سارہ قتل کیس، ایاز امیر مقدمے سے ڈسچارج ،رہاکرنیکاحکم

ayazm1i1h1h12.jpg


سارہ انعام قتل کیس میں ایاز امیر کو مقدمے سے ڈسچارج کر دیا گیا اور ایازامیر کو رہا کرنے کا حکم دیدیا

اسلام آباد کی عدالت میں سارہ انعام قتل کیس میں سینئر صحافی ایاز امیر کو پیش کیا گیا۔اسلام آباد پولیس کی جانب سے ایاز امیر کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد سول جج کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ایاز امیر کے خلاف کوئی ثبوت نہیں۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ رات کو مزید تفتیش کی، مرکزی ملزم شاہ نواز کا ان سے رابطہ ہوا تھا، مقتولہ سارہ انعام کے والد بھی اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

عدالت نے پراسیکیوٹر سے سوال کیا کہ آپ کےپاس بادی النظرمیں ایاز امیر کے خلاف کیا ثبوت ہیں؟

پراسیکیوٹر نے کہا کہ سارہ انعام کےقتل کے بعد مرکزی ملزم شاہنواز کا اپنے والد سے رابطہ ہوا ہے، مقتولہ سارہ انعام کے والدین کے پاس تمام ثبوت موجود ہیں۔

ایاز امیر کے وکیل نے کہا کہ ایاز امیر کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں۔ایاز امیر کے خلاف پولیس کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔انگلینڈ سے اگر بندہ آرہا ہے تو وہ اس کیس کا گواہ نہیں ہو سکتا۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ کہ اسلام آباد پولیس ایک بٹن دبائے تو سی ڈی آر نکل آتی ہے، ایازامیر کا بیٹے شاہنواز سے رابطہ واقعے کے بعد ہوا ہے، باپ کا بیٹے سے رابطہ ہوجائے تو کیا دفعہ 109 لگتی ہے؟

وکیل نے دلائل میں کہا کہ پولیس خود کہہ رہی ہے بے گناہ ہوئے تو ڈسچارج کر دینگے تو اتنے دن گرفتار رکھا جگ ہنسائی ہوئی اسکا ذمہ دار کون ہے۔ابھی پولیس ثبوت اکٹھی کر رہی ہے اور ایاز امیر کو گرفتار کر لیا ہے۔

مقتولہ کے والدین کا میرے موکل کے خلاف کوئی بیان بھی نہیں ہے۔پولیس کے پاس ایاز امیر کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ہم تفتیش سے نہیں بھاگ رہے۔کوئی قانون بتا دیں جس کے تحت ایاز امیر کو اس مقدمہ میں نامزد کیا جا سکتا ہو۔

اس پر ایاز امیر کے وکیل نے کہا کہ جب ثبوت آجائیں تو پھر وارنٹ لےکر گرفتار کرلیں۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ایاز امیر کو مقدمہ سے ڈسچارج کر دیا۔

ایاز امیر کا نام مقدمے سے خارج کرنے اپنے مختصر حکم نامے میں جج نے کہا کہ صفحہ مثل پر کوئی ثبوت نہیں ہے۔
 
Last edited:

A.jokhio

Minister (2k+ posts)
ayazm1i1h1h12.jpg


سارہ انعام قتل کیس میں ایاز امیر کو مقدمے سے ڈسچارج کر دیا گیا اور ایازامیر کو رہا کرنے کا حکم دیدیا

اسلام آباد کی عدالت میں سارہ انعام قتل کیس میں سینئر صحافی ایاز امیر کو پیش کیا گیا۔اسلام آباد پولیس کی جانب سے ایاز امیر کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد سول جج کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ایاز امیر کے خلاف کوئی ثبوت نہیں۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ رات کو مزید تفتیش کی، مرکزی ملزم شاہ نواز کا ان سے رابطہ ہوا تھا، مقتولہ سارہ انعام کے والد بھی اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

عدالت نے پراسیکیوٹر سے سوال کیا کہ آپ کےپاس بادی النظرمیں ایاز امیر کے خلاف کیا ثبوت ہیں؟

پراسیکیوٹر نے کہا کہ سارہ انعام کےقتل کے بعد مرکزی ملزم شاہنواز کا اپنے والد سے رابطہ ہوا ہے، مقتولہ سارہ انعام کے والدین کے پاس تمام ثبوت موجود ہیں۔

ایاز امیر کے وکیل نے کہا کہ ایاز امیر کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں۔ایاز امیر کے خلاف پولیس کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔انگلینڈ سے اگر بندہ آرہا ہے تو وہ اس کیس کا گواہ نہیں ہو سکتا۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ کہ اسلام آباد پولیس ایک بٹن دبائے تو سی ڈی آر نکل آتی ہے، ایازامیر کا بیٹے شاہنواز سے رابطہ واقعے کے بعد ہوا ہے، باپ کا بیٹے سے رابطہ ہوجائے تو کیا دفعہ 109 لگتی ہے؟

وکیل نے دلائل میں کہا کہ پولیس خود کہہ رہی ہے بے گناہ ہوئے تو ڈسچارج کر دینگے تو اتنے دن گرفتار رکھا جگ ہنسائی ہوئی اسکا ذمہ دار کون ہے۔ابھی پولیس ثبوت اکٹھی کر رہی ہے اور ایاز امیر کو گرفتار کر لیا ہے۔

مقتولہ کے والدین کا میرے موکل کے خلاف کوئی بیان بھی نہیں ہے۔پولیس کے پاس ایاز امیر کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ہم تفتیش سے نہیں بھاگ رہے۔کوئی قانون بتا دیں جس کے تحت ایاز امیر کو اس مقدمہ میں نامزد کیا جا سکتا ہو۔

اس پر ایاز امیر کے وکیل نے کہا کہ جب ثبوت آجائیں تو پھر وارنٹ لےکر گرفتار کرلیں۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ایاز امیر کو مقدمہ سے ڈسچارج کر دیا۔

ایاز امیر کا نام مقدمے سے خارج کرنے اپنے مختصر حکم نامے میں جج نے کہا کہ صفحہ مثل پر کوئی ثبوت نہیں ہے۔
one common thing in this n noor muqadam case, is drug an alcohol addiction of their partners...rigorous steps mst be take to save our nation from drugs addiction...arround 70% of crimes specially against women n children are caused by this...
 

Dr Adam

Prime Minister (20k+ posts)
Good to hear that at least he was released by the court held by the ISB police on flimsy grounds.
These poolsias have really become out of control, they show no regard and respect to anybody... may be a gentleman or a lady.
To hell with this system.
 
Sponsored Link