نوازشریف کا ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ کیسے بنے؟ حساس اداروں کی رپورٹ تیار

na121.jpg


نواز شریف کو لندن میں بیٹھ کر پاکستان سے ویکسین کیسے لگ گئی؟ حساس اداروں کی انکوائری رپورٹ تیار کرلی گئی جس کے مطابق اندراج باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا۔

نوازشریف جو کہ علاج کے سلسلے میں لندن میں موجود ہیں ان کے شناختی کارڈ نمبر پر پاکستان میں ویکسینیشن کا اندارج ہو چکا ہے جس نے پاکستانی طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ اس سلسلے میں حساس اداروں نے تحقیقاتی رپورٹ تیار کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کا این سی او سی میں اندراج جعلی طریقے سے منصوبہ بندی کے تحت کرایا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اب حساس اداروں نے تحقیقاتی رپورٹ مرتب کر لی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ نواز شریف کا شناختی کارڈ نمبر 1166 پر بھیج کر پن کوڈ حاصل کیا گیا، اسی کوڈ کے تحت جھوٹی انٹری کرائی گئی۔ جب کہ اس کے بعد 5 مختلف نمبروں سے ویکسینیشن کی تصدیق کی گئی ہے۔


ذرائع کے مطابق جس نمبر سے نوازشریف کا شناختی کارڈ نمبر بھیج کر ویکسینیشن کا اندارج کرایا گیا وہ نامعلوم شخص کے نام پر تھی۔ ویکسینیشن کے وقت سے 8 منٹ قبل اس نمبر سے میسج کیا گیا۔ جبکہ اسی روز شام 4 بجے اسی نمبر سے ویکسینیشن میسج دکھا کر ویکسین لگوائی گئی ہے۔

جب کہ اس کے بعد5 مختلف نمبروں سے نواز شریف کی ویکسینیشن کی تصدیق کیلئے میسج کیے گئے ہیں۔ حساس اداروں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب ان تمام نمبروں کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے اور اب اس معاملے پر تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
 
Advertisement

Wake Up Pakistan

Chief Minister (5k+ posts)
na121.jpg


نواز شریف کو لندن میں بیٹھ کر پاکستان سے ویکسین کیسے لگ گئی؟ حساس اداروں کی انکوائری رپورٹ تیار کرلی گئی جس کے مطابق اندراج باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا۔

نوازشریف جو کہ علاج کے سلسلے میں لندن میں موجود ہیں ان کے شناختی کارڈ نمبر پر پاکستان میں ویکسینیشن کا اندارج ہو چکا ہے جس نے پاکستانی طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ اس سلسلے میں حساس اداروں نے تحقیقاتی رپورٹ تیار کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کا این سی او سی میں اندراج جعلی طریقے سے منصوبہ بندی کے تحت کرایا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اب حساس اداروں نے تحقیقاتی رپورٹ مرتب کر لی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ نواز شریف کا شناختی کارڈ نمبر 1166 پر بھیج کر پن کوڈ حاصل کیا گیا، اسی کوڈ کے تحت جھوٹی انٹری کرائی گئی۔ جب کہ اس کے بعد 5 مختلف نمبروں سے ویکسینیشن کی تصدیق کی گئی ہے۔


ذرائع کے مطابق جس نمبر سے نوازشریف کا شناختی کارڈ نمبر بھیج کر ویکسینیشن کا اندارج کرایا گیا وہ نامعلوم شخص کے نام پر تھی۔ ویکسینیشن کے وقت سے 8 منٹ قبل اس نمبر سے میسج کیا گیا۔ جبکہ اسی روز شام 4 بجے اسی نمبر سے ویکسینیشن میسج دکھا کر ویکسین لگوائی گئی ہے۔

جب کہ اس کے بعد5 مختلف نمبروں سے نواز شریف کی ویکسینیشن کی تصدیق کیلئے میسج کیے گئے ہیں۔ حساس اداروں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب ان تمام نمبروں کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے اور اب اس معاملے پر تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
جو جو بے ملک کے بدنامی میں شامل ہے سب کو لٹکا دو
 

Lefty

Minister (2k+ posts)
bhaye sab kuch ker saktay hain ya

aik aik department ma in k banday pichlay 35 saal sa pal rahay thay ab unho na kuch to wafa karni hai apnay Miaa samp k sath
 
Sponsored Link