عالمی منڈی میں پٹرول سستا،آپ نے مہنگا کیوں کردیا؟مفتاح اسماعیل کی وضاحت

mifta-petrol-price-hamid-mir-ss-t.jpg


وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ہم نے پٹرولیم مصنوعات پر ایک روپیہ بھی نیا ٹیکس نہیں لگایا، اپنے عوام دشمن اقدام کے حق میں وضاحتیں دیتے ہوئے کہا کہ جو قیمتیں بڑھی یا کم ہوئی ہیں، صرف پی ایس او کی خرید کے مطابق کم ہوئی ہیں یا بڑھی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو حامد میر نے وفاقی وزیر خزانہ کا ایک بیان انہیں یاد کرایا جو ایک ہی روز قبل انہوں نے نجی چینل پر دیا تھا کہ وہ پٹرول پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگانے جا رہے۔

روزنامہ جنگ ان سے متعلق خبر چھاپی کہ وزیرخزانہ کا پٹرول کی قیمت پر دعویٰ غلط نکلا، جس پر اینکر پرسن حامد میر نے کہا کہ مفتاح صاحب آپ ہمیشہ غلط کیوں نکلتے ہیں؟


اس پر وضاحت دیتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا میر صاحب ہم نے پٹرولیم مصنوعات پر ایک روپیہ بھی نیا ٹیکس نہیں لگایا ہے ۔ جو قیمتیں بڑھی ہیں یا کم ہوئی ہیں صرف پی ایس او کی خرید کے مطابق کم ہوئی ہیں یا بڑھی ہیں۔


حامد میر نے پھر کہا کہ سادہ سا سوال ہے جب عالمی منڈی میں پٹرول سستا ہوا تو آپ نے مہنگا کیوں کر دیا؟ اس پر مفتاح اسماعیل نے کہا پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کیسے مقرر کی جاتی ہیں اس کی ایک مختصر وضاحت ہے کہ اوگرا قیمتوں کا اوسط لیتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ان قیمتوں کے اوپر پی ایس او کی طرف سے ادا کردہ فریٹ اور پریمیم کا اضافہ کرتا ہے اور اسے ایکسچینج ریٹ سے ضرب دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پچھلے پندرہ دن کی لاگت کو بھی دیکھتا ہے۔


حامد میر نے پھر کہا کہ آپ وزیر خزانہ ہیں اگر ایسی کوئی بات تھی تو صرف ایک ہی دن پہلے آپ نے یہ دعویٰ کیوں کیا تھا کہ آپ پٹرول کی قیمت نہیں بڑھائیں گے؟

اس کے جواب میں پھروفاقی وزیر نے کہا کہ میر صاحب میں نے کہا کہ میں قیمت میں نئے ٹیکس یا لیویز کا ایک پیسہ بھی نہیں ڈالوں گا۔ لیکن حامد صاحب آپ کو معلوم ہے کہ ایندھن کی قیمتوں کی سمری اوگرا نے بھیجی ہے اور پیٹرولیم ڈویژن کے ذریعے فنانس ڈویژن کو بھیجی ہے۔ جو قیمتیں مقرر ہونے سے چند گھنٹے پہلے ہی ہمیں ملتی ہے۔


ایک اور ٹوئٹ میں وضاحت دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں ایک آسان ہدف ہوں جو ٹھیک بھی ہے۔ لیکن قیمت میں تبدیلی صرف PSO کے اخراجات میں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے اور اس پر کوئی نیا ٹیکس نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ مجھ پر تنقید میں کھلے دل سے سنوں گا مگر میں جانتا ہوں کہ میں اپنے ملک کے لیے مخلص ہوں اور اسے ڈیفالٹ سے بچایا ہے اور اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق کام کر رہا ہوں۔

 
Sponsored Link