عربی بدوؤں نے جہالت سے نکلنے کا اعلان کردیا

atensari

President (40k+ posts)
کالے انگریزوں کے مطابق جہالت سے نکلنے کا مطلب کلب، ڈسکو اور بپ ہیں. پھر یہ شکوہ کرتے ہیں امت کی کھجل خوار کیوں ہے. امت اس کی بنیاد سے دور ہو گی تو کھجل خوار ہی ہو گی
 
محمد بن سلمان نے کچھ عرصہ پہلے عرب کی لیڈرشپ کے سامنے اپنا پلان رکھا اور اعلان کیا کہ اب مشرقِ وسطیٰ نیا یورپ ہوگا۔ محمد بن سلمان نے کھلے لفظوں میں بتایا کہ اب عرب کو جہالت سے نکال کر وہ یورپ کی طرز پر ترقی یافتہ بنائے گا اور وہ بھی بہت جلد۔ محمد بن سلمان کے اعلان پر عرب کے رہنماؤں اور امیروں نے جس طرح تالیاں پیٹیں، اس سے ظاہر ہے کہ عرب کے حکمران بھی محمد سلمان کے اس پلان کے ساتھ ہیں۔ دبئی تو پہلے ہی یوریین طرز کو فالو کررہا ہے۔ زہادہ مسئلہ سعودی عرب کا تھا کہ اس میں اسلامی شریعت نافذ کرکے بہت زیادہ گھٹن مسلط کی ہوئی تھی، اب محمد بن سلمان نے اپنے پلان پر عمل کرتے ہوئے سعودی سوسائٹی کو بتدریج اوپن کرنا شروع کردیا ہے۔

سعودی عرب میں جدید شہر بن رہے ہیں، جن میں نائب کلب، ڈسکوز، بارز سب کچھ ہوں گے۔ عورتوں پر سے ڈرائیونگ کی پابندی ہٹا لی گئی ہے، محرم کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔ محمد بن سلمان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں واضح طور پر بتادیا تھا کہ اب وہ سعودی عرب کے قوانین کو مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ عالمی قوانین کے مطابق بنائے گا تاکہ دنیا بھر سے ٹوئرسٹ سعودی عرب آئیں اور سعودی عرب میں خوشحالی آئے۔۔ سعودی عرب کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں محمد بن سلمان جیسا روشن خیال حکمران میسر آگیا ہے جو سعودی عرب کو بہت آگے لے جائے گا۔۔۔ تیل کی دولت نکلنے سے پہلے عرب کے لوگ جہالت میں اپنی مثال آپ تھے، ان کا ذریعہ معاش زیادہ تر لوٹ مار پر منحصر تھا، دوسروں کی عورتوں کو لونڈیاں بنانا ان کیلئے عام روایت تھی۔ اب وہی عربی بدو اس جہالت سے نکل کر روشن خیالی اور خوشحالی کی طرف آرہے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے دیسی بدو ہیں جو جدید دور سے ہم آہنگ ہونے کی بجائے ریاستِ مدینہ کی طرف منہ کئے ہوئے ہیں۔ عربی بدو جہالت سے نکل رہے ہیں اور دیسی بدو جہالت میں داخل ہورہے ہیں۔ عرب جہاں پر اسلام کا نزول ہوا وہ تو اسلام کو ریاستی امور سے الگ کرنے کا اعلان کررہے ہیں اور پاکستان کے دیسی بدو اسلام کو مزید ریاستی امور میں داخل کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ مستقبل اسی ملک کا ہے جو مذہب کو ریاستی امور سے الگ کرکے فرد کی پرائیویٹ ڈومین تک محدود کردے۔ مذہب کو جہاں بھی ریاستی اور معاشرتی امور میں انوالو کیا جائے گا، وہاں لڑائی، خون خرابہ، نفرت، تفریق اور تقسیم لازم ہے۔ کیونکہ ہر فرد کے نزدیک مذہب کی اپنی تشریح ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بہتر حل یہی ہے کہ مذہب کو ریاستی امور اور معاشرے سے نکال کر فرد کی ذات تک محدود کردیا جائے۔

Aapki baat se 100% ittefaq hai.
 
Badshah ji I like your posts and Zinda Rood's posts. In all other's posts, I have no interest. You guys give me food for thought. Then I do my own research, and follow what I think is right. I am not bigot, I can change my believes when they proved to be wrong.

In our contrary, sexual crimes are at the peak because people do not have access to it. and because of scarcity, men have become animals. And these beasts are killing little children, young girls. Even our dead bodies are not safe from these beasts. And I blame this "Pakbaz" society to made them beasts. They are controlling them not to have mutual consensual relationship. The result is that they are raping and killing innocents children.
 
Sponsored Link