پارلیمان نیب قانون ختم کر دے تو عدالت کیا کر سکتی ہے؟ سپریم کورٹ

10suprmeciuurnablaw.jpg

عمران خان نیب ترامیم کے حوالے سے قومی اسمبلی میں سوالات اٹھا سکتے تھے؟ اسمبلی کیوں اور کیسے چھوڑ آئے۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل اکائونٹیبلٹی بیورو (نیب) قوانین میں ترامیم کے حوالے سے سابق وزیراعظم وچیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی درخواست پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت ،کی جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اعجاز الحسن بھی بنچ کا حصہ ہیں۔

دوران سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب قوانین میں ترامیم کے حوالے سے عمران خان قومی اسمبلی میں سوالات اٹھا سکتے تھے، اپنے حلقے کے عوام کی مرضی کے بغیر قومی اسمبلی کو کیوں اور کیسے چھوڑ آئے۔ دوران سماعت نیب نے اٹارنی جنرل کا موقف اپنانے کی درخواست جمع کرائی جبکہ عمران خان کی طرف سے خواجہ حارث نے دلائل دیئے۔


خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ حالیہ ترامیم سے نیب قوانین کو غیرموثر کر دیا گیا ہے، احتساب کے جو بھی قوانین بنائے گئے عوامی عہدیداروں کو استثنیٰ نہیں تھا، عوامی عہدیدواروں کے احتساب کا قانون 1949ء سے اب تک ہے، ماضی میں سپریم کورٹ بھی کرپشن کو کینسر قرار دے چکی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پارلیمان نیب قانون ختم کر دے تو عدالت کای کر سکتی ہے؟ کیا کبھی عدالت نے قانون بحالی کا حکم دیا جس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ 1990ء میں ختم کیے گئے قانون کو عدالت نے بحال کیا تھا، عوامی عہدیدار ہونا انتہائی اہم ذمہ داری۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ احتساب اسلام کا بنیادی اصول ، پارلیمان اور عدالت شریعت اور آئین کے تابع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 50 کروڑ سے کم کا کیس ہو تو خوبخود ختم ہو جاتا ہے جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم کے بعد ملزم بری ہو کر پلی بارگین کے تحت جمع کرائی رقم طلب کر سکتا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے تو ریاست کو اربوں روپے ادا کرنے پڑیں گے، خوجہ حارث نے کہا کہ پلی بارگین کی پوری رقم دینے والا بھی پیسے واپس مانگ سکتا ہے، جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ پلی بارگین کرنے والا گرفتاری کے دوران اپنے اوپر دبائو کا بھی ثابت کر سکتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ دبائو سے ملزم سے پیسے لینا درست ہے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ پلی بارگین کی منظوری احتساب عدالت دیتی ہے، ملزم پر دباؤ ہو تو عدالت کو بتا سکتا ہے، حلقے میں کام نہ ہونے پر منتخب نمائندے عدالت ہی آسکتے ہیں اسمبلی نہیں جاتے جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ آپ نیب ترامیم کو سپریم کورٹ لانے سے بہتر نہیں تھا عمران خان پارلیمنٹ پر اعتماد کا اظہار کرتے؟

جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ یہ سیاسی فیصلہ تھا، اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتا، پلی بارگین سے متعلق قانون میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، ملزم کو سہولت دی گئی، پہلے پلی بارگین کی رقم نہ دینے والے کیخلاف کارروائی ہوتی تھی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عوام نے عمران خان پر بھی اعتماد کرکے قومی اسمبلی بھیجا تھا، وہ حلقے کے عوام کی مرضی کے بغیر قومی اسمبلی کیوں اور کیسے چھوڑ آئے؟ نیب ترامیم پر تمام سوالات عمران خان قومی اسمبلی میں اٹھا سکتے تھے جس پر وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اسمبلی میں حکومت کی اکثریت ہے اس لیے وہ قانون منظور کروا لیتی ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی، خواجہ حارث اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔ یاد رہے کہ مجوزہ قانون کے تحت نیب پابند ہے کہ وہ ملزم کی گرفتاری سے پہلے شواہد کی دستیابی کو یقینی بنائے جبکہ ایک اہم ترمیم کے مطابق یہ ایکٹ قومی احتساب آرڈیننس 1999ء سے نافذالعمل سمجھا جائے گا۔
 

arifkarim

Prime Minister (20k+ posts)
10suprmeciuurnablaw.jpg

عمران خان نیب ترامیم کے حوالے سے قومی اسمبلی میں سوالات اٹھا سکتے تھے؟ اسمبلی کیوں اور کیسے چھوڑ آئے۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل اکائونٹیبلٹی بیورو (نیب) قوانین میں ترامیم کے حوالے سے سابق وزیراعظم وچیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی درخواست پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت ،کی جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اعجاز الحسن بھی بنچ کا حصہ ہیں۔

دوران سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب قوانین میں ترامیم کے حوالے سے عمران خان قومی اسمبلی میں سوالات اٹھا سکتے تھے، اپنے حلقے کے عوام کی مرضی کے بغیر قومی اسمبلی کو کیوں اور کیسے چھوڑ آئے۔ دوران سماعت نیب نے اٹارنی جنرل کا موقف اپنانے کی درخواست جمع کرائی جبکہ عمران خان کی طرف سے خواجہ حارث نے دلائل دیئے۔


خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ حالیہ ترامیم سے نیب قوانین کو غیرموثر کر دیا گیا ہے، احتساب کے جو بھی قوانین بنائے گئے عوامی عہدیداروں کو استثنیٰ نہیں تھا، عوامی عہدیدواروں کے احتساب کا قانون 1949ء سے اب تک ہے، ماضی میں سپریم کورٹ بھی کرپشن کو کینسر قرار دے چکی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پارلیمان نیب قانون ختم کر دے تو عدالت کای کر سکتی ہے؟ کیا کبھی عدالت نے قانون بحالی کا حکم دیا جس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ 1990ء میں ختم کیے گئے قانون کو عدالت نے بحال کیا تھا، عوامی عہدیدار ہونا انتہائی اہم ذمہ داری۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ احتساب اسلام کا بنیادی اصول ، پارلیمان اور عدالت شریعت اور آئین کے تابع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 50 کروڑ سے کم کا کیس ہو تو خوبخود ختم ہو جاتا ہے جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم کے بعد ملزم بری ہو کر پلی بارگین کے تحت جمع کرائی رقم طلب کر سکتا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے تو ریاست کو اربوں روپے ادا کرنے پڑیں گے، خوجہ حارث نے کہا کہ پلی بارگین کی پوری رقم دینے والا بھی پیسے واپس مانگ سکتا ہے، جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ پلی بارگین کرنے والا گرفتاری کے دوران اپنے اوپر دبائو کا بھی ثابت کر سکتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ دبائو سے ملزم سے پیسے لینا درست ہے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ پلی بارگین کی منظوری احتساب عدالت دیتی ہے، ملزم پر دباؤ ہو تو عدالت کو بتا سکتا ہے، حلقے میں کام نہ ہونے پر منتخب نمائندے عدالت ہی آسکتے ہیں اسمبلی نہیں جاتے جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ آپ نیب ترامیم کو سپریم کورٹ لانے سے بہتر نہیں تھا عمران خان پارلیمنٹ پر اعتماد کا اظہار کرتے؟

جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ یہ سیاسی فیصلہ تھا، اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتا، پلی بارگین سے متعلق قانون میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، ملزم کو سہولت دی گئی، پہلے پلی بارگین کی رقم نہ دینے والے کیخلاف کارروائی ہوتی تھی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عوام نے عمران خان پر بھی اعتماد کرکے قومی اسمبلی بھیجا تھا، وہ حلقے کے عوام کی مرضی کے بغیر قومی اسمبلی کیوں اور کیسے چھوڑ آئے؟ نیب ترامیم پر تمام سوالات عمران خان قومی اسمبلی میں اٹھا سکتے تھے جس پر وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اسمبلی میں حکومت کی اکثریت ہے اس لیے وہ قانون منظور کروا لیتی ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی، خواجہ حارث اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔ یاد رہے کہ مجوزہ قانون کے تحت نیب پابند ہے کہ وہ ملزم کی گرفتاری سے پہلے شواہد کی دستیابی کو یقینی بنائے جبکہ ایک اہم ترمیم کے مطابق یہ ایکٹ قومی احتساب آرڈیننس 1999ء سے نافذالعمل سمجھا جائے گا۔
Awaam ki marzi ka sabak dekho kon de raha hai

Jis ne ajj tak awaam ko insaaf ke naam par apni jeeb garam ki hai
IF SC doesn't have the legal rights to stop illegal law then put a big lock on the main gate of SC and just keep taking the blood money from tax payers.
عدالت وہی کرے جو ایک جرنیل کے مارشل لا لگانے کے بعد کرتی ہے یعنی کہ بوٹوں کی غلامی
 

Aliimran1

Chief Minister (5k+ posts)

Abay chutiya Judges —— According to the constitution and Shariah Laws —- Parliament can’t do that —( to hide their corruption ) And if they do with simple majority that can be challenged in the court —— That’s why you ( Judiciary) are here to interpret the constitution​

 

Bebabacha

Senator (1k+ posts)
Tu phr SC bnd kr dein... Ku ke criminal cases yaha nahi chal sktey, civil cases yh nahi chal sktey, parlimant jo mrzi krey sc kch nahi kr skti, FIA bhi baat nhi sunti tu bht hai SC ko bnd kr dia jye
 

AbbuJee

Minister (2k+ posts)
کل کو پارلیمنٹ بل پاس کر دے کہ تمام ججوں کو پھانسی لٹکا دو ۔۔۔ تو پھر کیا کرو گے؟؟؟

تب بھی خوشی سے پھانسی چڑھو گے قانون کو بالا دستی کے لیئے؟؟؟

حرام بہت کھا لیا ہے سب نے یہاں۔
 

Citizen X

President (40k+ posts)
Parliament should pass the bill tomorrow to hang all the judges. Then what will you do???

Even then, you will gladly hang yourself for the rule of law???

Everyone here has eaten a lot of haram.
Wah kay logic peesh ki hai. Koi sar phira MNA ho, us ko yeh bill be peesh kerdena chaiye. Aur phir SC ja ke bolay ke bhai aa jao saray ek ek ker ke latak jao.

These judges are nothing but beacons of hypocrisy.

This is the whole purpose of the Supreme Court, to uphold the constitution and strike down any law or act that violates or goes against it.

Tomorrow they will legalize rape and murder of judges family members, will the SC still say the same or keep quiet?
 

Lathi-Charge

Politcal Worker (100+ posts)
valid question raised by SC. it is the elected parliament which does the legislation not the courts. if the parliament decides to declare corruption legal ( which is precisely what the current regime has done with connivance of the neutrals) nobody can stop them except the masses, who obviously are not willing to come out and exert their rights.
 

Dr Adam

Prime Minister (20k+ posts)

پارلیمان نیب قانون ختم کر دے تو عدالت کیا کر سکتی ہے؟ سپریم کورٹ​



اگر ان جج صاحبان نے ہر بات پر یہ کہہ کر سائل کا مکو ٹھپ دینا ہے کہ آئین ہمیں یہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا وہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا تو سادہ الفاظ میں اسکا مطلب تو یہی ہوا ناں کہ.... آئین صاحب قرآن میں دئیے گئے الله کے احکامت پر چلنے سے روکتا ہے . تو اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ لوگ قرآن پر حلف کیوں اٹھاتے ہیں؟ مجھے تو اسکا مطلب یہی سمجھ آتا ہے کہ یہ لوگ قرآن پر آئین کو ترجیح دینے کا حلف اٹھاتے ہیں اور پھر اسکی پاسداری کرتے ہیں . ہر جج نے سائلوں کو دھوکہ دینے کے لیے اپنے کمروں میں نہایت بے شرمی سے قرآنی آیات کے بڑے بڑے فریم لگائے ہوۓ ہیں . ان لوگوں کو مظلوم سائل کو دھوکہ دیتے ہوۓ شرم بھی نہیں آتی . کیا بندیال اور کیا فائز عیسی قرآنی آیات کے حوالے دیتے ہوئے ان کی زبانیں نہیں سوکتیں اور فیصلے دینے کے وقت انہیں آئین صاحب یاد آ جاتا ہے

الله کی لعنت ہو ایسے نظام پر

AbbuJee Bebabacha Aliimran1 arifkarim Raiwind-Destroyer



 

arifkarim

Prime Minister (20k+ posts)
valid question raised by SC. it is the elected parliament which does the legislation not the courts. if the parliament decides to declare corruption legal ( which is precisely what the current regime has done with connivance of the neutrals) nobody can stop them except the masses, who obviously are not willing to come out and exert their rights.
When Musharraf did unconstitutional military coup, supreme court at that time not only validated it, it also gave Musharraf regime freehand to change or make any law it wanted
 

Lathi-Charge

Politcal Worker (100+ posts)
When Musharraf did unconstitutional military coup, supreme court at that time not only validated it, it also gave Musharraf regime freehand to change or make any law it wanted
Yes fully agree but keep in mind that the masses did not come out and resist the unconstitutional military coup when a military usurper took over. when nobody is ready to stand-up for their rights, expecting few judges to go against the might of force can only be described as a pipe dream. recently whatever Bajwa did, do you think he would have got away with it if masses had come out in huge numbers? its same like expecting IK to do all while the masses dont even care.
 
Sponsored Link