلقات ہوتے ہیں انہیں برے ترین ممالک میں سب سے زیادہ نمبر دیتی ہے
 
Last edited:

Diabetes

Politcal Worker (100+ posts)
آج مینارِ پاکستان گراؤنڈ میں مولوی خادم رضوی کا جنازہ پڑھایا گیا۔۔ اتنا بڑا جنازہ شاید ہی پاکستانی تاریخ میں کسی کا ہو۔ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد نے شرکت کی کہ نہ صرف مینارِ پاکستان کا گراؤنڈ بھر گیا، بلکہ اردگرد کا علاقہ دور دور تک لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک ایسا شخص جس نے اپنی تقریروں کے ذریعے صرف اور صرف تشدد اور نفرت کا سبق دیا، جس کی گفتگو میں گالم گلوچ کی بھرمار ہوتی تھی، اورجس نے چند ہی سال میں اس ملک میں ایسی فضاء قائم کردی کہ توہینِ رسالت کے نام پر قتل کرنا، مقدمے درج کرانا عام ہوگیا، ایسے شخص کے ساتھ پاکستان کے مسلمانوں کا اس قدر والہانہ محبت کا اظہار اس بات کی غماضی کرتا ہے کہ نظریاتی طور پر مولوی خادم رضوی پاکستانی قوم کی ترجمانی کرتا رہا۔ بہ الفاظِ دیگر پاکستانی قوم اسی متشدد سوچ کی حامل ہے جس کا پرچار مولوی خادم رضوی کرتا رہا۔ ممتاز قادری کے جنازے میں بھی قوم نے اسی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا۔ اس متشددانہ رویہ کو صرف پاکستانی قوم تک محدود کردینا غلط ہوگا، یہ رویہ بحثیت مجموعی پوری امتِ مسلمہ میں پایا جاتا ہے۔ علم الدین جو کہ ممتاز قادری کی طرح ایک قاتل تھا، اس کے ساتھ بھی مسلمانوں نے ایسی ہی گرمجوش محبت کا اظہار کیا تھا، عامی تو ایک طرف رہے، اقبال اور جناح جیسے مسلم رہنما بھی علم الدین کو کاندھوں پر اٹھائے نظر آئے۔۔ آج بھی دنیا بھر کے مسلمان اپنی اسی پرتشدد روایت پر قائم ہیں۔ اس لئے مغربی ممالک میں دنیا کے مختلف مسلم ممالک سے آکر رہائش پذیر ہونے والے مسلمان وقتاً فوقتاً پرتشدد حملوں سے اس حقیقت کا اعادہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ایک جنگجو قبائلی آئیڈیالوجی کے حامل ہیں۔

یہی وہ سوچ اور رویہ ہے جس کی نشاندہی جب مغرب میں کی جاتی ہے تو اس کو اسلاموفوبیا قرار دیا جاتا ہے، مگر اب مغرب میں فرانس نے "اِنف اِز اِنف" کہتے ہوئے لیڈ لے لی ہے اور مسلمانوں کو سدھارنے کیلئے
نئے قانون کے خدو خال تشکیل دے دیئے ہیں۔ مسلم رہنماؤں کو اس چارٹر پر دستخط کرنے کیلئے پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے۔ اس نئے قانون کے تحت مسلمانوں کے بچوں کے گھروں پر تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہوگی، مسلمانوں کے بچوں کو لازماً سکول جانا ہوگا، مسلمانوں کے بچوں کو مخصوص شناختی نمبر الاٹ کئے جائیں گے جن سے ان کی نگرانی کی جائے گی آیاکہ وہ سکول حاضر ہورہے ہیں یا نہیں۔ مزید برآں مساجد کے امام حکومت تعینات کرے گی اور حکومت معزول کرے گی۔ مساجد کو باہر سے کوئی فنڈنگ نہیں ہوسکے گی۔ سیاسی اسلام پر مکمل طور پر پابندی ہوگی، اسلام کو ایک سیاسی تحریک کے نہیں بلکہ صرف مذہب کے طور پر لینا ہوگا، وہ بھی ہر فرد کے پرائیویٹ معاملے کے طور پر۔ اسلام میں جو اجتماعیت کا تصور ہے جو مذہب کو فرد کا پرائیویٹ معاملہ قرار ہونے نہیں دیتا، یہ قانون اس کی اچھی طرح بیخ کنی کرے گا۔ یعنی مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کو اگر فرانس میں رہنا ہے تو فرانس کی اقدار اپنانی ہوں گی، مذہب کے معاملے میں ان کے اندر جو حساسیت پائی جاتی ہے، اس سے چھٹکارا پانا ہوگا۔ یہ خاکوں، کارٹونوں یا کتاب جلانے جیسے معمولی واقعات پر ردعمل دینے سے باز رہنا ہوگا۔۔ تب ہی وہ مغرب میں رہ پائیں گے، وگرنہ ان کو اپنے اپنے فرسودہ ممالک میں واپس بھیج دیا جائے گا۔

اس قضیے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مسلمان سدھار مشن کی لیڈ فرانس لے رہا ہے۔۔ فرانس کوئی عام ملک نہیں ہے، تاریخی طور پر فرانس کا جدید دنیا کی تشکیل میں بہت بڑا حصہ ہے۔ یہ جدید جمہوریت، سیکولرزم، آزادی اظہار وغیرہ بھی فرانس کے دورِ انقلاب کی دین ہیں۔ جدید دنیا کی بنیادیں اسی دور میں استوار کی گئی تھیں جس کو ایج آف انلائٹنمنٹ کہا جاتا ہے۔ روسو کے سوشل کانٹریکٹ (معاہدہ عمرانی) کے تحت ہی آج کے جدید معاشرے قائم ہیں۔ جان لاک، والٹیئر، مونٹیسکیو ان سب نے اسی دورِ روشن خیالی میں جدید سیاست اور ریاست کے خدوخال تشکیل دیئے۔ اس دور میں بھی فرانس نے ہی امامت سنبھالی تھی اور آج بھی فرانس ہی سب سے آگے ہے۔ فرانس میں یہ نیا قانون پاس ہوکر اس پر عملدرآمد شروع ہوگیا تو یورپ اور امریکہ میں بھی جلد ہی ایسے قوانین لانے کا زور اٹھے گا، کیونکہ مسلمانوں نے اپنی شدت پسندانہ حرکات سے ایک دنیا کو پریشان کررکھا ہے۔ انڈیا میں چونکہ مسلمان اچھی خاصی بڑی تعداد میں ہیں، اسلئے انہوں نے انڈیا میں سیکولرزم کو پنپنے نہیں دیا اور وہاں وہ حال کیا ہے کہ اب وہ سیکولرزم کو چھوڑ کر ہندوتوا کی طرف چل نکلے ہیں۔۔

میری نظر میں یہ دو تہذیبوں کا تصادم ہے، ایک تہذیب وہ جو تیز رفتاری سے علم و ہنر کی شاہراہ پر گامزن ہے اور دوسری وہ تہذیب ہے جس کے پلے ککھ بھی نہیں ہے اور وہ تہذیبِ اول کے اگائے ہوئے پھل کھا کر خود کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ سوچیے جب تہذیبِ اول ان کو الگ کرکے پھینک دے گی تب ان کا کیا حشر ہوگا، کیا یہ واپس پتھر کے دور میں نہیں پہنچ جائیں گے۔۔؟
Every word of you is the reality and bitter truth. Perfect Analysis. 👍
 

AhsanCA

Councller (250+ posts)
آج مینارِ پاکستان گراؤنڈ میں مولوی خادم رضوی کا جنازہ پڑھایا گیا۔۔ اتنا بڑا جنازہ شاید ہی پاکستانی تاریخ میں کسی کا ہو۔ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد نے شرکت کی کہ نہ صرف مینارِ پاکستان کا گراؤنڈ بھر گیا، بلکہ اردگرد کا علاقہ دور دور تک لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک ایسا شخص جس نے اپنی تقریروں کے ذریعے صرف اور صرف تشدد اور نفرت کا سبق دیا، جس کی گفتگو میں گالم گلوچ کی بھرمار ہوتی تھی، اورجس نے چند ہی سال میں اس ملک میں ایسی فضاء قائم کردی کہ توہینِ رسالت کے نام پر قتل کرنا، مقدمے درج کرانا عام ہوگیا، ایسے شخص کے ساتھ پاکستان کے مسلمانوں کا اس قدر والہانہ محبت کا اظہار اس بات کی غماضی کرتا ہے کہ نظریاتی طور پر مولوی خادم رضوی پاکستانی قوم کی ترجمانی کرتا رہا۔ بہ الفاظِ دیگر پاکستانی قوم اسی متشدد سوچ کی حامل ہے جس کا پرچار مولوی خادم رضوی کرتا رہا۔ ممتاز قادری کے جنازے میں بھی قوم نے اسی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا۔ اس متشددانہ رویہ کو صرف پاکستانی قوم تک محدود کردینا غلط ہوگا، یہ رویہ بحثیت مجموعی پوری امتِ مسلمہ میں پایا جاتا ہے۔ علم الدین جو کہ ممتاز قادری کی طرح ایک قاتل تھا، اس کے ساتھ بھی مسلمانوں نے ایسی ہی گرمجوش محبت کا اظہار کیا تھا، عامی تو ایک طرف رہے، اقبال اور جناح جیسے مسلم رہنما بھی علم الدین کو کاندھوں پر اٹھائے نظر آئے۔۔ آج بھی دنیا بھر کے مسلمان اپنی اسی پرتشدد روایت پر قائم ہیں۔ اس لئے مغربی ممالک میں دنیا کے مختلف مسلم ممالک سے آکر رہائش پذیر ہونے والے مسلمان وقتاً فوقتاً پرتشدد حملوں سے اس حقیقت کا اعادہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ایک جنگجو قبائلی آئیڈیالوجی کے حامل ہیں۔

یہی وہ سوچ اور رویہ ہے جس کی نشاندہی جب مغرب میں کی جاتی ہے تو اس کو اسلاموفوبیا قرار دیا جاتا ہے، مگر اب مغرب میں فرانس نے "اِنف اِز اِنف" کہتے ہوئے لیڈ لے لی ہے اور مسلمانوں کو سدھارنے کیلئے
نئے قانون کے خدو خال تشکیل دے دیئے ہیں۔ مسلم رہنماؤں کو اس چارٹر پر دستخط کرنے کیلئے پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے۔ اس نئے قانون کے تحت مسلمانوں کے بچوں کے گھروں پر تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہوگی، مسلمانوں کے بچوں کو لازماً سکول جانا ہوگا، مسلمانوں کے بچوں کو مخصوص شناختی نمبر الاٹ کئے جائیں گے جن سے ان کی نگرانی کی جائے گی آیاکہ وہ سکول حاضر ہورہے ہیں یا نہیں۔ مزید برآں مساجد کے امام حکومت تعینات کرے گی اور حکومت معزول کرے گی۔ مساجد کو باہر سے کوئی فنڈنگ نہیں ہوسکے گی۔ سیاسی اسلام پر مکمل طور پر پابندی ہوگی، اسلام کو ایک سیاسی تحریک کے نہیں بلکہ صرف مذہب کے طور پر لینا ہوگا، وہ بھی ہر فرد کے پرائیویٹ معاملے کے طور پر۔ اسلام میں جو اجتماعیت کا تصور ہے جو مذہب کو فرد کا پرائیویٹ معاملہ قرار ہونے نہیں دیتا، یہ قانون اس کی اچھی طرح بیخ کنی کرے گا۔ یعنی مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کو اگر فرانس میں رہنا ہے تو فرانس کی اقدار اپنانی ہوں گی، مذہب کے معاملے میں ان کے اندر جو حساسیت پائی جاتی ہے، اس سے چھٹکارا پانا ہوگا۔ یہ خاکوں، کارٹونوں یا کتاب جلانے جیسے معمولی واقعات پر ردعمل دینے سے باز رہنا ہوگا۔۔ تب ہی وہ مغرب میں رہ پائیں گے، وگرنہ ان کو اپنے اپنے فرسودہ ممالک میں واپس بھیج دیا جائے گا۔

اس قضیے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مسلمان سدھار مشن کی لیڈ فرانس لے رہا ہے۔۔ فرانس کوئی عام ملک نہیں ہے، تاریخی طور پر فرانس کا جدید دنیا کی تشکیل میں بہت بڑا حصہ ہے۔ یہ جدید جمہوریت، سیکولرزم، آزادی اظہار وغیرہ بھی فرانس کے دورِ انقلاب کی دین ہیں۔ جدید دنیا کی بنیادیں اسی دور میں استوار کی گئی تھیں جس کو ایج آف انلائٹنمنٹ کہا جاتا ہے۔ روسو کے سوشل کانٹریکٹ (معاہدہ عمرانی) کے تحت ہی آج کے جدید معاشرے قائم ہیں۔ جان لاک، والٹیئر، مونٹیسکیو ان سب نے اسی دورِ روشن خیالی میں جدید سیاست اور ریاست کے خدوخال تشکیل دیئے۔ اس دور میں بھی فرانس نے ہی امامت سنبھالی تھی اور آج بھی فرانس ہی سب سے آگے ہے۔ فرانس میں یہ نیا قانون پاس ہوکر اس پر عملدرآمد شروع ہوگیا تو یورپ اور امریکہ میں بھی جلد ہی ایسے قوانین لانے کا زور اٹھے گا، کیونکہ مسلمانوں نے اپنی شدت پسندانہ حرکات سے ایک دنیا کو پریشان کررکھا ہے۔ انڈیا میں چونکہ مسلمان اچھی خاصی بڑی تعداد میں ہیں، اسلئے انہوں نے انڈیا میں سیکولرزم کو پنپنے نہیں دیا اور وہاں وہ حال کیا ہے کہ اب وہ سیکولرزم کو چھوڑ کر ہندوتوا کی طرف چل نکلے ہیں۔۔

میری نظر میں یہ دو تہذیبوں کا تصادم ہے، ایک تہذیب وہ جو تیز رفتاری سے علم و ہنر کی شاہراہ پر گامزن ہے اور دوسری وہ تہذیب ہے جس کے پلے ککھ بھی نہیں ہے اور وہ تہذیبِ اول کے اگائے ہوئے پھل کھا کر خود کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ سوچیے جب تہذیبِ اول ان کو الگ کرکے پھینک دے گی تب ان کا کیا حشر ہوگا، کیا یہ واپس پتھر کے دور میں نہیں پہنچ جائیں گے۔۔؟
mughay pata nahi q yahan sy qadyaniat ke bu aa rahe hy pura article parhny ky baad baat kr raha hoon
 

jb_008

Citizen
آج مینارِ پاکستان گراؤنڈ میں مولوی خادم رضوی کا جنازہ پڑھایا گیا۔۔ اتنا بڑا جنازہ شاید ہی پاکستانی تاریخ میں کسی کا ہو۔ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد نے شرکت کی کہ نہ صرف مینارِ پاکستان کا گراؤنڈ بھر گیا، بلکہ اردگرد کا علاقہ دور دور تک لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک ایسا شخص جس نے اپنی تقریروں کے ذریعے صرف اور صرف تشدد اور نفرت کا سبق دیا، جس کی گفتگو میں گالم گلوچ کی بھرمار ہوتی تھی، اورجس نے چند ہی سال میں اس ملک میں ایسی فضاء قائم کردی کہ توہینِ رسالت کے نام پر قتل کرنا، مقدمے درج کرانا عام ہوگیا، ایسے شخص کے ساتھ پاکستان کے مسلمانوں کا اس قدر والہانہ محبت کا اظہار اس بات کی غماضی کرتا ہے کہ نظریاتی طور پر مولوی خادم رضوی پاکستانی قوم کی ترجمانی کرتا رہا۔ بہ الفاظِ دیگر پاکستانی قوم اسی متشدد سوچ کی حامل ہے جس کا پرچار مولوی خادم رضوی کرتا رہا۔ ممتاز قادری کے جنازے میں بھی قوم نے اسی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا۔ اس متشددانہ رویہ کو صرف پاکستانی قوم تک محدود کردینا غلط ہوگا، یہ رویہ بحثیت مجموعی پوری امتِ مسلمہ میں پایا جاتا ہے۔ علم الدین جو کہ ممتاز قادری کی طرح ایک قاتل تھا، اس کے ساتھ بھی مسلمانوں نے ایسی ہی گرمجوش محبت کا اظہار کیا تھا، عامی تو ایک طرف رہے، اقبال اور جناح جیسے مسلم رہنما بھی علم الدین کو کاندھوں پر اٹھائے نظر آئے۔۔ آج بھی دنیا بھر کے مسلمان اپنی اسی پرتشدد روایت پر قائم ہیں۔ اس لئے مغربی ممالک میں دنیا کے مختلف مسلم ممالک سے آکر رہائش پذیر ہونے والے مسلمان وقتاً فوقتاً پرتشدد حملوں سے اس حقیقت کا اعادہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ایک جنگجو قبائلی آئیڈیالوجی کے حامل ہیں۔

یہی وہ سوچ اور رویہ ہے جس کی نشاندہی جب مغرب میں کی جاتی ہے تو اس کو اسلاموفوبیا قرار دیا جاتا ہے، مگر اب مغرب میں فرانس نے "اِنف اِز اِنف" کہتے ہوئے لیڈ لے لی ہے اور مسلمانوں کو سدھارنے کیلئے
نئے قانون کے خدو خال تشکیل دے دیئے ہیں۔ مسلم رہنماؤں کو اس چارٹر پر دستخط کرنے کیلئے پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے۔ اس نئے قانون کے تحت مسلمانوں کے بچوں کے گھروں پر تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہوگی، مسلمانوں کے بچوں کو لازماً سکول جانا ہوگا، مسلمانوں کے بچوں کو مخصوص شناختی نمبر الاٹ کئے جائیں گے جن سے ان کی نگرانی کی جائے گی آیاکہ وہ سکول حاضر ہورہے ہیں یا نہیں۔ مزید برآں مساجد کے امام حکومت تعینات کرے گی اور حکومت معزول کرے گی۔ مساجد کو باہر سے کوئی فنڈنگ نہیں ہوسکے گی۔ سیاسی اسلام پر مکمل طور پر پابندی ہوگی، اسلام کو ایک سیاسی تحریک کے نہیں بلکہ صرف مذہب کے طور پر لینا ہوگا، وہ بھی ہر فرد کے پرائیویٹ معاملے کے طور پر۔ اسلام میں جو اجتماعیت کا تصور ہے جو مذہب کو فرد کا پرائیویٹ معاملہ قرار ہونے نہیں دیتا، یہ قانون اس کی اچھی طرح بیخ کنی کرے گا۔ یعنی مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کو اگر فرانس میں رہنا ہے تو فرانس کی اقدار اپنانی ہوں گی، مذہب کے معاملے میں ان کے اندر جو حساسیت پائی جاتی ہے، اس سے چھٹکارا پانا ہوگا۔ یہ خاکوں، کارٹونوں یا کتاب جلانے جیسے معمولی واقعات پر ردعمل دینے سے باز رہنا ہوگا۔۔ تب ہی وہ مغرب میں رہ پائیں گے، وگرنہ ان کو اپنے اپنے فرسودہ ممالک میں واپس بھیج دیا جائے گا۔

اس قضیے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مسلمان سدھار مشن کی لیڈ فرانس لے رہا ہے۔۔ فرانس کوئی عام ملک نہیں ہے، تاریخی طور پر فرانس کا جدید دنیا کی تشکیل میں بہت بڑا حصہ ہے۔ یہ جدید جمہوریت، سیکولرزم، آزادی اظہار وغیرہ بھی فرانس کے دورِ انقلاب کی دین ہیں۔ جدید دنیا کی بنیادیں اسی دور میں استوار کی گئی تھیں جس کو ایج آف انلائٹنمنٹ کہا جاتا ہے۔ روسو کے سوشل کانٹریکٹ (معاہدہ عمرانی) کے تحت ہی آج کے جدید معاشرے قائم ہیں۔ جان لاک، والٹیئر، مونٹیسکیو ان سب نے اسی دورِ روشن خیالی میں جدید سیاست اور ریاست کے خدوخال تشکیل دیئے۔ اس دور میں بھی فرانس نے ہی امامت سنبھالی تھی اور آج بھی فرانس ہی سب سے آگے ہے۔ فرانس میں یہ نیا قانون پاس ہوکر اس پر عملدرآمد شروع ہوگیا تو یورپ اور امریکہ میں بھی جلد ہی ایسے قوانین لانے کا زور اٹھے گا، کیونکہ مسلمانوں نے اپنی شدت پسندانہ حرکات سے ایک دنیا کو پریشان کررکھا ہے۔ انڈیا میں چونکہ مسلمان اچھی خاصی بڑی تعداد میں ہیں، اسلئے انہوں نے انڈیا میں سیکولرزم کو پنپنے نہیں دیا اور وہاں وہ حال کیا ہے کہ اب وہ سیکولرزم کو چھوڑ کر ہندوتوا کی طرف چل نکلے ہیں۔۔

میری نظر میں یہ دو تہذیبوں کا تصادم ہے، ایک تہذیب وہ جو تیز رفتاری سے علم و ہنر کی شاہراہ پر گامزن ہے اور دوسری وہ تہذیب ہے جس کے پلے ککھ بھی نہیں ہے اور وہ تہذیبِ اول کے اگائے ہوئے پھل کھا کر خود کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ سوچیے جب تہذیبِ اول ان کو الگ کرکے پھینک دے گی تب ان کا کیا حشر ہوگا، کیا یہ واپس پتھر کے دور میں نہیں پہنچ جائیں گے۔۔؟
محترم ، آپ کی پوسٹس بہت زبردست ہوتی ہیں، پڑھ کے مزہ ہی آ جا تا ہے۔ آپ کی آج کی پوسٹ کے جواب میں میں نے آپ کو تاریخ میں واپس لے کے جا نا ہے۔ میں آپ کو اگست 1937 کے قادیان میں لے کے جا رہا ہوں۔ قادیان میں 7 اگست 1937 کو ایک بندے پہ قاتلانہ حملہ ہوتا ہے ، اس بندے کو گورداسپور کے ہسپتال میں لے جایا جاتا ہے اور اس بندے کی 13 اگست 1937 کو ساڑھے تین بجے وفات ہو جاتی ہے۔ آپ کا ہوم ورک یہ ہے کہ آپ نے مربی صاب سے جا کے پوچھنا ہے کہ یہ بندہ کون تھا اس پہ کس نے قاتلانہ حملہ کیا اور اس نے یہ حملہ کیوں کیا۔جب اس حملےاور قتل کی بنا پہ حملہ آور بندہ پھانسی چڑھ گیا تو اس کی لاش کو جلوس کی شکل میں کون واپس قادیان لے کے آیا اور کس نے اس کو شہید کا خطاب دیا۔
اس کے ساتھ ہی ساتھ آپ نے مرزا محمود کے خطبات کے آرکائیوز میں جانا ہے اور6 اگست 1937 کا خطبہ ڈھونڈنا ہے ۔ اگر یہ خطبہ آپ کو نہ ملے تو پھر کسی مربی کے متھے لگنا ہے اور اس سےپوچھنا ہے کہ آخر اس خطبے میں ایسی کیا بات ہے کہ یہ
خطبہ نایاب ہو گیا ہے اور کہیں ملتا ہی نہیں
۔

میں آپ کے جوابات کا منتظر ہوں۔ جتنی جلدی جواب ڈھونڈ دیں گے ۔ بندہ ممنون ہو گا۔
 
آج مینارِ پاکستان گراؤنڈ میں مولوی خادم رضوی کا جنازہ پڑھایا گیا۔۔ اتنا بڑا جنازہ شاید ہی پاکستانی تاریخ میں کسی کا ہو۔ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد نے شرکت کی کہ نہ صرف مینارِ پاکستان کا گراؤنڈ بھر گیا، بلکہ اردگرد کا علاقہ دور دور تک لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک ایسا شخص جس نے اپنی تقریروں کے ذریعے صرف اور صرف تشدد اور نفرت کا سبق دیا، جس کی گفتگو میں گالم گلوچ کی بھرمار ہوتی تھی، اورجس نے چند ہی سال میں اس ملک میں ایسی فضاء قائم کردی کہ توہینِ رسالت کے نام پر قتل کرنا، مقدمے درج کرانا عام ہوگیا، ایسے شخص کے ساتھ پاکستان کے مسلمانوں کا اس قدر والہانہ محبت کا اظہار اس بات کی غماضی کرتا ہے کہ نظریاتی طور پر مولوی خادم رضوی پاکستانی قوم کی ترجمانی کرتا رہا۔ بہ الفاظِ دیگر پاکستانی قوم اسی متشدد سوچ کی حامل ہے جس کا پرچار مولوی خادم رضوی کرتا رہا۔ ممتاز قادری کے جنازے میں بھی قوم نے اسی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا۔ اس متشددانہ رویہ کو صرف پاکستانی قوم تک محدود کردینا غلط ہوگا، یہ رویہ بحثیت مجموعی پوری امتِ مسلمہ میں پایا جاتا ہے۔ علم الدین جو کہ ممتاز قادری کی طرح ایک قاتل تھا، اس کے ساتھ بھی مسلمانوں نے ایسی ہی گرمجوش محبت کا اظہار کیا تھا، عامی تو ایک طرف رہے، اقبال اور جناح جیسے مسلم رہنما بھی علم الدین کو کاندھوں پر اٹھائے نظر آئے۔۔ آج بھی دنیا بھر کے مسلمان اپنی اسی پرتشدد روایت پر قائم ہیں۔ اس لئے مغربی ممالک میں دنیا کے مختلف مسلم ممالک سے آکر رہائش پذیر ہونے والے مسلمان وقتاً فوقتاً پرتشدد حملوں سے اس حقیقت کا اعادہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ایک جنگجو قبائلی آئیڈیالوجی کے حامل ہیں۔

یہی وہ سوچ اور رویہ ہے جس کی نشاندہی جب مغرب میں کی جاتی ہے تو اس کو اسلاموفوبیا قرار دیا جاتا ہے، مگر اب مغرب میں فرانس نے "اِنف اِز اِنف" کہتے ہوئے لیڈ لے لی ہے اور مسلمانوں کو سدھارنے کیلئے
نئے قانون کے خدو خال تشکیل دے دیئے ہیں۔ مسلم رہنماؤں کو اس چارٹر پر دستخط کرنے کیلئے پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے۔ اس نئے قانون کے تحت مسلمانوں کے بچوں کے گھروں پر تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہوگی، مسلمانوں کے بچوں کو لازماً سکول جانا ہوگا، مسلمانوں کے بچوں کو مخصوص شناختی نمبر الاٹ کئے جائیں گے جن سے ان کی نگرانی کی جائے گی آیاکہ وہ سکول حاضر ہورہے ہیں یا نہیں۔ مزید برآں مساجد کے امام حکومت تعینات کرے گی اور حکومت معزول کرے گی۔ مساجد کو باہر سے کوئی فنڈنگ نہیں ہوسکے گی۔ سیاسی اسلام پر مکمل طور پر پابندی ہوگی، اسلام کو ایک سیاسی تحریک کے نہیں بلکہ صرف مذہب کے طور پر لینا ہوگا، وہ بھی ہر فرد کے پرائیویٹ معاملے کے طور پر۔ اسلام میں جو اجتماعیت کا تصور ہے جو مذہب کو فرد کا پرائیویٹ معاملہ قرار ہونے نہیں دیتا، یہ قانون اس کی اچھی طرح بیخ کنی کرے گا۔ یعنی مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کو اگر فرانس میں رہنا ہے تو فرانس کی اقدار اپنانی ہوں گی، مذہب کے معاملے میں ان کے اندر جو حساسیت پائی جاتی ہے، اس سے چھٹکارا پانا ہوگا۔ یہ خاکوں، کارٹونوں یا کتاب جلانے جیسے معمولی واقعات پر ردعمل دینے سے باز رہنا ہوگا۔۔ تب ہی وہ مغرب میں رہ پائیں گے، وگرنہ ان کو اپنے اپنے فرسودہ ممالک میں واپس بھیج دیا جائے گا۔

اس قضیے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مسلمان سدھار مشن کی لیڈ فرانس لے رہا ہے۔۔ فرانس کوئی عام ملک نہیں ہے، تاریخی طور پر فرانس کا جدید دنیا کی تشکیل میں بہت بڑا حصہ ہے۔ یہ جدید جمہوریت، سیکولرزم، آزادی اظہار وغیرہ بھی فرانس کے دورِ انقلاب کی دین ہیں۔ جدید دنیا کی بنیادیں اسی دور میں استوار کی گئی تھیں جس کو ایج آف انلائٹنمنٹ کہا جاتا ہے۔ روسو کے سوشل کانٹریکٹ (معاہدہ عمرانی) کے تحت ہی آج کے جدید معاشرے قائم ہیں۔ جان لاک، والٹیئر، مونٹیسکیو ان سب نے اسی دورِ روشن خیالی میں جدید سیاست اور ریاست کے خدوخال تشکیل دیئے۔ اس دور میں بھی فرانس نے ہی امامت سنبھالی تھی اور آج بھی فرانس ہی سب سے آگے ہے۔ فرانس میں یہ نیا قانون پاس ہوکر اس پر عملدرآمد شروع ہوگیا تو یورپ اور امریکہ میں بھی جلد ہی ایسے قوانین لانے کا زور اٹھے گا، کیونکہ مسلمانوں نے اپنی شدت پسندانہ حرکات سے ایک دنیا کو پریشان کررکھا ہے۔ انڈیا میں چونکہ مسلمان اچھی خاصی بڑی تعداد میں ہیں، اسلئے انہوں نے انڈیا میں سیکولرزم کو پنپنے نہیں دیا اور وہاں وہ حال کیا ہے کہ اب وہ سیکولرزم کو چھوڑ کر ہندوتوا کی طرف چل نکلے ہیں۔۔

میری نظر میں یہ دو تہذیبوں کا تصادم ہے، ایک تہذیب وہ جو تیز رفتاری سے علم و ہنر کی شاہراہ پر گامزن ہے اور دوسری وہ تہذیب ہے جس کے پلے ککھ بھی نہیں ہے اور وہ تہذیبِ اول کے اگائے ہوئے پھل کھا کر خود کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ سوچیے جب تہذیبِ اول ان کو الگ کرکے پھینک دے گی تب ان کا کیا حشر ہوگا، کیا یہ واپس پتھر کے دور میں نہیں پہنچ جائیں گے۔۔؟
Expelling people won't help, the only solution is mutual respect.
Marginalizing a faction of society will further extremism. If hurting a fellow human being in the name or religion is extremism then hurting someone else's religious sentiments, knowingly, is an equally criminal attitude.
Mahatma Gandhi wasn't killed by an extremism Muslim which paved the way to Hindutva neither Hitler was a religious fanatic and hence he massacred Jews. It was lack of respect, tolerance and a false pride of supermacy. What Modi is doing is exactly what a fascist would, it has nothing to do with the Musims in India so please stop distorting the history.
What France and Europe need to do is to bring legislations that make blasphemy a criminal offense just like holocaust just like UN has several non binding resolutions on the issue.
At the same time muslim scholars should teach their followers to respect others' views and beliefs and stop judging people based on their religious inclinations - as mentioned in surah Ina'am verse 108:
"And do not abuse those whom they call upon besides Allah, lest exceeding the limits they should abuse Allah out of ignorance. Thus have We made fair seeming to every people their deeds; then to their Lord shall be their return, so He will inform them of what they did."
 

mustfarhan

MPA (400+ posts)
آج مینارِ پاکستان گراؤنڈ میں مولوی خادم رضوی کا جنازہ پڑھایا گیا۔۔ اتنا بڑا جنازہ شاید ہی پاکستانی تاریخ میں کسی کا ہو۔ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد نے شرکت کی کہ نہ صرف مینارِ پاکستان کا گراؤنڈ بھر گیا، بلکہ اردگرد کا علاقہ دور دور تک لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک ایسا شخص جس نے اپنی تقریروں کے ذریعے صرف اور صرف تشدد اور نفرت کا سبق دیا، جس کی گفتگو میں گالم گلوچ کی بھرمار ہوتی تھی، اورجس نے چند ہی سال میں اس ملک میں ایسی فضاء قائم کردی کہ توہینِ رسالت کے نام پر قتل کرنا، مقدمے درج کرانا عام ہوگیا، ایسے شخص کے ساتھ پاکستان کے مسلمانوں کا اس قدر والہانہ محبت کا اظہار اس بات کی غماضی کرتا ہے کہ نظریاتی طور پر مولوی خادم رضوی پاکستانی قوم کی ترجمانی کرتا رہا۔ بہ الفاظِ دیگر پاکستانی قوم اسی متشدد سوچ کی حامل ہے جس کا پرچار مولوی خادم رضوی کرتا رہا۔ ممتاز قادری کے جنازے میں بھی قوم نے اسی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا۔ اس متشددانہ رویہ کو صرف پاکستانی قوم تک محدود کردینا غلط ہوگا، یہ رویہ بحثیت مجموعی پوری امتِ مسلمہ میں پایا جاتا ہے۔ علم الدین جو کہ ممتاز قادری کی طرح ایک قاتل تھا، اس کے ساتھ بھی مسلمانوں نے ایسی ہی گرمجوش محبت کا اظہار کیا تھا، عامی تو ایک طرف رہے، اقبال اور جناح جیسے مسلم رہنما بھی علم الدین کو کاندھوں پر اٹھائے نظر آئے۔۔ آج بھی دنیا بھر کے مسلمان اپنی اسی پرتشدد روایت پر قائم ہیں۔ اس لئے مغربی ممالک میں دنیا کے مختلف مسلم ممالک سے آکر رہائش پذیر ہونے والے مسلمان وقتاً فوقتاً پرتشدد حملوں سے اس حقیقت کا اعادہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ایک جنگجو قبائلی آئیڈیالوجی کے حامل ہیں۔

یہی وہ سوچ اور رویہ ہے جس کی نشاندہی جب مغرب میں کی جاتی ہے تو اس کو اسلاموفوبیا قرار دیا جاتا ہے، مگر اب مغرب میں فرانس نے "اِنف اِز اِنف" کہتے ہوئے لیڈ لے لی ہے اور مسلمانوں کو سدھارنے کیلئے
نئے قانون کے خدو خال تشکیل دے دیئے ہیں۔ مسلم رہنماؤں کو اس چارٹر پر دستخط کرنے کیلئے پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے۔ اس نئے قانون کے تحت مسلمانوں کے بچوں کے گھروں پر تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہوگی، مسلمانوں کے بچوں کو لازماً سکول جانا ہوگا، مسلمانوں کے بچوں کو مخصوص شناختی نمبر الاٹ کئے جائیں گے جن سے ان کی نگرانی کی جائے گی آیاکہ وہ سکول حاضر ہورہے ہیں یا نہیں۔ مزید برآں مساجد کے امام حکومت تعینات کرے گی اور حکومت معزول کرے گی۔ مساجد کو باہر سے کوئی فنڈنگ نہیں ہوسکے گی۔ سیاسی اسلام پر مکمل طور پر پابندی ہوگی، اسلام کو ایک سیاسی تحریک کے نہیں بلکہ صرف مذہب کے طور پر لینا ہوگا، وہ بھی ہر فرد کے پرائیویٹ معاملے کے طور پر۔ اسلام میں جو اجتماعیت کا تصور ہے جو مذہب کو فرد کا پرائیویٹ معاملہ قرار ہونے نہیں دیتا، یہ قانون اس کی اچھی طرح بیخ کنی کرے گا۔ یعنی مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کو اگر فرانس میں رہنا ہے تو فرانس کی اقدار اپنانی ہوں گی، مذہب کے معاملے میں ان کے اندر جو حساسیت پائی جاتی ہے، اس سے چھٹکارا پانا ہوگا۔ یہ خاکوں، کارٹونوں یا کتاب جلانے جیسے معمولی واقعات پر ردعمل دینے سے باز رہنا ہوگا۔۔ تب ہی وہ مغرب میں رہ پائیں گے، وگرنہ ان کو اپنے اپنے فرسودہ ممالک میں واپس بھیج دیا جائے گا۔

اس قضیے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مسلمان سدھار مشن کی لیڈ فرانس لے رہا ہے۔۔ فرانس کوئی عام ملک نہیں ہے، تاریخی طور پر فرانس کا جدید دنیا کی تشکیل میں بہت بڑا حصہ ہے۔ یہ جدید جمہوریت، سیکولرزم، آزادی اظہار وغیرہ بھی فرانس کے دورِ انقلاب کی دین ہیں۔ جدید دنیا کی بنیادیں اسی دور میں استوار کی گئی تھیں جس کو ایج آف انلائٹنمنٹ کہا جاتا ہے۔ روسو کے سوشل کانٹریکٹ (معاہدہ عمرانی) کے تحت ہی آج کے جدید معاشرے قائم ہیں۔ جان لاک، والٹیئر، مونٹیسکیو ان سب نے اسی دورِ روشن خیالی میں جدید سیاست اور ریاست کے خدوخال تشکیل دیئے۔ اس دور میں بھی فرانس نے ہی امامت سنبھالی تھی اور آج بھی فرانس ہی سب سے آگے ہے۔ فرانس میں یہ نیا قانون پاس ہوکر اس پر عملدرآمد شروع ہوگیا تو یورپ اور امریکہ میں بھی جلد ہی ایسے قوانین لانے کا زور اٹھے گا، کیونکہ مسلمانوں نے اپنی شدت پسندانہ حرکات سے ایک دنیا کو پریشان کررکھا ہے۔ انڈیا میں چونکہ مسلمان اچھی خاصی بڑی تعداد میں ہیں، اسلئے انہوں نے انڈیا میں سیکولرزم کو پنپنے نہیں دیا اور وہاں وہ حال کیا ہے کہ اب وہ سیکولرزم کو چھوڑ کر ہندوتوا کی طرف چل نکلے ہیں۔۔

میری نظر میں یہ دو تہذیبوں کا تصادم ہے، ایک تہذیب وہ جو تیز رفتاری سے علم و ہنر کی شاہراہ پر گامزن ہے اور دوسری وہ تہذیب ہے جس کے پلے ککھ بھی نہیں ہے اور وہ تہذیبِ اول کے اگائے ہوئے پھل کھا کر خود کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ سوچیے جب تہذیبِ اول ان کو الگ کرکے پھینک دے گی تب ان کا کیا حشر ہوگا، کیا یہ واپس پتھر کے دور میں نہیں پہنچ جائیں گے۔۔؟
جناب آج آپکی تہزیب اول اس تہزیب دوم سے تجارت اور سفارتی تعلقات معطل کردے. دس سال میں دونوں تہزیبوں کا معیار زندگی برابر ہوگا. باقی جرمنی میں ایک عورت جس نے جوب لیس بینیفٹ کیلئے اپلائ کیا تھا اسکو گورنمنٹ کی طرف سے جسم بیچنے کی جاب کی آفر ہوئ انکار پر اسکا؟
بینیفٹ بند ہوگیا. لگتا ہے تمہاری فیملی نے جاب قبول کرلی ہے اگر ڈکشنری میں غیرت نہیں ہے تو بکواس بھی نہیں کرتے
 

Okara

Chief Minister (5k+ posts)
The problems in the West are deeper than just a reaction to Muslim actions. Even if the Muslims sold their souls, they will not be accepted. Just look at the treatment of black people in the West.
Let's assume you or ur loved one needs a life saving drug. One is manufactured by a Muslim country such as Pakistan and other is by a non-muslim country such as USA, Which one u will select?
Was guide of Imam ul Ambia Muhammad peace be upon him during migration was Muslim or non-muslim?
Please share one quality of Muslim we are practicing in our society?
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں