پولیس نے شہباز گل کے ڈرائیور کی 10 ماہ کی بچی کو بھی نہیں بخشا

Digital_Pakistani

Chief Minister (5k+ posts)
rad111m.jpg


شہبازگل کے ڈرائیور کی اہلیہ کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا اور آج عدالت پیش کر دیا اس موقع پر عجیب صورتحال دیکھی گئی کہ 10 ماہ کی بچی کو بھی اس کی ماں سے الگ رکھا گیا تھا جو کہ زاروقطار رو رہی تھی۔

عدالت نے بچی کو ماں کے حوالے کرنے کا حکم دیا جس پر کمرہ عدالت میں موجود تمام لوگوں نے دیکھا کہ بچی ماں کے پاس جاتے ہی چپ ہو گئی۔ جب اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر ۤآئی تو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔ صارفین نے موجودہ حکومت پر اظہار برہمی کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

احمد وڑائچ نامی صارف نے کہا کہ شہباز گل کے ڈرائیور کی 10ماہ کی بچی بھی عدالت پیش۔ اسلام آباد پولیس نے شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ کو گرفتار کیا۔ بچی عدالت میں رو پڑی، پولیس نے ماں کے پاس جانے سے روکا جج نے بچی کو ماں کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔

اس صارف نے یہ بھی کہا کہ کوئی بتائے اس خاتون کا کیا قصور ہے؟ یہ کیوں عدالتوں کے چکر کاٹ رہی ہے؟

خرم اقبال نے تبصرہ کیا کہ شہباز گل کے ڈرائیور کی کمسن بچی کو پولیس نے والدہ سے ملنے نہیں دیا جس پر بچی عدالت میں زارو قطار رونے لگی، جج کے حکم پر بچی کو والدہ سے ملوایا گیا۔

اظہر مشوانی کا کہنا تھا کہ رات 3 بجے ڈاکٹر شہباز گل کے اسسٹنٹ اظہار کے گھر پر پولیس نے دھاوا بولا، گھر کی خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور آدھی رات کو تھانے لے کر گئے اور ڈاکٹر گِل کی چیزیں مانگتے رہے یہ ڈرپوک چوہے فاشزم نہیں بےغیرتی کی بھی حدیں کراس کر گئے ہیں


صحافی فیضان خان کا کہنا تھا کہ شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ کا بھائی میڈیا سے بات کرتے ہوئے رو پڑا۔ رات ان کے گھر پر کیا کچھ ہوتا رہا اور ان پر کیا گزری خود سن لیں۔ سوال یہ ہے کہ اس ملک کا یہ کیسا قانون ہے ان لوگوں کی کیا غلطی ہے؟؟؟؟

شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ کا بھائی میڈیا سے بات کرتے ہوئے رو پڑا۔ رات ان کے گھر پر کیا کچھ ہوتا رہا اور ان پر کیا گزری خود سن لیں۔ سوال یہ ہے کہ اس ملک کا یہ کیسا قانون ہے ان لوگوں کی کیا غلطی ہے؟؟؟؟

عابد عندلیب نے کہا شہباز گل کے ڈرائیور کی بچی کی چیخیں بھکاری حکومت کو کھا جائیں گی۔۔۔اتنی سفاکیت؟

سابق وزیر مملکت نے کہا ایسا سلوک دشمنوں سے بھی کوئی نہیں کرتا لیکن ظلم و بربریت کی انتہا کردی گئی ہے۔ بچی کو ماں سے ملنے نہیں دیا گیا۔

محسن حلیم نامی صارف نے کہا جو ماڈل ٹاون میں خواتین کے منہ پر گولیاں چلا سکتے ہیں ان سے 10 ماہ کی بچی کو اپنی والدہ سے دور رکھنے پر کیا تعجب؟

عمران نے کہا اللہ سے دعا ہے کہ اس دس ماہ کی بچی کی آہ و بکا سن کر اپنا قہر نازل کرے تمام ذمہ داروں پہ جنہوں نے بربریت اور فاشزم کا پرچار کیا ہے اور کروایا ہے، آمین ثم آمین۔

صحافی فہیم اختر ملک نے لکھا کہ شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ کو پولیس نے گرفتار کیا دس ماہ کی بچی کو ماں سے نہیں ملنے دیا گیا۔ بچی کی چیخیں اب ان یزیدیت پسند حکمرانوں کا پیچھا نہیں چھوڑیں گی۔

جبکہ صحافی رضوان غلزئی نے کہا ظالمو ! اس بچی کی آواز عرشوں تک گئی ہوگی، اپنے انجام کی فکر کرو۔ اس یزیدیت کے حامی بھی شرم کریں۔

 
Last edited by a moderator:

thinking

Prime Minister (20k+ posts)
Afsos ka muqam ha.Hamari Adlia bhi satto pee ke soe howi ha.Us judge bhi in Man Baap ko remand par bejhnay ke verdict ko mehfoz kar lia..Ye haal ha hamaray judges ka...Neutrals se itna dartay hain ke begunah bachi k Maan.. baap ko chortay howay bhi dar rehay hain..
 

Bebabacha

Senator (1k+ posts)
Dil krta hain ke Allah in ke bachoo ko bhi aise rulaye lkn bachon ka kia qasoor... Asal khuda ko bhool chukey hain yh log lkn poch hu gi har cheez ki hu gi
 

thinking

Prime Minister (20k+ posts)
Waqt anay par in police walo. Officers ki awam k hatho chitrol ki jaya..Judges tu is qabal hi nahi ke kisi ghareeb.kamzoor par zulam par apna daftar hi khool ley.Ameer.
Taqatwar ki baat ho tu rato ko sotay hi nahi ke kaheen baray sahib ki call na a jaya adalat kholnay ki..Afsos..Ye ha hamara justice system..Adalto mein judges.Ayen.Qanoon.Insano haqooq ka aisay lambay lambay bashan detay hain during hearing ke lagta ha jesay kisi wali ki batain sun rehay hain...
 

arifkarim

Prime Minister (20k+ posts)
Premium Member
مجھے زیادہ تو نہیں پتہ عدالتی کاروائی کا مگر اس میں باجوا کہاں سے آ گیا ؟یہ تو لوکل کام ہیں ،باجوا صاب انٹرنشنل کھلاڑی ہیں ایسے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے جج صاحب ہی کافی ہوتے ہیں
یہ سب باجوہ غدار کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے امپورٹڈ حکومت کروا رہی ہے پکڑ دھکڑ
 
Sponsored Link