عثمان مرزا کیس،عدالت میں جمع کرائے گئے چالان میں ہوشربا انکشافات

12.jpg


وفاقی دارلحکومت میں لڑکے اور لڑکی کو ہراساں کرنے اور ان پر تشدد کے کیس میں نیا انکشاف ہوا ہے، پولیس اب تک نامزد تین ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ای الیون فلیٹ میں لڑکا لڑکی کو برہنہ کرکے تشدد کرنے اور ان کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنے کے کیس میں گرفتار مرکزی ملزم عثمان مرزا، محب بنگش، ادریس قیوم بٹ، فرحان شاہین، عطا الرحمن کے علاوہ تین ملزمان عمر، بلال مروت اور ریحان ضمانت پر ہیں جن کی گرفتاری میں پولیس ناکام ہو ہی ہے۔


پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے چالان کے مندرجات میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی ملزم عثمان مرزا اور اس کے ساتھیوں نے مل کر متاثرہ لڑکا لڑکی نازیبا ویڈیو بنائی، دونوں کے کپڑے اتروائے، ان پر تشدد کیا، لڑکی کے نازک حصوں کوچھیڑتے رہے، حبس بے جا میں رکھا جبکہ متاثرہ لڑکے اور لڑکی کو دھمکیاں دے کر آپس میں بدکاری کرنے پرمجبور کیا۔

چالان میں مزید بتایا گیا کہ ملزمان نے دونوں سے برہنہ حالت میں ڈانس کروایا، ملزمان نے ویڈیو بنا کر بلیک میل کر کے بھتہ کی رقم بھی وصول کی۔ ملزم کی جانب سے نشاندہی کئے جانے پر ویڈیو بنانے والا موبائل اور واقعہ میں استعمال ہونے والا پستول بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔

متاثرین اسد رضا اورسندس طاہرنے مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے بیانات ریکارڈ کرائے جن کو چالان کا حصہ بنایا گیا ہے۔

متاثرہ لڑکی کے بیان کے مطابق ملزم عثمان اور اس کے ساتھیوں نے دھمکی دی کہ لڑکے کے ساتھ بدکاری کرو ورنہ ہم سب مل کر ایسا کریں گے، لڑکے پر تشدد کر کے اس کی پینٹ اتروائی اور مجھے اس کے ساتھ زنا پرمجبور کیا، برہنہ حالت میں ڈانس کروایا اور دوستوں کے سامنے گھماتا رہا، عثمان اور اس کے دوست ہمارا مذاق اڑاتے اور ویڈیو بناتے رہے، جسم کے نازک حصوں کو چھوتے رہے۔

ملزم عمر نے انکشاف کیا کہ عثمان مرزا کے کہنے پرمتاثرہ لڑکے اورلڑکی سے 11 لاکھ 25 ہزارروپے لیے، چھ لاکھ روپے عثمان کودیے اورباقی رقم دیگر ساتھیوں میں تقسیم کی گئی۔

پولیس نے چالان میں لکھا ہے کہ مرکزی ملزم عثمان مرزا نے پولیس کے سامنے انکشاف کیا کہ اٹھارہ انیس نومبر2020 کی درمیانی رات میں ویڈیو بنائی جس موبائل سے ویڈیو بنائی اورجس پستول سے ملزم دھمکیاں لگاتا رہا دونوں کو ملزم کی نشان دہی پر پولیس نے برآمدکرلیا ہے۔ ملزم پستول کا لائسنس پیش نہیں کرسکا جس پرالگ سے ایک اور مقدمہ درج کیا گیا۔

واضح رہے کہ متاثرہ لڑکا اور لڑکی گھر میں موجود تھے کہ اسی دوران مرکزی ملزم اپنے دوستوں سمیت وہاں پہنچ گیا۔ ملزم عثمان مرزا نے دونوں کو اسلحے کے زور پر حبس بے جا میں رکھا جب کہ لڑکی کی غیر اخلاقی ویڈیو بھی بنائی۔ پولیس نے بتایا ہے کہ مرکزی ملزم عثمان پیسوں کے لیے لڑکے اور لڑکی کو بلیک میل کر رہا تھا۔ ملزم دونوں کو بلیک میل کر کے کئی لاکھ روپے بٹور چکا تھا۔ ملزمان نے لڑکی کو برہنہ کر کے اڑھائی گھنٹے کی ویڈیو بنائی اور زیادتی کرانے کی کوشش کی گئی۔ 375 اے سمیت دیگر نئی دفعات شامل کی گئیں ہیں۔ یہ ویڈیو 6 جولائی کو وائرل ہوئی جبکہ ویڈیو گزشتہ سال بنائی گئی تھی۔
 
Advertisement

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
ان کو پار کرو اور باقی تین جو چھپے ہو ے ہیں ان کو اشتہاری قرار دے کر جہاں بھی ملیں کتے کی طرح مار دو کیونکہ اشتہاری کی زندگی بہت کم ہوتی ہے اگر پولیس مخلص ہوتو وہ جلد مارا جاتا ہے
 

Okara

Prime Minister (20k+ posts)
ان کو پار کرو اور باقی تین جو چھپے ہو ے ہیں ان کو اشتہاری قرار دے کر جہاں بھی ملیں کتے کی طرح مار دو کیونکہ اشتہاری کی زندگی بہت کم ہوتی ہے اگر پولیس مخلص ہوتو وہ جلد مارا جاتا ہے
Ishtihari tu Nawaz Bhee hay?
 

ProPakistanii

Politcal Worker (100+ posts)
saza nahi deni to reha kardo. aye roz naya drama. is mulk mein abhi tak kisi ko saza bhi mili hy? sab mil kar khaty hain is mulk ko
 
Sponsored Link