سیلز ٹیکس نہ دینے والے چھوٹے دکانداروںکے بجلی ،گیس کنکشن منقطع پرغور

kiryana11.jpg

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ایف بی آر کو سیلز ٹیکس نہ دینے والے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے بجلی و گیس کے کنکشن منقطع کرنے کے اختیارات دینے کی تجویز دیدی ہے

تفصیلات کے مطابق بجٹ 23-2022ء میں چھوٹے ریٹیلرز پر فکسڈ انکم اینڈ سیلز ٹیکس نافذ کردیا گیا، جس میں ٹیکس کی وصولی بجلی کے بلوں کے ساتھ کی جائے گی۔

نجی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت نے ایف بی آر کوسیلز ٹیکس میں رجسٹرڈاور پوائنٹ آف سیلز سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے ٹیئر ون میں شامل چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے بجلی و گیس کے کنکشن منقطع کرنے کے اختیارات دینے کی تجویز دیدی ہے۔

اس ضمن میں فنانس بل کے ذریعے ٹیکس قوانین میں ترمیم بھی کی گئی ہے جس کے مطابق ٹیئر ون میں شامل دکاندار سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ نہیں ہوتے اور ایف بی آر کے پوائنٹ آف سیلز سسٹم کے ساتھ خود کو منسلک نہیں کرتے تو ایف بی آر سیلز ٹیکس جنرل آرڈر کے ذریعے بجلی و گیس کی تقسیم کار کمپنیوں کو ایسے تاجروں کےکنکشن منقطع کرنے کی ہدایات جاری کرسکے گا۔

قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ رجسٹریشن اور رپورٹنگ کا آسان نظام لایا جارہا ہے جو ریٹیلرز کیلئے آسان ہوگا اور یہ ٹیکس 3 ہزار سے 10ہزار روپے تک ہوگا، یہ ایک فائنل سیٹلمنٹ ہوگی۔

بجٹ تقریر میں ریٹیلرز کو ضمانت دی گئی کہ اس ٹیکس ادائیگی کے بعد ایف بی آر ریٹیلرز سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کرے گا۔

کچھ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بجلی بلوں میں دکانداروں سے ٹیکس وصولی کا بوجھ بھی صارفین پر منتقل ہوگا۔
 
Advertisement

Shareef

Minister (2k+ posts)
Good steps. Everybody must pay his share of tax. Methods for collection should be foolproof. Thereafter proper utilisation of the collected tax should be ensured.
 

such786

Senator (1k+ posts)
IK government was collecting record tax but this government method of collecting tax is similar to "jaga tax"
 

Lone_Fighter

Senator (1k+ posts)
Good but why the beggars want to impose this law on small shopkeepers? Why not the bigger fishes? Oh let me guess, bigger fishes are in govt and they are fond of under invoicing, getting defaulted and/or not giving taxes.
 
Sponsored Link