میڈیاورکر محمد فہیم کی خودکشی، معاملہ کیا ہے؟اہلیہ کےانکشافات

faheem-mughal-111.jpg


کچھ روز قبل میڈیا ورکر فہیم مغل نے مالی مشکلات کی بناء پر خودکشی کرلی۔فہیم مغل ایکسپریس نیوز سے وابستہ تھے اور انہیں چینل نے مالی مشکلات کو جواز بناکر نکالا تھا۔

متوفی فہیم مغل 5 بچیوں اور ایک بچے کا باپ تھا۔ خودکشی کے روز فہیم کے پاس اپنے بچے کے دودھ کیلئےبھی پیسے نہیں تھے۔

فہیم مغل کی اہلیہ کے مطابق آخری رات سونے سے قبل یہ کہا تھا کہ جب بچوں کے لیے کچھ نہیں کر پا رہا ہوں تو ایسے جینے کا کیا فائدہ ہے۔جس پر اہلیہ نے سمجھایا کہ وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں۔فہیم کی اہلیہ کے مطابق فہیم نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ وہ اپنے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔

اہلیہ کے مطابق اسکے بعد ہم سو گئے۔ جب رات کو میں اٹھی تو دیکھا کہ فہیم کی لاش پھندے سے جھول رہی تھی۔۔

فہیم کے اہلخانہ کے مطابق ایکسپریس سے نکالے جانے کے بعد فہیم نے مختلف جگہ انٹرویو دئیے لیکن انہیں کہیں جاب نہ ملی۔ اسکے بعد فہیم نے رکشہ خریدلیا لیکن کچھ خاص آمدن نہ ہوپائی۔

فہیم کے اہلیہ شہزادی فہیم کے مطابق فہیم نے بہت پرانا رکشہ خریدا تھا جو اکثر خراب اکثر خراب ہو جاتا تھا اور پھر جمع پونجی اس کی مرمت میں ہی خرچ ہو جاتی تھی ، جس کی وجہ سے وہ بچوں کے باقی خرچے پورے نہیں کرپاتا تھا۔

شہزادی کے مطابق جب فہیم کو اس ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے تو پھر انھیں میڈیا کے شعبے میں کہیں دوبارہ ملازمت نہ ملی۔ اس کے بعد فہیم نے اپنے ایک قریبی دوست سے ایک پرانا آٹو رکشہ قرض پر لیا کہ کم از کم بچوں کا پیٹ تو پال سکیں۔

دوسری جانب فہیم کرائے کے گھر میں رہتا تھا اور مختلف لوگوں سےقرض لے چکا تھا۔ اسی ماہ اس نے اپنے تین بچوں کو سکول داخل کرانے اور مکان کاکرایہ دینے کیلئے اپنی بہن سے قرض لے رکھا تھا۔

یوٹیوبر عبید بھٹی نے اس اخبار جس میں فہیم ملازمت کرتا تھا اور اسے نکال دیا گیا تھا، اس خبر کی خبر شئیر کی اور لکھا کہ اسی سلطان علی لاکھانی کے اخبار "ایکسپریس نیوز" نے خودکشی کرنے والے اپنے ورکر کی خبر یوں لگائی ہے، ملاحظہ ہو۔


عبید بھٹی کا کہنا تھا کہ صحافتی تنظیمیں جو دراصل مالکان اور سیاستدانوں کی چاکری کرتی ہیں مال اکٹھا کرتی ہیں۔ وہ اس پر بھی حکومت کو گالیاں دے رہے ہیں جیسے اس صحافی کی تنخواہ حکومت کے ذمہ تھی۔

فہیم کے قریبی ساتھی محمد عمیر کا کہنا تھا کہ فہیم اورمجھ سمیت ایکسپریس کے سینکڑوں صحافیوں کوکم اشتہارات ملنے کے نام پر نکالا گیا۔اربوں کے اشتہارات کے باوجود ایکسپریس میں 8 جنگ میں 10 سال سے تنخواہ نہیں بڑھی۔جو اپنے ورکر کو حق نہیں دیتے وہ کسی کےحق کے نام پردھندہ کرتے ہیں منافقت کرتے ہیں ۔صحافی تنظیمیں بھی مالکان کی محافظ ہیں


صحافی عمرانعام کا کہنا تھا کہ ایکسپریس گروپ کے مالک سلطان لاکھانی پاکستان کی 14ویں امیر ترین شخصیت ہیں۔ وہ میکڈونلڈ پاکستان سمیت درجنوں کاروبار کرتے ہیں۔ انکے اخبار سے نکالے گئے فہیم نے کل بھوک سے تنگ آکر خودکشی کرلی۔ بڑی صحافتی تنظیموں اور پریس کلبز والے سالانہ کروڑوں کماتے ہیں لیکن فہیم جیسوں کو بیچ کر

 
Advertisement

Okara

Prime Minister (20k+ posts)
When workers were not getting paid then where were those billions going ????...... :(
Lets assume if my employer is not paying me salary of one month, how can I expect will pay for a year? Also why its employer's responsibility to feed someone if he has billions? Keep in mind this gentleman was unable to run a small business as a Rickshaw owner operator why we believe he was a good journalist?
 

Sonya Khan

Minister (2k+ posts)
Lets assume if my employer is not paying me salary of one month, how can I expect will pay for a year? Also why its employer's responsibility to feed someone if he has billions? Keep in mind this gentleman was unable to run a small business as a Rickshaw owner operator why we believe he was a good journalist?


May Allah forgive his suicide ...... He was not paid for months while under contract...... This is solely the responsibility of the owner ..... Either the owner has to declare bankruptcy or pay his employees according to contract / revised contract.....
 

Okara

Prime Minister (20k+ posts)
Lets assume if my employer is not paying me salary of one month, how can I expect will pay for a year? Also why its employer's responsibility to feed someone if he has billions? Keep in mind this gentleman was unable to run a small business as a Rickshaw owner operator why we believe he was a good journalist?


May Allah forgive his suicide ...... He was not paid for months while under contract...... This is solely the responsibility of the owner ..... Either the owner has to declare bankruptcy or pay his employees according to contract / revised contract.....
I agree the outstanding dues must be paid. If employer was not then courts should but sadly our courts are busy with more pressing issues. Like our SCP took nearly two years on Qazi Faiz Essa case to give final verdict that no one can investigate a judge on any crime.
 

Nebula

Senator (1k+ posts)
It's painful news. How many daily die because of helpless situations. If it's sharia law he will get justice. And every one knows what the law says. Qazi will do justice and only justice.
 

abdlsy

Prime Minister (20k+ posts)
Lets assume if my employer is not paying me salary of one month, how can I expect will pay for a year? Also why its employer's responsibility to feed someone if he has billions? Keep in mind this gentleman was unable to run a small business as a Rickshaw owner operator why we believe he was a good journalist?
Waesae bhee rizq allah daetaa hae khudkushi not allowed. Allah purr bharosa kurta try kurta bevee buchoun kee qaatirr jaldi haar gaya many go thru ups n downs but we have allah
 

back to the future

Chief Minister (5k+ posts)
I agree the outstanding dues must be paid. If employer was not then courts should but sadly our courts are busy with more pressing issues. Like our SCP took nearly two years on Qazi Faiz Essa case to give final verdict that no one can investigate a judge on any crime.
Then it is responsibility of state Govt to see whether its pupil are properly educated and then employed

this is the basic function of Govt
 
Sponsored Link