صاف دل؛ ایک عظیم نعمت اور ضرورت

Amal

Chief Minister (5k+ posts)

صاف دل؛ ایک عظیم نعمت اور ضرورت

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 29 ربیع الاول1440 خطبہ جمعہ مسجد نبوی

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ انتہائی عظیم اور حلم والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی عرش عظیم کا پروردگار ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ کو تمام اخلاق حسنہ کے ساتھ بھیجا گیا، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، تمام صحابہ کرام اور دین قویم پر قائم تابعین اور ان کے پیروکاروں پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔
حمد و صلاۃ کے بعد
مادہ پرستی کے دور میں ایک دوسرے کا بازو بننے کی ترغیب بہت ضروری ہے، اور یہ صاف دلی سے ممکن ہے۔ صاف دلی بہت بڑی نعمت بلکہ دنیا کی جنت ہے، اس کی علامت یہ ہے کہ ایمان، تقوی اور عقیدہ توحید کے ساتھ دل میں کینہ، عداوت، کدورت، نفرت، حسد، بغض نہ ہو۔ مسلمانوں کی خوشی پر خوشی محسوس ہو، دوسروں کی خیر خواہی، اشک شوئی اور دکھ درد بانٹنے کا جذبہ موجود ہو، جس کے ساتھ بھی تھوڑا یا زیادہ وقت گزارا ہو اس کے لیے دل صاف ہو۔ صاف دل رکھنے کے اثرات چہرے پر چمک کی صورت میں عیاں رہتے ہیں، اس کی بدولت انسان بلند درجات حاصل کر لیتا ہے۔ دل کو صاف رکھنے کے معاون اسباب ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتلایا کہ: دل میں للہیت، سچائی، تقدیر پر ایمان، تعلیمات الٰہیہ پر عمل، کثرتِ تلاوت، مجاہدۂ نفس، تحائف کا تبادلہ، مسلمانوں کے لئے دعا، زبانی اور عملی ہر طرح سے مسلمانوں کی مدد، شیطانی چالوں سے دوری، اور فضول بحث و تکرار سے اجتناب شامل ہیں۔
مسلمانو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو تقوی الہی اور اطاعت گزاری کی وصیت کرتا ہوں، اللہ تعالی کا فرمان ہے

{وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والا بہت بڑی کامیابی حاصل کر گیا۔ الأحزاب: 71
مسلمانوں
جب دنیا سے محبت کی نت نئی شکلیں سامنے آ رہی ہوں تو مسلمان میں دوسروں سے محبت اجاگر کرنے والی نصیحت اور وعظ کی ضرورت ہوتی ہے؛ کہ مسلمان دوسروں کے کام آئے، ان کا ہاتھ بٹائے، مسلمانوں کو پہنچنے والی تکالیف دور کرے۔ تو وہ نصیحت یہ ہے کہ انسان کا دل سب کے لئے صاف ہو؛ کیونکہ دل صاف ہو تو مسلمان کی زندگی انتہائی خوش حال ، پر بہار، اور پر مسرت بن جاتی ہے۔
یہ بہت ہی بڑی خوبی اور امتیازی صفت ہے کہ انسان کا دل صاف ہو ، اس کی بدولت مسلمان عظیم اجر بھی حاصل کرتا ہے بلکہ اس کا انجام بھی بہترین ہو گا، اللہ تعالی کا فرمان ہے

{يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ (88) إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ} قیامت کے دن مال اور بیٹے کچھ فائدہ نہیں دیں گے [88]مگر اس شخص کو جو اللہ کے پاس صاف دل کے ساتھ آئے۔الشعراء
ایمان، تقوی، عقیدہ توحید اور یقین کے بعد دل کے صاف ہونے کی علامات میں یہ بھی شامل ہے کہ دل مسلمانوں کے بارے میں کینے، حسد، اور عداوت سے پاک ہو۔ مسلمان اپنے بھائیوں کے ساتھ زندگی گزارے تو اس کا دل صاف ہو، خوشی محسوس کرے اور من پاک ہو۔ مسلمانوں کے متعلق دل میں غبار اور نفرت نہ ہو۔ کینہ، دھوکا، فریب اور مکاری مسلمانوں کے خلاف مت رکھے بلکہ ان کے ساتھ جود و سخا، اخلاق حسنہ، صاف دلی ، نیک نیتی اور پاک ضمیر کے ساتھ رہے؛ اس طرح وہ خود بھی پر سکون رہے گا اور لوگ بھی سکون پائیں گے۔
صاف دلی کی یہ بھی علامت ہے کہ لوگوں نے کبھی بھی ایسے شخص کے بارے میں برے کلمات نہیں سنے ہوتے، انہوں نے کبھی اس کی جانب سے کسی پریشانی کا سامنا نہیں کیا ہوتا، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے

(تم میں سے کوئی اس وقت تک [کامل] ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے بھی وہی کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لئے کرتا ہے) متفق علیہ
اس زندگی میں جلد ملنے والی نعمت، بلکہ دنیا کی جنت جس سے زندگی پر لطف بن جائے وہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو ہر اس شخص کے بارے میں صاف رکھے جس کے ساتھ زندگی کے تھوڑے یا زیادہ لمحات گزارے ہیں، بلکہ ہر ایک کے بارے باطن صاف رکھے، اللہ تعالی نے اہل جنت کے بارے میں فرمایا
{وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ ۔ اور ہم ان کے دلوں سے ہر قسم کی بیماری کھینچ لیں گے۔ [الحجر: 47
ابن عطیہؒ اس آیت کے تحت کہتے ہیں
بیماریاں کھینچ لینے کی وجہ یہ ہے کہ دلی بیماری کی وجہ سے انسان کو خود تکلیف ہوتی ہے اور جنت میں کوئی تکلیف یا عذاب نہیں ہو گے

اسی طرح اہل ایمان کی جانب سے کثرت کے ساتھ مانگی جانے والی دعائیں ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا

وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} اور ان کے بعد آنے والے کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اور ہم سے پہلے ایمان لانے والے بھائیوں کو بخش دے اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والے لوگوں کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ ، اے ہمارے رب ! یقیناً تو بے حد شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ الحشر: 10
اسلامی بھائیو
اپنے سینے کو ہر قسم کی کدورت اور ہمہ قسم کے بغض سے پاک صاف رکھنا افضل ترین اعمال میں بھی شامل ہے، جیسے کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ"کون سے لوگ افضل ترین ہیں؟" تو اس کے جواب میں فرمایا
(مخموم القلب اور سچی زبان والا شخص افضل ترین ہے) صحابہ نے عرض کیا: "سچی زبان والا تو ہمیں معلوم ہے، لیکن یہ مخموم القلب کون ہوتا ہے؟" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اس سے مراد پرہیز گا ر پا ک صاف شخص ہے جو گنا ہ ،زیادتی ،کینہ اور حسد سے پاک ہو) ابن ماجہ
اس حقیقت کو امت کے سلف صالحین نے پہلے ہی بھانپ لیا تھا، اس لیے انہوں نے دلی صفائی کی خوب ترغیب دلائی جیسے کہ زید بن اسلمؒ ، ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کے بیمار ہونے پر تیمار داری کے لئے تشریف لائے تو ان کا چہرہ چمک رہا تھا، اس پر زیدؒ نے کہا: "کیا بات ہے کہ آپ کا چہرہ چمک رہا ہے!" اس پر ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: "مجھے اپنے دو اعمال کے متعلق زیادہ امید ہے کہ ان کی وجہ سے ہے: ایک یہ کہ: میں کسی بھی غیر متعلقہ معاملے میں زبان نہیں کھولتا اور دوسرا عمل یہ کہ: میرا دل تمام مسلمانوں کے لئے صاف رہتا ہے
اسی طرح فضیل بن عیاضؒ کہتے ہیں: "ہم میں سے بلند درجہ پانے والوں نے درجات ڈھیروں نفل نماز، روزہ کر کے حاصل نہیں کیے، بلکہ دریا دلی، صاف دل اور پوری امت کی خیر خواہی سے حاصل کیے
اسلامی بھائیو
دل کو صاف رکھنے کے معاون اسباب میں یہ بھی شامل ہے کہ للہیت اور سچائی دل میں جا گزین ہو جائے، اللہ تعالی نے بندے کے لئے اس زندگی میں جو کچھ لکھ دیا ہے اس پر راضی ہو جائیں، تعلیمات الٰہیہ کی پابندی کریں، قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کریں، ساتھ میں انسان مجاہدۂ نفس کرتے ہوئے دھوکا، کینہ، اور حسد جیسی خبیث بیماریوں کا مقابلہ کرے؛ یہ بھی یاد رکھے کہ ان خبیث بیماریوں کا خود انسان پر جلد یا تاخیر کے ساتھ بہت برا اثر ہوتا ہے۔ اسی طرح خوب محنت کے ساتھ دعا مانگے کہ اللہ اسے صاف دل عطا کرے، سچی زبان عنایت فرمائے۔ نیز ہر غالی اور نفیس چیز کو محبت، مودت پیدا کرنے کے لئے خرچ کرے تا کہ باہمی بغض اور نفرت کا خاتمہ ہو جائے؛ دلی صفائی کے لئے سب کی سلامتی کو یقینی بنائے، لوگوں کے معاملات میں بلا وجہ دخل نہ دے۔ زیادہ سے زیادہ تحائف اور عطیات دے؛ ان سے مودت پیدا ہوتی ہے اور نفرت ختم ہوتی ہے۔ اسی طرح سب مسلمانوں کے لئے دعا کرے اور اگر کسی سے کوئی غلطی ہو جائے تو معاف کر دے۔ زبانی یا عملی تمام تر ممکنہ صورتوں میں سب کے کام آئے، اس سے مسلمانوں کو خوش رکھنے میں مدد ملے گی؛ کیونکہ مسلمان کا معاملہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی خوشیوں سے خود بھی خوش ہوتا ہے، اور جب انہیں کوئی دکھ یا تکلیف پہنچے تو ان کے درد بانٹ کر اشک شوئی کرتا ہے۔
اسی طرح انسان کو شیطان سے مقابلے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے؛ کیونکہ شیطان دلوں اور سینوں میں خرابی پیدا کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے

وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوًّا مُبِينًا}میرے بندوں سے کہہ دیں: وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو، بے شک شیطان ان کے درمیان جھگڑا ڈالتا ہے۔ بے شک شیطان ہمیشہ سے انسان کا کھلا دشمن ہے۔ الإسراء: 5
اور صحیح مسلم میں نبی ﷺ سے مروی ہے کہ: (شیطان مایوس ہو گیا ہے کہ جزیرہ عرب میں نمازی اس کی بندگی کریں گے، لیکن باہمی لڑائی جھگڑے کی کوشش کرتا رہے گا)
دلی صفائی کے لئے انسان حالات و واقعات اور رونما ہونے والے روزمرہ مسائل میں بحث و تکرار سے اجتناب کرے؛ کیونکہ ان سے عام طور پر حسد اور نفرت پیدا ہوتی ہے، دلوں میں کدورتیں اور دوریاں آتی ہیں۔ بحث و تکرار کا فائدہ وہاں ہوتا ہے جہاں حق بات کی جستجو ہو، اور کوئی مخلص، خیر خواہ، سچا اور سُچا ، مکمل صلاحیت رکھنے والا صاحب علم گفتگو کرے، نیز تمام کے تمام اخلاقی اور علمی آداب کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

{وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا } اور لوگوں سے بات کرو تو اچھی کرو۔ البقرة: 83
میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
 
Advertisement

Dr Adam

Chief Minister (5k+ posts)

صاف دل؛ ایک عظیم نعمت اور ضرورت

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 29 ربیع الاول1440 خطبہ جمعہ مسجد نبوی

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ انتہائی عظیم اور حلم والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی عرش عظیم کا پروردگار ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ کو تمام اخلاق حسنہ کے ساتھ بھیجا گیا، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، تمام صحابہ کرام اور دین قویم پر قائم تابعین اور ان کے پیروکاروں پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔
حمد و صلاۃ کے بعد
مادہ پرستی کے دور میں ایک دوسرے کا بازو بننے کی ترغیب بہت ضروری ہے، اور یہ صاف دلی سے ممکن ہے۔ صاف دلی بہت بڑی نعمت بلکہ دنیا کی جنت ہے، اس کی علامت یہ ہے کہ ایمان، تقوی اور عقیدہ توحید کے ساتھ دل میں کینہ، عداوت، کدورت، نفرت، حسد، بغض نہ ہو۔ مسلمانوں کی خوشی پر خوشی محسوس ہو، دوسروں کی خیر خواہی، اشک شوئی اور دکھ درد بانٹنے کا جذبہ موجود ہو، جس کے ساتھ بھی تھوڑا یا زیادہ وقت گزارا ہو اس کے لیے دل صاف ہو۔ صاف دل رکھنے کے اثرات چہرے پر چمک کی صورت میں عیاں رہتے ہیں، اس کی بدولت انسان بلند درجات حاصل کر لیتا ہے۔ دل کو صاف رکھنے کے معاون اسباب ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتلایا کہ: دل میں للہیت، سچائی، تقدیر پر ایمان، تعلیمات الٰہیہ پر عمل، کثرتِ تلاوت، مجاہدۂ نفس، تحائف کا تبادلہ، مسلمانوں کے لئے دعا، زبانی اور عملی ہر طرح سے مسلمانوں کی مدد، شیطانی چالوں سے دوری، اور فضول بحث و تکرار سے اجتناب شامل ہیں۔
مسلمانو! میں تمہیں اور اپنے آپ کو تقوی الہی اور اطاعت گزاری کی وصیت کرتا ہوں، اللہ تعالی کا فرمان ہے

{وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والا بہت بڑی کامیابی حاصل کر گیا۔ الأحزاب: 71
مسلمانوں
جب دنیا سے محبت کی نت نئی شکلیں سامنے آ رہی ہوں تو مسلمان میں دوسروں سے محبت اجاگر کرنے والی نصیحت اور وعظ کی ضرورت ہوتی ہے؛ کہ مسلمان دوسروں کے کام آئے، ان کا ہاتھ بٹائے، مسلمانوں کو پہنچنے والی تکالیف دور کرے۔ تو وہ نصیحت یہ ہے کہ انسان کا دل سب کے لئے صاف ہو؛ کیونکہ دل صاف ہو تو مسلمان کی زندگی انتہائی خوش حال ، پر بہار، اور پر مسرت بن جاتی ہے۔
یہ بہت ہی بڑی خوبی اور امتیازی صفت ہے کہ انسان کا دل صاف ہو ، اس کی بدولت مسلمان عظیم اجر بھی حاصل کرتا ہے بلکہ اس کا انجام بھی بہترین ہو گا، اللہ تعالی کا فرمان ہے

{يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ (88) إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ} قیامت کے دن مال اور بیٹے کچھ فائدہ نہیں دیں گے [88]مگر اس شخص کو جو اللہ کے پاس صاف دل کے ساتھ آئے۔الشعراء
ایمان، تقوی، عقیدہ توحید اور یقین کے بعد دل کے صاف ہونے کی علامات میں یہ بھی شامل ہے کہ دل مسلمانوں کے بارے میں کینے، حسد، اور عداوت سے پاک ہو۔ مسلمان اپنے بھائیوں کے ساتھ زندگی گزارے تو اس کا دل صاف ہو، خوشی محسوس کرے اور من پاک ہو۔ مسلمانوں کے متعلق دل میں غبار اور نفرت نہ ہو۔ کینہ، دھوکا، فریب اور مکاری مسلمانوں کے خلاف مت رکھے بلکہ ان کے ساتھ جود و سخا، اخلاق حسنہ، صاف دلی ، نیک نیتی اور پاک ضمیر کے ساتھ رہے؛ اس طرح وہ خود بھی پر سکون رہے گا اور لوگ بھی سکون پائیں گے۔
صاف دلی کی یہ بھی علامت ہے کہ لوگوں نے کبھی بھی ایسے شخص کے بارے میں برے کلمات نہیں سنے ہوتے، انہوں نے کبھی اس کی جانب سے کسی پریشانی کا سامنا نہیں کیا ہوتا، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے

(تم میں سے کوئی اس وقت تک [کامل] ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے بھی وہی کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لئے کرتا ہے) متفق علیہ
اس زندگی میں جلد ملنے والی نعمت، بلکہ دنیا کی جنت جس سے زندگی پر لطف بن جائے وہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو ہر اس شخص کے بارے میں صاف رکھے جس کے ساتھ زندگی کے تھوڑے یا زیادہ لمحات گزارے ہیں، بلکہ ہر ایک کے بارے باطن صاف رکھے، اللہ تعالی نے اہل جنت کے بارے میں فرمایا
{وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ ۔ اور ہم ان کے دلوں سے ہر قسم کی بیماری کھینچ لیں گے۔ [الحجر: 47
ابن عطیہؒ اس آیت کے تحت کہتے ہیں
بیماریاں کھینچ لینے کی وجہ یہ ہے کہ دلی بیماری کی وجہ سے انسان کو خود تکلیف ہوتی ہے اور جنت میں کوئی تکلیف یا عذاب نہیں ہو گے

اسی طرح اہل ایمان کی جانب سے کثرت کے ساتھ مانگی جانے والی دعائیں ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا

وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} اور ان کے بعد آنے والے کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اور ہم سے پہلے ایمان لانے والے بھائیوں کو بخش دے اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والے لوگوں کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ ، اے ہمارے رب ! یقیناً تو بے حد شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ الحشر: 10
اسلامی بھائیو
اپنے سینے کو ہر قسم کی کدورت اور ہمہ قسم کے بغض سے پاک صاف رکھنا افضل ترین اعمال میں بھی شامل ہے، جیسے کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ"کون سے لوگ افضل ترین ہیں؟" تو اس کے جواب میں فرمایا
(مخموم القلب اور سچی زبان والا شخص افضل ترین ہے) صحابہ نے عرض کیا: "سچی زبان والا تو ہمیں معلوم ہے، لیکن یہ مخموم القلب کون ہوتا ہے؟" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اس سے مراد پرہیز گا ر پا ک صاف شخص ہے جو گنا ہ ،زیادتی ،کینہ اور حسد سے پاک ہو) ابن ماجہ
اس حقیقت کو امت کے سلف صالحین نے پہلے ہی بھانپ لیا تھا، اس لیے انہوں نے دلی صفائی کی خوب ترغیب دلائی جیسے کہ زید بن اسلمؒ ، ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کے بیمار ہونے پر تیمار داری کے لئے تشریف لائے تو ان کا چہرہ چمک رہا تھا، اس پر زیدؒ نے کہا: "کیا بات ہے کہ آپ کا چہرہ چمک رہا ہے!" اس پر ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: "مجھے اپنے دو اعمال کے متعلق زیادہ امید ہے کہ ان کی وجہ سے ہے: ایک یہ کہ: میں کسی بھی غیر متعلقہ معاملے میں زبان نہیں کھولتا اور دوسرا عمل یہ کہ: میرا دل تمام مسلمانوں کے لئے صاف رہتا ہے
اسی طرح فضیل بن عیاضؒ کہتے ہیں: "ہم میں سے بلند درجہ پانے والوں نے درجات ڈھیروں نفل نماز، روزہ کر کے حاصل نہیں کیے، بلکہ دریا دلی، صاف دل اور پوری امت کی خیر خواہی سے حاصل کیے
اسلامی بھائیو
دل کو صاف رکھنے کے معاون اسباب میں یہ بھی شامل ہے کہ للہیت اور سچائی دل میں جا گزین ہو جائے، اللہ تعالی نے بندے کے لئے اس زندگی میں جو کچھ لکھ دیا ہے اس پر راضی ہو جائیں، تعلیمات الٰہیہ کی پابندی کریں، قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کریں، ساتھ میں انسان مجاہدۂ نفس کرتے ہوئے دھوکا، کینہ، اور حسد جیسی خبیث بیماریوں کا مقابلہ کرے؛ یہ بھی یاد رکھے کہ ان خبیث بیماریوں کا خود انسان پر جلد یا تاخیر کے ساتھ بہت برا اثر ہوتا ہے۔ اسی طرح خوب محنت کے ساتھ دعا مانگے کہ اللہ اسے صاف دل عطا کرے، سچی زبان عنایت فرمائے۔ نیز ہر غالی اور نفیس چیز کو محبت، مودت پیدا کرنے کے لئے خرچ کرے تا کہ باہمی بغض اور نفرت کا خاتمہ ہو جائے؛ دلی صفائی کے لئے سب کی سلامتی کو یقینی بنائے، لوگوں کے معاملات میں بلا وجہ دخل نہ دے۔ زیادہ سے زیادہ تحائف اور عطیات دے؛ ان سے مودت پیدا ہوتی ہے اور نفرت ختم ہوتی ہے۔ اسی طرح سب مسلمانوں کے لئے دعا کرے اور اگر کسی سے کوئی غلطی ہو جائے تو معاف کر دے۔ زبانی یا عملی تمام تر ممکنہ صورتوں میں سب کے کام آئے، اس سے مسلمانوں کو خوش رکھنے میں مدد ملے گی؛ کیونکہ مسلمان کا معاملہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی خوشیوں سے خود بھی خوش ہوتا ہے، اور جب انہیں کوئی دکھ یا تکلیف پہنچے تو ان کے درد بانٹ کر اشک شوئی کرتا ہے۔
اسی طرح انسان کو شیطان سے مقابلے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے؛ کیونکہ شیطان دلوں اور سینوں میں خرابی پیدا کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے

وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوًّا مُبِينًا}میرے بندوں سے کہہ دیں: وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو، بے شک شیطان ان کے درمیان جھگڑا ڈالتا ہے۔ بے شک شیطان ہمیشہ سے انسان کا کھلا دشمن ہے۔ الإسراء: 5
اور صحیح مسلم میں نبی ﷺ سے مروی ہے کہ: (شیطان مایوس ہو گیا ہے کہ جزیرہ عرب میں نمازی اس کی بندگی کریں گے، لیکن باہمی لڑائی جھگڑے کی کوشش کرتا رہے گا)
دلی صفائی کے لئے انسان حالات و واقعات اور رونما ہونے والے روزمرہ مسائل میں بحث و تکرار سے اجتناب کرے؛ کیونکہ ان سے عام طور پر حسد اور نفرت پیدا ہوتی ہے، دلوں میں کدورتیں اور دوریاں آتی ہیں۔ بحث و تکرار کا فائدہ وہاں ہوتا ہے جہاں حق بات کی جستجو ہو، اور کوئی مخلص، خیر خواہ، سچا اور سُچا ، مکمل صلاحیت رکھنے والا صاحب علم گفتگو کرے، نیز تمام کے تمام اخلاقی اور علمی آداب کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

{وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا } اور لوگوں سے بات کرو تو اچھی کرو۔ البقرة: 83
میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

بارک الله فیه
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں