عمران خان بڑھتی فحاشی سے پریشان : انصار عباسی

naveed

Chief Minister (5k+ posts)
وزیراعظم عمران خان میں ایک بہت بڑی خوبی ہے کہ وہ اسلام کی کھل کر بات کرتے ہیں اور دوسرے کئی سیاسی رہنماؤں کے برعکس کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔ چاہے دنیا کے کسی گوشہ میں ہوں، وہ درست طور پر اسلام کو ایک فخر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس پر بہت سے لوگ اُن پر تنقید کرتے ہیں اور خان صاحب کے ماضی کا حوالہ دیتے ہیں، جو میری نظر میں درست
نہیں۔



انصار عباسی

دِلوں کے حال صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اس لئے یہ مناسب نہیں کہ کوئی اسلام کی بات کرے تو ہم اُسے یہ کہہ کر رد کر دیں کہ اس کا ماضی ٹھیک نہیں تھا۔ ہاں بحیثیت وزیراعظم خان صاحب پر اِس بارے میں ضرور تنقید ہو سکتی ہے کہ اسلام کا نام لیتے ہوئے وہ سودی نظام کے خاتمہ کے لئے کوئی کام کیوں نہیں کر رہے بلکہ اُلٹا نیا پاکستان ہاوسنگ اسکیم کے لئے سودی قرضوں کا اعلان کیا، جو بہت بڑے گناہ کی بات ہے۔

مجھے بہرحال اس بات کی مصدقہ اطلاعات ملی ہیں کہ خان صاحب پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانیت سے بہت پریشان ہیں اور اس بارے میں وہ اب کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طریقہ سے اس گندگی کو نہ صرف مزید پھیلنے سے روکا جائے بلکہ اس پر قابو بھی پایا جائے۔

عمران خان کے حوالے سے مجھے بتایا گیا کہ وہ اس بات پر پریشان ہیں کہ میڈیا اور انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی فحاشی سے ہماری دینی و معاشرتی اقدار تیزی سے تباہ ہو رہی ہیں، خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے، شرم و حیا کو تار تار کیا جا رہا ہے۔

اس گندگی کو روکنے کے لئے ایک طرف وزیراعظم نے جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان میں ایسے فلمیںاور ڈرامہ بنائے جائیں جن میں اسلامی تاریخ، مسلمانوں کے ہیروز کو اجاگر کیا جائے، تعمیری انٹرٹینمنٹ مہیا کی جائے، دوسری طرف پی ٹی اے کو بھی وزیراعظم نے اپنی اس پریشانی سے آگاہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلائے جانے والے فحش مواد سے قوم کے نوجوانوں کے کردار کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ پاکستان کے آئین اور قانون پر سختی سے عمل کرتے ہوئے اس گندگی کو روکا جائے۔ ابھی تک مجھے اس بات کا علم نہیں ہو سکا کہ آیا وزیراعظم نے پیمرا کو بھی ایسی ہدایات جارہی کیں ہیں یا نہیں کیوںکہ فحاشی و عریانیت اور گندے اور بےہودہ ڈراموں اور اشتہارات کو روکنے کے لئے پیمرا کا بہت کلیدی کردار ہے، جو وہ ابھی تک ادا کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے۔ پیمرا جہاں چاہتا ہے وہاں تو فوری ٹی وی چینل تک کو بند کر دیتا ہے، اُس کا لائسنس تک کینسل کر دیتا ہے لیکن فحاشی و عریانی پھیلانے والوں میں سے کسی ایک چینل کو بھی بند کرنے سے قاصر ہے، گھٹیا ڈرامے بھی چل رہے ہیں اور ایسے اشتہارات بھی جن میں خواتین کو کم لباس پہنا کر مختلف اشیاء کی مارکٹنگ کی جاتی ہے۔

ہمارے ملک میں ریپ کے کیسز میں بہت اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری وجوہات کے علاوہ فحاشی و عریانی بھی اس جرم کے اضافہ کی ایک اہم وجہ ہے۔ ریپ اور دوسرے خطرناک جرائم میں ملوث مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کے مخالفین کا سارا زور اس بات ہے کہ مغربی ممالک کی طرح کریمنل جسٹس سسٹم ٹھیک کر لیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ امریکہ، برطانیہ، یورپ، سویڈن، ناروے اور دوسرے کئی ممالک کا کریمنل جسٹس سسٹم تو بہت زبردست ہے، اُن معاشروں زنا کو بھی بُرا نہیں سمجھا جاتا اور کوئی بھی عورت یا مرد جس سے چاہے جنسی تعلقات قائم کر لے، یہاں تک کہ مرد مردوں سے اور عورت عورتوں سے جنسی تعلق قائم کر سکتی ہے لیکن اس کے باوجود ان تمام ممالک میں کسی بھی مسلمان ملک سے زیادہ ریپ کیس ہوتے ہیں۔

وہاں بھی اصل ریپ کیسوں کی بہت کم تعداد رپورٹ ہوتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی 2013کی ایک رپورٹ (UN Crime Trend Statistics 2013)کے مطابق برطانیہ، امریکہ، برازیل، فرانس، میکسیکو میں سب سے زیادہ ریپ کیس ہوئے۔ گزشتہ ہفتہ میں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 2019کی ایک رپورٹ شائع کی جس میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا کہ فن لینڈ، سویڈن، ناروے اور ڈنمارک میں عورتوں کے ساتھ زیادتی کے کیسوں میں بےپناہ اضافہ ہو گیا ہے اور صرف فن لینڈ میں ایک سال میں کوئی پچاس ہزار خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ان ممالک میں بھی ریپ کیس بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں اور سزائیں بھی بہت کم ملتی ہے۔ ان رپورٹس کو پڑھ کر ایک بات کو صاف سمجھ آتی ہے کہ جو علاج ہماری این جی اوز اور مغرب سے مرعوب طبقہ ہمیں بتا رہا ہے وہ کوئی حل نہیں۔ کریمنل جسٹس سسٹم کو ضرور درست کریں لیکن ہمیں ایک طرف معاشرہ کی کردار سازی کرنی ہوگی تو دوسری طرف فحاشی و عریانیت کے سیلاب کو روکنا ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ جو درندے عورتوں بچوں کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب کرتے ہیں، اُنہیں نشانِ عبرت بنانے کے لئے سرعام پھانسی دینا ہوگی جس سے ان جرائم میں فوری کمی واقع ہوگی، اس کی دنیا اور تاریخ میں مثالیں موجود ہیں۔

 
Advertisement
Last edited by a moderator:

remykhan

Chief Minister (5k+ posts)
You are living in global village, you simply cannot stop sexual filth, so called bayhayyai.
 

peaceandjustice

Minister (2k+ posts)
وزیراعظم عمران خان میں ایک بہت بڑی خوبی ہے کہ وہ اسلام کی کھل کر بات کرتے ہیں اور دوسرے کئی سیاسی رہنماؤں کے برعکس کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔ چاہے دنیا کے کسی گوشہ میں ہوں، وہ درست طور پر اسلام کو ایک فخر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس پر بہت سے لوگ اُن پر تنقید کرتے ہیں اور خان صاحب کے ماضی کا حوالہ دیتے ہیں، جو میری نظر میں درست
نہیں۔



انصار عباسی

دِلوں کے حال صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اس لئے یہ مناسب نہیں کہ کوئی اسلام کی بات کرے تو ہم اُسے یہ کہہ کر رد کر دیں کہ اس کا ماضی ٹھیک نہیں تھا۔ ہاں بحیثیت وزیراعظم خان صاحب پر اِس بارے میں ضرور تنقید ہو سکتی ہے کہ اسلام کا نام لیتے ہوئے وہ سودی نظام کے خاتمہ کے لئے کوئی کام کیوں نہیں کر رہے بلکہ اُلٹا نیا پاکستان ہاوسنگ اسکیم کے لئے سودی قرضوں کا اعلان کیا، جو بہت بڑے گناہ کی بات ہے۔

مجھے بہرحال اس بات کی مصدقہ اطلاعات ملی ہیں کہ خان صاحب پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانیت سے بہت پریشان ہیں اور اس بارے میں وہ اب کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طریقہ سے اس گندگی کو نہ صرف مزید پھیلنے سے روکا جائے بلکہ اس پر قابو بھی پایا جائے۔

عمران خان کے حوالے سے مجھے بتایا گیا کہ وہ اس بات پر پریشان ہیں کہ میڈیا اور انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی فحاشی سے ہماری دینی و معاشرتی اقدار تیزی سے تباہ ہو رہی ہیں، خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے، شرم و حیا کو تار تار کیا جا رہا ہے۔

اس گندگی کو روکنے کے لئے ایک طرف وزیراعظم نے جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان میں ایسے فلمیںاور ڈرامہ بنائے جائیں جن میں اسلامی تاریخ، مسلمانوں کے ہیروز کو اجاگر کیا جائے، تعمیری انٹرٹینمنٹ مہیا کی جائے، دوسری طرف پی ٹی اے کو بھی وزیراعظم نے اپنی اس پریشانی سے آگاہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلائے جانے والے فحش مواد سے قوم کے نوجوانوں کے کردار کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ پاکستان کے آئین اور قانون پر سختی سے عمل کرتے ہوئے اس گندگی کو روکا جائے۔ ابھی تک مجھے اس بات کا علم نہیں ہو سکا کہ آیا وزیراعظم نے پیمرا کو بھی ایسی ہدایات جارہی کیں ہیں یا نہیں کیوںکہ فحاشی و عریانیت اور گندے اور بےہودہ ڈراموں اور اشتہارات کو روکنے کے لئے پیمرا کا بہت کلیدی کردار ہے، جو وہ ابھی تک ادا کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے۔ پیمرا جہاں چاہتا ہے وہاں تو فوری ٹی وی چینل تک کو بند کر دیتا ہے، اُس کا لائسنس تک کینسل کر دیتا ہے لیکن فحاشی و عریانی پھیلانے والوں میں سے کسی ایک چینل کو بھی بند کرنے سے قاصر ہے، گھٹیا ڈرامے بھی چل رہے ہیں اور ایسے اشتہارات بھی جن میں خواتین کو کم لباس پہنا کر مختلف اشیاء کی مارکٹنگ کی جاتی ہے۔

ہمارے ملک میں ریپ کے کیسز میں بہت اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری وجوہات کے علاوہ فحاشی و عریانی بھی اس جرم کے اضافہ کی ایک اہم وجہ ہے۔ ریپ اور دوسرے خطرناک جرائم میں ملوث مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کے مخالفین کا سارا زور اس بات ہے کہ مغربی ممالک کی طرح کریمنل جسٹس سسٹم ٹھیک کر لیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ امریکہ، برطانیہ، یورپ، سویڈن، ناروے اور دوسرے کئی ممالک کا کریمنل جسٹس سسٹم تو بہت زبردست ہے، اُن معاشروں زنا کو بھی بُرا نہیں سمجھا جاتا اور کوئی بھی عورت یا مرد جس سے چاہے جنسی تعلقات قائم کر لے، یہاں تک کہ مرد مردوں سے اور عورت عورتوں سے جنسی تعلق قائم کر سکتی ہے لیکن اس کے باوجود ان تمام ممالک میں کسی بھی مسلمان ملک سے زیادہ ریپ کیس ہوتے ہیں۔

وہاں بھی اصل ریپ کیسوں کی بہت کم تعداد رپورٹ ہوتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی 2013کی ایک رپورٹ (UN Crime Trend Statistics 2013)کے مطابق برطانیہ، امریکہ، برازیل، فرانس، میکسیکو میں سب سے زیادہ ریپ کیس ہوئے۔ گزشتہ ہفتہ میں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 2019کی ایک رپورٹ شائع کی جس میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا کہ فن لینڈ، سویڈن، ناروے اور ڈنمارک میں عورتوں کے ساتھ زیادتی کے کیسوں میں بےپناہ اضافہ ہو گیا ہے اور صرف فن لینڈ میں ایک سال میں کوئی پچاس ہزار خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ان ممالک میں بھی ریپ کیس بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں اور سزائیں بھی بہت کم ملتی ہے۔ ان رپورٹس کو پڑھ کر ایک بات کو صاف سمجھ آتی ہے کہ جو علاج ہماری این جی اوز اور مغرب سے مرعوب طبقہ ہمیں بتا رہا ہے وہ کوئی حل نہیں۔ کریمنل جسٹس سسٹم کو ضرور درست کریں لیکن ہمیں ایک طرف معاشرہ کی کردار سازی کرنی ہوگی تو دوسری طرف فحاشی و عریانیت کے سیلاب کو روکنا ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ جو درندے عورتوں بچوں کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب کرتے ہیں، اُنہیں نشانِ عبرت بنانے کے لئے سرعام پھانسی دینا ہوگی جس سے ان جرائم میں فوری کمی واقع ہوگی، اس کی دنیا اور تاریخ میں مثالیں موجود ہیں۔

Shukar hay enn munafqeen Koh beh Kuch sunaiee deyaa.
 

Realpaki

MPA (400+ posts)
oh Bahaai Imran khan establish SOPs in every sector of Pakistan then think results if you dont impose any laws and expect results then i can say " Non Sense".
 

Ratan

Minister (2k+ posts)
Nawaz was chosen by General Zia specially his Low IQ, because Gen. Zia wanted a 'ignorant' who never had any political experience or political struggle & would simply serve his Master Gen. Zia, that just what Nawaz did till death of Gen. Zia, even after his death.

Nawaz's contributions in Pakistan's politics:

Nawaz introduced so-called 'Horse Trading' in politics. First time Pakistanis had witnessed "Changa Manga ki Siasat" in Pakistan. (buying MPs & MNAs with briefcases full of money)
Nawaz invented "Lifafa Journalism." By bribing media house with Govt. advertisements & by buying TV Anchors & Columnists with Lifafa full of Money, Nawaz literary diminished the ethics & integrity of entire print & electronic media.

Undermining Pakistani Judicial system: Nawaz & his party PMLN attacked the Apex court Judge Sajjad Ali Shah in November 1997
. Pakistan’s embattled chief justice Sajjad Ali Shah sought army protection for the Supreme Court after an unruly mob of several thousand organized by Nawaz Sharif & his party, stormed the courthouse, forcing him to adjourn a contempt of court case against PM Nawaz Sharif. If found guilty, Sharif could be removed from power.

In 1998 chief justice of the Lahore High Court Justice Qayyum was called by Shahbaz on behalf of Nawaz to fix five years jail term for Zardari & Justice Qayyum obliged, thus demolished the very Judicial ethics.

Architect of 'Saazishi politics': Nawaz & his party PMLN instigated Conspiracy politics in Pakistan, they planed & collaborated with nondemocratic forces to bring down PPP government not once but twice. Later on the same procedure was applied by Benazir Bhutto to dismiss Nawaz’s Govt.

Demoralising Institutions: Nawaz & Shahbaz systematically destroyed all state institutions of Pakistan..NAB, SECP, NEPRA, OGRA, NADRA, FBR, ECP. Punjab Police, PIA, Pakistan Steel Mills, State Bank of Pakistan by putting their front men, without merit, in those institutions.

Compromising national security: Dawn Leaks controversy reflects the mindset of Sharif family i.e. Nawaz & Maryam Safdar. How they paint the Pak army negatively in the newspaper with fabricated planted stories.

"Modi, Nawaz Sharif had hour-long ‘secret’ meeting during Saarc 2014.
Narendra Modi and his Pakistani counterpart Nawaz Sharif held an hour-long secret meeting on the sidelines of the Saarc summit in Kathmandu."

Indian steel tycoon Naveen Jindal's brother Sajjan "secretly" met with Pakistan prime minister Nawaz Sharif on Wednesday at Murree. Only two other persons were presented in the meeting other than Nawaz, Shahbaz Sharif & Maryam Safdar.....Subjects of the meeting still unknown to Pakistanis.

After Nawaz's ouster from PM office, an Indian diplomat said on an Indian TV talk show, 'Nawaz's removal would be a big setback for Indian as we (Indians) had invested a lot on him.

Till today Nawaz never made any comment on Kulbhushan Jadhav the Indian spy. For him, Modi's loyalty is more important than Pakistan.

During his four and half years of PM-ship, there was no Foreign Minister for Pakistan. He never appointed one. There was nobody to counter anti-Pakistan propaganda in international forums. This was done by design to allow Indian narratives to win over Pakistan's narratives.
 

The Oasis

Politcal Worker (100+ posts)
Abaasi's attempt to gain sympathy while changing bandwagon as every intelligent person knows that Nawaz Sharif would not return back to Pakistan
 

peaceandjustice

Minister (2k+ posts)
Nawaz was chosen by General Zia specially his Low IQ, because Gen. Zia wanted a 'ignorant' who never had any political experience or political struggle & would simply serve his Master Gen. Zia, that just what Nawaz did till death of Gen. Zia, even after his death.

Nawaz's contributions in Pakistan's politics:

Nawaz introduced so-called 'Horse Trading' in politics. First time Pakistanis had witnessed "Changa Manga ki Siasat" in Pakistan. (buying MPs & MNAs with briefcases full of money)
Nawaz invented "Lifafa Journalism." By bribing media house with Govt. advertisements & by buying TV Anchors & Columnists with Lifafa full of Money, Nawaz literary diminished the ethics & integrity of entire print & electronic media.

Undermining Pakistani Judicial system: Nawaz & his party PMLN attacked the Apex court Judge Sajjad Ali Shah in November 1997
. Pakistan’s embattled chief justice Sajjad Ali Shah sought army protection for the Supreme Court after an unruly mob of several thousand organized by Nawaz Sharif & his party, stormed the courthouse, forcing him to adjourn a contempt of court case against PM Nawaz Sharif. If found guilty, Sharif could be removed from power.

In 1998 chief justice of the Lahore High Court Justice Qayyum was called by Shahbaz on behalf of Nawaz to fix five years jail term for Zardari & Justice Qayyum obliged, thus demolished the very Judicial ethics.

Architect of 'Saazishi politics': Nawaz & his party PMLN instigated Conspiracy politics in Pakistan, they planed & collaborated with nondemocratic forces to bring down PPP government not once but twice. Later on the same procedure was applied by Benazir Bhutto to dismiss Nawaz’s Govt.

Demoralising Institutions: Nawaz & Shahbaz systematically destroyed all state institutions of Pakistan..NAB, SECP, NEPRA, OGRA, NADRA, FBR, ECP. Punjab Police, PIA, Pakistan Steel Mills, State Bank of Pakistan by putting their front men, without merit, in those institutions.

Compromising national security: Dawn Leaks controversy reflects the mindset of Sharif family i.e. Nawaz & Maryam Safdar. How they paint the Pak army negatively in the newspaper with fabricated planted stories.

"Modi, Nawaz Sharif had hour-long ‘secret’ meeting during Saarc 2014.
Narendra Modi and his Pakistani counterpart Nawaz Sharif held an hour-long secret meeting on the sidelines of the Saarc summit in Kathmandu."

Indian steel tycoon Naveen Jindal's brother Sajjan "secretly" met with Pakistan prime minister Nawaz Sharif on Wednesday at Murree. Only two other persons were presented in the meeting other than Nawaz, Shahbaz Sharif & Maryam Safdar.....Subjects of the meeting still unknown to Pakistanis.

After Nawaz's ouster from PM office, an Indian diplomat said on an Indian TV talk show, 'Nawaz's removal would be a big setback for Indian as we (Indians) had invested a lot on him.

Till today Nawaz never made any comment on Kulbhushan Jadhav the Indian spy. For him, Modi's loyalty is more important than Pakistan.

During his four and half years of PM-ship, there was no Foreign Minister for Pakistan. He never appointed one. There was nobody to counter anti-Pakistan propaganda in international forums. This was done by design to allow Indian narratives to win over Pakistan's narratives.
100% agree .
Nawage mess all the political system and founder of curroption in Pakistan.
 

Behrouz27

Minister (2k+ posts)
جج بکاؤ مال ہیں اور عدالتیں سو رہی ہیں ، پولیس ریپ کیسز میں خود ساتھ ملی ہوئی ہے ، ماؤں بہنوں کی عزتیں ہر روز لوٹی جا رہی ہیں، یہی کچھ ہو گا جو آپ دیکھ رہے ہیں
 

MIT Raath

New Member
وزیراعظم عمران خان میں ایک بہت بڑی خوبی ہے کہ وہ اسلام کی کھل کر بات کرتے ہیں اور دوسرے کئی سیاسی رہنماؤں کے برعکس کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔ چاہے دنیا کے کسی گوشہ میں ہوں، وہ درست طور پر اسلام کو ایک فخر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس پر بہت سے لوگ اُن پر تنقید کرتے ہیں اور خان صاحب کے ماضی کا حوالہ دیتے ہیں، جو میری نظر میں درست
نہیں۔



انصار عباسی

دِلوں کے حال صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اس لئے یہ مناسب نہیں کہ کوئی اسلام کی بات کرے تو ہم اُسے یہ کہہ کر رد کر دیں کہ اس کا ماضی ٹھیک نہیں تھا۔ ہاں بحیثیت وزیراعظم خان صاحب پر اِس بارے میں ضرور تنقید ہو سکتی ہے کہ اسلام کا نام لیتے ہوئے وہ سودی نظام کے خاتمہ کے لئے کوئی کام کیوں نہیں کر رہے بلکہ اُلٹا نیا پاکستان ہاوسنگ اسکیم کے لئے سودی قرضوں کا اعلان کیا، جو بہت بڑے گناہ کی بات ہے۔

مجھے بہرحال اس بات کی مصدقہ اطلاعات ملی ہیں کہ خان صاحب پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانیت سے بہت پریشان ہیں اور اس بارے میں وہ اب کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طریقہ سے اس گندگی کو نہ صرف مزید پھیلنے سے روکا جائے بلکہ اس پر قابو بھی پایا جائے۔

عمران خان کے حوالے سے مجھے بتایا گیا کہ وہ اس بات پر پریشان ہیں کہ میڈیا اور انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی فحاشی سے ہماری دینی و معاشرتی اقدار تیزی سے تباہ ہو رہی ہیں، خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے، شرم و حیا کو تار تار کیا جا رہا ہے۔

اس گندگی کو روکنے کے لئے ایک طرف وزیراعظم نے جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان میں ایسے فلمیںاور ڈرامہ بنائے جائیں جن میں اسلامی تاریخ، مسلمانوں کے ہیروز کو اجاگر کیا جائے، تعمیری انٹرٹینمنٹ مہیا کی جائے، دوسری طرف پی ٹی اے کو بھی وزیراعظم نے اپنی اس پریشانی سے آگاہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلائے جانے والے فحش مواد سے قوم کے نوجوانوں کے کردار کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ پاکستان کے آئین اور قانون پر سختی سے عمل کرتے ہوئے اس گندگی کو روکا جائے۔ ابھی تک مجھے اس بات کا علم نہیں ہو سکا کہ آیا وزیراعظم نے پیمرا کو بھی ایسی ہدایات جارہی کیں ہیں یا نہیں کیوںکہ فحاشی و عریانیت اور گندے اور بےہودہ ڈراموں اور اشتہارات کو روکنے کے لئے پیمرا کا بہت کلیدی کردار ہے، جو وہ ابھی تک ادا کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے۔ پیمرا جہاں چاہتا ہے وہاں تو فوری ٹی وی چینل تک کو بند کر دیتا ہے، اُس کا لائسنس تک کینسل کر دیتا ہے لیکن فحاشی و عریانی پھیلانے والوں میں سے کسی ایک چینل کو بھی بند کرنے سے قاصر ہے، گھٹیا ڈرامے بھی چل رہے ہیں اور ایسے اشتہارات بھی جن میں خواتین کو کم لباس پہنا کر مختلف اشیاء کی مارکٹنگ کی جاتی ہے۔

ہمارے ملک میں ریپ کے کیسز میں بہت اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری وجوہات کے علاوہ فحاشی و عریانی بھی اس جرم کے اضافہ کی ایک اہم وجہ ہے۔ ریپ اور دوسرے خطرناک جرائم میں ملوث مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کے مخالفین کا سارا زور اس بات ہے کہ مغربی ممالک کی طرح کریمنل جسٹس سسٹم ٹھیک کر لیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ امریکہ، برطانیہ، یورپ، سویڈن، ناروے اور دوسرے کئی ممالک کا کریمنل جسٹس سسٹم تو بہت زبردست ہے، اُن معاشروں زنا کو بھی بُرا نہیں سمجھا جاتا اور کوئی بھی عورت یا مرد جس سے چاہے جنسی تعلقات قائم کر لے، یہاں تک کہ مرد مردوں سے اور عورت عورتوں سے جنسی تعلق قائم کر سکتی ہے لیکن اس کے باوجود ان تمام ممالک میں کسی بھی مسلمان ملک سے زیادہ ریپ کیس ہوتے ہیں۔

وہاں بھی اصل ریپ کیسوں کی بہت کم تعداد رپورٹ ہوتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی 2013کی ایک رپورٹ (UN Crime Trend Statistics 2013)کے مطابق برطانیہ، امریکہ، برازیل، فرانس، میکسیکو میں سب سے زیادہ ریپ کیس ہوئے۔ گزشتہ ہفتہ میں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 2019کی ایک رپورٹ شائع کی جس میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا کہ فن لینڈ، سویڈن، ناروے اور ڈنمارک میں عورتوں کے ساتھ زیادتی کے کیسوں میں بےپناہ اضافہ ہو گیا ہے اور صرف فن لینڈ میں ایک سال میں کوئی پچاس ہزار خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ان ممالک میں بھی ریپ کیس بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں اور سزائیں بھی بہت کم ملتی ہے۔ ان رپورٹس کو پڑھ کر ایک بات کو صاف سمجھ آتی ہے کہ جو علاج ہماری این جی اوز اور مغرب سے مرعوب طبقہ ہمیں بتا رہا ہے وہ کوئی حل نہیں۔ کریمنل جسٹس سسٹم کو ضرور درست کریں لیکن ہمیں ایک طرف معاشرہ کی کردار سازی کرنی ہوگی تو دوسری طرف فحاشی و عریانیت کے سیلاب کو روکنا ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ جو درندے عورتوں بچوں کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب کرتے ہیں، اُنہیں نشانِ عبرت بنانے کے لئے سرعام پھانسی دینا ہوگی جس سے ان جرائم میں فوری کمی واقع ہوگی، اس کی دنیا اور تاریخ میں مثالیں موجود ہیں۔

انصار صاحب....!
آپ نے محض ٹٹے اٹھانے تھے، مگر آپ نے تو اٹھا کر اپنے سر پر ھی رکھ لئے
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں