میں راغب دین کیوں ہوا ؟

jani1

Chief Minister (5k+ posts)
میں راغب دین کیوں ہوا ؟

اپریل دوہزار بیس کی بات ہے، جب کرونا نیا نیا دنیا میں آیا تھا، اور میں کینیڈا جاکر پھنس گیا تھا، کہ میری ملک کی واپسی کی فلائیٹ سے دو دن قبل ہی فلائیٹیں منسوخ ہوگئیں تھیں۔
اللہ رب العزت کے کرم سے ملک اگر نا آسکا تھا مگر اس نے دوسری طرف نکلنے کا رستہ کھول دیا تھا۔ ۔ سفر اگرچہ لمبا تھا ، ۔براعظم امریکہ سے چین آنے میں ، صرف ہوا میں کوئی بیس گھنٹے لگ گئے تھے، ایئر پورٹ پر خوار ہوئے وقت کے علاوہ۔

انگریز دور سے صاف دکھتے ہیں مگر قریب سے اس کے الٹ ہوتے ہیں۔ اور اسی کا نمونہ میں نے کینیڈا کی لوکل فلائیٹ میں دیکھا۔۔ جہاز کی حالت کیا بتاوں، بعض سیٹوں کے تو گدے بھی غائب تھے۔ یا اکھڑے ہوئے تھے۔۔ خیر۔۔

کرونا کو بھی انہوں نے اسی انداز میں ہنڈل کیا۔۔ یعنی مس ہینڈل کیا۔۔ جس کی وجہ سے میں بھی اس مرض کو اس جہاز سے اپنے ساتھ لیئے دوسرے ملک پہنچا ۔ وہاں انہوں نے کوئی گیارہ دن ہسپتال میں رکھے رکھا۔ اور جب صحت یاب ہوا تو رخصت دے دی۔۔

اگرچہ مذہبی قسم کے گھرانے سے ہونے کی وجہ سے نماز روزہ وغیرہ کے بچپن ہی سے بابند تھے۔۔۔ مگر ہسپتال کے اس قید کے دنوں میں ، میں نے اپنے رب سے وعدہ کیا کہ خود میں تبدیلی لاونگا، اور اس رب کے دین کی خدمت کرونگا۔۔۔۔مگر کیسے۔۔؟ ۔۔

ہسپتال سے نکل کر ذہن میں اپنا وعدہ یاد آتا تو یہ سوچ کر سر جھٹک دیتا کہ حرام سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔۔نماز پڑھتا ہوں۔ اور کیا کروں۔۔مگر یہ شیطان کا جال تھا۔۔ جو وہ نہایت نرمی سے مجھ پر ڈال دیتا اور میں پھر سے غافل ہوجاتا۔۔

غافل سے مراد۔۔ نماز پڑھو مگر جب فرصت ملے۔۔۔اور جو پڑھو تو اکثر دیہان کہیں اور ہو۔۔اس کی کتاب کو ہاتھ لگائے مدت گزر گئی ہو۔۔گالی کے بغیر گپ شپ بے مزہ لگے۔۔ اپنی ہی دنیا میں مگن رہو، جیسے باقی لوگ زمین پر ہیں ہی نہیں۔۔اس رب سے تنہائی میں بات کیئے زمانے گزر گئے ہوں۔۔اور بہت کچھ۔۔۔

اسی طرح کرتے کرتے ایک اور اپریل آیا مگر اس اپریل کے آنے سے پہلے میں کچھ الگ الگ سا محسوس کرنے لگا تھا۔۔ جیسے دنیا سے دل اچاٹ ہوچکا ہو۔۔جو نہ کسی نیئےکپڑے جوتے نہ الیکٹرانکس نہ کسی نئی گاڑی وغیرہ سے مرغوب ہو۔۔۔ اور کسی ایک طرف کو نکل جانے کو جی کرتا تھا۔۔کہ۔

اپریل کی دوسری تاریخ تھی۔ میں نے وضو کیا اور جائے نماز جو بستر پر پڑا تھا، کو اٹھانے کے لیئے ہلکا سا جھکا ، تو کمر پر جیسے بجلی گر گئی ہو۔ خود کو سیدھا کرنا چاہا پر نہ کرسکا۔ ۔ بیڈ قریب ہی تھا اس پر خود کو گرا دیا۔ اور چند منٹ تک تو سمجھ ہی نہ سکا کہ ہوا کیا ہے۔ ۔ تھوڑی دیر بعد جب اپنی حالت کو سمجھناشروع کیا تو ، ایک دم سے انالله وانا اليه راجعون، استغفار ، اور یونس علیہ سلام کی دعا زبان پر آگئی۔

حالت ایسی تھی کہ جس میں انسان نہ کھڑا ہوسکے نہ بیٹھ سکے۔لیٹنے کے سوا چارا نہ تھا۔۔ ۔ باقی وقت تو آدمی لیٹ کر گزار بھی لے مگر رفع حاجت کے وقت کیا کرے گا۔ ۔ ایسی حالت میں سب سے بڑا مسٗلہ ٹوئیلٹ کی سیٹ پر بیٹھنے کا ہوتا ہے،۔ جسے ہم صحت مند لوگ مفت میں عطا کی گئی سہولت سمجھتے ہیں۔ اور کھبی نہیں سوچتے کہ یہ چھن بھی سکتی ہے۔

خیر ۔ رب العالمین کے فضل سے ٹوئلٹ کا مسٗلہ دو تین دن ہی رہا یعنی بیٹھنا مشکل تھا،۔ مگر چار دن تک بیٹھنے کی ضرورت بھی نہیں آئی۔۔ کیونکہ کھانا انتہائی کم اور محتاط کر دیا تھا۔ جہاں تک چھوٹے کی بات ہے ، وہ مرد حضرات کھڑے ہوکر بھی کرسکتے ہیں۔

تقریبا ایک ہفتے بعد میں چل پھرنے لگا۔ اور تقریبا ایک مہینہ آرام کے بعد کام پر واپس جانے لگا۔ ۔ اس ایک مہینے کےدوران اللہ رب العزت نے قرآنی تفاسیر ۔۔مستند علما کی دروس کی ویڈیوز۔۔ اور دیگر دینی علم کی طرف راغب کیا۔۔ یہ بات سو فیصد سچ ہے کہ دنیائی علم چاہے پہاڑ جتنا بھی حاصل کرلو۔ جب تک تم اپنے رب کو نہ پہچان لو۔ جب تک یہ نہ جان لو کہ وہ تم سے چاہتا کیا ہے۔ تم جاہل کے جاہل ہی رہو گے۔۔ یہ انہی دنوں جانا۔۔۔

یعنی دین صرف نماز روزہ زکوۃ کا نام نہیں بلکہ اس کے علم کو حاصل کرنا، اور ساری زندگی حاصل کرتے رہنا اور اسکے مطابق زندگی گزارنا ہی اصل دین ہے۔ کیونکہ جب آپ صحیح علم حاصل کرلیتے ہیں ، ایک تو آپ کو آسانی ہوجاتی ہے۔ اور آپ یہاں وہاں کے قصوں کہانیوں سے بچ جاتے ہیں۔جس سے دینی فرائض سر انجام دینے میں آسانی ہوجاتی ہے۔۔۔ تو دوسرا آپ میں تقوی آجاتا ہے۔۔ اور راہ چلتے آپ کی آنکھ بے حیائی کی تلاش میں نہیں ہوتی بلکہ اس سے بچنے کی کوشش میں ہوتی ہے، ۔ آپکی نماز آپکی دنیائی وقت کے گرد نہی بلکہ آپکا دنیائی ٹائم ٹیبل نماز کے گرد گھومتا ہے ،کہ کس نماز کے وقت میں کہاں ہونگا۔۔جسے پڑھ سکوں۔ ۔ مثال کے طور پر ۔ عصر کا وقت قریب ہوگا تو آپ اس سے فارغ ہوکر نکلیں گے۔۔ یا پھر دو نمازوں میں اتنا وقت رکھیں گے کہ دوسری نماز کے وقت آپ یا تو واپس آسکیں یا پھر ایسی جگہ پہنچ جائیں جہاں اسے ادا کرنا ممکن ہو۔۔۔نماز کے علاوہ ۔ صحیح علم حاصل کرنے سے آپکی کوشش ہوگی کہ کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکلے جس پر پکڑ ہو۔۔ یا کوئی ایسی غزا منہ میں نہ جائے جو عزاب کا باعث بنے۔۔۔ غرض یہ کہ آپ حق داروں کے حقوق ادا کرنے کا سوچنے لگ جائیں گے۔۔ ماں باپ بیوی بچوں ۔۔ پڑوسیوں ۔۔ غربا و مساکین اور یتیموں کا غم آپ کو ستانے لگے گا۔۔ غرض یہ کہ آنکھ کھلنے سے بند ہونے تک آپ کی زبان اپنے رب سے رابطے میں ہوگی ، آنکھ اسکی محبت میں نم اور دل نرم ہوگا۔۔۔

یہاں یہ بات ضرور جان لیں کہ۔۔ اگر آپ کسی عالم کو دیکھیں کسی نمازی کو دیکھیں کسی حاجی کودیکھیں۔۔ کہ وہ رب کی عبادت کرتا ہے مگر اس کے اطوار اس عبادت کی گواہی نہ دیں ۔۔ یعنی، اس کے لوگوں سے ڈیلنگ ہتک آمیز ہو، اپنی کسی رتبے کی وجہ سے، اسکے رشتے داروں میں وہ حق تلف مشہور ہو۔۔ اس کی زبان ایسی ہو کہ منہ کھولے تو بدبو آئے۔۔تو ایسے شخص کی کوئی عبادت قابل قبول نہی ۔۔ رسول اللہ ﷺ نے کچھ اسطرح فرمایا (میرے اپنے الفاظ میں) اگر تمہارے اعمال میں تمہاری عبادت کی جھلک نہی تو سمجھو کہ تمہاری عبادت قبول نہیں۔۔

جیسے پہلے ہی عرض کرچکا کہ بندہ ناچیز رب العالمین کے فضل سے حرام کاموں سے بچنے کی کوشش پہلے بھی کرتا تھا، مگر وہ کوشش کافی نہ تھی ، اسی لیئے رب نے اپنی راہ پر لانے کے لیئے مجھے اس سختی سے گزارہ۔۔۔یعنی جب بھی انسان کو جھٹکہ لگے۔۔اسے برا سمجھنے کے بجائے اس رحمٰن کا اپنی طرف بلاوا سمجھنا چاہیئے۔۔۔ ۔۔۔۔اب بھی کمزوریاں ہیں۔۔مگر کوشش جاری ہے کہ صراط مستقیم پر چلوں۔۔۔ پہلے بھی سکون تھا مگر اب اور طرح کا سکون ہے۔۔ کیونکہ ہر وقت اس سے رابطہ رہتا ہے۔۔ خاص طور پر سفر میں یا بستر پر۔۔۔ورنہ ایسے بدقسمت لوگوں کو بھی میں جانتا ہوں کہ جو مسلمان ہوکر،ستر سال کراس کرجاتے ہیں اور اسی کے قریب تک انہیں رب یاد نہیں آتا ،اور اسی حالت میں۔دماغی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔۔ جنہیں نہ اپنے پاخانے کی سوچ رہتی ہے نہ کسی کو پہچانتے ہیں۔۔ایسا وقت آنے سے پہلے سوچیئے ۔۔

۔ آپ مسلمان بہن اور بھائی، جو بھی اس تحریر کو پڑھ رہےہیں۔ اگر آپ کی زندگی پریشانیوں میں گری ہے۔۔ اور آپ ہر وقت وسوسوں میں ڈھوبے رہتے ہیں تو۔۔ شروعات اللہ کے ذکر سے کیجیئے۔۔ بستر پر لیٹنے کے بعد ذکر کرتے رہیئے، یہاں تک کہ نیند آجائے۔۔۔۔ اور آنکھ کھلنے کے بعد ۔۔ بستر سے اٹھنے سے پہلے اپنے رب کو یاد کریں اور اس سے خوب مانگیں۔۔ اس جہان اور اس جہان کی عافیت۔۔ انشا اللہ دن اچھا گزرے گا۔۔ اور اگر کوئی پریشانی آئے گی بھی،تو وہ رب آپ کو اسے سہنے کا حوصلہ دیگا۔۔ اس کے علاوہ اس کے دین کے صحیح علم اور ہدایت پانے کی دعا کرتے رہیں۔۔ چاہے آپ خود کو کتنا بھی صحیح سمجھیں۔۔ پھر بھی کھلے دل کے ساتھ ہدایت کی دعا کرتے رہیں۔جزاک اللہ۔۔

 
Featured Thumbs
data:image/jpeg;base64,/9j/4AAQSkZJRgABAQAAAQABAAD/2wCEAAoHCBYSEhgVEhUSFRISGBIRERESEhEPEhERGBQZGRgUGBgcIS4lHB4rIRgYJjgmKy8xNTU1GiQ7QDszPy40NTEBDAwMEA8QHhISHjQrISw0NzQ0NDQ0NDQ0NDQ0NDQ0NDQ0NDQ0NDQxNDQ0NDQ0MTQ0NDQ0NDQ0NDQ0NDQ0PzQ0P//AABEIAI0BZQMBIgACEQEDEQH/xAAbAAABBQEBAAAAAAAAAAAAAAAAAgMEBQYBB//EAEgQAAIBAwEEBQcHCQUJAAAAAAECAAMEERIFITFBBhNRYYEHIjJScZGhI0JykrGysxQkJTRic5PR0jNTY8HhFTWCg6K04vDx/8QAGQEAAwEBAQAAAAAAAAAAAAAAAAECAwQF/8QAKREAAgICAgEEAQMFAAAAAAAAAAECEQMSITFRBCJBcRMyQmEUI7HB0f/aAAwDAQACEQMRAD8Ay9DfJqU5WW1bEtKD5nHJHbySqNPfLS3SQaRljbb5m4g5OibQbEsqVbdiQ6CCTqVOZygiJSXySaSgySLcHhI9JMSxoCZOLJc2uURDR7otLfVLRFj6JLhhk+i16l10Vi2B7JLoWuOUnKI4Fmr9NIzl6iUuxlaQjgEcCw0xrBJcmblYgiM12wO+SCsQyZkTxS8BFqzN3CHJkV6U0laxDd0YOyx2/CZ018HfD1Ma5M29GMGi01P+yhniceyOrstR2xpvwX/VQRmLZWB3A59kwvlZ/WE+nT/Dpz2dLZF5ATxryvjFdPpp+Gk7vRfu+jg9XmWSSpeSl8rA/Ox7a33xLPpn+qWZ/wAPZv4MrfKx+tj21vvCWnTIfmdn+72b+FO99y+jkiv0m76P2+ukmrhp/wApYVrEZ3RrYbfm6fREscTx5J2ewmzP19luT5ozIb2LjiDNraW5zqO4D4yFesS3DhnG7ELkhRmpSpGVFBvVJ9gzHqFm7nzVYy61gKRje3Mbt0Xs4kOMHHKPZ+C2qsiW2w3b0vNHfxlnT2KQPS8QTLqkulQCc98S9QDnKpNW2cn553SKpNjgHLHJklbdVGAB7oV7kAc5SXt8+rCg47hmNKJVTn2y0qYEjVCJWKrsMsWHcYVXdRgb/GXSKUK+RVyAZV1KaE7iMzldmwdTY47hK8VAvGPXjgtLyP1W0cB4yturpuZibu8J4bhKutVJ4mCxN8sHJLhHK9YnfmQzVhVaRXlaJCcgrPIzDMdIiCIa0Q5WMFJyPaYQoLC3qCW1vVEoU3SdQeEo2XE0dF8yZRqESjt6/fJ9KrmZatFao0Vpdy5tbkGZO2eXVo8mUTOeJM0tHfJlMSntX4S3otCMeeTknHUloJIWR0MfQzpg0ujKx9RFiNq0WDNNkMWIRIMVmArOwnIQodnMThEXOEzOUI9lWIJxEkxiuT2xvrGxjPjOOTb6NFG0cuyTunjflg3V0/eJ+Ek9kVCTPHfLH/br+8T8JP5Tr9Gq2+jPNSaX2U3lY/Wl9tb7wln0vObGyPbS2b+HKzyrj85X21vvLLLpaPzGy/dbM/CM7n3L6MF1E9Q6P0M26YHzRL2jbhN5lZ0bbTaIeekQudoE7s+E8ulZ6C2nwuixq3ygSjuq5Y5jdS4Eh1biWortm0YKHR13lhs4jnvPZKbXkxxrrqxhWBzx7YpR+EUlaNDc3oC43+EqmvEB3692/icSlq3hzxMEq5jjh8iWqVIuk2lqOCMDkecHu94xgDmT2StQidd5X4PAtkT6twBwOZHrVxiVdS6xwMg170y1iE5Dl/dCZy5vTnjHby4JlHWfJmqikRZLa5zziDWleak51sdCJrNmNmMCrA1ZLQDzRBMZetGGryXECVuhInXQipjOo3aI+hI34jSntkmlUhTRakhynVk23uDIeAY9TENUwsvrW57Zb2t1MvRJljbuZm4FWbG0uMy4o3GJibW4I5y5sqpJ4xamU4KRrbepkSUhlRaV+AlkjyLpnFOOrJaxYMYR44GnXFpozsdBisxoNO5lUOxwGdjYad1QoLF5iWGZzVOapMkmqYbHDRE6KYEaqVwOcFrg85jrBfBe0qHNwni3lmT5VT/iJ+Es9lb24nlHlkt8lD21F/B/0m2Cua8Ey+GZryu08XK/80/FZY9ME/MLM8uq2Z+HOeWKh+c0z2rWPuNP+cl9LKX6Lsj/AIezB/0Td9v6/wBEpcR+z0PY9bFrT+iPskas654Q2U35tT+iPsg+nmJ5jXJ6mGlEjsMndHlsgeMbYjlHKdQDjGbSlwD2K+2VtzbAcBLoVR2xiq6HlNIrkz3dUyiFCLWliWismeHwzOVK1Pu92JrZm2VjNiRatUyZcunIyEUBmsXZLIbAk84xUWWLgCQLp5pqRKVFPeylqnfLe5XMraqRNCUiC0bzJTpGWSS0VY3qhrnHWMtJYzrvGC0UZzEGBzVCd0QkhY+Hj1N5HWPKICJSOZJR5DUSbQTv+EVlIl0aknUqkiU6I7fhJdKmo4EyXJBbJ9FzLexY5lVbUyeA+Mt7amw5fYZMpKuAcq7Lu3rGWlvXzKOgT2yxoviY62c2WUWXSVI4tSVS3HfHVuJ0Qi6o5SzWpFCpK0V4rrpqotLgVlgHEVrld1s710Ht4CyazxJqHxkI3HtiWuB3/Gc7Tbux2PVgWOcYjDKw4e+Ja5A4mR6tUn0Tj4zOTaOiEm+CSA55mZTysW2qlRPPrB+E01NrqPMyp8pFLVQo/vB+G01wPlhm6RmPLBb/AC9A9qXB+NOSemFD9D2Z7tmj3JmTPKpR1VLf6Fx9tOO9LEzsa17vyD7gnRf+DL/pP2c/yCD9kfZFu45yHZqRTTfyEc60gbpwtcnowlSR1jngD743jw9pjFWoSfnRlnPNiPDJlxiytizURar7PbukCi37RPwinugO2aKDRDmSKlHvkKog7RI1e+J4SvrXR5mWohtXZPdR3RtqqrKSvekczIlS8PbN4R4MpSLqvcg8JX16sr2uzGmuczQzFXDyDUj7PmRqjyWhpjTRtli2eIZoqKTGnWR3SSmjLxUVsMaIaY4TOZktBYjEIuEmh2JRo4rSvF0ItbsTOxbFpTaS6VTEpFvRFi/ElsrZGlpVsybRdZk12kBHl2vjtmbTK2Rtraoo7vGWtvdrj0vjPOE20O+SE26v7UmiJRUvk9JS+Ttj4vk7Z5zT6RKOTfCSU6Sp3/CUnRj+FeT0NL1O2LN2P2Z50ekyd/wiH6Sry1RuX8iWFeT0NNp+zwaOjafhPNBt4E/O8ZKo7YXmxlLJ/I3iXg9AO1GHDzvYRFrtQ81OP85ik20nr/ZHV22nr/ERuafDYniXg1o2sOasPbicba68APeVmSqbWptxdfeJHbaNP1194iTh8sPxrwa+ptQcCB8JH/LxwIx4iZNtrJ62YldpKecr+35Gk10jbWd+CcaiPYT/ADlt03XVb0Ppr+G0wthfLnn4Cbrpc2bW3PayH30mlR1/aTO65IXlITL0Po1/tpw6VD9D2/d+RfdEd8ofp0Po1/tpxHSr/c9DuFl9gl/CM/llbRuvk1GobgN0YrVtXFiOzBmarbSKDcrnHHC7o0u2GPzKmOPo8pz6xvs6Yy4NK1wO0nxM6l53+/lM/d7QamVWpTdWdEqqp49W5IViOWdJ3GRzt1R8w+6WpRRW1msFxkb+PaTGnqdnjMy3SFOat4ATo6R0xybIminCiC7uBjzmO7fulHe7Qwd0hX3SVWzjMpm2mhOSGgnFdsJNlyKxedMp02sg9b4SQm1UPFgPaRNVkiQTWEa0mIO0afrr9Zf5zhv6frp9ZY94+RjhBiGSJ/L6frp9dYltoU/Xp/WEN4+RWDJGm3Tj3yeun1pHe6Q8HX3xOcRpi3eMvUjTV1Pzl98jvUHrD3yd0MeapEmtIrOO0RBqDti2QWS+vhIfWDtnIWh7EgUF7PjFC3Xs+JjYeK1zld+SbHVt07PiY6lunZ8YwrxQeJtjslLbp6ojgop6okVakWKnfJdhZLWknqr7o6tJPVX3CQxVi1qwHsyaqIPmJ7hHVVPVX6oletaO03LEBQWJ3AAFiT3ASabCyeoX1V9wkhqIFFq3mlabBXUAFlGM6yOzlK2uGpjLjTvC7yCQT2gGN3F2zIEBCpgawuQahByC54t7OHdKUUn7kJyb6LnZy06rorMiI7ANUYDSq824S02nSt7eur1PMty6p+TtvLjGAdY3gHGWO8YzjG6ZKmdI7vszLHY+xFu3JqO4oW666hByVDNhaaBshWZu7G4nlNcOqerV30RNvuyd0jrU6fyyMuusdSU00tSqDIBKgblUAcQcZ5Ey0tdiPUtUqgqKlXz6dJxgGhvAZm5FjwHYN/dltvbNS3qKyrinULKFJy1N1AOM/OBz2cvdZ07m5p2T1adVktkK0grYbU7sFYUc5KldQJIwN/M8NskYflqUa+iFKWvDNM/RnNBGpuorYL1BUA6r6AYcMc23g790yVK6RxkYOMjgCDg4yDzHYechW9eotBqK1qgpPuenqJRhnJGDwzzxjPPMRQAQYEwzRxNexclQcvllsjjkB7hNF0atEr1dFTGNLMqBlpmo4xpQMeBOT7pl7Qocmo7JjgEp9Yx97KB75d2d0xJWwoVWqc67r11Ze9FUaKX0jqIzuImWPFzbLlLgsKqtbXFSjUUjQzGmWABeiWOh927fjHgZq+mdTFnbntZPwmnmlOq2RrZmNMNTUOxYoA5JTfv9Inxm76eV8WNqe00/+3YzohFJujOUvaP+Uh8PQ4ejX+2nHOkx/Q9Hh6Nn9iyt8qdbD2/0a/205P2+jVNjWyoCzutiFVRkliE3ATWuEZ7dsylbagQAULekGAHylYG4qasb2AbzF38sGI2Wr3N3Ta4YuXemjk4GU1+gANwXedwHMzX2fQhNANd3FTAytMppXuJKnV8JUnYzWd3RDedTerT6uqBgZ1jzWHJse+ZODfwP8iTorfKTTxtHPbQoj2YeoJi624zd+UamzbQQKGZmooqqoLFjrqbgBxMwNzxmebHJu0XinwNuI2y/+5iS84akw0mjosS69hMQxbtBii0SWj5QWNljzUH3GILD1R9UR3juG8ncAN5JPAS7rWNKgoSpoNQ7qjO2FRiPQQcCRzbfv4Ym2PHKfRnKaRniqn5q+6NNTX1RJ+0bI0/PXJpnt3lM8DnmJCwD/wDY5RlB0wUlLoaaivZEGgseKRplME35HwNm3XtPwnDQHbOsCIgkylYHDR74g050sYnUZSsRzTOYhmGYxHIQhGA+HnQ8YBhmTqBJDzuuRg07qi1CyUHihUkPVFa4tRkwVIoPIPWRQqSdBk4VZqNmKKVBG4VbvXhvUpLqwoPLUVOfYBMUKk0u1mP+z7Vgd6qcEHBGKtTG+b4IpNyfwjOb6RNq0esV0bGlhhSvpA9p+EgJs1wMF09zSrG2K2PTBxzKrqODwJk65vrmm4V6aq7acLpYk6uC7m9Lfw4zWTxz7TISkumXNxbarVaCHS2patR24PUG4Dd80LkD2mP0bPNjUti/n1Kq1i49HSiAIh5neWPjKS/ubm3YhxTPDUVBZUON6cd2Pt5xi225cu2lEV246Upuxx24B4Sl+KLVp3VCqTXDNDtbZT3HUqKi6LemlPL6mZ3x5ztjdyAHcJdXNn1uzadmGAemrjWc6CzXBqAgceGB4TGXG37ikwVhb6sZIX5THc2liAe6CdLbhST8ic4ABQ4XGd4w2cnO/Mpzw3bTsWs6o2Gzejy07SvTZka4rhUSqVOiiinVlc79RYbyOQkh+i4a0pUkZFrJUNWvXKk61KsoReeACDv5jMxidM7kHPyGMY0lGxnPHjnPjHqfTi5Gc9QcnO9H80dgw3D25iT9N4YVkZutsdF1rVqbUXSlRp06dDRoJcqrEl924sdR3mayk629NKdvTHVqyqy6wjBT6VRjjz25neM8jPHl6eXIGPkOGnV1b6uHH08Z8IjZ/TW5o0zTLLUQqyoagJemSOIYHfxzhs+EV4U+CJRyPhm42j0RZ69SpSq01p1GZwjq+UdjlsY3EZJPjFeUi6C2dqmd6OiE8ASlBlJ9kxFDp3dU6aIppEU1VA7IWdlUYGo6t5xzlbtrpHWu9BrFMU9RRUXSMsBknecndIlLFTcexqM7SfR610yt1uto2lu3out2GI4jTSRwT3ZWXaVHS0p0aT01q06dKkKjKWRWVArMq+G7MwXlF229rf0alIqHprXUFl1rh6dNWBGewzODp3detR/hn+qUnBP3eETKMmvaejWHR+sj9YLw9YTqZ9LtqP7QLbx3GaLbGGtzr06k6uoGG4CojqwI7N4+M8fpdPbr1qX8P/yktemVatpSs6CkWpmoUp4bQrBjz4buEuKjJ+0wljyI9Eu9J2izEA1EtdVI81+UIYgduDx9swF30OfU2KtPBZio0vkKWJA9xmi2bcPUuKt/VU06Jp1EpI+5np6dxA9UAEk8MndmYe46bXJ/uhnl1Z/qnTijGvd1wPGpp8Eh+h7/AN5T9zxluidQfPp+55DbppcdtH+Gf6o23TO4POj/AAz/AFTRr03ydKeXyO1OjrrxdPANIzbJYfOT3NGKnSi4biaX1D/ORG27WPqfU/1nDlXpr9qLX5Plmk6tVegyj9WU4BA8+qd5c/8AFv8AASpvdlPVcu7gg5wMMcDMrKW16qg+cp1HV5y5wewdg7pIobRuH9BQ3eqEge05wJO+OqoNZItra10U3SowemykqMEFGxvwTyxy7hMvTfzRmT77aFZRpc0ssCCq6XKjhvIJAMqg0yy00kio2uyR1mOUSz90a1w1zHU0sUXESSO+ILxBMpIQtjEETmYZjoRyEDCMAhCEAAQgIQAIQhAAnczkBAAzCEIAdBlxfbUD2tCioPyQfrCdwLNUZlA7sGU8I02roGrJFncmlURwFYoyuFcalJByMjnLq+6RaxqRWWozamLEOFOc5U8/GZ2cjjJroTSZdXm22qU9IUKzbnYHII7geGZAp3rrTNNXKox1MqnAY4xvI3n2cJFhBtvlglR3VOh4iEihjnWTvWxqEKQDvWzvWxmEKQD3WzjVMxqdEdIDd+VG41XKn6Xxp0pihWmo8obZuB4/cpzIzTKvcyMfSLGwdDUXri609+s0gr1MY3aQxA44G8z0PYm0Nl0gGQjrFwddyru6sOYyugH2CeV5ig5lYZxg+UEo7HpXS/pilam1K3JYPuqVTlRoz6C53nPb2Tz2vcZ3CRy57YmVlzbcLoIQUR0PA1IzCcxoOaoao3CFATre8FNTinTZiQQ7jWUA5Kp3eJBiLi/qVBhnYj1c4X6o3SJCNcCFZnMzkIABnczkIAEIQgAQhCABCEIAEIQgAQhCABCEIAEIQgAQhCABCEIAEIQgAQhCABCEIAEIQgAQhCABAQgIAa3yg/248fuU5kprPKB/bjx+5TmTmuX9bJh+kIQhMighCEACEIQAIYhCABiEIQAIQhAAhCEACEIQAIQhAAhCEACEIQA//9k=
Last edited:

jani1

Chief Minister (5k+ posts)
جو لوگ شارٹ کٹ کی تلاش میں ہیں جنہیں عبادات بوجھ لگتی ہیں اس لیئے وہ بہانے بناتے ہیں کہ احادیث کا کیا کرنا۔۔
دوسرے شارٹ کٹی وہ ہیں جو خود عبادات نہیں کرنا چاہتے۔۔ اسلیئے انہوں نے کسی اللہ کے (زندہ یا مرے) بندے کو اپنا ایجنٹ بنایا ہوا ہے۔۔ کہ یہ ہمارا معاملہ فٹ کرادیگا۔۔

یہ دونوں اپنی اپنی انتہاوں کو پہچ گئے ہیں۔۔جبکہ اسلام درمیان کے رستے پر چلنے کی بات کرتا ہے۔۔
 
Last edited:

monkk

Senator (1k+ posts)
MashAllah - simply start following Sunnah in everything u do, in sha Allah everything becomes easy :)
also its very important to read quran. This book can rewire an adult brain.
Its a miracle for a reason. May allah(swt) guide us all.
Also google "arabic for urdu speakers pdf" urdu speaker can learn arabic with out much difficulty.. understanding quran when its read.. is very rewarding.
 
Last edited:

optimist_

Voter (50+ posts)
also its very important to read quran. This book can rewire and adult brain.
Its a miracle for a reason. May allah(swt) guide us all.
Also google "arabic for urdu speakers pdf" urdu speaker can learn arabic with out much difficulty.. understanding quran when its read.. is very rewarding.
JzkAllah khairan for the "arabic for urdu speakers pdf"
 

brohiniaz

Chief Minister (5k+ posts)
میں راغب دین کیوں ہوا ؟

اپریل دوہزار بیس کی بات ہے، جب کرونا نیا نیا دنیا میں آیا تھا، اور میں کینیڈا جاکر پھنس گیا تھا، کہ میری ملک کی واپسی کی فلائیٹ سے دو دن قبل ہی فلائیٹیں منسوخ ہوگئیں تھیں۔
اللہ رب العزت کے کرم سے ملک اگر نا آسکا تھا مگر اس نے دوسری طرف نکلنے کا رستہ کھول دیا تھا۔ ۔ سفر اگرچہ لمبا تھا ، ۔براعظم امریکہ سے چین آنے میں ، صرف ہوا میں کوئی بیس گھنٹے لگ گئے تھے، ایئر پورٹ پر خوار ہوئے وقت کے علاوہ۔

انگریز دور سے صاف دکھتے ہیں مگر قریب سے اس کے الٹ ہوتے ہیں۔ اور اسی کا نمونہ میں نے کینیڈا کی لوکل فلائیٹ میں دیکھا۔۔ جہاز کی حالت کیا بتاوں، بعض سیٹوں کے تو گدے بھی غائب تھے۔ یا اکھڑے ہوئے تھے۔۔ خیر۔۔

کرونا کو بھی انہوں نے اسی انداز میں ہنڈل کیا۔۔ یعنی مس ہینڈل کیا۔۔ جس کی وجہ سے میں بھی اس مرض کو اس جہاز سے اپنے ساتھ لیئے دوسرے ملک پہنچا ۔ وہاں انہوں نے کوئی گیارہ دن ہسپتال میں رکھے رکھا۔ اور جب صحت یاب ہوا تو رخصت دے دی۔۔

اگرچہ مذہبی قسم کے گھرانے سے ہونے کی وجہ سے نماز روزہ وغیرہ کے بچپن ہی سے بابند تھے۔۔۔ مگر ہسپتال کے اس قید کے دنوں میں ، میں نے اپنے رب سے وعدہ کیا کہ خود میں تبدیلی لاونگا، اور اس رب کے دین کی خدمت کرونگا۔۔۔۔مگر کیسے۔۔؟ ۔۔

ہسپتال سے نکل کر ذہن میں اپنا وعدہ یاد آتا تو یہ سوچ کر سر جھٹک دیتا کہ حرام سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔۔نماز پڑھتا ہوں۔ اور کیا کروں۔۔مگر یہ شیطان کا جال تھا۔۔ جو وہ نہایت نرمی سے مجھ پر ڈال دیتا اور میں پھر سے غافل ہوجاتا۔۔

غافل سے مراد۔۔ نماز پڑھو مگر جب فرصت ملے۔۔۔اور جو پڑھو تو اکثر دیہان کہیں اور ہو۔۔اس کی کتاب کو ہاتھ لگائے مدت گزر گئی ہو۔۔گالی کے بغیر گپ شپ بے مزہ لگے۔۔ اپنی ہی دنیا میں مگن رہو، جیسے باقی لوگ زمین پر ہیں ہی نہیں۔۔اس رب سے تنہائی میں بات کیئے زمانے گزر گئے ہوں۔۔اور بہت کچھ۔۔۔

اسی طرح کرتے کرتے ایک اور اپریل آیا مگر اس اپریل کے آنے سے پہلے میں کچھ الگ الگ سا محسوس کرنے لگا تھا۔۔ جیسے دنیا سے دل اچاٹ ہوچکا ہو۔۔جو نہ کسی نیئےکپڑے جوتے نہ الیکٹرانکس نہ کسی نئی گاڑی وغیرہ سے مرغوب ہو۔۔۔ اور کسی ایک طرف کو نکل جانے کو جی کرتا تھا۔۔کہ۔

اپریل کی دوسری تاریخ تھی۔ میں نے وضو کیا اور جائے نماز جو بستر پر پڑا تھا، کو اٹھانے کے لیئے ہلکا سا جھکا ، تو کمر پر جیسے بجلی گر گئی ہو۔ خود کو سیدھا کرنا چاہا پر نہ کرسکا۔ ۔ بیڈ قریب ہی تھا اس پر خود کو گرا دیا۔ اور چند منٹ تک تو سمجھ ہی نہ سکا کہ ہوا کیا ہے۔ ۔ تھوڑی دیر بعد جب اپنی حالت کو سمجھناشروع کیا تو ، ایک دم سے انالله وانا اليه راجعون، استغفار ، اور یونس علیہ سلام کی دعا زبان پر آگئی۔

حالت ایسی تھی کہ جس میں انسان نہ کھڑا ہوسکے نہ بیٹھ سکے۔لیٹنے کے سوا چارا نہ تھا۔۔ ۔ باقی وقت تو آدمی لیٹ کر گزار بھی لے مگر رفع حاجت کے وقت کیا کرے گا۔ ۔ ایسی حالت میں سب سے بڑا مسٗلہ ٹوئیلٹ کی سیٹ پر بیٹھنے کا ہوتا ہے،۔ جسے ہم صحت مند لوگ مفت میں عطا کی گئی سہولت سمجھتے ہیں۔ اور کھبی نہیں سوچتے کہ یہ چھن بھی سکتی ہے۔

خیر ۔ رب العالمین کے فضل سے ٹوئلٹ کا مسٗلہ دو تین دن ہی رہا یعنی بیٹھنا مشکل تھا،۔ مگر چار دن تک بیٹھنے کی ضرورت بھی نہیں آئی۔۔ کیونکہ کھانا انتہائی کم اور محتاط کر دیا تھا۔ جہاں تک چھوٹے کی بات ہے ، وہ مرد حضرات کھڑے ہوکر بھی کرسکتے ہیں۔

تقریبا ایک ہفتے بعد میں چل پھرنے لگا۔ اور تقریبا ایک مہینہ آرام کے بعد کام پر واپس جانے لگا۔ ۔ اس ایک مہینے کےدوران اللہ رب العزت نے قرآنی تفاسیر ۔۔مستند علما کی دروس کی ویڈیوز۔۔ اور دیگر دینی علم کی طرف راغب کیا۔۔ یہ بات سو فیصد سچ ہے کہ دنیائی علم چاہے پہاڑ جتنا بھی حاصل کرلو۔ جب تک تم اپنے رب کو نہ پہچان لو۔ جب تک یہ نہ جان لو کہ وہ تم سے چاہتا کیا ہے۔ تم جاہل کے جاہل ہی رہو گے۔۔ یہ انہی دنوں جانا۔

یعنی دین صرف نماز روزہ زکوۃ کا نام نہیں بلکہ اس کے علم کو حاصل کرنا، اور ساری زندگی حاصل کرتے رہنا اور اسکے مطابق زندگی گزارنا ہی اصل دین ہے۔ کیونکہ جب آپ صحیح علم حاصل کرلیتے ہیں ، ایک تو آپ کو آسانی ہوجاتی ہے۔ اور آپ یہاں وہاں کے قصوں کہانیوں سے بچ جاتے ہیں۔جس سے دینی فرائض سر انجام دینے میں آسانی ہوجاتی ہے۔۔۔ تو دوسرا آپ میں تقوی آجاتا ہے۔۔ اور راہ چلتے آپ کی آنکھ بے حیائی کی تلاش میں نہیں ہوتی بلکہ اس سے بچنے کی کوشش میں ہوتی ہے، ۔ آپکی نماز آپکی دنیائی وقت کے گرد نہی بلکہ آپکا دنیائی ٹائم ٹیبل نماز کے گرد گھومتا ہے ،کہ کس نماز کے وقت میں کہاں ہونگا۔۔جسے پڑھ سکوں۔ ۔ مثال کے طور پر ۔ عصر کا وقت قریب ہوگا تو آپ اس سے فارغ ہوکر نکلیں گے۔۔ یا پھر دو نمازوں میں اتنا وقت رکھیں گے کہ دوسری نماز کے وقت آپ یا تو واپس آسکیں یا پھر ایسی جگہ پہنچ جائیں جہاں اسے ادا کرنا ممکن ہو۔۔۔نماز کے علاوہ ۔ صحیح علم حاصل کرنے سے آپکی کوشش ہوگی کہ کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکلے جس پر پکڑ ہو۔۔ یا کوئی ایسی غزا منہ میں نہ جائے جو عزاب کا باعث بنے۔۔۔ غرض یہ کہ آپ حق داروں کے حقوق ادا کرنے کا سوچنے لگ جائیں گے۔۔ ماں باپ بیوی بچوں ۔۔ پڑوسیوں ۔۔ غربا و مساکین اور یتیموں کا غم آپ کو ستانے لگے گا۔۔ غرض یہ کہ آنکھ کھلنے سے بند ہونے تک آپ کی زبان اپنے رب سے رابطے میں ہوگی ، آنکھ اسکی محبت میں نم اور دل نرم ہوگا۔۔۔

یہاں یہ بات ضرور جان لیں کہ۔۔ اگر آپ کسی عالم کو دیکھیں کسی نمازی کو دیکھیں کسی حاجی کودیکھیں۔۔ کہ وہ رب کی عبادت کرتا ہے مگر اس کے اطوار اس عبادت کی گواہی نہ دیں ۔۔ یعنی، اس کے لوگوں سے ڈیلنگ ہتک آمیز ہو، اپنی کسی رتبے کی وجہ سے، اسکے رشتے داروں میں وہ حق تلف مشہور ہو۔۔ اس کی زبان ایسی ہو کہ منہ کھولے تو بدبو آئے۔۔تو ایسے شخص کی کوئی عبادت قابل قبول نہی ۔۔ رسول اللہ ﷺ نے کچھ اسطرح فرمایا (میرے اپنے الفاظ میں) اگر تمہارے اعمال میں تمہاری عبادت کی جھلک نہی تو سمجھو کہ تمہاری عبادت قبول نہیں۔۔

جیسے پہلے ہی عرض کرچکا کہ بندہ ناچیز رب العالمین کے فضل سے حرام کاموں سے بچنے کی کوشش پہلے بھی کرتا تھا، مگر وہ کوشش کافی نہ تھی ، اسی لیئے رب نے اپنی راہ پر لانے کے لیئے مجھے اس سختی سے گزارہ۔۔اب بھی کمزوریاں ہیں۔۔مگر کوشش جاری ہے کہ صراط مستقیم پر چلوں۔۔۔ پہلے بھی سکون تھا مگر اب اور طرح کا سکون ہے۔۔ کیونکہ ہر وقت اس سے رابطہ رہتا ہے۔۔ خاص طور پر سفر میں یا بستر پر۔۔۔ورنہ ایسے بدقسمت لوگوں کو بھی میں جانتا ہوں کہ جو مسلمان ہوکر،ستر سال کراس کرجاتے ہیں اور اسی کے قریب تک انہیں رب یاد نہیں آتا ،اور اسی حالت میں۔دماغی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔۔ جنہیں نہ اپنے پاخانے کی سوچ رہتی ہے نہ کسی کو پہچانتے ہیں۔۔ایسا وقت آنے سے پہلے سوچیئے ۔۔

۔ آپ مسلمان بہن اور بھائی، جو بھی اس تحریر کو پڑھ رہےہیں۔ اگر آپ کی زندگی پریشانیوں میں گری ہے۔۔ اور آپ ہر وقت وسوسوں میں ڈھوبے رہتے ہیں تو۔۔ شروعات اللہ کے ذکر سے کیجیئے۔۔ بستر پر لیٹنے کے بعد ذکر کرتے رہیئے، یہاں تک کہ نیند آجائے۔۔۔۔ اور آنکھ کھلنے کے بعد ۔۔ بستر سے اٹھنے سے پہلے اپنے رب کو یاد کریں اور اس سے خوب مانگیں۔۔ اس جہان اور اس جہان کی عافیت۔۔ انشا اللہ دن اچھا گزرے گا۔۔ اور اگر کوئی پریشانی آئے گی بھی،تو وہ رب آپ کو اسے سہنے کا حوصلہ دیگا۔۔ اس کے علاوہ اس کے دین کے صحیح علم اور ہدایت پانے کی دعا کرتے رہیں۔۔ چاہے آپ خود کو کتنا بھی صحیح سمجھیں۔۔ پھر بھی کھلے دل کے ساتھ ہدایت کی دعا کرتے رہیں۔جزاک اللہ۔۔



اللہ آپ کو استقامت عطا فرمائے آمین

يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِى عَلَى دِينِكَ
”اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جما دے“


ۭرَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًاوَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ

اے ربّ ! ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرماں بردار ہوں۔‘‘


شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی الله عنہا سے پوچھا: ام المؤمنین! جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے یہاں ہوتا تو آپ کی زیادہ تر دعا کیا ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: آپ زیادہ تر: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ”اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جما دے“، پڑھتے تھے، خود میں نے بھی آپ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ اکثر یہ دعا: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے اس کی دو انگلیوں کے درمیان نہ ہو، تو اللہ جسے چاہتا ہے (دین حق پر) قائم و ثابت قدم رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کا دل ٹیڑھا کر دیتا ہے پھر (راوی حدیث) معاذ نے آیت: «ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا» ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہدایت دے دینے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی (گمراہی) نہ پیدا کر“ (آل عمران: ۸)، پڑھی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں عائشہ، نواس بن سمعان، انس، جابر، عبداللہ بن عمرو اور نعیم بن عمار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 18164)، و مسند احمد (6/315) (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد ومتابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»

قال الشيخ الألباني: صحيح ظلال الجنة (223)
 

jani1

Chief Minister (5k+ posts)
اللہ آپ کو استقامت عطا فرمائے آمین

يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِى عَلَى دِينِكَ
”اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جما دے“


ۭرَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًاوَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ

اے ربّ ! ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرماں بردار ہوں۔‘‘


شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی الله عنہا سے پوچھا: ام المؤمنین! جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے یہاں ہوتا تو آپ کی زیادہ تر دعا کیا ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: آپ زیادہ تر: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ”اے دلوں
اللہ آپ کو استقامت عطا فرمائے آمین

يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِى عَلَى دِينِكَ
”اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جما دے“


ۭرَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًاوَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ

اے ربّ ! ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرماں بردار ہوں۔‘‘


شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی الله عنہا سے پوچھا: ام المؤمنین! جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے یہاں ہوتا تو آپ کی زیادہ تر دعا کیا ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: آپ زیادہ تر: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ”اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جما دے“، پڑھتے تھے، خود میں نے بھی آپ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ اکثر یہ دعا: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے اس کی دو انگلیوں کے درمیان نہ ہو، تو اللہ جسے چاہتا ہے (دین حق پر) قائم و ثابت قدم رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کا دل ٹیڑھا کر دیتا ہے پھر (راوی حدیث) معاذ نے آیت: «ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا» ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہدایت دے دینے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی (گمراہی) نہ پیدا کر“ (آل عمران: ۸)، پڑھی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں عائشہ، نواس بن سمعان، انس، جابر، عبداللہ بن عمرو اور نعیم بن عمار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 18164)، و مسند احمد (6/315) (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد ومتابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»

قال الشيخ الألباني: صحيح ظلال الجنة (223)

کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جما دے“، پڑھتے تھے، خود میں نے بھی آپ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ اکثر یہ دعا: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے اس کی دو انگلیوں کے درمیان نہ ہو، تو اللہ جسے چاہتا ہے (دین حق پر) قائم و ثابت قدم رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کا دل ٹیڑھا کر دیتا ہے پھر (راوی حدیث) معاذ نے آیت: «ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا» ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہدایت دے دینے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی (گمراہی) نہ پیدا کر“ (آل عمران: ۸)، پڑھی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں عائشہ، نواس بن سمعان، انس، جابر، عبداللہ بن عمرو اور نعیم بن عمار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 18164)، و مسند احمد (6/315) (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد ومتابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»

قال الشيخ الألباني: صحيح ظلال الجنة (223)

ۭرَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًاوَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ

اے ربّ ! ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرماں بردار ہوں۔‘‘


فرعون کے جادوگروں کی یہ دعا اور وہ قصہ پڑھ کر آدمی کا ایمان تازہ ہوجاتا ہے۔کہ کیسے کچھ دیر قبل وہ لالچی تھے ۔۔ اور فرعون سے اپنے لیئے رتبے کے تمنائی تھے۔۔مگر جب رب العالمین نے ان کو ہدایت دی تو ۔۔فورا سجدے میں گر گئے۔۔اور فرعون کی دھمکی کہ میں تمہارے ٹکڑے کردونگا کہ جواب میں انہوں نے کہا ہمیں پرواہ نہیں اور یہ دعا کی ۔۔

اے ربّ ! ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرماں بردار ہوں۔‘‘

پھر ان (پیغمبروں) کے بعد ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کے پاس بھیجا تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا۔ سو دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیا ہوا

‏ ‏﴿۱۰۴﴾اور موسیٰ نے کہا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں

‏﴿۱۰۵﴾مجھ پر واجب ہے کہ اللہ کی طرف سے جو کچھ کہوں سچ ہی کہوں۔ میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے کی رخصت دے دیجیے

‏ ‏﴿۱۰۶﴾فرعون نے کہا اگر تم نشانی لے کر آئے ہو تو اگر سچے ہو تو لاؤ (دکھاؤ)

‌ۚ ‏﴿۱۰۷﴾موسیٰ نے اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دی تو وہ اسی وقت صریح اژدھا (ہوگیا)

‏ ‏﴿۱۰۸﴾اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کی نگاہوں میں سفید براق (تھا)

‏﴿۱۰۹﴾تو قوم فرعون میں جو سردار تھے وہ کہنے لگے کہ یہ بڑا علامہ جادوگر ہے

‏﴿۱۱۰﴾اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ بھلا تمہاری کیا صلاح ہے؟

‏﴿۱۱۱﴾انہوں نے (فرعون سے) کہا کہ فی الحال موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے اور شہروں میں نقیب روانہ کر دیجیے

‏﴿۱۱۲﴾کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں

‏﴿۱۱۳﴾(چنانچہ ایسا ہی کیا گیا) اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں صلہ عطا کیا جائے

‏﴿۱۱۴﴾(فرعون نے) کہا ہاں (ضرور) اور (اس کے علاوہ) تم مقربوں میں داخل کرلیے جاؤ گے

‏﴿۱۱۵﴾(جب فریقین روزِ مقررہ پر جمع ہوئے تو) جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم (جادو کی چیز) ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں

‏ ‏﴿۱۱۶﴾(موسیٰ نے) کہا تم ہی ڈالو۔ جب انہوں نے (جادو کی چیزیں) ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا (یعنی نظربندی کردی) اور (لاٹھیوں اور رسیوں کے سانپ بنا بنا کر) انہیں ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا

‏﴿۱۱۷﴾(اس وقت) ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ تم بھی اپنی لاٹھی ڈال دو۔ وہ فوراً (سانپ بن کر) جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں کو (ایک ایک کرکے) نگل جائے گی

‏﴿۱۱۸﴾(پھر) تو حق ثابت ہوگیا اور جو کچھ فرعونی کرتے تھے، باطل ہوگیا

﴿۱۱۹﴾اور وہ مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہوکر رہ گئے

ۙ ‏﴿۱۲۰﴾(یہ کیفیت دیکھ کر) جادوگر سجدے میں گر پڑے

‏﴿۱۲۱﴾اور کہنے لگے کہ ہم جہان کے پروردگار پر ایمان لائے

‏﴿۱۲۲﴾یعنی موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر

‏﴿۱۲۳﴾فرعون نے کہا کہ پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے؟ بےشک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہلِ شہر کو یہاں سے نکال دو۔ سو عنقریب (اس کا نتیجہ) معلوم کرلو گے

‏ ‏﴿۱۲۴﴾میں (پہلے تو) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا

‏﴿۱۲۵﴾وہ بولے کہ ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں


تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اِس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آ گئیں تو ہم نے انہیں مان لیا اے رب، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اِس حال میں کہ ہم تیرے فرماں بردار ہوں"



جزاک اللہ۔۔۔
 
Last edited:

Siberite

Chief Minister (5k+ posts)
میں راغب دین کیوں ہوا ؟

اپریل دوہزار بیس کی بات ہے، جب کرونا نیا نیا دنیا میں آیا تھا، اور میں کینیڈا جاکر پھنس گیا تھا، کہ میری ملک کی واپسی کی فلائیٹ سے دو دن قبل ہی فلائیٹیں منسوخ ہوگئیں تھیں۔
اللہ رب العزت کے کرم سے ملک اگر نا آسکا تھا مگر اس نے دوسری طرف نکلنے کا رستہ کھول دیا تھا۔ ۔ سفر اگرچہ لمبا تھا ، ۔براعظم امریکہ سے چین آنے میں ، صرف ہوا میں کوئی بیس گھنٹے لگ گئے تھے، ایئر پورٹ پر خوار ہوئے وقت کے علاوہ۔

انگریز دور سے صاف دکھتے ہیں مگر قریب سے اس کے الٹ ہوتے ہیں۔ اور اسی کا نمونہ میں نے کینیڈا کی لوکل فلائیٹ میں دیکھا۔۔ جہاز کی حالت کیا بتاوں، بعض سیٹوں کے تو گدے بھی غائب تھے۔ یا اکھڑے ہوئے تھے۔۔ خیر۔۔

کرونا کو بھی انہوں نے اسی انداز میں ہنڈل کیا۔۔ یعنی مس ہینڈل کیا۔۔ جس کی وجہ سے میں بھی اس مرض کو اس جہاز سے اپنے ساتھ لیئے دوسرے ملک پہنچا ۔ وہاں انہوں نے کوئی گیارہ دن ہسپتال میں رکھے رکھا۔ اور جب صحت یاب ہوا تو رخصت دے دی۔۔

اگرچہ مذہبی قسم کے گھرانے سے ہونے کی وجہ سے نماز روزہ وغیرہ کے بچپن ہی سے بابند تھے۔۔۔ مگر ہسپتال کے اس قید کے دنوں میں ، میں نے اپنے رب سے وعدہ کیا کہ خود میں تبدیلی لاونگا، اور اس رب کے دین کی خدمت کرونگا۔۔۔۔مگر کیسے۔۔؟ ۔۔

ہسپتال سے نکل کر ذہن میں اپنا وعدہ یاد آتا تو یہ سوچ کر سر جھٹک دیتا کہ حرام سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔۔نماز پڑھتا ہوں۔ اور کیا کروں۔۔مگر یہ شیطان کا جال تھا۔۔ جو وہ نہایت نرمی سے مجھ پر ڈال دیتا اور میں پھر سے غافل ہوجاتا۔۔

غافل سے مراد۔۔ نماز پڑھو مگر جب فرصت ملے۔۔۔اور جو پڑھو تو اکثر دیہان کہیں اور ہو۔۔اس کی کتاب کو ہاتھ لگائے مدت گزر گئی ہو۔۔گالی کے بغیر گپ شپ بے مزہ لگے۔۔ اپنی ہی دنیا میں مگن رہو، جیسے باقی لوگ زمین پر ہیں ہی نہیں۔۔اس رب سے تنہائی میں بات کیئے زمانے گزر گئے ہوں۔۔اور بہت کچھ۔۔۔

اسی طرح کرتے کرتے ایک اور اپریل آیا مگر اس اپریل کے آنے سے پہلے میں کچھ الگ الگ سا محسوس کرنے لگا تھا۔۔ جیسے دنیا سے دل اچاٹ ہوچکا ہو۔۔جو نہ کسی نیئےکپڑے جوتے نہ الیکٹرانکس نہ کسی نئی گاڑی وغیرہ سے مرغوب ہو۔۔۔ اور کسی ایک طرف کو نکل جانے کو جی کرتا تھا۔۔کہ۔

اپریل کی دوسری تاریخ تھی۔ میں نے وضو کیا اور جائے نماز جو بستر پر پڑا تھا، کو اٹھانے کے لیئے ہلکا سا جھکا ، تو کمر پر جیسے بجلی گر گئی ہو۔ خود کو سیدھا کرنا چاہا پر نہ کرسکا۔ ۔ بیڈ قریب ہی تھا اس پر خود کو گرا دیا۔ اور چند منٹ تک تو سمجھ ہی نہ سکا کہ ہوا کیا ہے۔ ۔ تھوڑی دیر بعد جب اپنی حالت کو سمجھناشروع کیا تو ، ایک دم سے انالله وانا اليه راجعون، استغفار ، اور یونس علیہ سلام کی دعا زبان پر آگئی۔

حالت ایسی تھی کہ جس میں انسان نہ کھڑا ہوسکے نہ بیٹھ سکے۔لیٹنے کے سوا چارا نہ تھا۔۔ ۔ باقی وقت تو آدمی لیٹ کر گزار بھی لے مگر رفع حاجت کے وقت کیا کرے گا۔ ۔ ایسی حالت میں سب سے بڑا مسٗلہ ٹوئیلٹ کی سیٹ پر بیٹھنے کا ہوتا ہے،۔ جسے ہم صحت مند لوگ مفت میں عطا کی گئی سہولت سمجھتے ہیں۔ اور کھبی نہیں سوچتے کہ یہ چھن بھی سکتی ہے۔

خیر ۔ رب العالمین کے فضل سے ٹوئلٹ کا مسٗلہ دو تین دن ہی رہا یعنی بیٹھنا مشکل تھا،۔ مگر چار دن تک بیٹھنے کی ضرورت بھی نہیں آئی۔۔ کیونکہ کھانا انتہائی کم اور محتاط کر دیا تھا۔ جہاں تک چھوٹے کی بات ہے ، وہ مرد حضرات کھڑے ہوکر بھی کرسکتے ہیں۔

تقریبا ایک ہفتے بعد میں چل پھرنے لگا۔ اور تقریبا ایک مہینہ آرام کے بعد کام پر واپس جانے لگا۔ ۔ اس ایک مہینے کےدوران اللہ رب العزت نے قرآنی تفاسیر ۔۔مستند علما کی دروس کی ویڈیوز۔۔ اور دیگر دینی علم کی طرف راغب کیا۔۔ یہ بات سو فیصد سچ ہے کہ دنیائی علم چاہے پہاڑ جتنا بھی حاصل کرلو۔ جب تک تم اپنے رب کو نہ پہچان لو۔ جب تک یہ نہ جان لو کہ وہ تم سے چاہتا کیا ہے۔ تم جاہل کے جاہل ہی رہو گے۔۔ یہ انہی دنوں جانا۔۔۔

یعنی دین صرف نماز روزہ زکوۃ کا نام نہیں بلکہ اس کے علم کو حاصل کرنا، اور ساری زندگی حاصل کرتے رہنا اور اسکے مطابق زندگی گزارنا ہی اصل دین ہے۔ کیونکہ جب آپ صحیح علم حاصل کرلیتے ہیں ، ایک تو آپ کو آسانی ہوجاتی ہے۔ اور آپ یہاں وہاں کے قصوں کہانیوں سے بچ جاتے ہیں۔جس سے دینی فرائض سر انجام دینے میں آسانی ہوجاتی ہے۔۔۔ تو دوسرا آپ میں تقوی آجاتا ہے۔۔ اور راہ چلتے آپ کی آنکھ بے حیائی کی تلاش میں نہیں ہوتی بلکہ اس سے بچنے کی کوشش میں ہوتی ہے، ۔ آپکی نماز آپکی دنیائی وقت کے گرد نہی بلکہ آپکا دنیائی ٹائم ٹیبل نماز کے گرد گھومتا ہے ،کہ کس نماز کے وقت میں کہاں ہونگا۔۔جسے پڑھ سکوں۔ ۔ مثال کے طور پر ۔ عصر کا وقت قریب ہوگا تو آپ اس سے فارغ ہوکر نکلیں گے۔۔ یا پھر دو نمازوں میں اتنا وقت رکھیں گے کہ دوسری نماز کے وقت آپ یا تو واپس آسکیں یا پھر ایسی جگہ پہنچ جائیں جہاں اسے ادا کرنا ممکن ہو۔۔۔نماز کے علاوہ ۔ صحیح علم حاصل کرنے سے آپکی کوشش ہوگی کہ کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکلے جس پر پکڑ ہو۔۔ یا کوئی ایسی غزا منہ میں نہ جائے جو عزاب کا باعث بنے۔۔۔ غرض یہ کہ آپ حق داروں کے حقوق ادا کرنے کا سوچنے لگ جائیں گے۔۔ ماں باپ بیوی بچوں ۔۔ پڑوسیوں ۔۔ غربا و مساکین اور یتیموں کا غم آپ کو ستانے لگے گا۔۔ غرض یہ کہ آنکھ کھلنے سے بند ہونے تک آپ کی زبان اپنے رب سے رابطے میں ہوگی ، آنکھ اسکی محبت میں نم اور دل نرم ہوگا۔۔۔

یہاں یہ بات ضرور جان لیں کہ۔۔ اگر آپ کسی عالم کو دیکھیں کسی نمازی کو دیکھیں کسی حاجی کودیکھیں۔۔ کہ وہ رب کی عبادت کرتا ہے مگر اس کے اطوار اس عبادت کی گواہی نہ دیں ۔۔ یعنی، اس کے لوگوں سے ڈیلنگ ہتک آمیز ہو، اپنی کسی رتبے کی وجہ سے، اسکے رشتے داروں میں وہ حق تلف مشہور ہو۔۔ اس کی زبان ایسی ہو کہ منہ کھولے تو بدبو آئے۔۔تو ایسے شخص کی کوئی عبادت قابل قبول نہی ۔۔ رسول اللہ ﷺ نے کچھ اسطرح فرمایا (میرے اپنے الفاظ میں) اگر تمہارے اعمال میں تمہاری عبادت کی جھلک نہی تو سمجھو کہ تمہاری عبادت قبول نہیں۔۔

جیسے پہلے ہی عرض کرچکا کہ بندہ ناچیز رب العالمین کے فضل سے حرام کاموں سے بچنے کی کوشش پہلے بھی کرتا تھا، مگر وہ کوشش کافی نہ تھی ، اسی لیئے رب نے اپنی راہ پر لانے کے لیئے مجھے اس سختی سے گزارہ۔۔۔یعنی جب بھی انسان کو جھٹکہ لگے۔۔اسے برا سمجھنے کے بجائے اس رحمٰن کا اپنی طرف بلاوا سمجھنا چاہیئے۔۔۔ ۔۔۔۔اب بھی کمزوریاں ہیں۔۔مگر کوشش جاری ہے کہ صراط مستقیم پر چلوں۔۔۔ پہلے بھی سکون تھا مگر اب اور طرح کا سکون ہے۔۔ کیونکہ ہر وقت اس سے رابطہ رہتا ہے۔۔ خاص طور پر سفر میں یا بستر پر۔۔۔ورنہ ایسے بدقسمت لوگوں کو بھی میں جانتا ہوں کہ جو مسلمان ہوکر،ستر سال کراس کرجاتے ہیں اور اسی کے قریب تک انہیں رب یاد نہیں آتا ،اور اسی حالت میں۔دماغی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔۔ جنہیں نہ اپنے پاخانے کی سوچ رہتی ہے نہ کسی کو پہچانتے ہیں۔۔ایسا وقت آنے سے پہلے سوچیئے ۔۔

۔ آپ مسلمان بہن اور بھائی، جو بھی اس تحریر کو پڑھ رہےہیں۔ اگر آپ کی زندگی پریشانیوں میں گری ہے۔۔ اور آپ ہر وقت وسوسوں میں ڈھوبے رہتے ہیں تو۔۔ شروعات اللہ کے ذکر سے کیجیئے۔۔ بستر پر لیٹنے کے بعد ذکر کرتے رہیئے، یہاں تک کہ نیند آجائے۔۔۔۔ اور آنکھ کھلنے کے بعد ۔۔ بستر سے اٹھنے سے پہلے اپنے رب کو یاد کریں اور اس سے خوب مانگیں۔۔ اس جہان اور اس جہان کی عافیت۔۔ انشا اللہ دن اچھا گزرے گا۔۔ اور اگر کوئی پریشانی آئے گی بھی،تو وہ رب آپ کو اسے سہنے کا حوصلہ دیگا۔۔ اس کے علاوہ اس کے دین کے صحیح علم اور ہدایت پانے کی دعا کرتے رہیں۔۔ چاہے آپ خود کو کتنا بھی صحیح سمجھیں۔۔ پھر بھی کھلے دل کے ساتھ ہدایت کی دعا کرتے رہیں۔جزاک اللہ۔۔



جانی بھیا یہ جب آپ جا نماز اٹھانے کے لیے جھکے تو ضرور کمر میں جھک پڑگئ ہوگی ۔ میرے دوست کے بزرگ والد صاحب بھی کئ مرتبہ ، کئ عرصے تک جھکے جھکے چلتے تھے ۔ ماشاء اللہ سو کا ھندسہ عبور کرنے والے ہیں ۔ اللہ کی برکت سے آپ کی عمر بھی ماشا اللہ پچاسی سے آگے جارہی ہوگی ۔۔ ؟​
 

jani1

Chief Minister (5k+ posts)
جانی بھیا یہ جب آپ جا نماز اٹھانے کے لیے جھکے تو ضرور کمر میں جھک پڑگئ ہوگی ۔ میرے دوست کے بزرگ والد صاحب بھی کئ مرتبہ ، کئ عرصے تک جھکے جھکے چلتے تھے ۔ ماشاء اللہ سو کا ھندسہ عبور کرنے والے ہیں ۔ اللہ کی برکت سے آپ کی عمر بھی ماشا اللہ پچاسی سے آگے جارہی ہوگی ۔۔ ؟​
85/2= 42.5 .... 43.
پچاسی کا آدھا
لگ بھگ دو سو کلو میٹر بائیک چلائی تھی۔۔
کمر کا پٹہ متاثر ہوا تھا۔۔
اب ٹھیک ہوں ماشا اللہ۔۔
 

Landmark

Minister (2k+ posts)
جو لوگ شارٹ کٹ کی تلاش میں ہیں جنہیں عبادات بوجھ لگتی ہیں اس لیئے وہ بہانے بناتے ہیں کہ احادیث کا کیا کرنا۔۔
دوسرے شارٹ کٹی وہ ہیں جو خود عبادات نہیں کرنا چاہتے۔۔ اسلیئے انہوں نے کسی اللہ کے (زندہ یا مرے) بندے کو اپنا ایجنٹ بنایا ہوا ہے۔۔ کہ یہ ہمارا معاملہ فٹ کرادیگا۔۔

یہ دونوں اپنی اپنی انتہاوں کو پہچ گئے ہیں۔۔جبکہ اسلام درمیان کے رستے پر چلنے کی بات کرتا ہے۔۔

اسلام درمیان کے رستے پر چلنے کی بات کرتا ہے۔۔​

our hum darmean main chalty hn....
Geo or jeny Do
..................................
Religion is a very sensitive topic for everyone and it is the last hope for fallower​
 
Sponsored Link