عمران خان کی ذہنی حالت پر ترس آنے لگا ہے، مریم نواز شریف


7maryamsalmakhan22jun.jpg

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان کی باقی زندگی بھی صدمے اور حسد میں گزرنے والی ہے، مجھے ان کی ذہنی حالت پر ترس آنے لگا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عمران خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ میں تصور نہیں کرسکتا تھا کہ شہباز شریف کو وزیراعظم بنادیا جائے گا۔
اس بیان پر ردرعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے ٹویٹر بیان میں کہا کہ بیچارے کو بہت گہرا اور ناقابلِ تلافی صدمہ پہنچا ہے ۔ جتنی محنت انہوں نے شہباز شریف پر جھوٹے

کیسز بنا کر ان کو فاؤل پلے کے ذریعے میدان سے آوٹ کرنے پر کی تھی، اللّہ نے وہ چال انہی پر الٹ دی۔
مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کی باقی کی زندگی بھی اسی صدمے اور حسد میں گزرنے والی ہے، انہیں اس کی عادت ڈال لینی چاہیے۔


رہنما ن لیگ نے کہا کہ عمران خان نیند میں بھی نیوٹرل نیوٹرل کا راگ الاپا کریں گے، بڑبڑایا کریں گے کہ شہباز شریف نے سفیر کو کیک کھلادیا، شہباز شریف نے شیروانی پہن لی، شہباز شریف وزیراعظم بن گیا ، خرم دستگیریہ کہہ دیا ، امریکہ نے سازش کردی، دھاندلی ہوگئی۔

مریم نواز نے ہنسی کے ایموجی کو شامل کرتے ہوئے آخر میں لکھا کہ قسم سے اب تو عمران خان کی ذہنی حالت پر ترس آنے لگا ہے۔

 
Advertisement

hello

Minister (2k+ posts)
اصل اسے اپنے آپ پر ترس کرنا چاہے کہ اپنی گت عمران خان کے ہاتھ پکڑا دی اور اسے بیانیہ دے دیا اب عوام ان کا وہ حال کرے گی جو انہوں نے اس عوام کا کیا ہے مہگائی مارچ کرکے آئے
ان چوروں لٹیروں کے آتے ہی ملکی خزانہ لٹنے لگا 22 ارب ڈالر تنکا تنکا جمع کرکے عمران خان ملکی خزانہ چھوڑ کر گیا تھا چند دنوں میں 9 ارب ڈالر رہ گیا معاشی اشارے بڑی تیزی سے گرنے لگے انڈسٹری بند ہونا شروع ہو گئی جو بڑی مشکل سے دوبارہ چلی تھی غریبوں کو روزگار ملا تھا وہ اب خواب بننے لگا سرمایہ دار چیخ اٹھے کسان تک پریشان ہو گئے کرونا میں بھی اتنی تباہی نہیں آئی تھی جو اب نظر آ رہی ہے روزانہ روپیہ پٹتا ہے ملکی کرنسی روپیہ کی قدر میں اس طرح کی کمی ہوئی کے ملکی تاریخ کا ریکارڈ بن گیا روزانہ اسٹاک ایکسینج گرتی ہے جو کبھی ایشاء میں ریکارڈ قائم کر رہی تھی اندھیرے لوٹ آئے عید رمضان سحریاں افطاریاں لورڈ شیٹنگ میں گزر گئی جو گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں نہیں ہوا وہ ان کے آتے ہی شروع ہو گیا
جون کے مہینے میں گرمی کے موسم میں لوگ گرمی اور مہنگائی میں جلس کر رہ گئے آئے دن بجلی مہنگی آٹا مہنگا گھی مہنگا اور وہ بھی دستیاب نہیں 18 18 گھنٹے کی لورڈشیٹنگ یہ لوگ سعودی عرب ترکی یو اے ای جھتے کے جھتے لے کر گئےانہیں وہاں سے کوئی امداد نہیں ملی قومی خزانے کا کڑورں خرچ کرکے آ گئے
پٹرول ڈیزل کو اتنا مہنگا کیا کہ مہنگائی کا طوفان دستک دینے لگا صرف پندرہ دنوں میں 84 روپے پٹرول مہنگا کر دیا اسی طرح ڈیزل اور یہ سلسہ جاری و ساری ہے ایک دن میں گھی خوردنی آئل میں 215 روپے اضافہ کر دیا سمینٹ کی بوری جو چار پانچ سو پر گھومتی تھی وہ ان کے دو ماہ میں گیارہ بارہ سو پر پہنچ گئی ہر چیز کو مہنگائی کی آگ لگ گئی غریب پسنے لگا روزگار رکنے لگا ملکی معشیت کی تباہی کی پیش گوئیاں ہونےلگی ہر کوئی ملک ڈیفالٹر ہونے کی باتیں کرنے لگا یہ پی ڈی ایم والے ائی ایم ایف کی منتیں کرنے لگے

پی ڈی ایم کے رہنماؤں کے حکومت میں آتے ہی عمران خان کے جمع کیے خزانے سے موجیں شروع ہو گئی بلاول تو مل ہی نہیں رہا جب کا وزیر بنا اس کے انٹرنیشنل دورے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے اسی طرح بھیس بدل کر مولانا ڈیزل بھی کبھی کہیں اور کبھی کہیں نکلا رہتا ہے تین تین پی ایم ہاؤس کیمپ بنا دیے گئے حلف اٹھاتے ہی صحافیوں کو 95 لاکھ کا کھانا کھلا دیا اخبارات کو بڑے مہنگے ایک ایک صفحے کے اشتہارات دینے شروع کردییے وہی پرانی پالیسی کے تحت صحافت کو خریدنے منہ بند رکھنے کے لیے اربوں روپے قومی خزانے سے اشتہاروں کی نظر ہونے لگے صحت کارڈ بند کر دیے لنگر خانے بند کر دیے پی ایم ہاؤس کے سوئمنگ پول پر سات کڑور لگا دیےگویا لوٹ مار کی ایک دور لگ گئی لاقانونیت کا ایک بازار گرم ہو گیا کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں ان کی غیر مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ ان میں سے کوئی اعلانیہ عوام میں عید کی نماز نہیں پڑھ سکا سخت پروٹوکول میں یہ لوگ عوام کے غیظ غضب سے بچ کر نکلتے ہیں
ادھر ایک اتحادی جماعت نے حاجیوں کی خدمت کا بہانہ بنا کر اپنے ڈرائیوروں ملازموں پر مشتمل 200 افراد کو مفت حج کروانے کا قافلہ تیار کر لیا گویا جوتوں دال بٹنے لگی
مریم جیسی مجرمہ جو ضمانت پر رہا ہے وہ پی ایم کے پروٹوکول میں میں گھومنے لگی بجٹ آیا تو وہ بھی عوام کے لیے کوئی رلیف نہیں ہاں ایک من پسند صحافی کی خواہش پر بلیوں کتوں کی غذا سستی کرنے کی کوشش ضرور کی فلم ڈرامہ انڈسٹری کے لیے ٹیکس ضرور معاف کر دیا غریب کے لیے کچھ نہیں کیا اپنے بیانات میں بندروں کی طرح قلابازیاں کھاتے ہیں کبھی کہتے عمران خان کی وجہ سے پٹرول مہنگا ہوا پھر اسی زبان سے کہتے ہیں ائی ایم ایف سے معاہدے کے لیے یہ سب کچھ کر رہے ہیں پھر کہتے ہیں وہ جو عمران خان مہنگے معاہدے کرگیا اس کی وجہ سے مہنگائی ہو رہی ہے بندہ پوچھے اگر یہ سب وہ کر رہا ہے تو تم کیا کر رہے تم کس مرض کی دوا ہو تم نے یہ اس کی کالک اپنے منہ پر کیوں ملی ۔۔۔ پھر کہتے اپنے کپڑے بیچیں گے اور آٹا سستا کرے گے الٹا عوام کے کپڑے اتارنا شروع کر دییےیہ اپنے آپ کو تاجر دوست کہتے تھے اب یہ عالم کہ یہ ساری قوم کو کہہ رہے ہین چائے پینا کم کر دو روٹی کھانا کم کر دو دکانیں وقت سے پہلے بند کر دو سفر کم سے کم کرو
 

sensible

Chief Minister (5k+ posts)
سارا وقت عمران خان کی طرف دیکھتی رہتی ہے۔اگر حالات کا بھی پتہ ہو ہو تو خود پر ترس کھا ۔خود کے پاس اس وقت کیا ہے؟ نہ بیانیہ نہ حکومت۔پہلے کرپشن اور جعلسازی کی بدنامی تھی اب ساتھ میں زرداری والی بھی
 

hello

Minister (2k+ posts)
مجھے تو ترس اس عورت پر آتا جو اس عمر میں ہر وقت عمران خان پر آنکھ رکھے بیٹھی ہے۔
اور حیرانگی ہے عمران خان نے آج جیکٹ پہن رکھی تھی اور اس ٹویٹی نانی کا کوئی ٹویٹ نہیں ایا
 

Aristo

Senator (1k+ posts)
7maryamsalmakhan22jun.jpg

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان کی باقی زندگی بھی صدمے اور حسد میں گزرنے والی ہے، مجھے ان کی ذہنی حالت پر ترس آنے لگا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عمران خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ میں تصور نہیں کرسکتا تھا کہ شہباز شریف کو وزیراعظم بنادیا جائے گا۔
اس بیان پر ردرعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے ٹویٹر بیان میں کہا کہ بیچارے کو بہت گہرا اور ناقابلِ تلافی صدمہ پہنچا ہے ۔ جتنی محنت انہوں نے شہباز شریف پر جھوٹے


کیسز بنا کر ان کو فاؤل پلے کے ذریعے میدان سے آوٹ کرنے پر کی تھی، اللّہ نے وہ چال انہی پر الٹ دی۔
مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کی باقی کی زندگی بھی اسی صدمے اور حسد میں گزرنے والی ہے، انہیں اس کی عادت ڈال لینی چاہیے۔


رہنما ن لیگ نے کہا کہ عمران خان نیند میں بھی نیوٹرل نیوٹرل کا راگ الاپا کریں گے، بڑبڑایا کریں گے کہ شہباز شریف نے سفیر کو کیک کھلادیا، شہباز شریف نے شیروانی پہن لی، شہباز شریف وزیراعظم بن گیا ، خرم دستگیریہ کہہ دیا ، امریکہ نے سازش کردی، دھاندلی ہوگئی۔

مریم نواز نے ہنسی کے ایموجی کو شامل کرتے ہوئے آخر میں لکھا کہ قسم سے اب تو عمران خان کی ذہنی حالت پر ترس آنے لگا ہے۔

Yeh begairat k bachay kitni dhithaie say jhoth boltay hain aour in k supporters in say b baray begairat hain jo phir b in ko leaders mantay hain aour inhain defend kartay hain corruption ke itni khuli dastanain jin ka koi saboot nahi passay kahan say aiye kahan say gay aour phir b kehtay hain jhothay case hain lakh de lanat tawaday jaman tay
 
Sponsored Link