وزیراعظم کی والدہ اور نانی کی تصویر وائرل

Kashif Rafiq

Chief Minister (5k+ posts)


وزیراعظم کی والدہ اور نانی کی تصویر وائرل

وزیراعظم عمران خان کو ماں اور نانی کی یاد ستانے لگی، انسٹاگرام پر عمران خان نے اپنی والدہ اور نانی کی ماضی کی ایک یادگار اور خوبصورت تصویر شیئر کی ساتھ ہی لکھا کہ یہ اُن کی والدہ محترمہ اور نانی ہیں،تصویر دیکھتے دیکھتے وائرل ہوگئی۔


عمران خان کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر کو اُن کے چاہنے والوں کی جانب سے خوب پسند کیا جارہا ہے، اب تک اُن کی پوسٹ پر دو لاکھ 49 ہزارسے زائد لائکس آچکے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال کے قیام کے موقع پر اپنی والدہ شوکت خانم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کی والدہ نے اُن کی زندگی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

عمران خان چھوٹی عمر میں ہی اپنی والدہ کو کینسر کی وجہ سے کھو بیٹھے تھے جس کی وجہ سے اُنہوں نے اپنی والدہ کی یاد میں شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال تعمیر کیا،کینسر کا مفت علاج مہیا کرنے والا شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال 90 کی دہائی میں لاہور میں تعمیر کیا گیا جبکہ اس کی ایک شاخ پشاور میں بھی ہے۔

 

RealPeople

Minister (2k+ posts)
یہ کم و بیش انیس سو تیس پینتیس کی تصویر ہے اس دور میں افسوس سے کہنا پڑتا ہے سر پر دوپٹا نہیں رکھا ہوا . اس دور کے لحاظ سے ایلیٹ کلاس بنتی ہے

Not elite. Educated- which you and your generation lacked. That's why you and your sub conscience ONLY focused on radicalism. For you keema naan and dishonesty is islam
 

ans

New Member
یہ کم و بیش انیس سو تیس پینتیس کی تصویر ہے اس دور میں افسوس سے کہنا پڑتا ہے سر پر دوپٹا نہیں رکھا ہوا . اس دور کے لحاظ سے ایلیٹ کلاس بنتی ہے
دوپٹہ لے رکھا ہے بلیک کلر کا ہے اس لیے آپ کو نہیں دیکھا دوبارہ دیکھو
 

نادان

Chief Minister (5k+ posts)
یہ کم و بیش انیس سو تیس پینتیس کی تصویر ہے اس دور میں افسوس سے کہنا پڑتا ہے سر پر دوپٹا نہیں رکھا ہوا . اس دور کے لحاظ سے ایلیٹ کلاس بنتی ہے

دونوں کے سر پر دوپٹہ ہے ..اگر تعصب کی آنکھ سے نہ دیکھا جائے تو
 

نادان

Chief Minister (5k+ posts)




او بھائی جان یہ ایلیٹ کلاس کے لوگ ہیں . جتنا مذہبی تم لوگ سمجھتے ہو اتنا نہیں ہیں

جس تصویر پر آپ نے کمنٹ کیا تھا ..اس میں سر پر دوپٹہ تھا ...ایک بات
دوسری بات سر پر دوپٹہ یا مرد کی داڑھی میں اسلام نہیں ہے ..
تیسری بات مذھب بارے سوال الله کرے گا ......اس نے میری قوم کے لئے کیا کیا ..اس کا سوال میرے سمیت پوری قوم کرے گی ..فلحال میں اس کی کارکرگی سے مطمئن ہوں
اور آخری بات میں بھائی جان نہیں ...بہن جی ہوں
 

نادان

Chief Minister (5k+ posts)




او بھائی جان یہ ایلیٹ کلاس کے لوگ ہیں . جتنا مذہبی تم لوگ سمجھتے ہو اتنا نہیں ہیں

ویسے آپ کی پہلی تصویر میں جس بچے کو ہائی لائٹ کیا گیا ہے ..میں نے غور سے دیکھا تو اس کے سر پر واقعی دوپٹہ نہیں ہے
 

Shah Shatranj

Chief Minister (5k+ posts)
جس تصویر پر آپ نے کمنٹ کیا تھا ..اس میں سر پر دوپٹہ تھا ...ایک بات
دوسری بات سر پر دوپٹہ یا مرد کی داڑھی میں اسلام نہیں ہے ..
تیسری بات مذھب بارے سوال الله کرے گا ......اس نے میری قوم کے لئے کیا کیا ..اس کا سوال میرے سمیت پوری قوم کرے گی ..فلحال میں اس کی کارکرگی سے مطمئن ہوں
اور آخری بات میں بھائی جان نہیں ...بہن جی ہوں

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا.

(الاحزاب، 33 : 59)

اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔

دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُوْلِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ.

(النور، 24 : 31)

اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤ۔

عورت کے لیے ہاتھ پاؤں اور چہرے کے علاوہ سارا جسم ستر ہے، جس کو چھپانا اس پر فرض ہے۔
مذکورہ بالا تین اعضاء چھپانے کا شرعی حکم نہیں ہے۔

https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/2261/اسلام-میں-عورت-کے-پردے-کے-بارے-میں-کیا-احکام-ہیں/
 

Munawarkhan

Minister (2k+ posts)
"Our Allah bara bakhsnay wala bara rahm farmanay wala hai"

Corruption, dhooka aur jhoot kay baray main kya zikr hai?



يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا.

(الاحزاب، 33 : 59)

اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔

دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُوْلِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ.

(النور، 24 : 31)

اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤ۔

عورت کے لیے ہاتھ پاؤں اور چہرے کے علاوہ سارا جسم ستر ہے، جس کو چھپانا اس پر فرض ہے۔
مذکورہ بالا تین اعضاء چھپانے کا شرعی حکم نہیں ہے۔

https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/2261/اسلام-میں-عورت-کے-پردے-کے-بارے-میں-کیا-احکام-ہیں/
 

Sher-Kok

MPA (400+ posts)
یہ کم و بیش انیس سو تیس پینتیس کی تصویر ہے اس دور میں افسوس سے کہنا پڑتا ہے سر پر دوپٹا نہیں رکھا ہوا . اس دور کے لحاظ سے ایلیٹ کلاس بنتی ہے
فتنہ پردازوں کا اسلام دوپٹے، داڑھی اور اونچی شلوار تک محدود ہے، جو صرف مستحبات ہیں
اخلاقی پستی، کرپشن، لوٹ مار، جھوٹ، فریب، قومی مفادات پہ ڈاکہ تو ان کے ان فتنہ پردازوں کے نزدیک عین حلال ہے۔
در فٹے منہ تواڈے جمن تے
 

Sher-Kok

MPA (400+ posts)

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا.

(الاحزاب، 33 : 59)

اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔

دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُوْلِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ.

(النور، 24 : 31)

اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤ۔

عورت کے لیے ہاتھ پاؤں اور چہرے کے علاوہ سارا جسم ستر ہے، جس کو چھپانا اس پر فرض ہے۔
مذکورہ بالا تین اعضاء چھپانے کا شرعی حکم نہیں ہے۔

https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/2261/اسلام-میں-عورت-کے-پردے-کے-بارے-میں-کیا-احکام-ہیں/

یہ عربی متن کے کس لفظ کا ترجمہ ہے "سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں)"، ذرا وضاحت فرما دیں
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)




او بھائی جان یہ ایلیٹ کلاس کے لوگ ہیں . جتنا مذہبی تم لوگ سمجھتے ہو اتنا نہیں ہیں
کوئی بے نظیر کی جوانی کی تصویر بھی نکال لو، تا کہ ان لوگوں کو موازنہ کرنے میں آسانی ہو۔ اگر ہو سکے تو اس کی ماں نصرت بھٹوّ کی بھی وائٹ ہاوٗس کی تصاویر گوگل سے نکالو اور یہاں لگاوٗ تا کہ لوگوں کو اصل اسلامی اقدار کی سمجھ تو آ سکے۔
میں یہاں خود سے یہ حرکت نہیں کر رہا ہوں کیونکہ،

جب سے کھلی ہے حقیقت پارساوٗں کی
ہمیں خود سے عقیدت ہو گئی ہے
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں