نئے ٹیکسوں کی بھرمار سے پاکستانی آئی ٹی انڈسٹری کا مستقبل خطرے میں؟

hosih1h111it.jpg

نئے ٹیکسوں کے باعث آئی ٹی انڈسٹری کے بحران کا خدشہ منڈلانے لگا،چیئرمین پاشا بدر خوشنود نے کہا کہ نئے ٹیکس لگنے سے ساڑھےتین ارب ڈالر کا ہدف حاصل نہیں کرسکیں گے،واحد آئی ٹی انڈسٹری تھی جس نے گزشتہ سال سنتالیس فیصد گروتھ کی تھی۔

چیئرمین پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسو سی ایشن بدر خوشنود نے آئی ٹی انڈسٹری کو ٹیکس فری کرنے کا مطالبہ کردیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں بجلی بھی مہنگی ملتی ہے کوئی اور سہولت بھی نہیں اسکے باجود ہم پچاس فیصد تک گروتھ دیتے ہیں،یوکرین جنگ اور کورونا کے بعد آئی ٹی انڈسٹری کی ڈیمانڈ مزید بڑھی ہے۔

دوسری جانب فاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق کہتے ہیں کہ آئی ٹی انڈسٹری پر ود ہولڈنگ ٹیکس اور اسٹیٹمنٹ کی شرائط ختم کرنا بہترہے،شعبہ آئی ٹی فعال بنانے اور زرمبادلہ کے زیادہ حصول کیلیے ضروری ہے کہ ان تمام تجاویز پر جلد فیصلے کیے جائیں جو محکمہ خزانہ کو ارسال کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کرنے والوں پر کیپیٹل گین ٹیکس کا خاتمہ فائدہ مند ہوسکتا ہے لیکن یہ اقدامات ناکافی ہیں، ایف بی آر کو واضح ہدایات جاری کی جائیں تاکہ ابہام نہ رہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ پاکستانیوں کو غربت سے نکالنے اور معیشت کو فروغ دینے کے لیے اقتصادی ٹیم نے بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگائیں گے،جس کا پہلا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کی پُر خلوص کوشش کی جائے اور مہنگائی کے بوجھ کے نتیجے میں کچھ آسودگی اور ریلیف عوام کو مہیا کیا جائے۔
 
Advertisement

taban

Chief Minister (5k+ posts)
پورے پاکستان کا مستقبل خطرے میں ہے اور تم آئی ٹی کو رو رہے ہو
 
Sponsored Link