فوج کرپٹ لوگوں کو اقتدار میں کیوں لاتی ہے؟

SaRashid

Minister (2k+ posts)
دنیا کا اصول ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ چلتی اس کی ہے جس کے پاس طاقت ہے۔ اور طاقت کے حصول کے لیے انگریز کے کتّے نہلانے والوں نے غریب پاکستان پر ایک ملین سائز کی فوج مسلّط کی ہوئی ہے۔ سوچیں کیا یہ ملک اتنی بھاری بھرکم فوجی طاقت کا متحمل ہے؟ کیا اس کے پاس وسائل ہیں جو اس فوج کی شاہ خرچیاں برداشت کر سکے؟ تنخواہوں کے علاوہ انہیں مراعات کتنی ملتی ہیں، جرنیلوں پر نوازشات الگ ہوتی ہیں۔ اور ساری ہڈحرامی کا بوجھ غریب پاکستانی عوام پر۔ یہ کہاں کا انصاف ہوا؟

فوج کی حرام خوریاں برداشت کرنے کے لیے اگر معیشت میں دم نہ ہو تو غیر ملکی قرضے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اب ان قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرضے لیے جاتے ہیں۔ قرض ادا نہ ہوپائے تو ملکی خود مختاری اور سلامتی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ اس کی اہم ترین مثال موجودہ باجوائی حکومت ہے جس کی کابینہ اور حکومت میں امریکہ و یورپ کے کارندے بھرے ہوئے ہیں۔ یہودی ایجنٹ عمران خان، وزیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ، اسٹیٹ بینک کا گورنر رضا باقر، زلفی بخاری، معید یوسف، شہباز گل۔۔تقریباً نصف حکومت غیرپاکستانی عناصر کی ہے۔ ظاہر سی بات ہے آپ گوری چمڑی والے ڈیوڈ اور گولڈ اسمتھ کو تو لا نہیں سکتے تھے۔ آپ نے پاکستان کا تڑکہ لگے ہوئے کالے انگریز ہی لانے تھے، جو آپ لے آئے۔

یہ سب اس لیے ہوا کیوں کہ آپ آزاد اور خود مختار نہیں ہیں۔ آپ اپنے ہاتھ پاؤں کٹوا چکے ہیں۔ اگر آپ امریکہ و یورپ کے ایجنٹوں کو حکومت سے نکالیں گے تو یہ لوگ قرضوں کا تقاضہ کریں گے اور آپ کے اوپر فاٹف جیسے گدھ چھوڑ کر ساری بوٹیاں نوچ لیں گے۔ بے ضمیر اور بے ایمان لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔

اب آتے ہیں بنیادی نکتے پر۔ یہ بات ہر باخبر اور سمجھ دار پاکستانی اور غیر پاکستانی جانتا ہے کہ اس ملک میں لیاقت علی خان کو راستے سے ہٹانے کے بعد سے لے کر آج تک 'کنٹرولڈ جمہوریت' آتی رہی ہے۔ یعنی جمہوریت کا علم فوج کے ایجنٹ بوٹ پالشیوں نے اٹھایا ہوا ہے۔ جمہوریت کے اولین چمپیئن ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر عمران نیازی تک فوجی بنکروں کی پیداوار ہیں۔ 1971 میں جب ایک خالص جمہوری شخص شیخ مجیب الرّحمٰن اقتدار میں آنے لگا تو پاکستان دشمن جرنیلوں سے یہ بات برداشت نہ ہوئی اور کسی کوٹھے کی پیداوار جنرل یحیٰ خان اور فوجیوں کی ناجائز اولاد زیڈ اے بھٹو کے ذریعے پاکستان کو توڑ کر بھٹو کی 'کنٹرولڈ جمہوریت' نازل کی گئی۔

بھٹو نے فوج کی خوب خدمت کی۔ جنرل یحیٰ اور اس کی ٹیم کے حرامی جرنیلوں کو بچا لیا۔ حمودالرّحمٰن کمیشن رپورٹ شائع نہ ہونے دی۔جب تک بھٹو اپنے فوجی باپوں کا وفادار رہا، اقتدار کے ساتھ چمٹا رہا۔ جوں ہی اس نے فوج کے شکنجے سے نکلنے کی کوشش کی، عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔

فوج نے یہی کمینہ کام نواز شریف اور الطاف حسین کے معاملے میں کیا۔ دونوں نے آگے چل کر چوریاں اور حرام خوریاں کیں۔ فوج کو ایسے لوگ ہی سوٹ کرتے ہیں جن کی کوئی اخلاقی سطح نہ ہو، جو چور ہوں۔ ایسے کمّی کمینوں کو بلیک میل کرکے تابعداری پر مجبور کرنا آسان ہوتا ہے۔ نواز شریف نے جب بھی تابعداری کے حصار سے نکلنے کی کوشش کی، ذلیل ہو کے نکلا۔

اور اب عمران نیازی جیسا شخص فوج کی چوائس ہے، جس کا ماضی داغ دار ہے۔ یہ شخص جمائمہ یہودن کے حوالے سے یہودی ایجنٹ مشہور ہے۔ ریحام خان کے حوالے سے زانی ، چرسی اور لونڈے باز مشہور ہے۔ اپنی بہن علیمہ خان کے حوالے سے زکوٰۃ چور مشہور ہے۔ جہانگیر ترین کے حوالے سے شوگر مافیا کا حمایتی مشہور ہے۔ غیر ملکی معاونین خصوصی کے حوالے سے غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ اس بیک گراؤنڈ اور گری ہوئی ساکھ کے ساتھ عمران خان کے اندر اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ فوج کی تابعداری سے باہر نکلنے کا سوچ بھی سکے۔

لب لباب یہ ہوا کہ فوج ایسے بدنام زمانہ لوگوں کے حوالے اقتدار کیوں کرتی ہے؟ اپنی لونڈی الیکشن کمیشن کے ذریعے جعلی انتخابات میں ایسے بدکرداروں کو کیوں لے کر آتی ہے۔

تو اس سوال کا جواب سیدھا اور صاف ہے۔

اگر پاکستان میں صاف ستھرے اور ایمان دار لوگوں کی حکومت آگئی تو وہ فوج کے بجائے اللہ سے ڈرنے والے ہوں گے۔ وہ پھر ان جرنیلوں سے ان کی شاہ خرچیوں کا حساب مانگیں گے۔ وہ خارجہ اور دفاعی پالیسی اپنے ہاتھ میں لیں گے۔ فیصلہ سازی میں جی ایچ کیو کی ڈکٹیشن پر لات مار کر صرف اپنا دماغ استعمال کریں گے۔ فوج کا سائز اور فوجی بجٹ کم کر کے وہ پیسہ عوام کی تعلیم، صحت اور معاشی ترقی پر صرف کریں گے۔ مگر ایسے لوگ ان جرنیلوں کو سوٹ تو نہیں کریں گے ناں؟

ان حرامی جرنیلوں کو ایسا وزیراعظم چاہیے ہوتا ہے جو ارشد ملک جیسے خنزیر کے حوالے پی آئی اے کر دے۔ ایئر فورس کے نااہل لوگوں کو پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی سے نکالنے کے بجائے غلام سرور خان جیسے بوٹ پالشیے کے ذریعے پوری پی آئی اے کو دنیا میں ذلیل کروا دے، اور ایئر فورس کے نااہل بے غیرتوں کو بچالے۔ ان جرنیلوں کو ایسا وزیراعظم چاہیے جو کراچی سے 14 نشستیں چوری کرنے کے باوجود کراچی پر تھوکنا بھی پسند نہ کرے۔ برسات میں کراچی کو کچرے، غلاظت میں ڈبو کر سندھی قوم پرستوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے، اور بارش کے ایک ہفتے بعد میڈیا پر آکر بھونک مارے کہ کراچی کی صفائی کے لیے فوج کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
 
Advertisement
Last edited:

SaRashid

Minister (2k+ posts)
Reading your rantings and observing the chicken dance of hodgepodge opposition one concludes ...... Fauj must be doing something right ...... :)
ہاں ہاں فوج یقیناً ٹھیک کر رہی ہے تبھی تو کشمیر بھارت سے آزاد کروا لیا ہے اور فرانس نے نیازی کی پنکی سے شادی کے تحفے میں 5 رافیل بھیجے ہیں۔
 

NasNY

Chief Minister (5k+ posts)
MQM and Pee party has destroyed karachi in last 40 years. Karachi will shine again as soon we get rid of the final remains of dead parties. After next elections Pakistan will clean out all dead parties.
 

AhmadSaleem264

Senator (1k+ posts)
دنیا کا اصول ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ چلتی اس کی ہے جس کے پاس طاقت ہے۔ اور طاقت کے حصول کے لیے انگریز کے کتّے نہلانے والوں نے غریب پاکستان پر ایک ملین سائز کی فوج مسلّط کی ہوئی ہے۔ سوچیں کیا یہ ملک اتنی بھاری بھرکم فوجی طاقت کا متحمل ہے؟ کیا اس کے پاس وسائل ہیں جو اس فوج کی شاہ خرچیاں برداشت کر سکے؟ تنخواہوں کے علاوہ انہیں مراعات کتنی ملتی ہیں، جرنیلوں پر نوازشات الگ ہوتی ہیں۔ اور ساری ہڈحرامی کا بوجھ غریب پاکستانی عوام پر۔ یہ کہاں کا انصاف ہوا؟

فوج کی حرام خوریاں برداشت کرنے کے لیے اگر معیشت میں دم نہ ہو تو غیر ملکی قرضے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اب ان قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرضے لیے جاتے ہیں۔ قرض ادا نہ ہوپائے تو ملکی خود مختاری اور سلامتی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ اس کی اہم ترین مثال موجودہ باجوائی حکومت ہے جس کی کابینہ اور حکومت میں امریکہ و یورپ کے کارندے بھرے ہوئے ہیں۔ یہودی ایجنٹ عمران خان، وزیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ، اسٹیٹ بینک کا گورنر رضا باقر، زلفی بخاری، معید یوسف، شہباز گل۔۔تقریباً نصف حکومت غیرپاکستانی عناصر کی ہے۔ ظاہر سی بات ہے آپ گوری چمڑی والے ڈیوڈ اور گولڈ اسمتھ کو تو لا نہیں سکتے تھے۔ آپ نے پاکستان کا تڑکہ لگے ہوئے کالے انگریز ہی لانے تھے، جو آپ لے آئے۔

یہ سب اس لیے ہوا کیوں کہ آپ آزاد اور خود مختار نہیں ہیں۔ آپ اپنے ہاتھ پاؤں کٹوا چکے ہیں۔ اگر آپ امریکہ و یورپ کے ایجنٹوں کو حکومت سے نکالیں گے تو یہ لوگ قرضوں کا تقاضہ کریں گے اور آپ کے اوپر فاٹف جیسے گدھ چھوڑ کر ساری بوٹیاں نوچ لیں گے۔ بے ضمیر اور بے ایمان لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔

اب آتے ہیں بنیادی نکتے پر۔ یہ بات ہر باخبر اور سمجھ دار پاکستانی اور غیر پاکستانی جانتا ہے کہ اس ملک میں لیاقت علی خان کو راستے سے ہٹانے کے بعد سے لے کر آج تک 'کنٹرولڈ جمہوریت' آتی رہی ہے۔ یعنی جمہوریت کا علم فوج کے ایجنٹ بوٹ پالشیوں نے اٹھایا ہوا ہے۔ جمہوریت کے اولین چمپیئن ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر عمران نیازی تک فوجی بنکروں کی پیداوار ہیں۔ 1971 میں جب ایک خالص جمہوری شخص شیخ مجیب الرّحمٰن اقتدار میں آنے لگا تو پاکستان دشمن جرنیلوں سے یہ بات برداشت نہ ہوئی اور کسی کوٹھے کی پیداوار جنرل یحیٰ خان اور فوجیوں کی ناجائز اولاد زیڈ اے بھٹو کے ذریعے پاکستان کو توڑ کر بھٹو کی 'کنٹرولڈ جمہوریت' نازل کی گئی۔

بھٹو نے فوج کی خوب خدمت کی۔ جنرل یحیٰ اور اس کی ٹیم کے حرامی جرنیلوں کو بچا لیا۔ حمودالرّحمٰن کمیشن رپورٹ شائع نہ ہونے دی۔جب تک بھٹو اپنے فوجی باپوں کا وفادار رہا، اقتدار کے ساتھ چمٹا رہا۔ جوں ہی اس نے فوج کے شکنجے سے نکلنے کی کوشش کی، عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔

فوج نے یہی کمینہ کام نواز شریف اور الطاف حسین کے معاملے میں کیا۔ دونوں نے آگے چل کر چوریاں اور حرام خوریاں کیں۔ فوج کو ایسے لوگ ہی سوٹ کرتے ہیں جن کی کوئی اخلاقی سطح نہ ہو، جو چور ہوں۔ ایسے کمّی کمینوں کو بلیک میل کرکے تابعداری پر مجبور کرنا آسان ہوتا ہے۔ نواز شریف نے جب بھی تابعداری کے حصار سے نکلنے کی کوشش کی، ذلیل ہو کے نکلا۔

اور اب عمران نیازی جیسا شخص فوج کی چوائس ہے، جس کا ماضی داغ دار ہے۔ یہ شخص جمائمہ یہودن کے حوالے سے یہودی ایجنٹ مشہور ہے۔ ریحام خان کے حوالے سے زانی ، چرسی اور لونڈے باز مشہور ہے۔ اپنی بہن علیمہ خان کے حوالے سے زکوٰۃ چور مشہور ہے۔ جہانگیر ترین کے حوالے سے شوگر مافیا کا حمایتی مشہور ہے۔ غیر ملکی معاونین خصوصی کے حوالے سے غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ اس بیک گراؤنڈ اور گری ہوئی ساکھ کے ساتھ عمران خان کے اندر اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ فوج کی تابعداری سے باہر نکلنے کا سوچ بھی سکے۔

لب لباب یہ ہوا کہ فوج ایسے بدنام زمانہ لوگوں کے حوالے اقتدار کیوں کرتی ہے؟ اپنی لونڈی الیکشن کمیشن کے ذریعے جعلی انتخابات میں ایسے بدکرداروں کو کیوں لے کر آتی ہے۔

تو اس سوال کا جواب سیدھا اور صاف ہے۔

اگر پاکستان میں صاف ستھرے اور ایمان دار لوگوں کی حکومت آگئی تو وہ فوج کے بجائے اللہ سے ڈرنے والے ہوں گے۔ وہ پھر ان جرنیلوں سے ان کی شاہ خرچیوں کا حساب مانگیں گے۔ وہ خارجہ اور دفاعی پالیسی اپنے ہاتھ میں لیں گے۔ فیصلہ سازی میں جی ایچ کیو کی ڈکٹیشن پر لات مار کر صرف اپنا دماغ استعمال کریں گے۔ فوج کا سائز اور فوجی بجٹ کم کر کے وہ پیسہ عوام کی تعلیم، صحت اور معاشی ترقی پر صرف کریں گے۔ مگر ایسے لوگ ان جرنیلوں کو سوٹ تو نہیں کریں گے ناں؟

ان حرامی جرنیلوں کو ایسا وزیراعظم چاہیے ہوتا ہے جو ارشد ملک جیسے خنزیر کے حوالے پی آئی اے کر دے۔ ایئر فورس کے نااہل لوگوں کو پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی سے نکالنے کے بجائے غلام سرور خان جیسے بوٹ پالشیے کے ذریعے پوری پی آئی اے کو دنیا میں ذلیل کروا دے، اور ایئر فورس کے نااہل بے غیرتوں کو بچالے۔ ان جرنیلوں کو ایسا وزیراعظم چاہیے جو کراچی سے 14 نشستیں چوری کرنے کے باوجود کراچی پر تھوکنا بھی پسند نہ کرے۔ برسات میں کراچی کو کچرے، غلاظت میں ڈبو کر سندھی قوم پرستوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے، اور بارش کے ایک ہفتے بعد میڈیا پر آکر بھونک مارے کہ کراچی کی صفائی کے لیے فوج کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
Why you cant write something substantial, based on facts rather than delusions?
 

Hate_Nooras

Chief Minister (5k+ posts)
دنیا کا اصول ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ چلتی اس کی ہے جس کے پاس طاقت ہے۔ اور طاقت کے حصول کے لیے انگریز کے کتّے نہلانے والوں نے غریب پاکستان پر ایک ملین سائز کی فوج مسلّط کی ہوئی ہے۔ سوچیں کیا یہ ملک اتنی بھاری بھرکم فوجی طاقت کا متحمل ہے؟ کیا اس کے پاس وسائل ہیں جو اس فوج کی شاہ خرچیاں برداشت کر سکے؟ تنخواہوں کے علاوہ انہیں مراعات کتنی ملتی ہیں، جرنیلوں پر نوازشات الگ ہوتی ہیں۔ اور ساری ہڈحرامی کا بوجھ غریب پاکستانی عوام پر۔ یہ کہاں کا انصاف ہوا؟

فوج کی حرام خوریاں برداشت کرنے کے لیے اگر معیشت میں دم نہ ہو تو غیر ملکی قرضے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اب ان قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرضے لیے جاتے ہیں۔ قرض ادا نہ ہوپائے تو ملکی خود مختاری اور سلامتی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ اس کی اہم ترین مثال موجودہ باجوائی حکومت ہے جس کی کابینہ اور حکومت میں امریکہ و یورپ کے کارندے بھرے ہوئے ہیں۔ یہودی ایجنٹ عمران خان، وزیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ، اسٹیٹ بینک کا گورنر رضا باقر، زلفی بخاری، معید یوسف، شہباز گل۔۔تقریباً نصف حکومت غیرپاکستانی عناصر کی ہے۔ ظاہر سی بات ہے آپ گوری چمڑی والے ڈیوڈ اور گولڈ اسمتھ کو تو لا نہیں سکتے تھے۔ آپ نے پاکستان کا تڑکہ لگے ہوئے کالے انگریز ہی لانے تھے، جو آپ لے آئے۔

یہ سب اس لیے ہوا کیوں کہ آپ آزاد اور خود مختار نہیں ہیں۔ آپ اپنے ہاتھ پاؤں کٹوا چکے ہیں۔ اگر آپ امریکہ و یورپ کے ایجنٹوں کو حکومت سے نکالیں گے تو یہ لوگ قرضوں کا تقاضہ کریں گے اور آپ کے اوپر فاٹف جیسے گدھ چھوڑ کر ساری بوٹیاں نوچ لیں گے۔ بے ضمیر اور بے ایمان لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔

اب آتے ہیں بنیادی نکتے پر۔ یہ بات ہر باخبر اور سمجھ دار پاکستانی اور غیر پاکستانی جانتا ہے کہ اس ملک میں لیاقت علی خان کو راستے سے ہٹانے کے بعد سے لے کر آج تک 'کنٹرولڈ جمہوریت' آتی رہی ہے۔ یعنی جمہوریت کا علم فوج کے ایجنٹ بوٹ پالشیوں نے اٹھایا ہوا ہے۔ جمہوریت کے اولین چمپیئن ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر عمران نیازی تک فوجی بنکروں کی پیداوار ہیں۔ 1971 میں جب ایک خالص جمہوری شخص شیخ مجیب الرّحمٰن اقتدار میں آنے لگا تو پاکستان دشمن جرنیلوں سے یہ بات برداشت نہ ہوئی اور کسی کوٹھے کی پیداوار جنرل یحیٰ خان اور فوجیوں کی ناجائز اولاد زیڈ اے بھٹو کے ذریعے پاکستان کو توڑ کر بھٹو کی 'کنٹرولڈ جمہوریت' نازل کی گئی۔

بھٹو نے فوج کی خوب خدمت کی۔ جنرل یحیٰ اور اس کی ٹیم کے حرامی جرنیلوں کو بچا لیا۔ حمودالرّحمٰن کمیشن رپورٹ شائع نہ ہونے دی۔جب تک بھٹو اپنے فوجی باپوں کا وفادار رہا، اقتدار کے ساتھ چمٹا رہا۔ جوں ہی اس نے فوج کے شکنجے سے نکلنے کی کوشش کی، عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔

فوج نے یہی کمینہ کام نواز شریف اور الطاف حسین کے معاملے میں کیا۔ دونوں نے آگے چل کر چوریاں اور حرام خوریاں کیں۔ فوج کو ایسے لوگ ہی سوٹ کرتے ہیں جن کی کوئی اخلاقی سطح نہ ہو، جو چور ہوں۔ ایسے کمّی کمینوں کو بلیک میل کرکے تابعداری پر مجبور کرنا آسان ہوتا ہے۔ نواز شریف نے جب بھی تابعداری کے حصار سے نکلنے کی کوشش کی، ذلیل ہو کے نکلا۔

اور اب عمران نیازی جیسا شخص فوج کی چوائس ہے، جس کا ماضی داغ دار ہے۔ یہ شخص جمائمہ یہودن کے حوالے سے یہودی ایجنٹ مشہور ہے۔ ریحام خان کے حوالے سے زانی ، چرسی اور لونڈے باز مشہور ہے۔ اپنی بہن علیمہ خان کے حوالے سے زکوٰۃ چور مشہور ہے۔ جہانگیر ترین کے حوالے سے شوگر مافیا کا حمایتی مشہور ہے۔ غیر ملکی معاونین خصوصی کے حوالے سے غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ اس بیک گراؤنڈ اور گری ہوئی ساکھ کے ساتھ عمران خان کے اندر اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ فوج کی تابعداری سے باہر نکلنے کا سوچ بھی سکے۔

لب لباب یہ ہوا کہ فوج ایسے بدنام زمانہ لوگوں کے حوالے اقتدار کیوں کرتی ہے؟ اپنی لونڈی الیکشن کمیشن کے ذریعے جعلی انتخابات میں ایسے بدکرداروں کو کیوں لے کر آتی ہے۔

تو اس سوال کا جواب سیدھا اور صاف ہے۔

اگر پاکستان میں صاف ستھرے اور ایمان دار لوگوں کی حکومت آگئی تو وہ فوج کے بجائے اللہ سے ڈرنے والے ہوں گے۔ وہ پھر ان جرنیلوں سے ان کی شاہ خرچیوں کا حساب مانگیں گے۔ وہ خارجہ اور دفاعی پالیسی اپنے ہاتھ میں لیں گے۔ فیصلہ سازی میں جی ایچ کیو کی ڈکٹیشن پر لات مار کر صرف اپنا دماغ استعمال کریں گے۔ فوج کا سائز اور فوجی بجٹ کم کر کے وہ پیسہ عوام کی تعلیم، صحت اور معاشی ترقی پر صرف کریں گے۔ مگر ایسے لوگ ان جرنیلوں کو سوٹ تو نہیں کریں گے ناں؟

ان حرامی جرنیلوں کو ایسا وزیراعظم چاہیے ہوتا ہے جو ارشد ملک جیسے خنزیر کے حوالے پی آئی اے کر دے۔ ایئر فورس کے نااہل لوگوں کو پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی سے نکالنے کے بجائے غلام سرور خان جیسے بوٹ پالشیے کے ذریعے پوری پی آئی اے کو دنیا میں ذلیل کروا دے، اور ایئر فورس کے نااہل بے غیرتوں کو بچالے۔ ان جرنیلوں کو ایسا وزیراعظم چاہیے جو کراچی سے 14 نشستیں چوری کرنے کے باوجود کراچی پر تھوکنا بھی پسند نہ کرے۔ برسات میں کراچی کو کچرے، غلاظت میں ڈبو کر سندھی قوم پرستوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے، اور بارش کے ایک ہفتے بعد میڈیا پر آکر بھونک مارے کہ کراچی کی صفائی کے لیے فوج کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
More rantings of rabid kutta.
 

Danish99

Senator (1k+ posts)
دنیا کا اصول ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ چلتی اس کی ہے جس کے پاس طاقت ہے۔ اور طاقت کے حصول کے لیے انگریز کے کتّے نہلانے والوں نے غریب پاکستان پر ایک ملین سائز کی فوج مسلّط کی ہوئی ہے۔ سوچیں کیا یہ ملک اتنی بھاری بھرکم فوجی طاقت کا متحمل ہے؟ کیا اس کے پاس وسائل ہیں جو اس فوج کی شاہ خرچیاں برداشت کر سکے؟ تنخواہوں کے علاوہ انہیں مراعات کتنی ملتی ہیں، جرنیلوں پر نوازشات الگ ہوتی ہیں۔ اور ساری ہڈحرامی کا بوجھ غریب پاکستانی عوام پر۔ یہ کہاں کا انصاف ہوا؟

فوج کی حرام خوریاں برداشت کرنے کے لیے اگر معیشت میں دم نہ ہو تو غیر ملکی قرضے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اب ان قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرضے لیے جاتے ہیں۔ قرض ادا نہ ہوپائے تو ملکی خود مختاری اور سلامتی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ اس کی اہم ترین مثال موجودہ باجوائی حکومت ہے جس کی کابینہ اور حکومت میں امریکہ و یورپ کے کارندے بھرے ہوئے ہیں۔ یہودی ایجنٹ عمران خان، وزیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ، اسٹیٹ بینک کا گورنر رضا باقر، زلفی بخاری، معید یوسف، شہباز گل۔۔تقریباً نصف حکومت غیرپاکستانی عناصر کی ہے۔ ظاہر سی بات ہے آپ گوری چمڑی والے ڈیوڈ اور گولڈ اسمتھ کو تو لا نہیں سکتے تھے۔ آپ نے پاکستان کا تڑکہ لگے ہوئے کالے انگریز ہی لانے تھے، جو آپ لے آئے۔

یہ سب اس لیے ہوا کیوں کہ آپ آزاد اور خود مختار نہیں ہیں۔ آپ اپنے ہاتھ پاؤں کٹوا چکے ہیں۔ اگر آپ امریکہ و یورپ کے ایجنٹوں کو حکومت سے نکالیں گے تو یہ لوگ قرضوں کا تقاضہ کریں گے اور آپ کے اوپر فاٹف جیسے گدھ چھوڑ کر ساری بوٹیاں نوچ لیں گے۔ بے ضمیر اور بے ایمان لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔

اب آتے ہیں بنیادی نکتے پر۔ یہ بات ہر باخبر اور سمجھ دار پاکستانی اور غیر پاکستانی جانتا ہے کہ اس ملک میں لیاقت علی خان کو راستے سے ہٹانے کے بعد سے لے کر آج تک 'کنٹرولڈ جمہوریت' آتی رہی ہے۔ یعنی جمہوریت کا علم فوج کے ایجنٹ بوٹ پالشیوں نے اٹھایا ہوا ہے۔ جمہوریت کے اولین چمپیئن ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر عمران نیازی تک فوجی بنکروں کی پیداوار ہیں۔ 1971 میں جب ایک خالص جمہوری شخص شیخ مجیب الرّحمٰن اقتدار میں آنے لگا تو پاکستان دشمن جرنیلوں سے یہ بات برداشت نہ ہوئی اور کسی کوٹھے کی پیداوار جنرل یحیٰ خان اور فوجیوں کی ناجائز اولاد زیڈ اے بھٹو کے ذریعے پاکستان کو توڑ کر بھٹو کی 'کنٹرولڈ جمہوریت' نازل کی گئی۔

بھٹو نے فوج کی خوب خدمت کی۔ جنرل یحیٰ اور اس کی ٹیم کے حرامی جرنیلوں کو بچا لیا۔ حمودالرّحمٰن کمیشن رپورٹ شائع نہ ہونے دی۔جب تک بھٹو اپنے فوجی باپوں کا وفادار رہا، اقتدار کے ساتھ چمٹا رہا۔ جوں ہی اس نے فوج کے شکنجے سے نکلنے کی کوشش کی، عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔

فوج نے یہی کمینہ کام نواز شریف اور الطاف حسین کے معاملے میں کیا۔ دونوں نے آگے چل کر چوریاں اور حرام خوریاں کیں۔ فوج کو ایسے لوگ ہی سوٹ کرتے ہیں جن کی کوئی اخلاقی سطح نہ ہو، جو چور ہوں۔ ایسے کمّی کمینوں کو بلیک میل کرکے تابعداری پر مجبور کرنا آسان ہوتا ہے۔ نواز شریف نے جب بھی تابعداری کے حصار سے نکلنے کی کوشش کی، ذلیل ہو کے نکلا۔

اور اب عمران نیازی جیسا شخص فوج کی چوائس ہے، جس کا ماضی داغ دار ہے۔ یہ شخص جمائمہ یہودن کے حوالے سے یہودی ایجنٹ مشہور ہے۔ ریحام خان کے حوالے سے زانی ، چرسی اور لونڈے باز مشہور ہے۔ اپنی بہن علیمہ خان کے حوالے سے زکوٰۃ چور مشہور ہے۔ جہانگیر ترین کے حوالے سے شوگر مافیا کا حمایتی مشہور ہے۔ غیر ملکی معاونین خصوصی کے حوالے سے غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ اس بیک گراؤنڈ اور گری ہوئی ساکھ کے ساتھ عمران خان کے اندر اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ فوج کی تابعداری سے باہر نکلنے کا سوچ بھی سکے۔

لب لباب یہ ہوا کہ فوج ایسے بدنام زمانہ لوگوں کے حوالے اقتدار کیوں کرتی ہے؟ اپنی لونڈی الیکشن کمیشن کے ذریعے جعلی انتخابات میں ایسے بدکرداروں کو کیوں لے کر آتی ہے۔

تو اس سوال کا جواب سیدھا اور صاف ہے۔

اگر پاکستان میں صاف ستھرے اور ایمان دار لوگوں کی حکومت آگئی تو وہ فوج کے بجائے اللہ سے ڈرنے والے ہوں گے۔ وہ پھر ان جرنیلوں سے ان کی شاہ خرچیوں کا حساب مانگیں گے۔ وہ خارجہ اور دفاعی پالیسی اپنے ہاتھ میں لیں گے۔ فیصلہ سازی میں جی ایچ کیو کی ڈکٹیشن پر لات مار کر صرف اپنا دماغ استعمال کریں گے۔ فوج کا سائز اور فوجی بجٹ کم کر کے وہ پیسہ عوام کی تعلیم، صحت اور معاشی ترقی پر صرف کریں گے۔ مگر ایسے لوگ ان جرنیلوں کو سوٹ تو نہیں کریں گے ناں؟

ان حرامی جرنیلوں کو ایسا وزیراعظم چاہیے ہوتا ہے جو ارشد ملک جیسے خنزیر کے حوالے پی آئی اے کر دے۔ ایئر فورس کے نااہل لوگوں کو پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی سے نکالنے کے بجائے غلام سرور خان جیسے بوٹ پالشیے کے ذریعے پوری پی آئی اے کو دنیا میں ذلیل کروا دے، اور ایئر فورس کے نااہل بے غیرتوں کو بچالے۔ ان جرنیلوں کو ایسا وزیراعظم چاہیے جو کراچی سے 14 نشستیں چوری کرنے کے باوجود کراچی پر تھوکنا بھی پسند نہ کرے۔ برسات میں کراچی کو کچرے، غلاظت میں ڈبو کر سندھی قوم پرستوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے، اور بارش کے ایک ہفتے بعد میڈیا پر آکر بھونک مارے کہ کراچی کی صفائی کے لیے فوج کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
I agree with u on many pionts but when IT comes to Bhutto U r not right.Bhutto left Ayub cabnet when army was in full control and Bhutto risked his life for challenging the army rule,Bhutto again challenged the army when Zia dismissed him.Bhutto taught army to respect civil rulers.
 

Sonya Khan

Minister (2k+ posts)
ہاں ہاں فوج یقیناً ٹھیک کر رہی ہے تبھی تو کشمیر بھارت سے آزاد کروا لیا ہے اور فرانس نے نیازی کی پنکی سے شادی کے تحفے میں 5 رافیل بھیجے ہیں۔
The way whole endia .... and you .... are going crazy over 5 Rafales is just hilarious ..... you forget in the process the abilities of endians pilots to crash 2 jets every month ..... :)
 

shujauddin

Senator (1k+ posts)
Simply put, it’s easy to control a corrupt person. He obeys orders and if he doesn't then it’s easy to stick a gun up his arse!
دنیا کا اصول ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ چلتی اس کی ہے جس کے پاس طاقت ہے۔ اور طاقت کے حصول کے لیے انگریز کے کتّے نہلانے والوں نے غریب پاکستان پر ایک ملین سائز کی فوج مسلّط کی ہوئی ہے۔ سوچیں کیا یہ ملک اتنی بھاری بھرکم فوجی طاقت کا متحمل ہے؟ کیا اس کے پاس وسائل ہیں جو اس فوج کی شاہ خرچیاں برداشت کر سکے؟ تنخواہوں کے علاوہ انہیں مراعات کتنی ملتی ہیں، جرنیلوں پر نوازشات الگ ہوتی ہیں۔ اور ساری ہڈحرامی کا بوجھ غریب پاکستانی عوام پر۔ یہ کہاں کا انصاف ہوا؟


Reading your rantings and observing the chicken dance of hodgepodge opposition one concludes ...... Fauj must be doing something right ...... :)
ہاں ہاں فوج یقیناً ٹھیک کر رہی ہے تبھی تو کشمیر بھارت سے آزاد کروا لیا ہے اور فرانس نے نیازی کی پنکی سے شادی کے تحفے میں 5 رافیل بھیجے ہیں۔
MQM and Pee party has destroyed karachi in last 40 years. Karachi will shine again as soon we get rid of the final remains of dead parties. After next elections Pakistan will clean out all dead parties.
Why you cant write something substantial, based on facts rather than delusions?
More rantings of rabid kutta.
I agree with u on many pionts but when IT comes to Bhutto U r not right.Bhutto left Ayub cabnet when army was in full control and Bhutto risked his life for challenging the army rule,Bhutto again challenged the army when Zia dismissed him.Bhutto taught army to respect civil rulers.
I think its because not only that our army is power hungry , meddle into politics, play the king maker in Pakistan but also always at the beck and call of their American masters.

Motto of Pakistan army " Mennu note wekha Mera Mood Bane "
 

Hate_Nooras

Chief Minister (5k+ posts)
I think its because not only that our army is power hungry , meddle into politics, play the king maker in Pakistan but also always at the beck and call of their American masters.

Motto of Pakistan army " Mennu note wekha Mera Mood Bane "
Bhutto and NS created political parties on the backs of the army. BB was happy that Mush overthrow NS and NS connived with the ISI to overthrow BB. The moral of the story, army is bad when they don't back your looting, otherwise army is good.
 

Modest

Minister (2k+ posts)
Foj pampered corrupt Noora for decades. Nooray ka Roohani baap Zia tha aur Ayub Bhutto ka daddy tha. I hope Foj has learned its lesson & they should never allow Pakistan money laundering network & pee pee pee into power again
 
Last edited:

shujauddin

Senator (1k+ posts)
Bhutto and NS created political parties on the backs of the army. BB was happy that Mush overthrow NS and NS connived with the ISI to overthrow BB. The moral of the story, army is bad when they don't back your looting, otherwise army is good.
Ok but how is it relevant?
 

surfer

Minister (2k+ posts)
Ok but how is it relevant?
How is it not relevant? When pmln or ppp speak against the army, do they all talk about all the times they worked with the army against each other?

The only issue these two hypocritical parties have is that the army is not conspiring WITH them. All this talk of civilian supremacy is just BS for their gullible supporters.
 

shujauddin

Senator (1k+ posts)
How is it not relevant? When pmln or ppp speak against the army, do they all talk about all the times they worked with the army against each other?

The only issue these two hypocritical parties have is that the army is not conspiring WITH them. All this talk of civilian supremacy is just BS for their gullible supporters.
Ok then do u know the watermelons grow on vines and not on trees. here is proof :
Therefore you were wrong !

 

NasNY

Chief Minister (5k+ posts)
I think its because not only that our army is power hungry , meddle into politics, play the king maker in Pakistan but also always at the beck and call of their American masters.

Motto of Pakistan army " Mennu note wekha Mera Mood Bane "
It’s because Politicians think about themselves are selfish and have the same mindset as the British colonials before Them. Army protects Pakistan from external and internal threats. Once the politicians work for the benefit of Pakistan. Army influence will diminish. A perfect recent example is in the United States Trump has attacked American institutions and its system of check and balances. The establishment has worked in the background as a deep state to protect the American system.
 

Common_pakistani

MPA (400+ posts)
MQM and Pee party has destroyed karachi in last 40 years. Karachi will shine again as soon we get rid of the final remains of dead parties. After next elections Pakistan will clean out all dead parties.
MQM was established by establishment, please read the history and still it is part and prcel of establishment that why never out of government.
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں