وزیر اعظم پاکستان سے جوڈیشیل کمیشن آف انکوائریز کی تشکیل کی استدعا

Dr Adam

Chief Minister (5k+ posts)
اب جبکہ پچھلی حکومت کے انگنت جرائم کی داستانیں ثبوتوں کے ساتھ منظر عام پر آنا شروع ہو گئی ہیں اور مجرمہ مریم نواز کے قومی ٹی وی پر با بانگ دہل اقرار جرم کے بعد کہ وہ نواز شریف کی حکومت میں سالہا سال وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھ کر بغیر کسی سرکاری عہدے کے ایک میڈیا سیل چلاتی رہی ہیں جسمیں ایک محتاط اندازے کے مطابق وہ سرکاری خزانے سے سالانہ لگ بھگ اکتالیس ارب روپے اپنے من پسند ٹی وی اور ریڈیو چینلز، ان سے جڑے لاتعداد خود ساختہ صحافیوں، اینکر پرسنز، اخبارات و رسائل اور من پسند اخبار نویسوں اور مداح سراؤں میں تقسیم کرنے کا جرم کرتی رہی ہیں تو سرکاری خزانے کی بغیر کسی اتھارٹی کے اس بے دریغ بندر بانٹ کا حساب لیا جانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن گیا ہے . پاکستانی ٹیکس دھندگان کے پیسوں کے سالانہ ضیاع کی مد میں پانچ سال میں یہ ایک بہت ہی خطیر رقم بنتی ہے

وفاقی وزیر اطلاعات نے کل اپنی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ انہوں نے اس سنگین جرم کی تحقیقات کرکے سچ کی تہہ تک پہنچنے کا حکم جاری کر دیا ہے . ٹیکس دھندگان کے پیسوں کی چوری اور انکا بے دریغ غیر قانونی استعمال پوری دنیا کی مہذب اقوام میں ایک بہت بھیانک جرم ہے . پاکستانی عوام کا ماننا ہے کہ جرم کی نوعیت اور جس بڑی سطح پر یہ جرم کیا گیا ہے اسکے لیے وزیر اطلاعات کی سطحی سی لیپا پوتی نما انکوائری سے کچھ نہیں نکلنے والا . پاکستانی عوام کو اس بات کا ادراک ہے کہ اس سنگین جرم میں ملوث مجرمہ پاکستانی معاشرے کا ایک نہایت چالاک اور مکار کردار ہے جو سپریم کورٹ آف پاکستان سے جعلسازی اور مختلف جرائم میں سزا یافتہ ایک عادی مجرم ہے اور اپنے ٹولے اور بیوروکریسی میں اپنے والد کے اثرورسوخ اور تعلقات کی بنا کسی بھی سطحی نوعیت کی تحقیقات میں سے بچ کر نکل جانے کا ہنر بخوبی جانتی ہے

پاکستانی ٹیکس دھندگان یہ سمجھتے ہیں کہ جرم کی نوعیت اور سرکاری خزانے کو ہونے والے بے پناہ مالی نقصان کی وجہ سے ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر اعظم آئین پاکستان میں دیے گئے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جوڈیشیل کمیشن آف انکوائریز کی تشکیل کا حکم صادر کریں . بہت بہتر ہو گا کہ یہ کمیشن آف انکوائریز کم از کم تین افراد پر مشتمل ہو جسکی سربراہی کیلیے چیف جسٹس آف پاکستان جناب گلزار احمد صاحب سے درخواست کرکے سپریم کورٹ کے کسی ایماندار حاضر سروس جج کی خدمات مستعار لی جائیں . باقی دو ممبران میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جناب اعجاز افضل خان اور گریڈ ٢٢ کے پولیس سروس آف پاکستان کے ریٹائرڈ آفیسر جناب شعیب سڈل موزوں اشخاص ہونگے . یہ کمیشن پانامہ طرز کی مکمل اختیارات پر مشتمل ایک جے آئی ٹی تشکیل دے جسمیں مسلح افواج کی دونوں پریمیئر انٹیلیجنس اجینسیز کےکرنل رینک کے حاضر سروس آفیسر، نیب کے ڈی جی، ایف آئی اے کے ڈی جی اور وزارت اطلاعات کے سیکریٹری شامل ہوں . اس اعلیٰ اختیاراتی جے آئی ٹی کو تین ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے جوڈیشیل کمیشن آف انکوائریز کو رپورٹ دینے کا پابند کیا جائے . رپورٹ ملنے پر جوڈیشیل کمیشن اس کی مکمل چھان پھٹک کرنے کے بعد اپنی سفارشات کے ساتھ وزیر اعظم کو پیش کر دے جسکی منظوری وزیر اعظم وفاقی کابینہ سے لے کر سفارشات پر عملدرآمد کرائیں

پاکستانی ٹیکس دھندگان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ صرف اسی طرح کے شفاف تحقیقاتی عمل کے بعد سچ کی تہہ تک پہنچا جا سکتا ہے
 
Advertisement

Terminator;

Senator (1k+ posts)
جو عدلیہ رنگے ہاتھوں پکڑی جانے والی شراب کو، شراب ثابت نہ کر سکے
اُن سے کسی مردانگی کی اُمیّد نہیں کی جا سکتی

ہاں' البتّہ صفدر چوکیدار کے گیراج والے مال کو 50 روپے کے سٹام پر
لندن ضرور بھیجا جا سکتا ہے
 

Sohail Shuja

Chief Minister (5k+ posts)
اب جبکہ پچھلی حکومت کے انگنت جرائم کی داستانیں ثبوتوں کے ساتھ منظر عام پر آنا شروع ہو گئی ہیں اور مجرمہ مریم نواز کے قومی ٹی وی پر با بانگ دہل اقرار جرم کے بعد کہ وہ نواز شریف کی حکومت میں سالہا سال وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھ کر بغیر کسی سرکاری عہدے کے ایک میڈیا سیل چلاتی رہی ہیں جسمیں ایک محتاط اندازے کے مطابق وہ سرکاری خزانے سے سالانہ لگ بھگ اکتالیس ارب روپے اپنے من پسند ٹی وی اور ریڈیو چینلز، ان سے جڑے لاتعداد خود ساختہ صحافیوں، اینکر پرسنز، اخبارات و رسائل اور من پسند اخبار نویسوں اور مداح سراؤں میں تقسیم کرنے کا جرم کرتی رہی ہیں تو سرکاری خزانے کی بغیر کسی اتھارٹی کے اس بے دریغ بندر بانٹ کا حساب لیا جانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن گیا ہے . پاکستانی ٹیکس دھندگان کے پیسوں کے سالانہ ضیاع کی مد میں پانچ سال میں یہ ایک بہت ہی خطیر رقم بنتی ہے

وفاقی وزیر اطلاعات نے کل اپنی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ انہوں نے اس سنگین جرم کی تحقیقات کرکے سچ کی تہہ تک پہنچنے کا حکم جاری کر دیا ہے . ٹیکس دھندگان کے پیسوں کی چوری اور انکا بے دریغ غیر قانونی استعمال پوری دنیا کی مہذب اقوام میں ایک بہت بھیانک جرم ہے . پاکستانی عوام کا ماننا ہے کہ جرم کی نوعیت اور جس بڑی سطح پر یہ جرم کیا گیا ہے اسکے لیے وزیر اطلاعات کی سطحی سی لیپا پوتی نما انکوائری سے کچھ نہیں نکلنے والا . پاکستانی عوام کو اس بات کا ادراک ہے کہ اس سنگین جرم میں ملوث مجرمہ پاکستانی معاشرے کا ایک نہایت چالاک اور مکار کردار ہے جو سپریم کورٹ آف پاکستان سے جعلسازی اور مختلف جرائم میں سزا یافتہ ایک عادی مجرم ہے اور اپنے ٹولے اور بیوروکریسی میں اپنے والد کے اثرورسوخ اور تعلقات کی بنا کسی بھی سطحی نوعیت کی تحقیقات میں سے بچ کر نکل جانے کا ہنر بخوبی جانتی ہے

پاکستانی ٹیکس دھندگان یہ سمجھتے ہیں کہ جرم کی نوعیت اور سرکاری خزانے کو ہونے والے بے پناہ مالی نقصان کی وجہ سے ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر اعظم آئین پاکستان میں دیے گئے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جوڈیشیل کمیشن آف انکوائریز کی تشکیل کا حکم صادر کریں . بہت بہتر ہو گا کہ یہ کمیشن آف انکوائریز کم از کم تین افراد پر مشتمل ہو جسکی سربراہی کیلیے چیف جسٹس آف پاکستان جناب گلزار احمد صاحب سے درخواست کرکے سپریم کورٹ کے کسی ایماندار حاضر سروس جج کی خدمات مستعار لی جائیں . باقی دو ممبران میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جناب اعجاز افضل خان اور گریڈ ٢٢ کے پولیس سروس آف پاکستان کے ریٹائرڈ آفیسر جناب شعیب سڈل موزوں اشخاص ہونگے . یہ کمیشن پانامہ طرز کی مکمل اختیارات پر مشتمل ایک جے آئی ٹی تشکیل دے جسمیں مسلح افواج کی دونوں پریمیئر انٹیلیجنس اجینسیز کےکرنل رینک کے حاضر سروس آفیسر، نیب کے ڈی جی، ایف آئی اے کے ڈی جی اور وزارت اطلاعات کے سیکریٹری شامل ہوں . اس اعلیٰ اختیاراتی جے آئی ٹی کو تین ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے جوڈیشیل کمیشن آف انکوائریز کو رپورٹ دینے کا پابند کیا جائے . رپورٹ ملنے پر جوڈیشیل کمیشن اس کی مکمل چھان پھٹک کرنے کے بعد اپنی سفارشات کے ساتھ وزیر اعظم کو پیش کر دے جسکی منظوری وزیر اعظم وفاقی کابینہ سے لے کر سفارشات پر عملدرآمد کرائیں

پاکستانی ٹیکس دھندگان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ صرف اسی طرح کے شفاف تحقیقاتی عمل کے بعد سچ کی تہہ تک پہنچا جا سکتا ہے
میرے دستخط ان تجاویز پر ثبت سمجھے جاویں اور آئندہ ایسا ہی پڑھا، لکھا اور سمجھا جاوے کہ میں ان تجاویز سے مکمّل طور اتّفاق رکھتا ہوں۔

یہ ایک فُل ٹاس ملی ہے کپتان کو، اب اگر اسے بھی باونڈری سے باہر نہیں پھینکتا تو ۔۔۔۔ تو ،، تو ،،، تو۔۔۔۔ بہت ہی بری بات ہے۔
اب خون لیک کے بیانیئے کے مطابق اس بات کا تعّین کرنا انتہائی ضروری ہے کہ ۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔ کہ ۔۔۔ کیا یہ ان کے باپ کا پیسہ تھا؟
 
Sponsored Link