فیس بک نے صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو خوشخبری سنا دی

10facebokharasment.jpg

سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے صحافیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے لئے نئی پالیساں جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فیس بک نے صحافیوں اورسماجی کارکنوں کو عوامی شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کو ہراسانی سے بچانے کے لیے پالیسیاں مزید سخت کردیں ہیں۔

اس ضمن میں فیس بک کے گلوبل سیفٹی چیف اینٹی گون ڈیوس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ صحافیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو ہراسانی اور دھمکیوں سے بچانے کے لیے پالیسیاں سخت کی گئی ہیں جس کے تحت اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ بھی کیا جاسکے گا۔


عوامی اعداد و شمار کے قوانین میں اپنی تبدیلیوں کے علاوہ فیس بک نے نوجوان صارفین کو ایپ سے بریک لینے اور نقصان دہ مواد سے دور کرنے کیلئے نئے فیچر متعارف کروانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ فیس بک انتظامیہ کے مطابق عوامی شخصیت قرار دیئے گئے ریاست مخالفین کو نشانہ بنانے والے نیٹ ورکس کو بھی اکاؤنٹس، پیجز اور گروپس سے محروم کیا جائے گا۔

جبکہ اس کے برعکس قبل ازیں فیس بک کی ایک سابق ملازمہ نے انکشاف کیا تھا کہ فیس بک انتظامیہ ہمیشہ عوامی بھلائی کے بجائے کمپنی کے مفادات کو اہمیت دیتی ہے اور کمائی کی خاطر سوشل ویب سائٹ کا الگورتھم ہی اس انداز کا بنایا گیا ہے کہ وہ پرتشدد اور نفرت انگیز مواد کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

فیس بک کی سابق ملازمہ فرانسس ہافن نے امریکی ٹی وی چینل "سی بی ایس" کے ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ فیس بک کو صارفین کی ذہنی صحت یا فلاح و بہبود سے کوئی غرض نہیں، وہ صرف اپنی کمائی کو اہمیت دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ فیس بک، تشدد اور نفرت انگیز مواد سمیت غلط معلومات پر مبنی پوسٹس کو ہذف کرتا ہے یا انہیں ہٹا دیتا ہے، تاہم ایسا نہیں ہے۔


اس خاتون نے بتایا تھا کہ فیس بک صرف 5 فیصد تک نفرت انگیز جب کہ ایک فیصد سے بھی کم پرتشدد مواد کو ہٹاتا ہے۔ وہ رواں سال کے آغاز تک فیس بک کی ٹیم کا حصہ تھیں، بعد ازاں اس سے الگ ہوگئیں اور ماضی میں وہ گوگل اور پنٹریسٹ جیسی ویب سائٹس کے ساتھ بھی کام کر چکی ہیں۔

انہوں نے گوگل اور پنٹریسٹ سے فیس بک کا موازنہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ فیس بک ان سے زیادہ خطرناک اور پرتشدد مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ فیس بک کا الگورتھم اس طرح کا بنایا گیا ہے کہ وہ مبہم اور غلط معلومات کو فروغ دیتا ہے، تاکہ لوگ کافی دیر تک ویب سائٹ پر چیزوں کو سرچ کرکے حقائق جاننے کی کوشش کریں، کیوں کہ ایسے عمل سے اس کی کمائی بڑھتی ہے۔
 
Advertisement
Sponsored Link