شہادت سے پہلے حضرت علی علیہ السلام کی وصیت

London Bridge

Politcal Worker (100+ posts)
جتنی بھی چیزیں شئیر کر لو اسمیں میرے سوال کا جواب نہیں کہ جلوسوں سے اہل بیعت کو کیا فائدہ ہوتا یے؟
چلو تو پھر یونہی سہی یہ تو بتاؤ نماز پڑھتے ہو؟ ماہ رمضان ہے یقینا" روزہ بھی رکھتے ہوگے ؟ شاید حج بیت اللہ بھی کیا ہوگا؟ تمہارے اس تمام عمل سے اللہ کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟ یا جو لوگ یہ عمل نہیں بجا لاتے اس میں اللہ کو کیا نقصان ہوتا ہے؟ مسلمان ہو اللہ پر ایمان رکھتے ہو تمہارے اس ایمان کا اللہ کوکیا فائدہ ہوتا ہے؟ یا جو اقوام اللہ کو نہیں مانتیں اس سے اللہ کی ربوبیت کو کونسا نقصان ہوتا ہے؟ اس نفع،نقصان کے چکر سے نکلو یہ ذھنیت خالصتا" کسی چوراہے میں کندھے پر قالین رکھ کربیچنے والے پٹھان کی ہی ہو سکتی ہے-
حضرت علی علیہ السلام کا قول ہے اے اللہ علی (ع) نہ جنت کی لالچ میں تیری عبادت کرتا ہے اور نہ ہی جہنم کے خوف سے بلکہ علی (ع) اس لئے تیری عبادت کرتا ہے کہ تو ہے ہی لائق عبادت
حرف آخر- کیا وجہ ہر آیا،گیا شریر بچے کی طرح تم کو رکشہ،بچہ،بھابھی، چینخیں کہہ کر چڑھاتا ہے - یعنی چندیا پر چپت مار کر بھاگ جاتا ہے آخر بات کیا ہے؟ راز کیا ہے ؟ دیکھو برا مت منانا
شکریہ
 

Pakistani1947

Chief Minister (5k+ posts)
چلو تو پھر یونہی سہی یہ تو بتاؤ نماز پڑھتے ہو؟ ماہ رمضان ہے یقینا" روزہ بھی رکھتے ہوگے ؟ شاید حج بیت اللہ بھی کیا ہوگا؟ تمہارے اس تمام عمل سے اللہ کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟ یا جو لوگ یہ عمل نہیں بجا لاتے اس میں اللہ کو کیا نقصان ہوتا ہے؟ مسلمان ہو اللہ پر ایمان رکھتے ہو تمہارے اس ایمان کا اللہ کوکیا فائدہ ہوتا ہے؟ یا جو اقوام اللہ کو نہیں مانتیں اس سے اللہ کی ربوبیت کو کونسا نقصان ہوتا ہے؟ اس نفع،نقصان کے چکر سے نکلو یہ ذھنیت خالصتا" کسی چوراہے میں کندھے پر قالین رکھ کربیچنے والے پٹھان کی ہی ہو سکتی ہے-
حضرت علی علیہ السلام کا قول ہے اے اللہ علی (ع) نہ جنت کی لالچ میں تیری عبادت کرتا ہے اور نہ ہی جہنم کے خوف سے بلکہ علی (ع) اس لئے تیری عبادت کرتا ہے کہ تو ہے ہی لائق عبادت
حرف آخر- کیا وجہ ہر آیا،گیا شریر بچے کی طرح تم کو رکشہ،بچہ،بھابھی، چینخیں کہہ کر چڑھاتا ہے - یعنی چندیا پر چپت مار کر بھاگ جاتا ہے آخر بات کیا ہے؟ راز کیا ہے ؟ دیکھو برا مت منانا
شکریہ
بدعت کی تعریف : مذہب میں کوئی ایسا ایجاد کردہ طریقہ جس کا مقصد الله تعالی کی عبادت کرنا یا قریب کرنا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی ایسی چیز کا جس کا ذکر خاص طور پر شریعت میں نہیں ہے ، اور جس کے لئے قرآن کریم یا سنت میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے ، اور جو رسول الله ﷺ اور صحابہ کرام (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) کے دور میں رائج نہیں نہ تھی۔ واضح رھے کہ مذہبی ایجادات یا اختراعات کی اس تعریف میں ، جس کی مذمت کی جاتی ہے ، دنیاوی ایجادات (جیسے کاریں اور واشنگ مشینیں ، وغیرہ) شامل نہیں ہیں۔

بدعت ایک ایسی اصطلاح ہے جو دو گروہوں کے مابین تنازعہ کا سبب بن سکتا ہے۔ پہلا وہ لوگ جو اسلام میں عبادت کے پہلو میں بدعات سے دور رہتے ہیں اور دوسرا وہ جو کہتے ہیں کہ نئی عبادات رائج کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ الله پاک قرآن میں ارشاد فرماتا ہے

(Qur'an 5:3) الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ​
This day have I perfected your religion for you, completed My favour upon you, and have chosen for you Islam as your religion.
آج میں تمہارے لیے تمہارا دین پورا کر چکا اور میں نے تم پر اپنا احسان پورا کر دیا اور میں نے تمہارے واسطے اسلام ہی کو دین پسند کیا ہے

دین میں جدت طرازی کرنے والے ایک چیز جو دوسرے گروپ' جو بدعات کے خلاف ہیں' کے سامنےلاتے ہیں وہ یہ ہے: "کیا رسول الله ﷺ کے پاس فون ، کاریں ، انٹرنیٹ وغیرہ موجود تھا " یا اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز جملہ : "آپ بدعت ہیں ، کیوں کہ آپ رسول الله ﷺ کے وقت موجود نہیں تھے۔

ایک بہت آسان اصول ہے جسے ہمیں سمجھنا چاہئے۔ دین اسلام میں ہر طریقہ' جس کا مقصد الله تعالی کی عبادت کرنا یا قریب کرنا ہے' حرام ہے جب تک کہ ہمارے پاس کوئی ثبوت نہ ہو اور دنیاوی معاملات میں ہر چیز حلال ہے جب تک کہ ہمارے پاس اسکےحرام ہونے کی کوئی دلیل موجود نہ ہو۔ آئیے اس اصول کو دو حصوں میں تقسیم کرکے کچھ مثالوں کے ساتھ الگ الگ بحث کرتے ہیں

اگر آپ اللہ کی عبادت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کچھ کرنے سے پہلے اس کے پاس ثبوت ہونا ضروری ہے ، بصورت دیگر اسے مسترد کردیا جائے گا۔ یہ اصول الٹ طریقہ پر کام نہیں کرتا ہے جیسے کچھ لوگ کہتے ہیں: "مجھے ایک ثبوت پیش کریں کہ میں میلاد نہیں منا سکتا" وغیرہ۔ حقیقت میں یہ احمقانہ بات ہے کیونکہ یہ مذہب میں اپنی اصل سے دوری میں ایک مکمل تبدیلی کا باعث بنے گا۔

لہذا اگر کوئی آکر کہتا ہے : "میں فجر کے لئے 7 رکعت نماز پڑھوں گا ، مجھے ایک ثبوت پیش کریں جس میں کہا گیا ہے کہ میں نہیں کر سکتا ہوں۔" یا کوئی شخص آئے اور کہے کہ میں 7 کی بجائے طواف میں خانہ کعبہ کے گرد 9 چکر لگاؤں گا۔ یا "مجھے کوئی ثبوت دکھائیں کہ میں 40 دن کا چہلم نہیں کرسکتا؟"

یقینا. اس سے دین لوگوں کی خواہشات پر منتج گا اور ہر آدمی اپنی مرضی سے وہی کرے گا جو وہ چاہے گا ۔ جبکہ الله کی طرف جانے والا ہر راستہ اس وقت تک بند ہے جب تک کہ وہ رسول الله ﷺ اور ان کے ساتھیوں (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) کا راستہ نہ تھا۔


(Qur'an 42:21) أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۗ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ​
What! have they partners (in godhead), who have established for them some religion without the permission of Allah? Had it not been for the Decree of Judgment, the matter would have been decided between them (at once). But verily the Wrong-doers will have a grievous Penalty.
کیا ان کے اور شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کا وہ طریقہ نکالا ہے جس کی الله نے اجازت نہیں دی اور اگر فیصلہ کا وعدہ نہ ہوا ہوتا تو ان کا دنیا ہی میں فیصلہ ہو گیا ہو تا اور بے شک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے

عاصم نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی الله تعالیٰ عنہ سے پو چھا : کیا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا تھا؟ انھوں نے کہا : ہاں ، فلاں مقام سے فلاں مقام تک ( کا علاقہ ) جس نے اس میں کو ئی بدعت نکا لی ، پھر انھوں نے مجھ سے کہا : یہ سخت وعید ہے : جس نے اس میں بدعت کا ارتکاب کیا اس پر الله کی فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہو گی ، قیامت کے دن الله تعا لیٰ اس کی طرف سے نہ کو ئی عذر وحیلہ قبو ل فر مائے گا نہ کو ئی بدلہ ۔ کہا : ابن انس نے کہا : یا ( جس نے ) کسی بدعت کا ارتکاب کرنے والے کو پناہ دی ۔
(Sahih Muslim - 3323 - Islam360)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، امیر کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ جو میرے بعد تم میں سے زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقہ کار کو لازم پکڑنا، تم اس سے چمٹ جانا، اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا، اور دین میں نکالی گئی نئی باتوں سے بچتے رہنا، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔
(Sunnan e Abu Dawood - 4607 -Islam360)

اوپر بیان کی گئی آیت اور متعلقہ احادیث سے حتمی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ دین میں کوئی بھی نئی چیز 'بدعت' خودبخود مسترد کردی جاتی ہے۔

اب ، وہ لوگ' جو اس کے بعد اسلام میں ہر قسم کی بدعات کے خلاف لوگوں کا مقابلہ کرنے کے لئے' "بدعت حسنہ" کا تصور لاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث کے مطابق "بدعت حسنہ" کی اجازت دی' جہاں انہوں نے فرمایا (ﷺ)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی اچھا طریقہ جاری کیا ( کوئی اچھی سنت قائم کی ) اور اس اچھے طریقہ کی پیروی کی گئی تو اسے ( ایک تو ) اسے اپنے عمل کا اجر ملے گا اور ( دوسرے ) جو اس کی پیروی کریں گے ان کے اجر و ثواب میں کسی طرح کی کمی کیے گئے بغیر ان کے اجر و ثواب کے برابر بھی اسے ثواب ملے گا، اور جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا اور اس برے طریقے کی پیروی کی گئی تو ایک تو اس پر اپنے عمل کا بوجھ ( گناہ ) ہو گا اور ( دوسرے ) جو لوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے گناہوں کے برابر بھی اسی پر گناہ ہو گا، بغیر اس کے کہ اس کی پیروی کرنے والوں کے گناہوں میں کوئی کمی کی گئی ہو“
(Jam e Tirmazi - 2675 - Islam360)

اس حدیث کے پیچھے ایک واقعہ ہے ، جس میں یہ وضاحت کی جائے گی کہ "جو کوئی اچھی چیز شروع کرے گا" اس کا کیا مطلب ہے۔


سیدنا جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ کچھ دیہاتی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ کمبل پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا برا حال دیکھا اور ان کی محتاجی دریافت کی تو لوگوں کو رغبت دلائی صدقہ دینے کی۔ لوگوں نے صدقہ دینے میں دیر کی یہاں تک کہ اس بات کا رنج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر معلوم ہوا، پھر ایک انصاری شخص ایک تھیلی روپیوں کی لے کر آیا، پھر دوسرا آیا یہاں تک کہ تار بندھ گیا (صدقے اور خیرات کا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوشی معلوم ہونے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اسلام میں اچھی بات نکالے (یعنی عمدہ بات کو جاری کرے جو شریعت کی رو سے ثواب ہے) پھر لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو اس کو اتنا ثواب ہو گا جتنا سب عمل کرنے والوں کو ہو گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہو گی اور جو اسلام میں بری بات نکالے (مثلاً بدعت یا گناہ کی بات) اور لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو تمام عمل کرنے والوں کے برابر گناہ اس پر لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کا گناہ کچھ کم نہ ہو گا۔“
(Sahih Muslim - 6800 - Islam360)

واقعہ کے سیاق و سباق سے ، یہ بات واضح ہے کہ "جو شخص اسلام میں کسی اچھی چیز (سنت حسنہ) کو شروع کرتا ہے" کے الفاظ سے کیا مراد ہے: جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے ایک حصے کو زندہ کرتا ہے۔ ، یا دوسروں کو سکھاتا ہے ، یا دوسروں کو اس کی پیروی کرنے کا حکم دیتا ہے ، یا اس کے مطابق کام کرتا ہے تاکہ دوسرے اسے دیکھیں یا اس کے بارے میں سنیں اور اس کی مثال پر عمل کریں

یہ بات اوپر سے واضح ہوگئی اور مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں رہے گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین کے معاملات میں بدعت کی اجازت نہیں دے رہے تھے ، اور نہ ہی وہ اس کے دروازے کھول رہے تھے جسے کچھ لوگ " بیعت حسنہ " کہتے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار بیان کیا ہے کہ: "ہر نئی ایجاد کی گئی چیز بدعت ہے ، ہر بدعت گمراہی میں ہے ، اور ہر گمراہ دوزخ میں ہوگا"۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا خطبہ یوں شروع فرماتے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان فرماتے جو اللہ تعالیٰ کی شان گرامی
کے لائق ہے، پھر فرماتے: ’’جسے اللہ تعالیٰ راہ راست پر لے آئے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے، اسے کوئی راہ راست پر لانے والا نہیں۔ بلاشبہ سب سے زیادہ سچی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا طریقہ ہے۔ اور بدترین کام وہ ہیں جنھیں (شریعت میں) اپنی طرف سے جاری کیا گیا۔ ہر ایسا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ میں لے جائے گی‘‘۔

(Sunnan e Nisai - 1579 - Islam360)

زائدہ نے سلیمان سے، انھوں نے ابو صالح سے، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : مدینہ حرم ہے جس نے اس میں کسی بدعت کا ارتکاب کیا یا کسی بدعت کے مرتکب کو پناہ دی اس پر اللہ کی ،فرشتوں کی، اور سب انسانوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس سے کو ئی عذر قبول کیا جا ئے گا نہ کو ئی بدلہ ۔
(Sahih Muslim - 3330 - Islam360)


کسی عام آدمی کو یہ سمجھنے کے لئے کہ اسلام میں کون سی عبادت کو قبول کیا جائے گا ، اس کومندرجہ ذیل چیک لسٹ میں دئیے گیے تمام نکات پر پورا اترنا ہوگا ، اور اگر ان میں سے کوئی بھی غائب ہے تو اس عمل کو مسترد کیا جانے کا زیادہ امکان ہے ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ نیت کتنی اچھی تھی:

ا) یہ عمل اللہ نے مقرر کیا ہوگا۔
ب) یہ بالکل اسی طرح انجام دینا ہے جس طرح ہمارے پیارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مصدقہ طور پر کیا اور ان کے صحابہ نے اس کو کس طرح نافذ کیا۔
ج) یہ عمل صرف اور صرف اللہ کی رضا کے حصول کے لیے کیا گیا ہو

دنیاوی معاملات
دوسری طرف ، دنیا میں ، جب تک کہ کسی مصدقہ متن کے ذریعہ ثابت نہ ہو تب تک ہر چیز کی اجازت ہے۔ مثال کے طور پر ، میں اس وقت تک کار چلاؤں گا جب تک آپ مجھے یہ ثبوت نہیں دیتے کہ میں نہیں کر سکتا۔ یا میں اس وقت تک ایک موبائل استعمال کروں گا جب تک آپ مجھے یہ ثبوت نہیں دیتے کہ میں ایسا نہیں کرسکتا۔

ہر وہ چیز جو رسمی عبادت نہیں ہے تب تک جائز ہے جب تک کہ دوسری صورت میں ثابت نہ ہو۔ اس میں ہوائی جہاز ، انٹرنیٹ ، موبائل وغیرہ شامل ہیں اگر ہم صرف اس آسان اصول کو یاد رکھیں تو سب کچھ اتنا آسان ہوجاتا ہے الحمد للہ۔ یقینا ہمیں جو بات ذہن میں رکھنی ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی دنیاوی ایجادات کو اچھے طریقے سے استعمال کیا جانا چاہئے' فائدہ مند طریقہ سے' اجر حاصل کرنے کے لئے۔

بہر حال ، آپ کار چلاتے وقت یا موبائل استعمال کرتےوقت اللہ سے اجر کی توقع نہیں کرتے ہیں۔ اگرچہ آپ ہمیشہ دین میں ایسا کیا کرتے ہیں ، اگر آپ کو اس کی اجر کی توقع ہے تو یہ فطری طور پر ایک مذہبی فعل ہے۔ لہذا جب بدعت کی جاتی ہے تو ایک مذہبی فعل سمجھ کر کی جاتی ہے اور اجر کی توقع کی جاتی ہے۔ اگر آپ کو بدعت کے نتیجے میں بدلہ ملنے کی توقع ہے اور سنت سے ثابت بھی نہیں ہے - تو یہ "بدعت" ہے۔ جس سے روکا گیا ہے

خلاصہ یہ کہ اگر 1400 سال پہلے یہ مذہب نہیں تھا تو آج یہ مذہب نہیں ہے۔

دین = ثبوت ہونا ضروری ہے ورنہ حرام ہے
دنیا = حلال تک جب تک کہ مصدقہ متن کے ساتھ اس کے بر خلاف ثابت نہ ہو

اور آخر کار ، یہاں میرے سمیت سب کے لئے ایک یاد دہانی ہے ، ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے آخری ایام میں کیا باتیں کیں

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، امیر کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ جو میرے بعد تم میں سے زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقہ کار کو لازم پکڑنا، تم اس سے چمٹ جانا، اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا، اور دین میں نکالی گئی نئی باتوں سے بچتے رہنا، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔
(Sunnan e Abu Dawood - 4607 -Islam360)
 

Pakistani1947

Chief Minister (5k+ posts)
ایک اہل تشیع اپنے مسلک کے اعتبار سے بڑے علمی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے پاس کافی معلومات بھی تھیں۔ اس کے بقول میرے ان سوالات کا جواب کسی مولوی کے پاس نہیں ہے۔

میں نے اس سے جب ملاقات کی تو اس کی ہر ہر ادا سے گویا علماء سے حتیٰ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی نفرت و حقارت کی جھلک واضح تھی۔

میں نے میزبان ہونے کی حیثیت سے بڑے اخلاق سے بٹھایا۔تھوڑی دیر حال احوال دریافت کرنے کے بعد گفتگو شروع ہو گئی۔

اس کا پہلا سوال ہی بزعم خود بڑا جاندار تھا اور وہ یہ کہ تم ابوبکر کو نبی کا خلیفہ کیوں مانتے ہو؟۔ ہم تو ابوبکر کو خلیفہ رسول اسلیئے نہیں مانتے کہ انہوں نے سیَّدہ کائنات، خاتون جنت کو ان کاحق نہیں دیا تھا۔بلکہ ان کا حق غصب کر لیا تھا۔

میں نے کہا ذرا کھل کر بولیں جو آپ کہنا چاہ رہے ہیں۔ اور اس حق کی وضاحت کر دیں کہ وہ حق کیا تھا؟۔

کہنے لگا وہ، باغ فدک؛ جو حضور ﷺ نے وراثت میں چھوڑا تھا۔ وہ حضور ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ کو ملنا تھا۔لیکن وہ باغ انہیں ابوبکر نے نہیں دیا تھا۔
یہ صرف میرا دعویٰ ہی نہیں بلکہ میرے پاس اس دعوے ہر مسلک کی کتابوں سے ایسے وزنی دلائل موجود ہیں جنہیں آپ کا کوئی عالم جھٹلا نہیں سکتا۔
یہ بات اس نے بڑے پر اعتماد اور مضبوط انداز میں کہی۔

مزید اس نے کہا کہ میری بات کے ثبوت کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ باغ فدک؛ آج بھی سعودی حکومت کے زیر تصرف ہے۔ اور وہ حکومتی مصارف کیلئے وقف ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آج تک آل رسول کو ان کا حق نہیں ملا ہے۔

اب آپ ہی بتائیں جنہوں نے آل رسول کے ساتھ یہ کیا ہو ہم انہیں کیسےخلیفہ رسول تسلیم کر لیں؟

میں نے اس کی گفتگو بڑے تحمل سے سنی۔ اور اس کا اعتراض سن کر میں نے پوچھا کہ آپ کا سوال مکمل ہو گیا یا کچھ باقی ہے؟
وہ کہنے لگا میرا سوال مکمل ہو گیا ہے اب آپ جواب دیں۔

میں نے عرض کیا کہ آپ نبی کریم ﷺ کے بعد پہلا خلیفہ کن کو مانتے ہو؟

وہ کہنے لگا ہم مولیٰ علی کو خلیفہ بلا فصل مانتے ہیں۔

میں نے کہا کہ عوام و خواص کے جان و مال اور ان کے حقوق کا تحفظ خلیفة المسلمین کی ذمہ داری ہوتی ہے کسی اور کی نہیں۔مجھے آپ پر تعجب ہو رہا ہے کہ آپ خلیفہ بلا فصل تو سیَّدنا علی رضی اللہ عنہ کو مان رہے ہیں اور اعتراض سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر کر رہے ہیں۔ یا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہلا خلیفہ مانو پھر آپ کا ان پر اعتراض کرنے کا کسی حد تک جواز بھی بنتا ہے ورنہ جن کو آپ پہلا خلیفہ مانتے ہو یہ اعتراض بھی انہی پر کر سکتے ہو کہ آپ کی خلافت کے زمانے میں خاتون جنت رضی اللہ عنہا کا حق کیوں مارا گیا؟

میری بات سن کر اسے حیرت کا ایک جھٹکا لگا مگر ساتھ ہی اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا جی بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے ہاں مولیٰ علی کی خلافت ظاہری آپ کے خلفاء ثلاثہ کے بعد شروع ہوتی ہے اس سے پہلے تو ہم ان کی خلافت کو غصب مانتے ہیں یعنی آپ کے خلفائے ثلاثہ نے مولیٰ علی کی خلافت کو ظاہری طور پر غصب کیا ہوا تھا۔ اسلیئے مولیٰ علی تو اس وقت مجبور تھے وہ یہ حق کیسے دے سکتے تھے؟۔

اس کی یہ تاویل سن کر میں نے کہا عزیزم ! میرے تعجب میں آپ نے مزید اضافہ کر دیا ہے ایک طرف تو آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ مولیٰ علی مشکل کشا ہیں۔ عجیب بات ہے کہ انہیں کے گھر کی ایک کے بعد دوسری مشکل آپ نے ذکر کر دی یعنی ان کی زوجہ محترمہ کاحق مارا گیا لیکن وہ مجبور تھے اور وہ مشکل کشا ہونے کے باوجود ان کی مشکل کشائی نہ کر سکے۔ پھر ان کا اپنا حق (خلافت) غصب ہوا لیکن وہ خود اپنی مشکل کشائی بھی نہ کر سکے۔ یا تو ان کی مشکل کشائی کا انکار کر دو اور اگر انہیں مشکل کشا مانتے ہو تو یہ من گھڑت باتیں کہنا چھوڑ دو کہ طاقتوروں نے ان کے حقوق غصب کر لیئے تھے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر بالفرض و المحال آپ کی یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ اصحاب ثلاثہ نے ان کی خلافت غصب کر لی تھی، اب سوال یہ ہے کہ خلفاء ثلاثہ کے بعد جب أمیر المؤمنين علی رضی اللہ عنہ کو ظاہری خلافت مل گئی اور ان کی شہادت کے بعد انہی کے صاحبزادے سیَّدنا حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو کیا اس وقت انہوں نے باغ فدک لے لیا تھا؟

جب آپ کےبقول وہ خلفاء ثلاثہ کے زمانے میں غصب کیا گیا تھا، اب تو انہی کی حکومت تھی جن کا حق غصب کیا گیا۔ لیکن انہوں نے اپنی حکومت ہونے کے باوجود اس حق کو کیوں چھوڑ دیا تھا؟۔ آج بھی آپ کے بقول وہ سعودی حکومت کے زیر اثر ہے تو بھائی وہ باغ جن کا حق تھا جب انہوں نے چھوڑ دیا ہے تو آپ بھی اب مہربانی کر کے ان قِصُّوں کو چھوڑ دیں اور اگر آپ کا اعتراض سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ہے کہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کو باغ فدک کیوں نہیں ملا؟ تو یہی اعتراض آپ کا أمیر المؤمنين علی رضی اللہ عنہ پر بھی ہو گا کہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کو باغ فدک کیوں نہیں ملا؟؟؟

میری بات سن کہ وہ کچھ سوچنے لگا مگر میں نے اسی لمحہ اس پر ایک اور سوال کر دیا کہ آپ یہ بتائیں کہ وراثت صرف اولاد کو ہی ملتی ہے یا بیویوں اور دوسرے ورثاء کو بھی ملتی ہے؟
کہنے لگا۔۔۔ بیویوں اور دوسرے ورثاء کو بھی ملتی ہے۔

میں نے کہا پھر آپ کا اعتراض صرف سیَّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے کیوں ہے؟ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کے بارے آپ نے کیوں نہیں کہا کہ انہیں بھی وراثت سے محروم رکھا گیا ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ازواج مطہرات میں سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیَّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور أمیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیَّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بھی ہیں۔ آپ نے خلفاء رسول پر یہ الزام دھرنے سے پہلے کبھی نہیں سوچا کہ اگر انہوں نے نبی ﷺ کی صاحبزادی کو حضور ﷺ کی وراثت نہیں دی تو اپنی صاحبزادیوں کو بھی تو اس سے محروم رکھا ہے۔

میری گفتگو سن کر اب وہ مکمل خاموش تھا۔ ساتھ ہی وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا بھی معلوم ہوا۔

میں نے اسے پھر متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ عزیزم ! کب تک ان پاک ہستیوں کے بارے بدگمانی پیدا کرنے والی بے سر و پا جھوٹی باتوں کی وجہ سے حقائق سے آنکھیں بند کر کے رکھو گے؟۔
اب میں تمہیں وہ حقیقت ہی بتا دوں جس کی وجہ سے حضور اقدس ﷺ کی وراثت آپ ﷺ کے کسی وارث کو نہیں دی گئی۔ وہ خود جناب رسالت مآب ﷺ کا فرمان ہے؛ *{نحن معشر الانبیاء لانرث ولا نورث، ما ترکنا صدقة؛}* یعنی ہم انبیاء دنیا کی وراثت میں نہ کسی کے وارث بنتے ہیں اور نہ کوئی ہمارا وارث بنتا ہے۔ ہم جو مال و جائیداد چھوڑتے ہیں وہ امت پر صدقہ ہوتا ہے۔

میں نے اسے کہا عزیزم! یہ وہ مجبوری تھی جس کی وجہ سے أمیر المؤمنین ابوبکر سے لے کر سیَّدنا علی اور سیَّدنا حسن رضی اللہ عنہم تک کسی بھی خلیفہ نے؛ باغ فدک؛ آل رسول کاحق نہیں سمجھا جسے لے کر آج آپ ان کےدرمیان نفرتیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نوجوان اب میری گفتگو سن کر پریشان اور نادم محسوس ہونے لگا۔ پھر انتہائی عاجزی سے اس نے مجھے دیکھا اور گویا ہوا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے میری آنکھیں کھول دیں۔ آج سے میں اس طرح کے اعتراضات کرنے سے توبہ کرتا ہوں۔ اب میں رب تعالیٰ سے بھی وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں اپنی سوچ کو مثبت بناوں گا۔

میں نے اس نوجوان کو مبارک دی اور ایک محبت سے بھرپور معانقہ و مصافحہ ہوا۔
پھر وہ نوجوان شکریہ ادا کرتے ہوئے چلا گیا۔
والسلام ۔۔۔۔

یہ جو تحریر آپ نے پڑھ لی ہے میرے دوستو اور بہن بھاٸیوں، یہ ایک لاجواب اور ہزاروں کتابوں سے زیادہ پُر مغز مدلل مضمون ہے براہ کرم اس کو اتنا پھیلا دیجٸے کہ حق وسچ ہر ایرے غیرے پر بھی واضح ہو جاٸیں۔ لہذا آپ کی ایک کوشش دوسرے کی رہنمائی کا باعث بن سکتی ہے!!!

Source
 

Mughal1

Chief Minister (5k+ posts)
jab tak bunyaadi aqal seekhne se log khud ko mehroom rakhen ge woh koi aur baat samajhne ke qaabil ho hi nahin sakte. For better understanding of deen of islam from the quran see HERE, HERE and HERE.
 
Last edited:

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)

ایک اہل تشیع اپنے مسلک کے اعتبار سے بڑے علمی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے پاس کافی معلومات بھی تھیں۔ اس کے بقول میرے ان سوالات کا جواب کسی مولوی کے پاس نہیں ہے۔

میں نے اس سے جب ملاقات کی تو اس کی ہر ہر ادا سے گویا علماء سے حتیٰ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی نفرت و حقارت کی جھلک واضح تھی۔

میں نے میزبان ہونے کی حیثیت سے بڑے اخلاق سے بٹھایا۔تھوڑی دیر حال احوال دریافت کرنے کے بعد گفتگو شروع ہو گئی۔

اس کا پہلا سوال ہی بزعم خود بڑا جاندار تھا اور وہ یہ کہ تم ابوبکر کو نبی کا خلیفہ کیوں مانتے ہو؟۔ ہم تو ابوبکر کو خلیفہ رسول اسلیئے نہیں مانتے کہ انہوں نے سیَّدہ کائنات، خاتون جنت کو ان کاحق نہیں دیا تھا۔بلکہ ان کا حق غصب کر لیا تھا۔

میں نے کہا ذرا کھل کر بولیں جو آپ کہنا چاہ رہے ہیں۔ اور اس حق کی وضاحت کر دیں کہ وہ حق کیا تھا؟۔

کہنے لگا وہ، باغ فدک؛ جو حضور ﷺ نے وراثت میں چھوڑا تھا۔ وہ حضور ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ کو ملنا تھا۔لیکن وہ باغ انہیں ابوبکر نے نہیں دیا تھا۔
یہ صرف میرا دعویٰ ہی نہیں بلکہ میرے پاس اس دعوے ہر مسلک کی کتابوں سے ایسے وزنی دلائل موجود ہیں جنہیں آپ کا کوئی عالم جھٹلا نہیں سکتا۔
یہ بات اس نے بڑے پر اعتماد اور مضبوط انداز میں کہی۔

مزید اس نے کہا کہ میری بات کے ثبوت کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ باغ فدک؛ آج بھی سعودی حکومت کے زیر تصرف ہے۔ اور وہ حکومتی مصارف کیلئے وقف ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آج تک آل رسول کو ان کا حق نہیں ملا ہے۔

اب آپ ہی بتائیں جنہوں نے آل رسول کے ساتھ یہ کیا ہو ہم انہیں کیسےخلیفہ رسول تسلیم کر لیں؟

میں نے اس کی گفتگو بڑے تحمل سے سنی۔ اور اس کا اعتراض سن کر میں نے پوچھا کہ آپ کا سوال مکمل ہو گیا یا کچھ باقی ہے؟
وہ کہنے لگا میرا سوال مکمل ہو گیا ہے اب آپ جواب دیں۔

میں نے عرض کیا کہ آپ نبی کریم ﷺ کے بعد پہلا خلیفہ کن کو مانتے ہو؟

وہ کہنے لگا ہم مولیٰ علی کو خلیفہ بلا فصل مانتے ہیں۔

میں نے کہا کہ عوام و خواص کے جان و مال اور ان کے حقوق کا تحفظ خلیفة المسلمین کی ذمہ داری ہوتی ہے کسی اور کی نہیں۔مجھے آپ پر تعجب ہو رہا ہے کہ آپ خلیفہ بلا فصل تو سیَّدنا علی رضی اللہ عنہ کو مان رہے ہیں اور اعتراض سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر کر رہے ہیں۔ یا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہلا خلیفہ مانو پھر آپ کا ان پر اعتراض کرنے کا کسی حد تک جواز بھی بنتا ہے ورنہ جن کو آپ پہلا خلیفہ مانتے ہو یہ اعتراض بھی انہی پر کر سکتے ہو کہ آپ کی خلافت کے زمانے میں خاتون جنت رضی اللہ عنہا کا حق کیوں مارا گیا؟

میری بات سن کر اسے حیرت کا ایک جھٹکا لگا مگر ساتھ ہی اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا جی بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے ہاں مولیٰ علی کی خلافت ظاہری آپ کے خلفاء ثلاثہ کے بعد شروع ہوتی ہے اس سے پہلے تو ہم ان کی خلافت کو غصب مانتے ہیں یعنی آپ کے خلفائے ثلاثہ نے مولیٰ علی کی خلافت کو ظاہری طور پر غصب کیا ہوا تھا۔ اسلیئے مولیٰ علی تو اس وقت مجبور تھے وہ یہ حق کیسے دے سکتے تھے؟۔

اس کی یہ تاویل سن کر میں نے کہا عزیزم ! میرے تعجب میں آپ نے مزید اضافہ کر دیا ہے ایک طرف تو آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ مولیٰ علی مشکل کشا ہیں۔ عجیب بات ہے کہ انہیں کے گھر کی ایک کے بعد دوسری مشکل آپ نے ذکر کر دی یعنی ان کی زوجہ محترمہ کاحق مارا گیا لیکن وہ مجبور تھے اور وہ مشکل کشا ہونے کے باوجود ان کی مشکل کشائی نہ کر سکے۔ پھر ان کا اپنا حق (خلافت) غصب ہوا لیکن وہ خود اپنی مشکل کشائی بھی نہ کر سکے۔ یا تو ان کی مشکل کشائی کا انکار کر دو اور اگر انہیں مشکل کشا مانتے ہو تو یہ من گھڑت باتیں کہنا چھوڑ دو کہ طاقتوروں نے ان کے حقوق غصب کر لیئے تھے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر بالفرض و المحال آپ کی یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ اصحاب ثلاثہ نے ان کی خلافت غصب کر لی تھی، اب سوال یہ ہے کہ خلفاء ثلاثہ کے بعد جب أمیر المؤمنين علی رضی اللہ عنہ کو ظاہری خلافت مل گئی اور ان کی شہادت کے بعد انہی کے صاحبزادے سیَّدنا حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو کیا اس وقت انہوں نے باغ فدک لے لیا تھا؟

جب آپ کےبقول وہ خلفاء ثلاثہ کے زمانے میں غصب کیا گیا تھا، اب تو انہی کی حکومت تھی جن کا حق غصب کیا گیا۔ لیکن انہوں نے اپنی حکومت ہونے کے باوجود اس حق کو کیوں چھوڑ دیا تھا؟۔ آج بھی آپ کے بقول وہ سعودی حکومت کے زیر اثر ہے تو بھائی وہ باغ جن کا حق تھا جب انہوں نے چھوڑ دیا ہے تو آپ بھی اب مہربانی کر کے ان قِصُّوں کو چھوڑ دیں اور اگر آپ کا اعتراض سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ہے کہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کو باغ فدک کیوں نہیں ملا؟ تو یہی اعتراض آپ کا أمیر المؤمنين علی رضی اللہ عنہ پر بھی ہو گا کہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کو باغ فدک کیوں نہیں ملا؟؟؟

میری بات سن کہ وہ کچھ سوچنے لگا مگر میں نے اسی لمحہ اس پر ایک اور سوال کر دیا کہ آپ یہ بتائیں کہ وراثت صرف اولاد کو ہی ملتی ہے یا بیویوں اور دوسرے ورثاء کو بھی ملتی ہے؟
کہنے لگا۔۔۔ بیویوں اور دوسرے ورثاء کو بھی ملتی ہے۔

میں نے کہا پھر آپ کا اعتراض صرف سیَّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے کیوں ہے؟ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کے بارے آپ نے کیوں نہیں کہا کہ انہیں بھی وراثت سے محروم رکھا گیا ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ازواج مطہرات میں سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیَّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور أمیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیَّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بھی ہیں۔ آپ نے خلفاء رسول پر یہ الزام دھرنے سے پہلے کبھی نہیں سوچا کہ اگر انہوں نے نبی ﷺ کی صاحبزادی کو حضور ﷺ کی وراثت نہیں دی تو اپنی صاحبزادیوں کو بھی تو اس سے محروم رکھا ہے۔

میری گفتگو سن کر اب وہ مکمل خاموش تھا۔ ساتھ ہی وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا بھی معلوم ہوا۔

میں نے اسے پھر متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ عزیزم ! کب تک ان پاک ہستیوں کے بارے بدگمانی پیدا کرنے والی بے سر و پا جھوٹی باتوں کی وجہ سے حقائق سے آنکھیں بند کر کے رکھو گے؟۔
اب میں تمہیں وہ حقیقت ہی بتا دوں جس کی وجہ سے حضور اقدس ﷺ کی وراثت آپ ﷺ کے کسی وارث کو نہیں دی گئی۔ وہ خود جناب رسالت مآب ﷺ کا فرمان ہے؛ *{نحن معشر الانبیاء لانرث ولا نورث، ما ترکنا صدقة؛}* یعنی ہم انبیاء دنیا کی وراثت میں نہ کسی کے وارث بنتے ہیں اور نہ کوئی ہمارا وارث بنتا ہے۔ ہم جو مال و جائیداد چھوڑتے ہیں وہ امت پر صدقہ ہوتا ہے۔

میں نے اسے کہا عزیزم! یہ وہ مجبوری تھی جس کی وجہ سے أمیر المؤمنین ابوبکر سے لے کر سیَّدنا علی اور سیَّدنا حسن رضی اللہ عنہم تک کسی بھی خلیفہ نے؛ باغ فدک؛ آل رسول کاحق نہیں سمجھا جسے لے کر آج آپ ان کےدرمیان نفرتیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نوجوان اب میری گفتگو سن کر پریشان اور نادم محسوس ہونے لگا۔ پھر انتہائی عاجزی سے اس نے مجھے دیکھا اور گویا ہوا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے میری آنکھیں کھول دیں۔ آج سے میں اس طرح کے اعتراضات کرنے سے توبہ کرتا ہوں۔ اب میں رب تعالیٰ سے بھی وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں اپنی سوچ کو مثبت بناوں گا۔

میں نے اس نوجوان کو مبارک دی اور ایک محبت سے بھرپور معانقہ و مصافحہ ہوا۔
پھر وہ نوجوان شکریہ ادا کرتے ہوئے چلا گیا۔
والسلام ۔۔۔۔

یہ جو تحریر آپ نے پڑھ لی ہے میرے دوستو اور بہن بھاٸیوں، یہ ایک لاجواب اور ہزاروں کتابوں سے زیادہ پُر مغز مدلل مضمون ہے براہ کرم اس کو اتنا پھیلا دیجٸے کہ حق وسچ ہر ایرے غیرے پر بھی واضح ہو جاٸیں۔ لہذا آپ کی ایک کوشش دوسرے کی رہنمائی کا باعث بن سکتی ہے!!!

Source

خود ہی سوال اور خود ہی جواب !!!؟
اور جب میں آپ سے سوال کروں تو آپ فضول باتوں کا ڈھیر لگا دیتے ہیں پر اس سوال کا جواب نہیں دیتے
 

London Bridge

Politcal Worker (100+ posts)
ایک اہل تشیع اپنے مسلک کے اعتبار سے بڑے علمی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے پاس کافی معلومات بھی تھیں۔ اس کے بقول میرے ان سوالات کا جواب کسی مولوی کے پاس نہیں ہے۔

میں نے اس سے جب ملاقات کی تو اس کی ہر ہر ادا سے گویا علماء سے حتیٰ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی نفرت و حقارت کی جھلک واضح تھی۔

میں نے میزبان ہونے کی حیثیت سے بڑے اخلاق سے بٹھایا۔تھوڑی دیر حال احوال دریافت کرنے کے بعد گفتگو شروع ہو گئی۔

اس کا پہلا سوال ہی بزعم خود بڑا جاندار تھا اور وہ یہ کہ تم ابوبکر کو نبی کا خلیفہ کیوں مانتے ہو؟۔ ہم تو ابوبکر کو خلیفہ رسول اسلیئے نہیں مانتے کہ انہوں نے سیَّدہ کائنات، خاتون جنت کو ان کاحق نہیں دیا تھا۔بلکہ ان کا حق غصب کر لیا تھا۔

میں نے کہا ذرا کھل کر بولیں جو آپ کہنا چاہ رہے ہیں۔ اور اس حق کی وضاحت کر دیں کہ وہ حق کیا تھا؟۔

کہنے لگا وہ، باغ فدک؛ جو حضور ﷺ نے وراثت میں چھوڑا تھا۔ وہ حضور ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ کو ملنا تھا۔لیکن وہ باغ انہیں ابوبکر نے نہیں دیا تھا۔
یہ صرف میرا دعویٰ ہی نہیں بلکہ میرے پاس اس دعوے ہر مسلک کی کتابوں سے ایسے وزنی دلائل موجود ہیں جنہیں آپ کا کوئی عالم جھٹلا نہیں سکتا۔
یہ بات اس نے بڑے پر اعتماد اور مضبوط انداز میں کہی۔

مزید اس نے کہا کہ میری بات کے ثبوت کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ باغ فدک؛ آج بھی سعودی حکومت کے زیر تصرف ہے۔ اور وہ حکومتی مصارف کیلئے وقف ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آج تک آل رسول کو ان کا حق نہیں ملا ہے۔

اب آپ ہی بتائیں جنہوں نے آل رسول کے ساتھ یہ کیا ہو ہم انہیں کیسےخلیفہ رسول تسلیم کر لیں؟

میں نے اس کی گفتگو بڑے تحمل سے سنی۔ اور اس کا اعتراض سن کر میں نے پوچھا کہ آپ کا سوال مکمل ہو گیا یا کچھ باقی ہے؟
وہ کہنے لگا میرا سوال مکمل ہو گیا ہے اب آپ جواب دیں۔

میں نے عرض کیا کہ آپ نبی کریم ﷺ کے بعد پہلا خلیفہ کن کو مانتے ہو؟

وہ کہنے لگا ہم مولیٰ علی کو خلیفہ بلا فصل مانتے ہیں۔

میں نے کہا کہ عوام و خواص کے جان و مال اور ان کے حقوق کا تحفظ خلیفة المسلمین کی ذمہ داری ہوتی ہے کسی اور کی نہیں۔مجھے آپ پر تعجب ہو رہا ہے کہ آپ خلیفہ بلا فصل تو سیَّدنا علی رضی اللہ عنہ کو مان رہے ہیں اور اعتراض سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر کر رہے ہیں۔ یا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہلا خلیفہ مانو پھر آپ کا ان پر اعتراض کرنے کا کسی حد تک جواز بھی بنتا ہے ورنہ جن کو آپ پہلا خلیفہ مانتے ہو یہ اعتراض بھی انہی پر کر سکتے ہو کہ آپ کی خلافت کے زمانے میں خاتون جنت رضی اللہ عنہا کا حق کیوں مارا گیا؟

میری بات سن کر اسے حیرت کا ایک جھٹکا لگا مگر ساتھ ہی اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا جی بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے ہاں مولیٰ علی کی خلافت ظاہری آپ کے خلفاء ثلاثہ کے بعد شروع ہوتی ہے اس سے پہلے تو ہم ان کی خلافت کو غصب مانتے ہیں یعنی آپ کے خلفائے ثلاثہ نے مولیٰ علی کی خلافت کو ظاہری طور پر غصب کیا ہوا تھا۔ اسلیئے مولیٰ علی تو اس وقت مجبور تھے وہ یہ حق کیسے دے سکتے تھے؟۔

اس کی یہ تاویل سن کر میں نے کہا عزیزم ! میرے تعجب میں آپ نے مزید اضافہ کر دیا ہے ایک طرف تو آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ مولیٰ علی مشکل کشا ہیں۔ عجیب بات ہے کہ انہیں کے گھر کی ایک کے بعد دوسری مشکل آپ نے ذکر کر دی یعنی ان کی زوجہ محترمہ کاحق مارا گیا لیکن وہ مجبور تھے اور وہ مشکل کشا ہونے کے باوجود ان کی مشکل کشائی نہ کر سکے۔ پھر ان کا اپنا حق (خلافت) غصب ہوا لیکن وہ خود اپنی مشکل کشائی بھی نہ کر سکے۔ یا تو ان کی مشکل کشائی کا انکار کر دو اور اگر انہیں مشکل کشا مانتے ہو تو یہ من گھڑت باتیں کہنا چھوڑ دو کہ طاقتوروں نے ان کے حقوق غصب کر لیئے تھے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر بالفرض و المحال آپ کی یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ اصحاب ثلاثہ نے ان کی خلافت غصب کر لی تھی، اب سوال یہ ہے کہ خلفاء ثلاثہ کے بعد جب أمیر المؤمنين علی رضی اللہ عنہ کو ظاہری خلافت مل گئی اور ان کی شہادت کے بعد انہی کے صاحبزادے سیَّدنا حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو کیا اس وقت انہوں نے باغ فدک لے لیا تھا؟

جب آپ کےبقول وہ خلفاء ثلاثہ کے زمانے میں غصب کیا گیا تھا، اب تو انہی کی حکومت تھی جن کا حق غصب کیا گیا۔ لیکن انہوں نے اپنی حکومت ہونے کے باوجود اس حق کو کیوں چھوڑ دیا تھا؟۔ آج بھی آپ کے بقول وہ سعودی حکومت کے زیر اثر ہے تو بھائی وہ باغ جن کا حق تھا جب انہوں نے چھوڑ دیا ہے تو آپ بھی اب مہربانی کر کے ان قِصُّوں کو چھوڑ دیں اور اگر آپ کا اعتراض سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ہے کہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کو باغ فدک کیوں نہیں ملا؟ تو یہی اعتراض آپ کا أمیر المؤمنين علی رضی اللہ عنہ پر بھی ہو گا کہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کو باغ فدک کیوں نہیں ملا؟؟؟

میری بات سن کہ وہ کچھ سوچنے لگا مگر میں نے اسی لمحہ اس پر ایک اور سوال کر دیا کہ آپ یہ بتائیں کہ وراثت صرف اولاد کو ہی ملتی ہے یا بیویوں اور دوسرے ورثاء کو بھی ملتی ہے؟
کہنے لگا۔۔۔ بیویوں اور دوسرے ورثاء کو بھی ملتی ہے۔

میں نے کہا پھر آپ کا اعتراض صرف سیَّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے کیوں ہے؟ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کے بارے آپ نے کیوں نہیں کہا کہ انہیں بھی وراثت سے محروم رکھا گیا ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ازواج مطہرات میں سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیَّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور أمیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیَّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بھی ہیں۔ آپ نے خلفاء رسول پر یہ الزام دھرنے سے پہلے کبھی نہیں سوچا کہ اگر انہوں نے نبی ﷺ کی صاحبزادی کو حضور ﷺ کی وراثت نہیں دی تو اپنی صاحبزادیوں کو بھی تو اس سے محروم رکھا ہے۔

میری گفتگو سن کر اب وہ مکمل خاموش تھا۔ ساتھ ہی وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا بھی معلوم ہوا۔

میں نے اسے پھر متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ عزیزم ! کب تک ان پاک ہستیوں کے بارے بدگمانی پیدا کرنے والی بے سر و پا جھوٹی باتوں کی وجہ سے حقائق سے آنکھیں بند کر کے رکھو گے؟۔
اب میں تمہیں وہ حقیقت ہی بتا دوں جس کی وجہ سے حضور اقدس ﷺ کی وراثت آپ ﷺ کے کسی وارث کو نہیں دی گئی۔ وہ خود جناب رسالت مآب ﷺ کا فرمان ہے؛ *{نحن معشر الانبیاء لانرث ولا نورث، ما ترکنا صدقة؛}* یعنی ہم انبیاء دنیا کی وراثت میں نہ کسی کے وارث بنتے ہیں اور نہ کوئی ہمارا وارث بنتا ہے۔ ہم جو مال و جائیداد چھوڑتے ہیں وہ امت پر صدقہ ہوتا ہے۔

میں نے اسے کہا عزیزم! یہ وہ مجبوری تھی جس کی وجہ سے أمیر المؤمنین ابوبکر سے لے کر سیَّدنا علی اور سیَّدنا حسن رضی اللہ عنہم تک کسی بھی خلیفہ نے؛ باغ فدک؛ آل رسول کاحق نہیں سمجھا جسے لے کر آج آپ ان کےدرمیان نفرتیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نوجوان اب میری گفتگو سن کر پریشان اور نادم محسوس ہونے لگا۔ پھر انتہائی عاجزی سے اس نے مجھے دیکھا اور گویا ہوا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے میری آنکھیں کھول دیں۔ آج سے میں اس طرح کے اعتراضات کرنے سے توبہ کرتا ہوں۔ اب میں رب تعالیٰ سے بھی وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں اپنی سوچ کو مثبت بناوں گا۔

میں نے اس نوجوان کو مبارک دی اور ایک محبت سے بھرپور معانقہ و مصافحہ ہوا۔
پھر وہ نوجوان شکریہ ادا کرتے ہوئے چلا گیا۔
والسلام ۔۔۔۔

یہ جو تحریر آپ نے پڑھ لی ہے میرے دوستو اور بہن بھاٸیوں، یہ ایک لاجواب اور ہزاروں کتابوں سے زیادہ پُر مغز مدلل مضمون ہے براہ کرم اس کو اتنا پھیلا دیجٸے کہ حق وسچ ہر ایرے غیرے پر بھی واضح ہو جاٸیں۔ لہذا آپ کی ایک کوشش دوسرے کی رہنمائی کا باعث بن سکتی ہے!!!

Source

پاکستانی 1947 ماہر کاپی ، پیسٹ ہے اور فورم پر اپنے اس فن میں یکتا ہے - موصوف اس سے قبل بھی یہی کاپی،پیسٹ تھریڈ 20 مئی 2020 بعنوان

End of Shia-Sunni dispute, Let's be united​

کسی" فیس بک " اور دوسرے ذرائع سے چوری شدہ اپنے نام سے تحریر فرما کر پیش کر چکے - خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ ہے -احوال واقعی یہ ہے کہ اس کے اسی مذکورہ تھریڈ پراس کا تفصیل اور دلائل کے ساتھ جواب دیا گیا تھا جہاں اس نے راہ فرار اختیار کی تھی - اسی تھریڈ میں شیعہ عقیدے پر لگائے تمام الزامات ، اس فرضی مکالمے ،مناظرے کا اور الحمد اللہ ان کے جوابات کے لئے
مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجئے


 

Haideriam

Senator (1k+ posts)
ایک اہل تشیع اپنے مسلک کے اعتبار سے بڑے علمی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے پاس کافی معلومات بھی تھیں۔ اس کے بقول میرے ان سوالات کا جواب کسی مولوی کے پاس نہیں ہے۔

میں نے اس سے جب ملاقات کی تو اس کی ہر ہر ادا سے گویا علماء سے حتیٰ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی نفرت و حقارت کی جھلک واضح تھی۔

میں نے میزبان ہونے کی حیثیت سے بڑے اخلاق سے بٹھایا۔تھوڑی دیر حال احوال دریافت کرنے کے بعد گفتگو شروع ہو گئی۔

اس کا پہلا سوال ہی بزعم خود بڑا جاندار تھا اور وہ یہ کہ تم ابوبکر کو نبی کا خلیفہ کیوں مانتے ہو؟۔ ہم تو ابوبکر کو خلیفہ رسول اسلیئے نہیں مانتے کہ انہوں نے سیَّدہ کائنات، خاتون جنت کو ان کاحق نہیں دیا تھا۔بلکہ ان کا حق غصب کر لیا تھا۔

میں نے کہا ذرا کھل کر بولیں جو آپ کہنا چاہ رہے ہیں۔ اور اس حق کی وضاحت کر دیں کہ وہ حق کیا تھا؟۔

کہنے لگا وہ، باغ فدک؛ جو حضور ﷺ نے وراثت میں چھوڑا تھا۔ وہ حضور ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ کو ملنا تھا۔لیکن وہ باغ انہیں ابوبکر نے نہیں دیا تھا۔
یہ صرف میرا دعویٰ ہی نہیں بلکہ میرے پاس اس دعوے ہر مسلک کی کتابوں سے ایسے وزنی دلائل موجود ہیں جنہیں آپ کا کوئی عالم جھٹلا نہیں سکتا۔
یہ بات اس نے بڑے پر اعتماد اور مضبوط انداز میں کہی۔

مزید اس نے کہا کہ میری بات کے ثبوت کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ باغ فدک؛ آج بھی سعودی حکومت کے زیر تصرف ہے۔ اور وہ حکومتی مصارف کیلئے وقف ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آج تک آل رسول کو ان کا حق نہیں ملا ہے۔

اب آپ ہی بتائیں جنہوں نے آل رسول کے ساتھ یہ کیا ہو ہم انہیں کیسےخلیفہ رسول تسلیم کر لیں؟

میں نے اس کی گفتگو بڑے تحمل سے سنی۔ اور اس کا اعتراض سن کر میں نے پوچھا کہ آپ کا سوال مکمل ہو گیا یا کچھ باقی ہے؟
وہ کہنے لگا میرا سوال مکمل ہو گیا ہے اب آپ جواب دیں۔

میں نے عرض کیا کہ آپ نبی کریم ﷺ کے بعد پہلا خلیفہ کن کو مانتے ہو؟

وہ کہنے لگا ہم مولیٰ علی کو خلیفہ بلا فصل مانتے ہیں۔

میں نے کہا کہ عوام و خواص کے جان و مال اور ان کے حقوق کا تحفظ خلیفة المسلمین کی ذمہ داری ہوتی ہے کسی اور کی نہیں۔مجھے آپ پر تعجب ہو رہا ہے کہ آپ خلیفہ بلا فصل تو سیَّدنا علی رضی اللہ عنہ کو مان رہے ہیں اور اعتراض سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر کر رہے ہیں۔ یا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہلا خلیفہ مانو پھر آپ کا ان پر اعتراض کرنے کا کسی حد تک جواز بھی بنتا ہے ورنہ جن کو آپ پہلا خلیفہ مانتے ہو یہ اعتراض بھی انہی پر کر سکتے ہو کہ آپ کی خلافت کے زمانے میں خاتون جنت رضی اللہ عنہا کا حق کیوں مارا گیا؟

میری بات سن کر اسے حیرت کا ایک جھٹکا لگا مگر ساتھ ہی اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا جی بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے ہاں مولیٰ علی کی خلافت ظاہری آپ کے خلفاء ثلاثہ کے بعد شروع ہوتی ہے اس سے پہلے تو ہم ان کی خلافت کو غصب مانتے ہیں یعنی آپ کے خلفائے ثلاثہ نے مولیٰ علی کی خلافت کو ظاہری طور پر غصب کیا ہوا تھا۔ اسلیئے مولیٰ علی تو اس وقت مجبور تھے وہ یہ حق کیسے دے سکتے تھے؟۔

اس کی یہ تاویل سن کر میں نے کہا عزیزم ! میرے تعجب میں آپ نے مزید اضافہ کر دیا ہے ایک طرف تو آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ مولیٰ علی مشکل کشا ہیں۔ عجیب بات ہے کہ انہیں کے گھر کی ایک کے بعد دوسری مشکل آپ نے ذکر کر دی یعنی ان کی زوجہ محترمہ کاحق مارا گیا لیکن وہ مجبور تھے اور وہ مشکل کشا ہونے کے باوجود ان کی مشکل کشائی نہ کر سکے۔ پھر ان کا اپنا حق (خلافت) غصب ہوا لیکن وہ خود اپنی مشکل کشائی بھی نہ کر سکے۔ یا تو ان کی مشکل کشائی کا انکار کر دو اور اگر انہیں مشکل کشا مانتے ہو تو یہ من گھڑت باتیں کہنا چھوڑ دو کہ طاقتوروں نے ان کے حقوق غصب کر لیئے تھے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر بالفرض و المحال آپ کی یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ اصحاب ثلاثہ نے ان کی خلافت غصب کر لی تھی، اب سوال یہ ہے کہ خلفاء ثلاثہ کے بعد جب أمیر المؤمنين علی رضی اللہ عنہ کو ظاہری خلافت مل گئی اور ان کی شہادت کے بعد انہی کے صاحبزادے سیَّدنا حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو کیا اس وقت انہوں نے باغ فدک لے لیا تھا؟

جب آپ کےبقول وہ خلفاء ثلاثہ کے زمانے میں غصب کیا گیا تھا، اب تو انہی کی حکومت تھی جن کا حق غصب کیا گیا۔ لیکن انہوں نے اپنی حکومت ہونے کے باوجود اس حق کو کیوں چھوڑ دیا تھا؟۔ آج بھی آپ کے بقول وہ سعودی حکومت کے زیر اثر ہے تو بھائی وہ باغ جن کا حق تھا جب انہوں نے چھوڑ دیا ہے تو آپ بھی اب مہربانی کر کے ان قِصُّوں کو چھوڑ دیں اور اگر آپ کا اعتراض سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ہے کہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کو باغ فدک کیوں نہیں ملا؟ تو یہی اعتراض آپ کا أمیر المؤمنين علی رضی اللہ عنہ پر بھی ہو گا کہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کو باغ فدک کیوں نہیں ملا؟؟؟

میری بات سن کہ وہ کچھ سوچنے لگا مگر میں نے اسی لمحہ اس پر ایک اور سوال کر دیا کہ آپ یہ بتائیں کہ وراثت صرف اولاد کو ہی ملتی ہے یا بیویوں اور دوسرے ورثاء کو بھی ملتی ہے؟
کہنے لگا۔۔۔ بیویوں اور دوسرے ورثاء کو بھی ملتی ہے۔

میں نے کہا پھر آپ کا اعتراض صرف سیَّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے کیوں ہے؟ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کے بارے آپ نے کیوں نہیں کہا کہ انہیں بھی وراثت سے محروم رکھا گیا ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ازواج مطہرات میں سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیَّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور أمیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیَّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بھی ہیں۔ آپ نے خلفاء رسول پر یہ الزام دھرنے سے پہلے کبھی نہیں سوچا کہ اگر انہوں نے نبی ﷺ کی صاحبزادی کو حضور ﷺ کی وراثت نہیں دی تو اپنی صاحبزادیوں کو بھی تو اس سے محروم رکھا ہے۔

میری گفتگو سن کر اب وہ مکمل خاموش تھا۔ ساتھ ہی وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا بھی معلوم ہوا۔

میں نے اسے پھر متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ عزیزم ! کب تک ان پاک ہستیوں کے بارے بدگمانی پیدا کرنے والی بے سر و پا جھوٹی باتوں کی وجہ سے حقائق سے آنکھیں بند کر کے رکھو گے؟۔
اب میں تمہیں وہ حقیقت ہی بتا دوں جس کی وجہ سے حضور اقدس ﷺ کی وراثت آپ ﷺ کے کسی وارث کو نہیں دی گئی۔ وہ خود جناب رسالت مآب ﷺ کا فرمان ہے؛ *{نحن معشر الانبیاء لانرث ولا نورث، ما ترکنا صدقة؛}* یعنی ہم انبیاء دنیا کی وراثت میں نہ کسی کے وارث بنتے ہیں اور نہ کوئی ہمارا وارث بنتا ہے۔ ہم جو مال و جائیداد چھوڑتے ہیں وہ امت پر صدقہ ہوتا ہے۔

میں نے اسے کہا عزیزم! یہ وہ مجبوری تھی جس کی وجہ سے أمیر المؤمنین ابوبکر سے لے کر سیَّدنا علی اور سیَّدنا حسن رضی اللہ عنہم تک کسی بھی خلیفہ نے؛ باغ فدک؛ آل رسول کاحق نہیں سمجھا جسے لے کر آج آپ ان کےدرمیان نفرتیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نوجوان اب میری گفتگو سن کر پریشان اور نادم محسوس ہونے لگا۔ پھر انتہائی عاجزی سے اس نے مجھے دیکھا اور گویا ہوا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے میری آنکھیں کھول دیں۔ آج سے میں اس طرح کے اعتراضات کرنے سے توبہ کرتا ہوں۔ اب میں رب تعالیٰ سے بھی وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں اپنی سوچ کو مثبت بناوں گا۔

میں نے اس نوجوان کو مبارک دی اور ایک محبت سے بھرپور معانقہ و مصافحہ ہوا۔
پھر وہ نوجوان شکریہ ادا کرتے ہوئے چلا گیا۔
والسلام ۔۔۔۔

یہ جو تحریر آپ نے پڑھ لی ہے میرے دوستو اور بہن بھاٸیوں، یہ ایک لاجواب اور ہزاروں کتابوں سے زیادہ پُر مغز مدلل مضمون ہے براہ کرم اس کو اتنا پھیلا دیجٸے کہ حق وسچ ہر ایرے غیرے پر بھی واضح ہو جاٸیں۔ لہذا آپ کی ایک کوشش دوسرے کی رہنمائی کا باعث بن سکتی ہے!!!

Source
بسمہ تعالی
کہانی کا دوسرا رخ

اسلامیہ کالج پشاور کے پروفیسر کی ایک شیعہ نوجوان سے فدک کے موضوع پر ہونے والی گفتگو
[ نہایت شائستہ، استدلالی اور منطقی گفتگو، براہ کرم آخر تک مطالعہ کریں اور دوسروں کو بھی فاروڈ کیجیے ]
👇👇👇👇
مجھے ابھی اسلامیہ کالج پشاور آئے کچھ ہی دن گزرے تھے.،پتہ چلا کہ ایک بڑے علمی گھرانے سےتعلق رکھنے والا اہل تشیع سٹوڈنٹ ہے اور اس کا دعوی ہے کہ اس کے سوالات کا جواب کسی سنی مولوی کے پاس نہیں ہے۔ میں نے اس کو سبق سکھانے کی ٹھان لی،
اتفاق سے ایک خالی پیریڈ دیکھ کر اس کو میں نے اپنے روم میں بلالیا ، اور بڑے اخلاق سے بٹھایا۔ تھوڑی دیر احوال پرسی کے بعدگفتگو شروع ہوگئی
👳 میں نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: میں نے سنا ہے کہ تم یونیورسٹی طلباء کے اذہان میں صحابہ کرام و بالاخص ابوبکر صدیقؓ کےمتعلق شکوک و شبہات پیداکر رہے ہو، جب کہ وہ رسول خدا کے برحق خلیفہ تھے ، آج میں جاننا چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کا ابوبکرصدیق کےمتعلق کیا اعتراض ہے؟
پہلے تو سٹوڈنٹ کی حیثیت سے وہ کچھ ہچکچا رہا تھا ، میں نے اس کو جب اطمینان دلایا تو وہ قدرے تسلی کے ساتھ بولا:
👨 جناب گو ہمارے ذمہ دار علماء مقدسات اہلسنت پر گالم گلوچ کی اجازت نہیں دیتے لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر ہم انہیں رسول کا خلیفہ برحق نہیں مان سکتے جن میں سے ایک تو یہ ہے کہ انہوں نے بنت رسولؐ کا حق غصب کیا اور وہ آخری دم تک ان سے غضبناک رہیں،
نوجوان کی ابوبکرصدیق کے متعلق قدرے احترام کے ساتھ گفتگو نے مجھے کچھ متعجب کیا کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ سبھی شیعہ بغیر گالم گلوچ کے صحابہ کا نام نہیں لیتے۔
👳 خیر میں نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ذرا کھل کر بولیں جوآپ کہنا چاہ رہے ہیں ، اور اس حق کی وضاحت کر دیں کہ وہ حق کیا تھا؟
👨 کہنے لگا وہ باغ فدک جو رسول اللہؐ نے بحکم خدا آیت ذی القربی کے نزول کے بعد فاطمہؑ کو ہبہ کیا تھا، حضرت ابوبکر نے اس پر قبضہ کر کے بنت رسولؐ کو ان کے حق سےمحروم کردیا۔
یہ صرف میرا دعویٰ ہی نہیں بلکہ میرے پاس اس دعوے پر ہرمسلک کی کتابوں سے ایسے وزنی دلائل موجود ہیں جنہیں آپ کا کوئی عالم جھٹلا نہیں سکتا۔
یہ بات اس شیعہ لڑکے نے بڑے پراعتماد اور مضبوط انداز میں کہی۔
اب آپ ہی بتائیں! جنہوں نے آل رسول کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا ہو ہم انہیں کیسے خلیفہ رسول تسلیم کرلیں؟
👳 اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتا میں نے اس کو وہیں روک کر کہا کہ آپ کی باتوں میں تضاد ہے ،کبھی آپ لوگ کہتے ہو ہبہ تھا اورکبھی کہتے ہو وراثت تھی ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ فدک میں آپ لوگوں کے پاس سوائے جھوٹ اور صحابہ کرام پر اتہام زنی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔
👨 وہ کہنے لگا کہ جناب دراصل یہ آپ حضرات کی سادہ اندیشی اور عدم آشنائی ہے ورنہ اس میں کوئی تضاد والی بات ہی نہیں ہے، دراصل حضرت فاطمہؑ نے پہلے ہبہ کا دعوی کیا تھا اور اس پر حضرت علیؑ اور ام ایمن کو بطور گواہ بھی پیش کیا تھا لیکن ابوبکر نے ان دونوں کی گواہی یہ کہہ کر رد کردی تھی کہ یہ دونوں آپ کے گھر کے افراد ہیں۔
تو جب ہبہ کاانکار کیا پھر اس کے بعد سیدہ فاطمہؑ نے وراثت کی رو سے پھر فدک کا مطالبہ کیا کیونکہ دلیل ہمیشہ مخالف کے مطابق پیش کی جاتی ہے۔
👳 میں نے کہا یہ سب تو آگے چل کر پتہ چلے گا کہ آپ کی باتوں میں کتنی حقیقت ہے ، پہلے آپ یہ بتائیں کہ وراثت صرف اولاد کو ہی ملتی ہے یا بیویوں اور دوسرے ورثاء کو بھی ملتی ہے؟
👨 کہنے لگا: بیویوں اور دوسرے ورثاء کو بھی ملتی ہے۔
👳 میں نے کہا: پھر آپ کا اعتراض صرف سیَّدہ فاطمہؓ کے بارے کیوں ہے؟ آپ نے خلفاء رسول پر الزام دھرنے سے پہلے یہ نہیں سوچا کہ اگر انہوں نے نبیؐ کی صاحبزادی کو آپؐ کی وراثت نہیں دی تو اپنی صاحبزادیوں کوبھی تو اس سے محروم رکھا ہے۔
اورجس وجہ سے حضورؐ کی وراثت آپ کے کسی وارث کو نہیں دی گئی۔ وہ خود جناب رسالت مآبؐ کا فرمان ہے؛ { نحن معشر الانبیاء لانرث ولا نورث، ما ترکنا صدقة؛} یعنی ہم انبیاء دنیا کی وراثت میں نہ کسی کے وارث بنتے ہیں اور نہ کوئی ہمارا وارث بنتا ہے۔ ہم جو مال و جائیداد چھوڑتے ہیں وہ امت پرصدقہ ہوتا ہے۔اس لئے تو آپ نے حضرت فاطمہ سمیت باقی کسی کو بھی حق نہیں دیا ،
👨 وہ فوراً ہی گویا ہوا اور کہا پہلی بات تو یہ کہ ازواج و حضرت عائشہ کو میراث نہ دینے والی بات خلاف حقیقت ہے کیونکہ آپ لوگ قائل ہیں کہ حضرت عائشہ کو حجرہ رسولؐ اللہ کی میراث میں عطا ہوا تھا اور وہ ان کی ملکیت میں رہا ، اس کے علاوہ خود ابن عباس سے منسوب جملہ ہے انہوں نے حضرت عائشہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "لک التسع من الثمن ولکل تصرفت"اے عائشہ آپ کی میراث آٹھویں حصے میں سے نواں {کیونکہ آپ کی نو ازواج تھیں تو ہر ایک کو نوحصوں میں ایک حصہ ملنا تھا }حصہ بنتی ہے لیکن آپ ساری میراث کی مالک بن چکی ہیں،
دوسری بات یہ کہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں وراثت انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے۔پس ہم کیسے ایک ایسی روایت کو جس کے واحد راوی حضرت ابوبکر تھے قرآن کی صریح نص کے مقابل لا سکتے ہیں؟
👳 واقعاً نوجوان کی بات کا میرے پاس جواب نہ تھا اس نے بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا
👨 کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ وہ نبیؐ جوکنگھا کرنے سے لےکر بیت الخلاء تک کے مسائل امت کو بتاکر گئے ہیں وہ وراثت یا مال فئے جیسے اہم مسئلے کو اپنی بیٹی کو ہی نہ بتاکر گئے ہوں!
👳 نوجوان کی باتوں میں کافی وزن تھا لیکن میرے پاس بھی کافی دلائل موجود تھے جن کا مجھے یقین تھا کہ انکا جوب اسکے پاس نہیں ہوگا
میں نے نوجون سے پوچھا کہ کیا آپ کے نزدیک حضرت علیؓ فاتح خیبر اورمشکل کشا نہیں تھے؟
اس نے اثبات میں سر ہلایا تو میں نے کہا عزیزم! میرے تعجب میں آپ نے مزید اضافہ کر دیا ہے ایک طرف تو آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ مولیٰ علی مشکل کشا ہیں ، عجیب بات ہے کہ ان کی زوجہ محترمہ کاحق مارا گیا لیکن وہ مجبور تھے اور وہ مشکل کشا ہونے کے باوجود ان کی مشکل کشائی نہ کر سکے۔ پھر ان کا اپنا حق (خلافت) غصب ہوا لیکن وہ خود اپنی مشکل کشائی بھی نہ کر سکے۔ یا تو ان کی مشکل کشائی کا انکار کر دو اور اگر انہیں مشکل کشا مانتے ہو تو یہ من گھڑت باتیں کہنا چھوڑ دو کہ طاقتوروں نے ان کے حقوق غصب کر لیئے تھے۔
میرے زعم کے مطابق شاید نوجوان کے پاس میرے اس سوال کا جواب نہیں ہوگا ، لیکن میری توقعات کے برخلاف اس نے جواب دینا شروع کیا
👨 وہ کہنے لگا کہ سر یہ بات درست ہے ،حضرت علی بے شک مشکل کشا تھے لیکن تاریخ و روایات گواہ ہیں کہ انہوں نے کبھی اپنی ذات کے لیے اپنی طاقت کو استعمال نہیں کیا ، ثانیا ان کا سکوت کسی کمزوری کی بنا پرنہیں تھا بلکہ انہوں نے داخلی انتشار اور بیرونی قوتوں کے حملے سے بچاؤ کے پیش نظر اسلام کے اس نوخیز پودے کی حفاظت کے لئے مصلحتًا سکوت اختیار کیا ۔
اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا اس نے مزید بات جاری رکھی
👨 سر! ایک طرف اسلام کی حفظ و بقاء کا مسئلہ تھا تو دوسری طرف ان کا حق خلافت اور نیز ان کی زوجہ کا حق چھن جانے کا مسئلہ تھا تو آپ نے دو اہم و مہم چیزوں میں ایک اہم چیز کی خاطر اپنے ذاتی حق سے دستبرداری اختیار کرلی ،
نوجوان کا استدلال کاملاً منطقی تھا گو میں نے اس کی دلیل کو جھٹلانے کے لئے دل و دماغ کے گھوڑے دوڑائے لیکن اس کی اس منطقی و ٹھوس بات کے سامنے مات و مبہوت رہ گیا ، لیکن اب بھی میں مکمل مایوس نہیں ہوا تھا کیونکہ میرے چنتے ایک بہت مضبوط دلیل موجود تھی اور میرا خیال تھا کہ اس کا جواب اس نوجوان کے پاس تو کیا دنیا کے کسی شیعہ کے پاس نہ ہوگا
👳 میں نے نسبتاً بارعب انداز میں اپنا سوال پیش کیا ؛
بیٹا! بالفرض آپ کے بقول فدک خلفاء ثلاثہ کے زمانے میں غصب کیا گیا تھا ، تو جب خود حضرت علی کا دورخلافت آیا تو انہوں نے اس کو واپس کیوں نہیں لیا؟
تو بھائی وہ باغ جن کا حق تھا جب انہوں نے چھوڑ دیا ہے تو آپ بھی اب مہربانی کر کے ان قِصُّوں کو چھوڑ دیں اور اگر آپ کا اعتراض سیَّدنا ابوبکرؓ پر ہے کہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کو باغ فدک کیوں نہیں ملا؟ تو یہی اعتراض آپ کا أمیر المؤمنين علیؓ پر بھی ہوگا کہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کو باغ فدک کیوں نہیں ملا؟
میں دل ہی دل میں خوش تھا کہ اب یہ نوجوان جتنی کوشش کرے اس سوال کا جواب نہیں لاسکتا
👨 لیکن نوجوان نے کچھ دیر با معنی مکث کیا اور پھر گویا ہوا:
" سر اس سوال کے دو جواب ہیں ایک حلی اور ایک الزامی و نقضی یعنی آپ کے مسلمات کے مطابق؛
ہم پہلے حلی جواب کی طرف آتے ہیں؛
آپ نے دعوی کیا کہ چونکہ مولاعلی اور ان کے بعد امام حسن نے فدک کو واپس نہیں لیا پس اس کا لازمہ یہ ہے کہ ان کا حق ہی نہیں تھا
👨 سر مجھے آپ جیسے پڑھے لکھے شخص پر تعجب ہے کہ دنیا کے کس قانون میں لکھا ہے کہ اگر صاحب حق اپنے حق کو کسی وجہ سے واپس نہ لے تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ وہ چیز اس کی ملکیت ہی نہیں تھی؟
اور اسی طرح امام باقرؑ سے منقول ہے کہ رسول اللہؐ کا مکہ میں گھر تھا جس پرعقیل نے قبضہ کرکے بیچ دیا فتح مکہ کے دوران رسول اللہؐ نے وہ گھر واپس لینے سے انکار کردیا کیا اس سے یہ نتیجہ نکلے گا کہ وہ گھر رسول اللہؐ کا تھا ہی نہیں؟
اس سے بڑھ کر اپنے پاس سے قیاس آرائیوں سے بہتر نہیں کہ خود حضرت علی سے پوچھ لیں کہ فدک کےمتعلق ان کی اپنی رائے کیا تھی؟
نوجوان نے جھٹ سے موبائل سے نہج البلاغہ نکالی اور اس کا عربی متن بمع اردو ترجمہ میرے سامنے رکھ دیا ؛ جس میں لکھا تھا " نیلے آسمان تلے روئے زمین پر واحد فدک ہماری جاگیرتھی جس پر ایک گروہ نے بخل کیا ایک گروہ نے طمع کی اور جس کو چاہا عطا وبخشش کی اور خداوند متعال اس پر بہترین قاضی و گواہ ہے۔
مجھے دل ہی دل میں اس نوجوان کی حاضر جوابی و تبحرعلمی پرتعجب ہو رہا تھا
👨 وہ مزید کہنے لگا: اب ہم الزامی جواب کی طرف آتے ہیں
" جناب کیا آپ لوگ قائل نہیں کہ فدک مال فئے تھا؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ کہنے لگا کہ سر حضرت علی کا سوال تو بعد کی بات ہے آپ پہلے اس بات کا جواب دیں کہ حضرت عثمان نے کس اتھارٹی سے فدک اپنے داماد مروان کو عطا کیا؟
وہاں آپ لوگ کیوں خاموشی اختیار کرجاتے ہیں ، اور اگر آپ کہیں کہ مال فئے ہونے کے باوجود کسی کو ہدیہ کرنے کی اجازت تھی تو پھر فاطمہ بنت محمد سے بڑھ کر کون اس کا حقدار ہو سکتا تھا؟
👳 میں چونکہ بحیثیت محقق تاریخ اس واقعے کو پڑھ چکا تھا لیکن ہمیں بچپن سے ہی تاریخ پر غوروفکر سے منع کیا جاتا تھا اس لئے ہم اس طرح کے واقعات سے آسانی سے گزر جاتے تھے لیکن آج پہلی بار میں نے پہلے دو خلفاء اور تیسرے خلفاء کے عمل میں تضاد کو واضح طور پر محسوس کیا
👨 وہ نوجوان بولتا جا رہا تھا اور میں سر نیچا کئے با دل نخواستہ سننے پر مجبور تھا.
وہ کہنے لگا کہ جناب ہم یہاں بحث کو ختم کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے مجھے ایک اہم سوال کا جواب درکار ہے ، میرے استفسار پر وہ گویا ہوا
👨 آپ لوگ کہتے ہیں ناں کہ حضرت علیؑ نے فدک واپس نہ لے کر حضرت ابو بکر کے فیصلے کو برقرار رکھا؟
👳 میں نے کہا بالکل حقیقت یہی ہے بلکہ حضرت علیؓ اپنے آپ کو سابق خلفاء ومن جملہ خلیفہ اول کا تابع و پیرو سمجھتے تھے پس آپ نے فدک کو واپس نہ لے کر حضرت ابو بکرؓ کے فیصلے پر مہر تائید ثبت کی ہے.
👨 وہ کہنے لگا؛
جناب دراصل آپ حضرات نے خود کو اپنے ہی کنویں میں گرا دیا ہے اور اپنی ہی دلیل پر خط بطلان کھینچ دیا ہے
"وہ کیسے" مجھے متعجب دیکھ کر وہ کہنے لگا : سر کیا آپ نے ابھی نہیں کہا کہ فدک مال فئے یعنی سرکاری مال تھا ؟
میں نے تائید کی ، تو وہ کہنے لگا کیا اس وقت حضرت علی خلیفہ وقت نہیں تھے ؟ میں نے کہا بے شک وہی خلیفہ وقت تھے..
تو وہ کہنے لگا کہ پھر حضرت علیؑ کو چاہیے تھا کہ وہ فدک کو مروان کے ذاتی قبضے سے چھڑا کر بیت المال میں شامل کرتے جیسا کہ آپ نے باقی لوٹے گئے اموال بیت المال میں واپس لوٹائے.
پس آپ حضرات کیسے کہتے ہیں کہ حضرت علی نے فدک واپس نہ لے کر پہلے خلیفہ کے فیصلے کو برقرار رکھا؟ اور اس سے حضرت ابوبکر کے فیصلے کی تائید کیسے ہو گئی؟
مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی بلکہ اس سے تو ان کی خلیفہ اول کے فیصلے کی مخالفت ثابت ہوتی ہے،
اور اس سے بڑھ کر کیا آپ کی کتب میں نہیں لکھا کہ طول تاریخ میں بعض خلفاء نے فدک کو بنی فاطمہؑ کو واپس کیا
اس کا تو واضح مطلب یہ بنتا ہے کہ فدک ہرگز مال فئے نہیں تھا ورنہ وہ خلفاء جن کو آپ نیک و صالح شمار کرتے ہیں انکی جانب سے فدک واپس کیوں کیا گیا؟
اور بنی فاطمہؑ نے وہ مال واپس کیوں لیا اس کا قطعی لازمہ یہ ہے کہ فدک ہرگز مال فئے نہ تھا ورنہ تو واپس کرنا بھی اور واپس لینا بھی حرام تھا.... ❗
👳 نوجوان نے بہت ظریف نکات کی طرف اشارہ کیا تھا جس طرف ہمارے ہاں توجہ نہیں کی جاتی اور علامہ طاہر القادری سے لے کر مولانا حنیف قریشی تک سبھی اس کو بڑی شدومد سے شیعوں کے خلاف پیش کرتے ہیں ۔
اتنے میں اگلے پیریڈ کی گھنٹی بجی ، نوجوان بڑے باادب انداز میں اجازت لے کر رخصت ہو گیا لیکن اس کے جانے کے بعد میں سوچتا رہ گیا!
👳 اس کے الفاظ تیر بن کر میرے دل میں پیوست ہوئے تھے ، اور اس کی استدلالی گفتگو کے سامنے اپنے آپ کو بے بس و بے یار و مدد گار پایا ،
اور شاید مجھے زندگی میں پہلی بار وہ بھی کسی کمسن کے سامنے اس قدر خفت و بے مایگی کا احساس ہوا
اے کاش ہمارے علماء ہمیں تاریخ میں غور وحوض سے منع کرنے کے بجائے ، اس کا عمیق مطالعہ کرنے کی اجازت دیتے
کیونکہ تاریخ کے مطالعے کے بغیر مکتب و مسلک حتی قرآن و حدیث کی کسی چیز کو ثابت نہیں کیا جاسکتا ، کیوں کہ سبھی آیات کسی نہ کسی واقعے کے متعلق نازل ہوئی ہیں اور تاریخ کے بغیر سب کچھ بے فائدہ ہے۔
👳 وہ دن اور آج کا دن میں نے کسی شیعہ سے بحث کرنے کی ہمت نہیں کی اور اس بات کا واقعاً اندازہ ہوا کہ اہل تشیع کا بچہ اور ہمارا عالم بھی برابر نہیں ہو سکتا۔
ختم شد!
 

Haideriam

Senator (1k+ posts)
ایک اہل تشیع اپنے مسلک کے اعتبار سے بڑے علمی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے پاس کافی معلومات بھی تھیں۔ اس کے بقول میرے ان سوالات کا جواب کسی مولوی کے پاس نہیں ہے۔

میں نے اس سے جب ملاقات کی تو اس کی ہر ہر ادا سے گویا علماء سے حتیٰ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی نفرت و حقارت کی جھلک واضح تھی۔

میں نے میزبان ہونے کی حیثیت سے بڑے اخلاق سے بٹھایا۔تھوڑی دیر حال احوال دریافت کرنے کے بعد گفتگو شروع ہو گئی۔

اس کا پہلا سوال ہی بزعم خود بڑا جاندار تھا اور وہ یہ کہ تم ابوبکر کو نبی کا خلیفہ کیوں مانتے ہو؟۔ ہم تو ابوبکر کو خلیفہ رسول اسلیئے نہیں مانتے کہ انہوں نے سیَّدہ کائنات، خاتون جنت کو ان کاحق نہیں دیا تھا۔بلکہ ان کا حق غصب کر لیا تھا۔

میں نے کہا ذرا کھل کر بولیں جو آپ کہنا چاہ رہے ہیں۔ اور اس حق کی وضاحت کر دیں کہ وہ حق کیا تھا؟۔

کہنے لگا وہ، باغ فدک؛ جو حضور ﷺ نے وراثت میں چھوڑا تھا۔ وہ حضور ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ کو ملنا تھا۔لیکن وہ باغ انہیں ابوبکر نے نہیں دیا تھا۔
یہ صرف میرا دعویٰ ہی نہیں بلکہ میرے پاس اس دعوے ہر مسلک کی کتابوں سے ایسے وزنی دلائل موجود ہیں جنہیں آپ کا کوئی عالم جھٹلا نہیں سکتا۔
یہ بات اس نے بڑے پر اعتماد اور مضبوط انداز میں کہی۔

مزید اس نے کہا کہ میری بات کے ثبوت کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ باغ فدک؛ آج بھی سعودی حکومت کے زیر تصرف ہے۔ اور وہ حکومتی مصارف کیلئے وقف ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آج تک آل رسول کو ان کا حق نہیں ملا ہے۔

اب آپ ہی بتائیں جنہوں نے آل رسول کے ساتھ یہ کیا ہو ہم انہیں کیسےخلیفہ رسول تسلیم کر لیں؟

میں نے اس کی گفتگو بڑے تحمل سے سنی۔ اور اس کا اعتراض سن کر میں نے پوچھا کہ آپ کا سوال مکمل ہو گیا یا کچھ باقی ہے؟
وہ کہنے لگا میرا سوال مکمل ہو گیا ہے اب آپ جواب دیں۔

میں نے عرض کیا کہ آپ نبی کریم ﷺ کے بعد پہلا خلیفہ کن کو مانتے ہو؟

وہ کہنے لگا ہم مولیٰ علی کو خلیفہ بلا فصل مانتے ہیں۔

میں نے کہا کہ عوام و خواص کے جان و مال اور ان کے حقوق کا تحفظ خلیفة المسلمین کی ذمہ داری ہوتی ہے کسی اور کی نہیں۔مجھے آپ پر تعجب ہو رہا ہے کہ آپ خلیفہ بلا فصل تو سیَّدنا علی رضی اللہ عنہ کو مان رہے ہیں اور اعتراض سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر کر رہے ہیں۔ یا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہلا خلیفہ مانو پھر آپ کا ان پر اعتراض کرنے کا کسی حد تک جواز بھی بنتا ہے ورنہ جن کو آپ پہلا خلیفہ مانتے ہو یہ اعتراض بھی انہی پر کر سکتے ہو کہ آپ کی خلافت کے زمانے میں خاتون جنت رضی اللہ عنہا کا حق کیوں مارا گیا؟

میری بات سن کر اسے حیرت کا ایک جھٹکا لگا مگر ساتھ ہی اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا جی بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے ہاں مولیٰ علی کی خلافت ظاہری آپ کے خلفاء ثلاثہ کے بعد شروع ہوتی ہے اس سے پہلے تو ہم ان کی خلافت کو غصب مانتے ہیں یعنی آپ کے خلفائے ثلاثہ نے مولیٰ علی کی خلافت کو ظاہری طور پر غصب کیا ہوا تھا۔ اسلیئے مولیٰ علی تو اس وقت مجبور تھے وہ یہ حق کیسے دے سکتے تھے؟۔

اس کی یہ تاویل سن کر میں نے کہا عزیزم ! میرے تعجب میں آپ نے مزید اضافہ کر دیا ہے ایک طرف تو آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ مولیٰ علی مشکل کشا ہیں۔ عجیب بات ہے کہ انہیں کے گھر کی ایک کے بعد دوسری مشکل آپ نے ذکر کر دی یعنی ان کی زوجہ محترمہ کاحق مارا گیا لیکن وہ مجبور تھے اور وہ مشکل کشا ہونے کے باوجود ان کی مشکل کشائی نہ کر سکے۔ پھر ان کا اپنا حق (خلافت) غصب ہوا لیکن وہ خود اپنی مشکل کشائی بھی نہ کر سکے۔ یا تو ان کی مشکل کشائی کا انکار کر دو اور اگر انہیں مشکل کشا مانتے ہو تو یہ من گھڑت باتیں کہنا چھوڑ دو کہ طاقتوروں نے ان کے حقوق غصب کر لیئے تھے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر بالفرض و المحال آپ کی یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ اصحاب ثلاثہ نے ان کی خلافت غصب کر لی تھی، اب سوال یہ ہے کہ خلفاء ثلاثہ کے بعد جب أمیر المؤمنين علی رضی اللہ عنہ کو ظاہری خلافت مل گئی اور ان کی شہادت کے بعد انہی کے صاحبزادے سیَّدنا حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو کیا اس وقت انہوں نے باغ فدک لے لیا تھا؟

جب آپ کےبقول وہ خلفاء ثلاثہ کے زمانے میں غصب کیا گیا تھا، اب تو انہی کی حکومت تھی جن کا حق غصب کیا گیا۔ لیکن انہوں نے اپنی حکومت ہونے کے باوجود اس حق کو کیوں چھوڑ دیا تھا؟۔ آج بھی آپ کے بقول وہ سعودی حکومت کے زیر اثر ہے تو بھائی وہ باغ جن کا حق تھا جب انہوں نے چھوڑ دیا ہے تو آپ بھی اب مہربانی کر کے ان قِصُّوں کو چھوڑ دیں اور اگر آپ کا اعتراض سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ہے کہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کو باغ فدک کیوں نہیں ملا؟ تو یہی اعتراض آپ کا أمیر المؤمنين علی رضی اللہ عنہ پر بھی ہو گا کہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کو باغ فدک کیوں نہیں ملا؟؟؟

میری بات سن کہ وہ کچھ سوچنے لگا مگر میں نے اسی لمحہ اس پر ایک اور سوال کر دیا کہ آپ یہ بتائیں کہ وراثت صرف اولاد کو ہی ملتی ہے یا بیویوں اور دوسرے ورثاء کو بھی ملتی ہے؟
کہنے لگا۔۔۔ بیویوں اور دوسرے ورثاء کو بھی ملتی ہے۔

میں نے کہا پھر آپ کا اعتراض صرف سیَّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے کیوں ہے؟ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کے بارے آپ نے کیوں نہیں کہا کہ انہیں بھی وراثت سے محروم رکھا گیا ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ازواج مطہرات میں سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیَّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور أمیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیَّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بھی ہیں۔ آپ نے خلفاء رسول پر یہ الزام دھرنے سے پہلے کبھی نہیں سوچا کہ اگر انہوں نے نبی ﷺ کی صاحبزادی کو حضور ﷺ کی وراثت نہیں دی تو اپنی صاحبزادیوں کو بھی تو اس سے محروم رکھا ہے۔

میری گفتگو سن کر اب وہ مکمل خاموش تھا۔ ساتھ ہی وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا بھی معلوم ہوا۔

میں نے اسے پھر متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ عزیزم ! کب تک ان پاک ہستیوں کے بارے بدگمانی پیدا کرنے والی بے سر و پا جھوٹی باتوں کی وجہ سے حقائق سے آنکھیں بند کر کے رکھو گے؟۔
اب میں تمہیں وہ حقیقت ہی بتا دوں جس کی وجہ سے حضور اقدس ﷺ کی وراثت آپ ﷺ کے کسی وارث کو نہیں دی گئی۔ وہ خود جناب رسالت مآب ﷺ کا فرمان ہے؛ *{نحن معشر الانبیاء لانرث ولا نورث، ما ترکنا صدقة؛}* یعنی ہم انبیاء دنیا کی وراثت میں نہ کسی کے وارث بنتے ہیں اور نہ کوئی ہمارا وارث بنتا ہے۔ ہم جو مال و جائیداد چھوڑتے ہیں وہ امت پر صدقہ ہوتا ہے۔

میں نے اسے کہا عزیزم! یہ وہ مجبوری تھی جس کی وجہ سے أمیر المؤمنین ابوبکر سے لے کر سیَّدنا علی اور سیَّدنا حسن رضی اللہ عنہم تک کسی بھی خلیفہ نے؛ باغ فدک؛ آل رسول کاحق نہیں سمجھا جسے لے کر آج آپ ان کےدرمیان نفرتیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نوجوان اب میری گفتگو سن کر پریشان اور نادم محسوس ہونے لگا۔ پھر انتہائی عاجزی سے اس نے مجھے دیکھا اور گویا ہوا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے میری آنکھیں کھول دیں۔ آج سے میں اس طرح کے اعتراضات کرنے سے توبہ کرتا ہوں۔ اب میں رب تعالیٰ سے بھی وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں اپنی سوچ کو مثبت بناوں گا۔

میں نے اس نوجوان کو مبارک دی اور ایک محبت سے بھرپور معانقہ و مصافحہ ہوا۔
پھر وہ نوجوان شکریہ ادا کرتے ہوئے چلا گیا۔
والسلام ۔۔۔۔

یہ جو تحریر آپ نے پڑھ لی ہے میرے دوستو اور بہن بھاٸیوں، یہ ایک لاجواب اور ہزاروں کتابوں سے زیادہ پُر مغز مدلل مضمون ہے براہ کرم اس کو اتنا پھیلا دیجٸے کہ حق وسچ ہر ایرے غیرے پر بھی واضح ہو جاٸیں۔ لہذا آپ کی ایک کوشش دوسرے کی رہنمائی کا باعث بن سکتی ہے!!!

Source
وہابی ایک نجس اور دہشتگرد مخلوق ہے یہ ہمارا نہیں تمامپر امن مسلمانوں متفقہ کا فیصلہ ہے
 

Wake up Pak

Chief Minister (5k+ posts)
Majoosi khatmals say Allah bachaay.
Jitna iss cult nay Islam ko badnnam kiya hay shayad he kisi aur nay kiya ho.
apnay aap ko maar peet kar aur ghoroon key puja karkay pata nahi yeh koon say Islam key bat kartay hain.
 

Wake up Pak

Chief Minister (5k+ posts)
The Majoosi claim that the Prophet, PBUH, proclaimed Ali, r.a., to be his "Mawla" at a watering hole known as Ghadeer is a FABRICATION.
 

Wake up Pak

Chief Minister (5k+ posts)
Shi'ahs hate the first three caliphs calling them GHASIBEEN (Usurpers) and their books are loaded with Hazrat Ali and Hazrat Fatima shown extremely displeased with them.


Shi'ahs will consistently deny the Umm Kulsoom marriage with Hazrat Umar but it is reported by "Imam" Tabari in his 13 volume history book TAREEKH-IL UMAM WAL-MULOOK.


They especially hate Hazrat Umar since he stood as a strong barrier between Islam and the Persian conspirators. The conspirators assassinated Hazrat Umar through the Zoroastrian Feroz Abu Lulu who was apprehended and killed on the spot. This man has a glamorous symbolic mazar in Qum, Iran where he is honored as Baba Shuja'.
 

Haideriam

Senator (1k+ posts)
The Majoosi claim that the Prophet, PBUH, proclaimed Ali, r.a., to be his "Mawla" at a watering hole known as Ghadeer is a FABRICATION.

تیری پیدائش بھی من گھڑت ہے کیوں کے تو ایک بندے کی سٹ نہیں اسی لیے ہم تم کو ولد الہجوم کہتے ہیں
 
Last edited:

Haideriam

Senator (1k+ posts)
Majoosi khatmals say Allah bachaay.
Jitna iss cult nay Islam ko badnnam kiya hay shayad he kisi aur nay kiya ho.
apnay aap ko maar peet kar aur ghoroon key puja karkay pata nahi yeh koon say Islam key bat kartay hain.
او ولد الہجوم تو منکر نماز منکر حدیث منکر سنت رسول ہے تیرا اسلام سے کیا تعلق تجھے یہ سنی دیو بندی وہابی صرف اور صرف شیعہ دشمنی میں کچھ نہیں کہتے کبھی پاکستان میں جا کر کسی بازار میں نماز کا منکر خود کو بتلانا پھر دیکھنا تیرے چٹھھہرے بھی گھر والوں کو مل گئے تو تجھے ان دیو بندی وہابی بریلویوں نے بخرے بخرے کر دینا ہے
 

Haideriam

Senator (1k+ posts)
Shi'ahs hate the first three caliphs calling them GHASIBEEN (Usurpers) and their books are loaded with Hazrat Ali and Hazrat Fatima shown extremely displeased with them.


Shi'ahs will consistently deny the Umm Kulsoom marriage with Hazrat Umar but it is reported by "Imam" Tabari in his 13 volume history book TAREEKH-IL UMAM WAL-MULOOK.


They especially hate Hazrat Umar since he stood as a strong barrier between Islam and the Persian conspirators. The conspirators assassinated Hazrat Umar through the Zoroastrian Feroz Abu Lulu who was apprehended and killed on the spot. This man has a glamorous symbolic mazar in Qum, Iran where he is honored as Baba Shuja'.
اگر مولا علی ابن ابی طالب ص کو قتل کروانے والا زلیل ابن زلیل یا ان کے قتل پر خوش ہونے والی رضی اللہ ہیں تو پھر حضرت ابولولو فیروز رضی اللہ تعالی عنہ بھی قتل عمر کر کے کافر یا مجوسی نہیں مسلمان اور رضی اللہ تعالی عنہ ہی ہیں
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں