وکلاء تحریک کے پیچھے بھی ایک فوجی جنرل کی حمایت تھی، سابق چیف جسٹس

irshad-mushi-iftikhar-211.jpg


سابق چیف جسٹس آف پاکستان ارشاد حسن خان نے انکشاف کیا ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کیلئے جو وکلاء تحریک چلائی اس کے پیچھے بھی ایک فوجی جنرل کاآشیرباد تھا۔

نجی ٹی وی چینل جی این این کے پروگرام " جی کے سنگ" سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس آف پاکستان ارشاد حسن خان نے سینئر قانون دان اعتزا ز احسن کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اعتزازاحسن نے اس وقت تحریک چلائی جب چیف جسٹس افتخار نے پرویز مشرف کے کہنے پر استعفیٰ دینے سے انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وکلاء تحریک کی کامیابی کے پیچھے اس وقت کے چیف آف اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی مشرف کو گھر بھیجنا چاہتے تھے، اگر ان کی آشیرباد وکلاء تحریک کو نہ ہوتی تو یہ تحریک کبھی بھی کامیاب نہ ہوتی۔


ارشاد حسن خان نے کہا کہ جب جسٹس سعید الزمان صدیقی نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کیا تب وکلاء نے تحریک کیوں نہیں چلائی، سیاستدانوں نے تحریک کیوں نہیں چلائی، جب انوارالحق کے دور میں ضیاالحق کو نظریہ ضرورت کے تحت پیریڈ دیا گیا تب وکلاء نے تحریک کیوں نہیں چلائی؟

انہوں نے مزید کہا جب جسٹس منیر نے مارشل لاء کو ولیڈیٹ کیا تب وکیلوں نے تحریک کیوں نہیں چلائی، یہ تحریک اس لیے نہیں چلی کیونکہ پاکستان میں کوئی تحریک مارشل لاء کے دور میں کامیاب نہیں ہوتی، مشرف کے خلاف جب تحریک چلی تب آئین بحال ہوچکا تھا حکومت کمزور تھی، پاکستان میں تحاریک سول حکومتوں کے دور میں چلتی ہیں اور کامیاب تب ہوتی ہیں جب پیچھے کسی کا آشیرباد ہوتا ہے۔
 
Advertisement

Shan ALi AK 27

Minister (2k+ posts)
irshad-mushi-iftikhar-211.jpg


سابق چیف جسٹس آف پاکستان ارشاد حسن خان نے انکشاف کیا ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کیلئے جو وکلاء تحریک چلائی اس کے پیچھے بھی ایک فوجی جنرل کاآشیرباد تھا۔

نجی ٹی وی چینل جی این این کے پروگرام " جی کے سنگ" سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس آف پاکستان ارشاد حسن خان نے سینئر قانون دان اعتزا ز احسن کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اعتزازاحسن نے اس وقت تحریک چلائی جب چیف جسٹس افتخار نے پرویز مشرف کے کہنے پر استعفیٰ دینے سے انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وکلاء تحریک کی کامیابی کے پیچھے اس وقت کے چیف آف اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی مشرف کو گھر بھیجنا چاہتے تھے، اگر ان کی آشیرباد وکلاء تحریک کو نہ ہوتی تو یہ تحریک کبھی بھی کامیاب نہ ہوتی۔


ارشاد حسن خان نے کہا کہ جب جسٹس سعید الزمان صدیقی نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کیا تب وکلاء نے تحریک کیوں نہیں چلائی، سیاستدانوں نے تحریک کیوں نہیں چلائی، جب انوارالحق کے دور میں ضیاالحق کو نظریہ ضرورت کے تحت پیریڈ دیا گیا تب وکلاء نے تحریک کیوں نہیں چلائی؟

انہوں نے مزید کہا جب جسٹس منیر نے مارشل لاء کو ولیڈیٹ کیا تب وکیلوں نے تحریک کیوں نہیں چلائی، یہ تحریک اس لیے نہیں چلی کیونکہ پاکستان میں کوئی تحریک مارشل لاء کے دور میں کامیاب نہیں ہوتی، مشرف کے خلاف جب تحریک چلی تب آئین بحال ہوچکا تھا حکومت کمزور تھی، پاکستان میں تحاریک سول حکومتوں کے دور میں چلتی ہیں اور کامیاب تب ہوتی ہیں جب پیچھے کسی کا آشیرباد ہوتا ہے۔
پا دو فر جرنل تے
جڑے ووٹ لندے رہے نے کنجر
انہاں دا وی کوئی کم سی کے نی؟
فر گانڈ اچھی کر دیو جرنلان آگے تھے چھڈ دیو سیاست
الکشن وچ کیوں پیسے زیا کرنے او
 
Last edited:

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member
پا دو فر جرنل تے
جڑے ووٹ لندے رہے نے کنجر
انہاں دا وی کوئی کم سی کے نی؟
فر گانڈ اچھی کر دیو جرنلان آگے تھے چھڈ دیو سیاست
الکشن وچ کون پیسے زیا کرنے او
یہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔ ریٹائرڈ جرنیل امجد شعیب بھی کئی بار اپنے ٹاک شوز میں اس کا اقرار جرم کر چکا ہے کہ عدلیہ بحالی تحریک کے پیچھے جنرل کیانی کنجر یعنی نواز مفرور کا چمچہ تھا۔
 

Shan ALi AK 27

Minister (2k+ posts)
یہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔ ریٹائرڈ جرنیل امجد شعیب بھی کئی بار اپنے ٹاک شوز میں اس کا اقرار جرم کر چکا ہے کہ عدلیہ بحالی تحریک کے پیچھے جنرل کیانی کنجر یعنی نواز مفرور کا چمچہ تھا۔
کیوں کہ اس وقت تھی ہی ڈکٹیٹرشپ
گئے تھے ملک سے بھاگ کے جرنل نہیں
دلے ہاروں والے کی اولاد
اور بھٹو کنجر کی کنجری بیٹی گی تھی
کسی نے تو کچھ کرنا تھا
 
Sponsored Link