مریم اور شہباز کی امریکی ناظم الامور سے الگ الگ ملاقاتوں کے پیچھے وجہ کیا ؟

maryam-us-met.jpg


مریم اور شہباز کی امریکی ناظم الامور سے الگ الگ ملاقات، ن لیگ میں تقسیم کی گونج۔۔ الگ الگ ملاقاتوں پر تجزیہ کار اور مختلف حلقے حیران

امریکی ناظم الامور انجیلا پی ایگلر کی مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور نائب صدر مریم نواز سے ملاقات ہوئیں، دونوں رہنماؤں نے امریکی ناظم الامور سے الگ الگ ملاقات کی۔

پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور انجیلا پی ایگلر نے شہباز شریف سے ان کی رہائشگاہ ماڈل ٹاؤن جبکہ مریم نواز سے جاتی امرا میں ملاقات کی،مریم نواز اور امریکی وفد کی ملاقات میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، پرویز رشید، خرم دستگیر، مریم اورنگزیب اور طارق فاطمی بھی موجود تھے۔

دونوں رہنماؤں سے ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات، علاقائی سیاست، افغانستان سمیت خطے کی صورتحال، تعلیم وصحت، خواتین اور بچوں کے حقوق پر تبادلہ خیال کیا گیا، وفد سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) پرامن بقائے باہمی، جمہوریت و ترقی اور سلامتی پر مبنی ایجنڈے کے فروغ میں یقین رکھتی ہے۔ امریکی ناظم الامور نے شہباز شریف سے ان کی صحت بارے دریافت کیا جبکہ شہباز شریف نے مہمان کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔


ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور نائب صدر مریم نواز کے ساتھ علیحدہ ملاقاتیں ایک بار پھر پارٹی میں تقسیم کی قیاس آرائیاں پیدا کررہی ہیں، جبکہ ایک ہی شہر میں ہوتے ہوئے مختلف مقامات پر ملاقات پر پارٹی کے دیگر اران بھی حیران اور پریشان ہیں۔

مختلف صحافیوں نے بھی اس پر حیرت کا اظہار کیا ہے، کچھ کا کہنا تھا کہ اس سے م اور ش کی تقسیم واضح ہوگئی ہے، اگر چاہتے تو اکٹھے ملاقات کرسکتے تھے۔ان صحافیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح ملاقات سے ن لیگ کے ووٹرز اور دیگر حلقوں میں غلط تاثر گیا ہے کہ ن لیگ کی قیادت متحد نہیں ہے۔


اس سے قبل مریم سے قریبی تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف نے ایک نجی ٹی وی چینل پر شہباز شریف پر بلاواسطہ لفظی وار بھی کئے تھے، انہوں نے شہباز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار کہا تھا جس پر ن لیگ میں دو دھڑوں کا شور مچ گیا تھا، پارٹی نے تو جاوید لطیف کو شوکاز نوٹس دیا تھا لیکن مریم نواز نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔

دوسری جانب ڈان کی جانب سے اس حوالے سے پوچھا گیا توپارٹی ترجمان مریم اورنگزیب نے جواب دینے سے گریز کیا، لیکن پارٹی کے ایک اندورنی شخص نے ڈان سے گفتگو میں واضح کیا کہ مریم نواز امریکی ناظم الامور کو یہ تاثر دینا چاہتی تھیں کہ وہ اپنے نواز شریف کی غیرموجودگی میں ان کی نمائندگی کرتی ہیں، جو پارٹی کے سپریم لیڈر ہیں، اس لیے پارٹی کی سینئر قیادت ان کے ہمراہ تھی۔

ن لیگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی ناظم الامور نے شہباز شریف کی بطور وزیراعلیٰ پنجاب خدمات کو سراہا اور مریم نواز نے اپنے والد کی جانب سے امریکی صدر جو بائیڈن کو ان کی انتخابی فتح پر مبارکباد اور پاکستانی عوام کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔۔

ن لیگ نے کہا کہ امریکی سفیر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا اورخواتین، بچوں، میڈیا اور انسانی حقوق کے لیے مریم نواز کی کوششوں کو سراہا،دوسری جانب امریکی ناظم الامور نے پنجاب کے قائم مقام گورنر چوہدری پرویز الٰہی ، وفاقی وزیر آبی وسائل مونس الٰہی اور مسلم لیگ (ق) کے ایم این اے سالک حسین اور حسین الٰہی سے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات، افغانستان کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔
 
Advertisement

Will_Bite

Chief Minister (5k+ posts)
The meetings were separated at the request of Angela. According to reports, she could not bear the combined stench of Maryam and Shahbaz ....so she requested separate meetings.
 
Sponsored Link