زرمبادلہ کے ذخائر 2 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

stari1i1.jpg

اسٹیٹ بینک کے ذخائر23 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں 19 کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی ہوئی جس کے بعد اسٹیٹ بینک کے ذخائر23 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے ذخائر اس وقت 10 ارب 30 کروڑ ڈالر ہیں ، دیگر بینک کے ذخائر میں 1کروڑ 30 لاکھ کا اضافہ ہوا،جبکہ دیگر بینک کے ذخائر 6 ارب 67 لاکھ ڈالر ہو گئے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق ملک کے مجموعی ذخائر 17 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی کمی سے 16 ارب 37 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

دوسری جانب انٹربینک میں ڈالرتاریخ میں پہلی بار 191 روپے سے تجاوز کرگیا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق جمعرات کوانٹربینک میں ڈالر کی قدر ایک روپے 75 پیسے کا اضافہ ہوا جس سے ڈالر191.77 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

ابتدا میں بارہ مئی بروز جمعرات کو انٹربینک میں دوران ٹریڈنگ ڈالر98 پیسے مہنگا ہوا تھا۔

اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی فروخت 193روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔

کرنسی ڈیلرز نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک اورموجودہ حکومت روپے کی قدرسنبھالنے کیلئےاقدامات نہیں کررہے ہیں۔

ماہرین کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ نئے قرض کے حصول اورموجودہ قرض کے رول اوور ہونےمیں تاخیر روپے کی قدر گرا رہی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 7 اپریل کو بھی ٹریڈنگ کے دوران ڈالر 190 روپے کو چھو کر واپس آگیا تھا لیکن تقریباً ایک ماہ بعد بدھ کو ڈالر 190 ڈالر کے ریکارڈ کو توڑنے میں کامیاب ہوگیا۔

گیارہ مئی کو اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر 2 روپے اضافے سے 192 روپے کی سطح پر پہنچ گیا تھا جبکہ ٹریڈنگ کے دوران 192.50 روپے فروخت ہونے کی بھی اطلاعات تھیں۔

واضح رہے کہ اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر 7 اپریل کو 190 روپے کی سطح پر پہنچ گیا تھا جو بلند ترین قیمت کا ریکارڈ تھا، اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی بلند ترین قیمت کا یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ چکا ہے۔
 
Advertisement

samisam

Minister (2k+ posts)
And credit goes to Bajwa and company who they brought these thieves in power for their personal gains and With the Help of their Master America
Under conspiracy
of Regime Change and anjum is still sitting in America for the final phase of this anti Pakistan Regime Change episode
 

انقلاب

MPA (400+ posts)
جی ایچ کیو کے بے غیرت پراپرٹی ڈیلرو، منہ کالا کروا کے ہن رام ای؟
 

miafridi

Prime Minister (20k+ posts)
Noon leak is known to ruin economy not to build it.

On the contrary PTI not only took bold/unpopular decisions but all economic indicators Like Revenue collection, exports, remittances, job creation, GDP etc went into positive as well.

امپورٹڈ_حکومت_نامنظور
 
Sponsored Link