پیپلزپارٹی نے ہم سے کئے وعدے پورے نہیں کئے، خالدمقبول صدیقی

msqm1111211.jpg

ایم کیوایم حکومت سے ناراض؟ ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ بلدیاتی ایکٹ سے متعلق وعدہ وفا نہیں کیا۔ رابطہ کمیٹی نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیوایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد میں ایم کیوایم کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی زیرصدارت ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔رابطہ کمیٹی نے مذکورہ معاہدوں پر عمل درآمدمیں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خصوصاً سندھ حکومت کے رویے کو غیر ذمے دارانہ قرار دیا۔


ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ بلدیاتی ایکٹ سے متعلق وعدہ وفا نہیں کیا۔اتحاد برقرار رکھنا وفاقی اور سندھ حکومتوں کی ذمے داری ہے، آخر وہ کب ایم کیو ایم کے ساتھ معاہدوں پر عمل درآمد کریں گی!

خالد مقبول صدیقی نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال میں اپنا کردار ادا کریں، ایم کیو ایم پر کارکنوں اور عوام کا دباؤ بڑھ رہا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں اس صورت حال میں کوئی فیصلہ کرنا چاہئے۔

اراکین رابطہ کمیٹی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کے بلدیاتی ایکٹ کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق آرٹیکل 140Aکی رو کے مطابق تیار کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن 3ماہ سے زائدعرصے میں متعدد بار مذاکرات کے باوجود غیرسنجیدہ رویے کے باعث اس پر اب تک عمل درآمد نہیں کیا جاسکا جبکہ سندھ میں حلقہ بندیا ں الیکشن کمیشن کے بجائے صوبائی حکو مت نے کیں۔

اس سے قبل رہنما ایم کیو ایم وسیم اختر نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا، پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدہ مجبوری تھی، وعدے پورے نہ ہوئے تو کچھ بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔


میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما ایم کیو ایم وسیم اختر نے کہا کہ شہبازشریف اور مولانا فضل الرحمان کے کہنے پراتحاد میں شامل ہوئے، ایم کیو ایم کو پولیٹیکل سپیس نہیں دیا جارہا، کراچی میں جعلی جماعتیں بنا دی گئیں ہیں۔
 

انقلاب

Minister (2k+ posts)
msqm1111211.jpg

ایم کیوایم حکومت سے ناراض؟ ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ بلدیاتی ایکٹ سے متعلق وعدہ وفا نہیں کیا۔ رابطہ کمیٹی نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیوایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد میں ایم کیوایم کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی زیرصدارت ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔رابطہ کمیٹی نے مذکورہ معاہدوں پر عمل درآمدمیں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خصوصاً سندھ حکومت کے رویے کو غیر ذمے دارانہ قرار دیا۔


ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ بلدیاتی ایکٹ سے متعلق وعدہ وفا نہیں کیا۔اتحاد برقرار رکھنا وفاقی اور سندھ حکومتوں کی ذمے داری ہے، آخر وہ کب ایم کیو ایم کے ساتھ معاہدوں پر عمل درآمد کریں گی!

خالد مقبول صدیقی نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال میں اپنا کردار ادا کریں، ایم کیو ایم پر کارکنوں اور عوام کا دباؤ بڑھ رہا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں اس صورت حال میں کوئی فیصلہ کرنا چاہئے۔

اراکین رابطہ کمیٹی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کے بلدیاتی ایکٹ کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق آرٹیکل 140Aکی رو کے مطابق تیار کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن 3ماہ سے زائدعرصے میں متعدد بار مذاکرات کے باوجود غیرسنجیدہ رویے کے باعث اس پر اب تک عمل درآمد نہیں کیا جاسکا جبکہ سندھ میں حلقہ بندیا ں الیکشن کمیشن کے بجائے صوبائی حکو مت نے کیں۔

اس سے قبل رہنما ایم کیو ایم وسیم اختر نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا، پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدہ مجبوری تھی، وعدے پورے نہ ہوئے تو کچھ بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔


میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما ایم کیو ایم وسیم اختر نے کہا کہ شہبازشریف اور مولانا فضل الرحمان کے کہنے پراتحاد میں شامل ہوئے، ایم کیو ایم کو پولیٹیکل سپیس نہیں دیا جارہا، کراچی میں جعلی جماعتیں بنا دی گئیں ہیں۔
باجوے کے بکاؤ حرامیو، تم نے کیا سمجھا تھا کہ زرداری وعدے پورے کرتا ہے؟
جا کر اپنے نئے باپ باجوے کا گریبان پکڑو جس نے تمہیں زرداری کے ہاتھ فروخت کیا تھا۔
 

Husaink

Prime Minister (20k+ posts)
msqm1111211.jpg

ایم کیوایم حکومت سے ناراض؟ ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ بلدیاتی ایکٹ سے متعلق وعدہ وفا نہیں کیا۔ رابطہ کمیٹی نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیوایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد میں ایم کیوایم کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی زیرصدارت ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔رابطہ کمیٹی نے مذکورہ معاہدوں پر عمل درآمدمیں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خصوصاً سندھ حکومت کے رویے کو غیر ذمے دارانہ قرار دیا۔


ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ بلدیاتی ایکٹ سے متعلق وعدہ وفا نہیں کیا۔اتحاد برقرار رکھنا وفاقی اور سندھ حکومتوں کی ذمے داری ہے، آخر وہ کب ایم کیو ایم کے ساتھ معاہدوں پر عمل درآمد کریں گی!

خالد مقبول صدیقی نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال میں اپنا کردار ادا کریں، ایم کیو ایم پر کارکنوں اور عوام کا دباؤ بڑھ رہا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں اس صورت حال میں کوئی فیصلہ کرنا چاہئے۔

اراکین رابطہ کمیٹی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کے بلدیاتی ایکٹ کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق آرٹیکل 140Aکی رو کے مطابق تیار کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن 3ماہ سے زائدعرصے میں متعدد بار مذاکرات کے باوجود غیرسنجیدہ رویے کے باعث اس پر اب تک عمل درآمد نہیں کیا جاسکا جبکہ سندھ میں حلقہ بندیا ں الیکشن کمیشن کے بجائے صوبائی حکو مت نے کیں۔

اس سے قبل رہنما ایم کیو ایم وسیم اختر نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا، پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدہ مجبوری تھی، وعدے پورے نہ ہوئے تو کچھ بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔


میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما ایم کیو ایم وسیم اختر نے کہا کہ شہبازشریف اور مولانا فضل الرحمان کے کہنے پراتحاد میں شامل ہوئے، ایم کیو ایم کو پولیٹیکل سپیس نہیں دیا جارہا، کراچی میں جعلی جماعتیں بنا دی گئیں ہیں۔
ایم کیو ایم والوں کے مطالبے تو اگلے جہان جا کر بھی پورے نہیں ہونے یہ وہاں بھی روتے ہی پھریں گے
😿😿😿😿😹😹😹😹
 

Dr Adam

Prime Minister (20k+ posts)
ایم کیو ایم والوں کے مطالبے تو اگلے جہان جا کر بھی پورے نہیں ہونے یہ وہاں بھی روتے ہی پھریں گے
😿😿😿😿😹😹😹😹
باجوے کے بکاؤ حرامیو، تم نے کیا سمجھا تھا کہ زرداری وعدے پورے کرتا ہے؟
جا کر اپنے نئے باپ باجوے کا گریبان پکڑو جس نے تمہیں زرداری کے ہاتھ فروخت کیا تھا۔





ان بیغرتوں کا کالیا ڈان جب کراچی کا بلاشرکت غیرے بے تاج بادشاہ تھا، روز سو ڈیڑھ سو انسان قتل کرنے کے بعد اس وقت بھی انکا روزانہ کا یہی رنڈی رونا تھا کہ ہم سے کیے گئے وعدے پورے نہیں ہو رہے
ان خبیثوں کو سمندر برد کرنے کے بعد ہی کراچی میں کچھ امن قائم ہو گا تو ہو گا ورنہ بھول جائیں اہل کراچی کہ انہیں کبھی سکھ کا سانس لینے کا موقع نصیب ہو گا
 
Sponsored Link