پاکستانیوں، غیر ملکی سفرا کا گٹھ جوڑ درآمدی سہولت کے غلط استعمال میں ملوث

Common_pakistani

MPA (400+ posts)
I feel dishonesty is deep rooted in our society and we may be not able to get rid of this.

Just latest news from Dawn.com about the import of vehicles from the Ambassadors of other countries.

We convince them to get the benefits on the cost of our country finical health. These Ambassadors did not favor the corrupt Pakistanis free of charge.

They will get the ultimate share, please read the news below and decide yourself who these peoples are?
Not common man shall get any benefits from this loop hole.



اسلام آباد: ایک جانب حکومت ٹیکس نیٹ کو توسیع دے کر زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کی کوشش کررہی ہے تو دوسری جانب کچھ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں، غیر ملکی سفرا اور کچھ ممالک کی افواج کے اہلکاروں کی جانب سے لگژری گاڑیوں کی ڈیوٹی فری درآمد کی سہولت کا غلط استعمال کرے ہوئے اربوں روپے کا دھوکا دیا جارہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے یہ معاملہ وزارت خارجہ کے سامنے اٹھایا اور درخواست کی کہ تمام غیر ملکی سفارتخانوں، بین الاقوامی این جی اوز کو غلط لکھ کر ان کا معیار معلوم کیا جائے جس کے تحت پاکستان میں ڈیوٹی ادائیگی سے مستثنٰی سفیروں اور دیگر غیر ملکیوں کے استعمال کے لیے لگژری گاڑیاں درآمد کی جاتی ہیں۔

خط میں ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی نے وزارت خارجہ کو آگاہ کیا کہ کچھ سفارتی مشن اور سفارتخانے اپنی ضرورت سے زائد گاڑیاں درآمد کر کے ڈیوٹی فری سہولت کا غلط استعمال کررہے ہیں۔

انہوں نے وزارت پر زور دیا کہ سفارت خانوں، سفارتی مشنز اور معزز اراکین کے لیے گاڑیوں کی ڈیوٹی فری درآمد کے موجودہ طریقہ کار پر نظر ثانی کی جائے۔

ذرائع کے مطابق ڈیوٹی کی مد میں اربوں روپے بچانے کا طریقہ کار یہ ہے کہ گاڑیاں سفیروں، بین الاقوامی این جی اوز کے نمائندوں یا فوجی اہلکاروں، مختلف ممالک کے اتاشیوں نے درآمد کیں لیکن ان کے اصل مالکان پاکستانی ہیں۔

شبر زیدی کا اپنے خط میں کہنا تھا کہ ’ایف بی آر کے نوٹس میں یہ بات آئی ہے کہ گاڑیاں استعمال کے لیے غیر مجاز افراد کو دی گئیں اور کچھ عرصے بعد انہیں فروخت کردی گئیں‘۔

واضح رہے کہ غیر ملکی سفیر، بین الاقوامی این جی اور کے نمائندے اور مختلف ممالک کے فوجی عہدیداران کو درآمدی ڈیوٹی سے استثنیٰ حاصل ہے اور جو گاڑی وہ درآمد کرتے ہیں اس پر 3 سال تک سفارتی رجسٹریشن نمبر استعمال ہوتا ہے۔

چونکہ 3 سال سے پرانی گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی عائد نہیں ہوتی لہٰذا اس عرصے کے بعد گاڑیوں ان کے اصل مالکان (پاکستانیوں) کے نام منتقل کردی جاتی ہیں۔

مثال کے طور پر لیکسز ایس یو وی کی قیمت ایک کروڑ روپے ہے اور اگر کوئی پاکستانی اسے درآمد کرے گا تو اسے 3 کروڑ روپے ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی لیکن یہ رقم اس صورت بچائی جاسکتی ہے جب گاڑی ایسا شخص درآمد کرے جسے درآمدی ڈیوٹی سے استثنٰی حاصل ہو۔

اس طریقہ کار میں درآمد کنندہ (غیر ملکی سفیر/ملٹری اتاشی) کو مالی فائدہ حاصل ہوتا ہے جبکہ گاڑی کے مالک (پاکستانی) کو مارکیٹ کی قیمت سے سستی گاڑی مل جاتی ہے مثلاً لیکسز کی قیمت 4 کروڑ روپے ہے لیکن اس گھپلے سے پاکستانی مالک کو وہ ڈیڑھ سے 2 کروڑ روپے میں مل جاتی ہے۔

اسلام آباد رجسٹریشن اتھارٹی کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق اس دھوکہ دہی میں 11 ستمبر 2001 کے بعد سے اضافہ ہوا جب حکومت نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر سفیروں کو کور نمبر پلیٹس (جو کیو ایل، کیو ایم اور کیو این سے شروع ہوتی ہیں) کے استعمال کی اجازت دی۔

چنانچہ اب کاریں غیر ملکی سفیر درآمد کرتے ہیں اور پاکستانی مالکان اسے کور نمبر پلیٹ کے ساتھ چلا کر غلط استعمال کرتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کچھ معاملات میں سفیروں کی جانب سے ’تعیناتی کا جعلی خط‘ جاری کیا جاتا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے گاڑی کا مالک پاکستانی سفارت خانے کا ڈرائیور ہے۔

اس دھوکہ دہی کے تحت درآمد کی جانے والی گاڑیوں میں لیمبرگینی، کیمرو، ہمرز، نسان جی ٹی آرز(آر 35) رولز رائس، لیکسز، بینٹلے، پورشے
اور بی ایم ڈبلیو شامل ہیں۔

 
Advertisement
Last edited by a moderator:

Citizen X

Prime Minister (20k+ posts)
I feel dishonesty is deep rooted in our society and we may be not able to get rid of this.

Just latest news from Dawn.com about the import of vehicles from the Ambassadors of other countries.

We convince them to get the benefits on the cost of our country finical health. These Ambassadors did not favor the corrupt Pakistanis free of charge.

They will get the ultimate share, please read the news below and decide yourself who these peoples are?
Not common man shall get any benefits from this loop hole.



اسلام آباد: ایک جانب حکومت ٹیکس نیٹ کو توسیع دے کر زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کی کوشش کررہی ہے تو دوسری جانب کچھ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں، غیر ملکی سفرا اور کچھ ممالک کی افواج کے اہلکاروں کی جانب سے لگژری گاڑیوں کی ڈیوٹی فری درآمد کی سہولت کا غلط استعمال کرے ہوئے اربوں روپے کا دھوکا دیا جارہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے یہ معاملہ وزارت خارجہ کے سامنے اٹھایا اور درخواست کی کہ تمام غیر ملکی سفارتخانوں، بین الاقوامی این جی اوز کو غلط لکھ کر ان کا معیار معلوم کیا جائے جس کے تحت پاکستان میں ڈیوٹی ادائیگی سے مستثنٰی سفیروں اور دیگر غیر ملکیوں کے استعمال کے لیے لگژری گاڑیاں درآمد کی جاتی ہیں۔

خط میں ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی نے وزارت خارجہ کو آگاہ کیا کہ کچھ سفارتی مشن اور سفارتخانے اپنی ضرورت سے زائد گاڑیاں درآمد کر کے ڈیوٹی فری سہولت کا غلط استعمال کررہے ہیں۔

انہوں نے وزارت پر زور دیا کہ سفارت خانوں، سفارتی مشنز اور معزز اراکین کے لیے گاڑیوں کی ڈیوٹی فری درآمد کے موجودہ طریقہ کار پر نظر ثانی کی جائے۔

ذرائع کے مطابق ڈیوٹی کی مد میں اربوں روپے بچانے کا طریقہ کار یہ ہے کہ گاڑیاں سفیروں، بین الاقوامی این جی اوز کے نمائندوں یا فوجی اہلکاروں، مختلف ممالک کے اتاشیوں نے درآمد کیں لیکن ان کے اصل مالکان پاکستانی ہیں۔

شبر زیدی کا اپنے خط میں کہنا تھا کہ ’ایف بی آر کے نوٹس میں یہ بات آئی ہے کہ گاڑیاں استعمال کے لیے غیر مجاز افراد کو دی گئیں اور کچھ عرصے بعد انہیں فروخت کردی گئیں‘۔

واضح رہے کہ غیر ملکی سفیر، بین الاقوامی این جی اور کے نمائندے اور مختلف ممالک کے فوجی عہدیداران کو درآمدی ڈیوٹی سے استثنیٰ حاصل ہے اور جو گاڑی وہ درآمد کرتے ہیں اس پر 3 سال تک سفارتی رجسٹریشن نمبر استعمال ہوتا ہے۔

چونکہ 3 سال سے پرانی گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی عائد نہیں ہوتی لہٰذا اس عرصے کے بعد گاڑیوں ان کے اصل مالکان (پاکستانیوں) کے نام منتقل کردی جاتی ہیں۔

مثال کے طور پر لیکسز ایس یو وی کی قیمت ایک کروڑ روپے ہے اور اگر کوئی پاکستانی اسے درآمد کرے گا تو اسے 3 کروڑ روپے ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی لیکن یہ رقم اس صورت بچائی جاسکتی ہے جب گاڑی ایسا شخص درآمد کرے جسے درآمدی ڈیوٹی سے استثنٰی حاصل ہو۔

اس طریقہ کار میں درآمد کنندہ (غیر ملکی سفیر/ملٹری اتاشی) کو مالی فائدہ حاصل ہوتا ہے جبکہ گاڑی کے مالک (پاکستانی) کو مارکیٹ کی قیمت سے سستی گاڑی مل جاتی ہے مثلاً لیکسز کی قیمت 4 کروڑ روپے ہے لیکن اس گھپلے سے پاکستانی مالک کو وہ ڈیڑھ سے 2 کروڑ روپے میں مل جاتی ہے۔

اسلام آباد رجسٹریشن اتھارٹی کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق اس دھوکہ دہی میں 11 ستمبر 2001 کے بعد سے اضافہ ہوا جب حکومت نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر سفیروں کو کور نمبر پلیٹس (جو کیو ایل، کیو ایم اور کیو این سے شروع ہوتی ہیں) کے استعمال کی اجازت دی۔

چنانچہ اب کاریں غیر ملکی سفیر درآمد کرتے ہیں اور پاکستانی مالکان اسے کور نمبر پلیٹ کے ساتھ چلا کر غلط استعمال کرتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کچھ معاملات میں سفیروں کی جانب سے ’تعیناتی کا جعلی خط‘ جاری کیا جاتا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے گاڑی کا مالک پاکستانی سفارت خانے کا ڈرائیور ہے۔

اس دھوکہ دہی کے تحت درآمد کی جانے والی گاڑیوں میں لیمبرگینی، کیمرو، ہمرز، نسان جی ٹی آرز(آر 35) رولز رائس، لیکسز، بینٹلے، پورشے
اور بی ایم ڈبلیو شامل ہیں۔

This happens everywhere, we had the similar issue here, there were a million and one cars with diplomatic number plates ( they have certain advantages ) every one working there their friends, families, chacha, phuppard etc etc had diplomatic plates, you would even seen them on 20 yr old ass broken down piles of junks.

Then a law was made that only one car from an embassy and one for each consulate will be allowed and they disappeared.
 

Common_pakistani

MPA (400+ posts)
This happens everywhere, we had the similar issue here, there were a million and one cars with diplomatic number plates ( they have certain advantages ) every one working there their friends, families, chacha, phuppard etc etc had diplomatic plates, you would even seen them on 20 yr old ass broken down piles of junks.

Then a law was made that only one car from an embassy and one for each consulate will be allowed and they disappeared.
Who made this law the same Elite group, any law made in Pakistan always have loop holes to find the way of corruption in advance.
 

Common_pakistani

MPA (400+ posts)
Its not easy to control a big and populous country like Pakistan.
Surprise! So what you think if the country has so much population then no rule of Law
I am living in world most populous country China and one of the biggest city Beijing,
How they control, then how about India, USA, Brazil, Indonesia,
I think all are more populous countries compare to Pakistan.
In fact, we are corrupt from inside including myself, if one of my relative, friends, etc working there, may be get the benefits and not feel any shame for not paying Rs 5~10 million tax.
 

Citizen X

Prime Minister (20k+ posts)
Surprise! So what you think if the country has so much population then no rule of Law
I am living in world most populous country China and one of the biggest city Beijing,
How they control, then how about India, USA, Brazil, Indonesia,
I think all are more populous countries compare to Pakistan.
In fact, we are corrupt from inside including myself, if one of my relative, friends, etc working there, may be get the benefits and not feel any shame for not paying 5~10 million tax.
Apple to oranges comparison, China is older than civilization itself, yet it is in the last 30 - 50 years it actually became something, USA took 300 years to come to what it is. India, Brazil, Indonesia are at the same or slightly better level than Pakistan
 

Common_pakistani

MPA (400+ posts)
Apple to oranges comparison, China is older than civilization itself, yet it is in the last 30 - 50 years it actually became something, USA took 300 years to come to what it is. India, Brazil, Indonesia are at the same or slightly better level than Pakistan
Dare to inform that our civilization is even older than China, yeah the difference of approach some people link from independence, few links with Muhammed bin Qasim but the facts is that Gotam Budh got nirwan in Taxila.
Mohan Jo daro, Harapa thousands years before known history.
But we are slavery minds always look out side from our origin.

Let have another examples if you have the issue with the history
What about UAE (specially Dubai not depended on O&G) and Singapore.

Real facts is that we still captured by elite class that don't want to loose the control of this country and provide welfare to common man.

Why no local bodies Election announced till to date. PTI already have blue print took 14 months to become bill and now from November till to date only announcement, LB election will be held soon.

Write down, this will be held in 2022/23 so can get benefits for next election. Mean problem will not solve but to get more benefits from the problem.
 

OAK

Voter (50+ posts)
Local Diplomats Misusing Luxury Car Import Scheme: FBR



While the government is trying to broaden the tax net, an illicit practice is being carried out to cheat it out of billions of rupees in duty. The same involves the misuse of the facility of duty-free import of luxury cars by foreign diplomats, officials of international non-governmental organizations and armed forces personnel of multiple countries, claim certain to sources.

In this regard, the Federal Board of Revenue (FBR) has written a letter to the Ministry of Foreign Affairs (MOFA) requesting the ministry to write a letter to all foreign embassies and international NGOs as to determine their regulations for the import of luxury cars – as they are tax-exempt on these cars.

FBR chairman, Shabbar Zaidi, in the letter has briefed MoFA that the exemption is being “misused” by some embassies by importing more cars than they require and the ministry has been asked to review these rules. According to reports, the cars worth billions in duty are imported by foreigners however the real owners are Pakistanis.
In the letter, Zaidi has said,

It has come to the notice of FBR that the vehicles are handed over to unauthorized persons for use and, later after a lapse of some time, these are sold to them.

Under current regulations, foreign diplomats, representatives of international NGOs and foreign members of armed forces don’t have to pay any import duty on cars with diplomatic registration for 3 years. At the same time, import duty is not imposed on cars that are 3 years old or more and after this period, the cars are transferred in the name of its actual owner (a Pakistani).

According to senior officers at the vehicle registration authority of Islamabad, this practice has been going on since 11th September 2001 when the government allowed diplomats to use covered registration number plates due to security concerns. “Now cars are imported by foreign diplomats and they are misused by Pakistani owners who drive them with covered number plates,” an official said.

In some cases, the foreign dignitaries issue “fake appointment letters” that stated that the Pakistanis owning the vehicles are drivers of the embassy in question.

 
Last edited by a moderator:

Common_pakistani

MPA (400+ posts)
Dear Admin
May I request the process to change / modified / edit the thread.
As I observed that the heading of the post has been changed and have not receive any notification.
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں