فوج سے بات ہو سکتی ہے ۔:مریم نواز

naveed

Chief Minister (5k+ posts)



پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ان کی جماعت فوج سے بات کرنے کے لیے تیار ہے لیکن یہ بات چھپ چھپا کر
نہیں عوام کے سامنے اور آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہو سکتی ہے۔


مریم نواز گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں آج کل اس خطے میں موجود ہیں۔بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ان کے قریبی ساتھیوں سے بات چیت کے لیے رابطے کیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا: 'اسٹیبلشمنٹ نے میرے ارد گرد موجود بہت سے لوگوں سے رابطے کیے ہیں مگر میرے ساتھ براہِ راست کسی نے رابطہ نہیں کیا'۔


اس سوال پر کہ کیا وہ پاکستانی فوج کی موجودہ قیادت سے مذاکرات کرنے کو تیار ہیں مریم نواز شریف نے کہا کہ 'پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے مذاکرات کے آغاز پر غور کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ جعلی حکومت کو گھر بھیجا جائے'۔ واضح رہے کہ پاکستانی فوج کی موجود قیادت پر مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے الزام لگایا تھا کہ آرمی چیف ان کو وزارتِ عظمی سے ہٹانے کے لیے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ انھوں نے اسے 'سازش' قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل فیض بھی شامل تھے۔

مسلم لیگ کی نائب صدر نے کہا کہ ’فوج میرا ادارہ ہے، ہم ضرور بات کریں گے، لیکن آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے۔ اگر کوئی کریز سے نکل کر کھیلنے کی کوشش کرے گا، جو (دائرہ کار) آئین نے وضع کر دیا ہے اس میں رہ کر بات ہو گی، اور وہ بات اب عوام کے سامنے ہو گی، چھپ چھپا کر نہیں ہو گی۔'

انھوں نے کہا کہ ’میں ادارے کے مخالف نہیں ہوں مگر سمجھتی ہوں کہ اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے تو اس حکومت کو گھر جانا ہو گا۔‘مریم نواز شریف نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام 'سٹیک ہولڈرز' سے بات کر سکتی ہیں تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ حکومت کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں

تو ان کا کہنا تھا کہ 'ڈائیلاگ تو اب پاکستان کے عوام کے ساتھ ہو گا، اور ہو رہا ہے، اور اتنا اچھا ہو رہا ہے کہ جو بھی فورسز ہیں اور جعلی حکومت وہ گھبرائے ہوئے ہیں۔ اور اتنا گھبرائے ہوئے ہیں کہ ان کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کیسے ردعمل دینا ہے اور گھبراہٹ میں وہ اس قسم کی غلطیاں کر رہے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ اس ملک کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈر عوام ہیں۔'



مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی سیاست بند گلی کی جانب نہیں جا رہی۔ 'میرا خیال ہے کہ بند گلی کی طرف وہ لوگ جا رہے ہیں جنھوں نے یہ مصنوعی چیز بنانے کی کوشش کی، ہم تو جہاں جا رہے ہیں، چاہے وہ گوجرانوالہ ہے، کراچی ہے، کوئٹہ ہے یا گلگت بلتستان ہر جگہ ایک ہی بیانیہ گونج رہا ہے اور وہ ہے ووٹ کو عزت دو اور ریاست کے اوپر ریاست مت بناؤ۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'عوام نے اس کا ثبوت جگہ جگہ دیکھ لیا، اب یہ بند گلی نہیں ہے، اب یہی راستہ ہے، اور یہ راستہ آئین و قانون کی بالادستی کی جانب جا رہا ہے۔'
اس بات پر کہ بلاول بھٹو کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ نواز شریف کی جانب سے انتخابات میں فوج کی مداخلت کے ثبوت سامنے لانے کے منتظر ہیں

مریم نواز کا کہنا تھا کہ 'میاں صاحب نے بات بعد میں کی ہے اور ثبوت خود عوام کے سامنے آئے ہیں، شوکت عزیز صدیقی، جج ارشد ملک اور ڈان لیکس کی حقیقت آپ کے سامنے ہے جب آپ ایک چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں کرتے تو وہ ڈان لیکس جیسی ایک جھوٹ پر مبنی چیز کھڑی کر دیتے ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک اپنا مؤقف ہے، پاکستان مسلم لیگ ن کا اپنا موقف ہے جو میاں صاحب نے واضح کر دیا ہے۔‘



کراچی میں اپنے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے لیے آئی جی سندھ پر عسکری حکام کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ اور اس کی تحقیقات کے بعد فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز پر ردِ عمل دیتے ہوئے مریم نے کہا کہ 'اس پریس ریلیز سے عوام کو جواب نہیں ملے، مزید سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔

آپ قوم کو یہ کہہ رہے ہیں کہ کچھ جذباتی افسران نے عوامی دباؤ کا ردِعمل دیتے ہوئے یہ کیا۔ کون سا عوامی ردِ عمل تھا، وہ جعلی لوگ جنھوں نے مقدمہ درج کروایا اور پھر مدعی ہی بھاگ گیا، ان تین چار لوگوں کے دباؤ کو آپ عوامی دباؤ کہتے ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ عوامی ردِ عمل کا جواب دینا آئین کے

مطابق اداروں کا کام نہیں منتخب حکومت کا کام ہے۔ اداروں کا کام اپنی پروفیشنل ذمہ داریاں نبھانا ہے ناکہ جذبات دکھانا۔’اداروں کا کام جذبات کے ساتھ نہیں ہے، اور ان کا کام ہے اپنی آئینی اور پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھانا ہے اس میں جذبات کا کوئی عمل دخل نہیں اور اگر واقعی کسی نے یہ جذبات میں آ کر کیا ہے تو یہ تو ادارے کے لیے اور پاکستان کے لیے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ایسا نہیں ہوا، چند جونیئر افسران کو قربانی کا بکرہ بنا دیا گیا، یہ غلط بات ہے۔'

ان ہاؤس تبدیلی یا مائنس عمران خان فارمولے کی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'مائنس عمران خان دیکھا جائے گا میں اس بارے میں مزید کچھ نہیں کہوں گی لیکن جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔ اس حکومت کے ساتھ بات کرنا گناہ ہے۔ اس ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے عمران خان اور حکومت کو گھر جانا ہو گا اور نئے شفاف انتخابات کروائے جائیں اور عوام کی نمائندہ حکومت آئے۔

'پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مفاہمت کا راستہ کھلا رکھنے پر بات کرتے ہوئے انھوں کہا کہ 'میری نظر میں عمران خان اور پی ٹی آئی کوئی بڑا مسئلہ اس لیے نہیں ہیں کیونکہ میں انھیں سیاسی لوگ نہیں سمجھتی۔ میرا اور میری جماعت کا مقابلہ اس سوچ کے ساتھ ہے جس کی وہ نمائندگی کرتے ہیں، وہ ہر اس چیز کی نمائندگی کرتے ہیں جس کا پاکستان سے خاتمہ ہونا بہت ضروری ہے۔



'اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ ان (تحریک انصاف) کے ساتھ کسی بھی قسم کا اتحاد انھیں معافی دینے کے مترادف ہو گا جو میری نظر میں جائز بات نہیں ہے۔ میری نظر میں اب ان کے احتساب کا وقت ہے، ان کے ساتھ الحاق کا وقت نہیں ہے۔ یہ ان کے ساتھ انتخابی اتحاد کا وقت نہیں۔ اب جب کہ وہ کمزور ہو گئے ہیں۔

تاہم باقی جماعتوں کے ساتھ بات کی جا سکتی ہے۔اس سوال پر کہ کیا گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے لیے قانون سازی میں مسلم لیگ حکومت کا ساتھ دے گی، مریم نواز کا کہنا تھا کہ 'جس طرح انھوں نے نواز شریف کے دیگر منصوبوں پر اپنی تختی چپکا دی ہے

وہ کوشش انھوں نے یہاں بھی کی ہے لیکن لوگ جانتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ منصوبہ کس کا تھا۔ مجھے امید ہے کہ جب گلگت بلتستان کے عوام مسلم لیگ ن اور شیر پر اعتماد کریں گے تو یہ صوبہ بھی مسلم ن بنائے گی بلکہ اس کے ساتھ جو آئینی اصلاحات کی ضرورت ہے، یعنی این ایف سی ایوارڈ کے تحت اس کے شیئر دینا، وہ بھی ن لیگ دیکھے گی۔'

انھوں نے کہا کہ ’یہ معاملہ یہ پارلیمان میں نہیں لائیں گے، یہ کام بھی ن لیگ کرے گی کیونکہ یہ صرف ان کا انتخابی وعدہ ہے۔'اس سوال کے جواب میں کہ وہ اپنی تقریروں میں اپنی، نواز شریف کی بات زیادہ کرتی ہیں مگر عوامی مسائل کی کم۔ اس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ 'میں جہاں بھی جاتی ہوں مجھے نواز
شریف کے حامی دکھائی دیتے ہیں، اور اگر میں انھیں وہ نہیں سُناؤں گی جو وہ سننے آئیں ہیں، جو پاکستان سننا چاہتا ہے، تو میں اور کیا بات کروں۔

'میں عمران خان کا نام بھی نہیں لینا چاہتی، لیکن وہ ہر اس چیز کی نمائندگی کرتے ہیں جو اس ملک میں نہیں ہونی چاہیے۔ تو جب ہم دیکھتے ہیں آٹا، چینی، گیس، بجلی مہنگی ہونے کی بات کرتی ہوں تو اور کس کا نام لوں اگر عمران خان کا نام نہ لوں۔ اور سب سے بڑا عوامی مسئلہ یہ ہے

کہ ان کا ووٹ چوری کیا گیا ہے۔' یہ خود ہی چیزیں مارکیٹ سے غائب کرتے ہیں اور پھر مہنگائی کر کے وہ واپس مارکیٹ میں لے آتے ہیں، یہ نوٹس لیتے ہیں اور چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ معاشی صورتحال ان نالائقوں کے ہاتھوں بہتر نہیں ہو سکتی، یہ حال ہوتا ہے جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں۔'


Source
 
Last edited by a moderator:

hans271270

Senator (1k+ posts)
Pml is feeling the pressure .They found outvit is very easy to say difficult to act .i think marium is trembling
 

hello

MPA (400+ posts)
اگئی اپنی اوقات پر جب پتا لگا کہ پارٹی کا دیوالیہ نکلنے والا ہے تو کیا حل کیا نکالا بڑا شیر اور شیرنی بنے تھے باپ بیٹی اور پھوک نکل گئی گلگت میں ہی حال دیکھ لیا ہوگا لوگ منہ نہیں لگا رہے ہر طرف سے لعن طعن ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو کیا جب تمھارے مزکرات ہوں گیں وہاں کیمریں لگے گیں تمہیں دنیا ترلیں منتیں کرتے دیکھیں گیں ۔۔۔۔۔ لو پٹواریوں انہوں نے تمہیں ٹینکوں کے آگے لیٹوانا تھا اب یہ خود ہی لیٹ گے ہیں جب یہ گلگت میں کہہ رہی تھی سیاچن کے فوجیوں تم کو سلام تب ہی شک تھا یہ اب لیٹنے بلکہ لپٹنے کے چکر میں ہے پیٹواری بیچارے لیٹ کر کھوتا بریانی کھانے کی تربیت حاصل کر رہے تھے اور یہاں میاں شیر کی پھوک نکل گی اور سرعام ہی پیغام دے ڈالا
 
Last edited:

ranaji

Prime Minister (20k+ posts)
اب گر جنرل ضیا کو قبر سے نکال کر کے آؤ تو وہی بات کرسکتا ہے نہ تو اب ضیا ہے جو تم لوگوں کو مسلط کر گیا تھا نہ کیانی جس اپنے فرنٹ مین بھائیوں کی کرپشن بچانے کو نواز شریف لایا اب کوئی بھی جنرل کسی بھی کرپٹ کسی بھی سزا یافتہ کسی بھی چور لٹیرے کو اپنی ماں کا خصمُ نا کر اس ملک کے ساتھ غداری کرے گا تو انشاللہ عوام کے ہاتھوں کتے سے بد تر موت مارا جائے گا انشاللہ بیوی بچوں سمیت وہ حرامُزادہ غدار مارا جائے گا جو بھی کسی کرپٹ سزا یافتہ کو کوئی ڈیلٗ ڈھیل دینے کا سوچے گا اس کو صرف اتنا پوچھنا ہے کیا یہ ملک تمہارے باپ کا ہے یا تمہاری ماں جہیز میں لائی پھر تو ٹھیک جس مرضی مجرم کو این آ ر او دو لیکنُ گر نہیں تو کسی حرام زادے کو ملک سے غداری پر کتے کی موت مرنے کی واسطے تیار رہنا ہوگا یہ ملک کسی حرامُزادے کے باپ کا نہیں جو مجرموں سے مک مکا کرے یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے کسی کی ماں کے جہیز میں نہیں ملا اب کوئی سودے بازی کی اجازت کسی حرام زادے ملک دشمن کو کرنے کی جرائت نہیں ہونی چاہئے
 

Glock

Senator (1k+ posts)
This is the bluff game they are bound to play.... To keep low level patwaris hanging around..

Nothing else.

Its called Poker..... Appear confident, that you have a good set of cards... Maybe the other guy will throw off a good set of his and leave the game...

Inshallah. The Glg elections will show their real standing....
 

Dr Adam

Chief Minister (5k+ posts)

سب سے آسان راستہ : پاکستان کے غریب عوام کا لوٹا ہوا ایک ایک پیسہ عوام کو واپس کر دو اور ٹی وی پر آ کر عوام ہی سے اپنے کیے کی معافی مانگ لو . فوج سے یا کسی سے بھی بات کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے . اس ملک کی عوام کا دل بہت بڑا ہے وہ تمہیں معاف کر دیں گے . اس کے بعد اپنا بوریا بسترا اٹھاؤ بھلے بکنگم پیلس میں چلی جاؤ یا وائٹ ہاؤس میں ہمیں کوئی اعترض نہیں
 

Wake up Pak

Chief Minister (5k+ posts)
‏فوج سے بات کے لیے شرط یہی ہے کہ تحریک انصاف حکومت کو گھر بھیجا جائے، مریم نواز

منافقت دیکھیں
ووٹ کو عزت دو اور سِول سپرمیسی کے کھوکھلے نعرے لگانے والی مریم نواز اور ن لیگ کی یہ ہے اصل اوقات جو ایک منتخب جمہوری حکومت کے خاتمے کے لیے فوج سے غیر آئینی اقدام کی بھیک مانگ رہی ہے۔
 

نادان

Chief Minister (5k+ posts)
اب گر جنرل ضیا کو قبر سے نکال کر کے آؤ تو وہی بات کرسکتا ہے نہ تو اب ضیا ہے جو تم لوگوں کو مسلط کر گیا تھا نہ کیانی جس اپنے فرنٹ مین بھائیوں کی کرپشن بچانے کو نواز شریف لایا اب کوئی بھی جنرل کسی بھی کرپٹ کسی بھی سزا یافتہ کسی بھی چور لٹیرے کو اپنی ماں کا خصمُ نا کر اس ملک کے ساتھ غداری کرے گا تو انشاللہ عوام کے ہاتھوں کتے سے بد تر موت مارا جائے گا انشاللہ بیوی بچوں سمیت وہ حرامُزادہ غدار مارا جائے گا جو بھی کسی کرپٹ سزا یافتہ کو کوئی ڈیلٗ ڈھیل دینے کا سوچے گا اس کو صرف اتنا پوچھنا ہے کیا یہ ملک تمہارے باپ کا ہے یا تمہاری ماں جہیز میں لائی پھر تو ٹھیک جس مرضی مجرم کو این آ ر او دو لیکنُ گر نہیں تو کسی حرام زادے کو ملک سے غداری پر کتے کی موت مرنے کی واسطے تیار رہنا ہوگا یہ ملک کسی حرامُزادے کے باپ کا نہیں جو مجرموں سے مک مکا کرے یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے کسی کی ماں کے جہیز میں نہیں ملا اب کوئی سودے بازی کی اجازت کسی حرام زادے ملک دشمن کو کرنے کی جرائت نہیں ہونی چاہئے
آپ کے میسیج سے متفق ہوں ..الفاظ سے نہیں
 

sensible

Chief Minister (5k+ posts)
میرا خیال ہے کہ فوج آپ کو ایک دفعہ نہیں، کئی دفعہ بڑی عزت سے 'گیٹ لوسٹ' کہ چکی ہے.
اب مریم کونسی بات چیت کی بات کر رہی ہے، سمجھ سے باہر ہے.
فوج کے کیپٹین صفدروں سےجنرلسباجوہ اور فیض حمید نے گیٹ لاسٹ کہا ہے اب ان کی فوج کو ر اضی کر رہی ہے
 

Hussain1967

Minister (2k+ posts)
PTI‘s social media supporters are in some disillusion. Fouj is in contact with PMLN. Both Fouj and Sharifs extract their respective powers from Central Punjab. Sharif family will eventually get NRO and Shehbaz Sharif ( not Nawaz or Maryam) will become next PM.
 

asif.khan1975

Senator (1k+ posts)
مریم کیا، بلو رانی کیا ان کے باپ میں بھی اتنی طاقت نہیں کہ ہماری پاک فوج سے مقابلہ کر سکے. شکریہ عمران خان
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں