وزیراعظم کانوٹس،ایف بی آر کی ایئر ٹکٹس پر ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق وضاحت

7airticketfedfbr.jpg

یکم جولائی 2022 سے پہلے جاری ہونے والی انٹرنیشنل ایئر ٹکٹس پر نئی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا اطلاق نہیں ہوگا،فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے واضح کردیا۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ان انٹرنیشنل ہوائی ٹکٹوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا نفاذ نہیں ہوگا جو یکم جولائی 2022 سے پہلے جاری کی گئی ہیں۔


فیڈرل ایکسائز رولز 2005 کے رول 41A کے سب سیکشن 8 کے تحت فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی انٹرنیشنل ہوائی ٹکٹ کے اجرا کے وقت ہی وصول کی جائے گی۔ فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے سیکشن تھری کے تحت کلب، بزنس اور فرسٹ کلاس انٹرنیشنل ہوائی ٹکٹوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وصول کی جاتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بین الاقوامی فضائی ٹکٹوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی کا نوٹس لیا گیا تھا، جس کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایئر لائنز کو نیا مراسلہ ارسال کردیا ہے۔

ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ ایف ای ڈی کی نئی شرح کا اطلاق یکم جولائی سے پہلے جاری ٹکٹوں پر نہیں ہوگا،فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 10 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کردی گئی ہے۔ ایف ای ڈی کا اطلاق صرف کلب، بزنس اور فرسٹ کلاس ٹکٹوں پر ہوگا۔

فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی فیڈرل ایکسائز ایکٹ ، 2005 کے سیکشن 3 کے تحت کلب، بزنس اور فرسٹ کلاس بین الاقوامی فضائی ٹکٹوں پر عائد ہوتی ہے۔

ایف بی آر کے جاری اعلامیےمیں کہا گیا کہ رول 41 اے کا ذیلی رول (8) کہتا ہے کہ ایف ای ڈی کا اطلاق فضائی ٹکٹوں کے اجراء کے موقع پر ہوتا ہے۔ لہٰذا نئے فنانس بل 2022 کے تحت فضائی ٹکٹوں پر اضافی ایف ای ڈی کا اطلاق صرف ان بین الاقوامی فضائی ٹکٹوں پر ہوگا ، جن کا اجرا یکم جولائی، 2022 یا اس کے بعد ہوگا۔

متعدد مسافروں کی جانب سے یہ شکایت منظر عام پر آئی تھی کہ ایئرلائن فرسٹ، بزنس اور کلب کلاس کے لیے 50 ہزار روپے ایف ای ڈی لے رہی ہیں، جب کہ ان کی بکنگ یکم جولائی سے قبل کی ہے۔

جس پر وزیراعظم کی جانب سے نوٹس لیا گیا تھا اور اس نئی ڈیوٹی جس میں رقم کو 5 گنا بڑھا دیا گیا ہے ، اس کا اطلاق یکم جولائی کے بعد جاری ہونے والے ٹکٹوں پر ہوگا۔

صحافی مبارک زیب خان نے ٹویٹ پر تنقید کردی، انہوں نے لکھا کہ مخلوط حکومت کی دلچسپ کہانیاں اور یوٹرن،وزیراعظم شہباز شریف نے بین الاقوامی ٹکٹوں پر ٹیکس 10 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار کرنے کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا۔


انہوں نے لکھا کہ اس فیصلے کی منظوری کابینہ کے بجٹ اجلاس میں دی جس کی صدارت شہباز شریف کر رہے تھے،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بجٹ کس نے بنایا۔
 
Advertisement

cokee

Minister (2k+ posts)
Youtubers reh gaye hain his ki income 5 lakh per month sey uper hai tax lagao. Har mulk mein lagta hai . Yeh petrol diesel bijli aur kisi cheez ka nai sochtey
 
Sponsored Link