کرونا کی 'مہربانی': کئی اشیا اب پاکستان میں بننا شروع

asad.kiyani

MPA (400+ posts)
کرونا کی 'مہربانی': کئی اشیا اب پاکستان میں بننا شروع

پاکستان میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد چین سے درآمدات بند ہوئیں تو ضرورت کی کئی اشیا مثلاً لائٹس، کاغذ اور سفری بیگز وغیرہ ملک کے اندر ہی تیار ہونا شروع ہو گئے۔




پاکستان کا صنعتی شعبہ طویل عرصے سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور خام مال مہنگا ہونے کی وجہ سے بحران کا شکار ہے۔ اس مایوس کن صورت حال کے پیش نظر پاکستان کی بہت سی فیکٹریاں بنگلہ دیش اور چین منتقل ہو چکی ہیں لیکن کرونا وائرس پھیلنے کے بعد درآمدات بند ہوئیں تو ضرورت کی کئی اشیا ملک کے اندر ہی تیار ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

مقامی سطح پر تیار ہونے والی اشیا کے سستی اور معیاری ہونے کا دعویٰ بھی کیا جارہا ہے۔ صنعت کاروں کے مطابق یہ پاکستان کے پاس سنہری موقع ہے جس سے فائدہ اٹھا کر مقامی انڈسٹری کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ اگر موجودہ حالات میں مؤثراورسنجیدہ حکمت عملی اپنائی جائے تو پاکستان نہ صرف ضروریات زندگی کی اشیا بنانے میں خود کفیل ہوسکتا ہے بلکہ برآمدات بھی بڑھائی جا سکتی ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستانی انڈسٹری آئندہ دو سال میں ملکی ضروریات پوری کرنے سمیت برآمدات کے فروغ کی صلاحیت رکھتی ہے۔

درآمد ہونے والی کون سی اشیا اب اندرون ملک تیار ہورہی ہیں؟

صنعت کاروں نے طلب پوری کرنے کے لیے کرونا کے دور میں اشیائے ضروری مقامی سطح پر تیار کرنا شروع کردی ہیں۔ عام استعمال کے الیکٹرونک سامان کی صنعت سے وابستہ صنعت کار محمد عامر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ایل ای ڈی لائٹس، جن میں سٹریٹ لائٹس بھی شامل ہیں، اور کئی طبی آلات اب اندرون ملک تیار کیے جا رہے ہیں، خام مال بھی مقامی سطح پر دستیاب ہے۔

'جو چیز چین سے 10 ہزار میں آتی تھی اب وہ پاکستان میں ہی تیار ہو رہی ہے اور معیاری بھی ہے۔' انہوں نے مزید بتایا کہ سولر انرجی پینل اوراس سے چلنے والی لائٹس وغیرہ بھی یہیں تیار ہونا شروع ہوگئی ہیں، جن کا معیار کافی بہتر ہے اور قیمت بھی کم ہے۔

عامر کے مطابق موبائل فون کے ساتھ استعمال ہونے والا سامان پاکستان میں بننا شروع ہو گیا جب کہ جلد ہی موبائل فون بھی تیار ہونے شروع ہو جائیں گے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ برآمد کے لیے معیار کو یقینی بنانا ہوگا۔

سفری بیگ کی صنعت سے وابستہ فیصل آباد کے صنعت کار جمیل احمد نے کہا کہ پہلے وہ چھوٹے بڑے سفری بیگ یہاں تک بچوں کے سکول بیگ بھی چین سے منگواتے تھے لیکن جب درآمدات بند ہوئیں تو انہوں نے بھی بڑے پیمانے پر مقامی سطح پر بیگ تیار کرنا شروع کر دیے جس سے نہ صرف طلب پوری ہوئی بلکہ ان کے کاروبار کو بھی وسعت ملی۔

انہوں نے کہا خام مال بنانے والوں نے بھی اپنی فیکٹریوں میں توسیع کر کے طلب پوری کی، اب صورت حال یہ ہے کہ وہ بیگ درآمد کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ 10 فیصد کم قیمت پر معیاری بیگ ملک میں ہی دستیاب ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملکی صنعت کو مضبوط بنانے کے لیے کردار ادا کرے اور خام مال، سستی بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے جب کہ ٹیکسوں میں ریلیف دیا جائے۔

کاغذ کا کام کرنے والے محمد اکمل نے بتایا کہ پاکستان اب کاغذ کی مانگ کا 80 سے 90 فیصد مقامی طور پر پوری کر رہا ہے۔ 'اگر حکومت مزید توجہ دے تو تمام ضرورت ہماری انڈسٹری پوری کرسکتی ہے جب کہ کاغذ برآمد کرکے زرمبادلہ میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔'

حکومتی اقدامات اور مقامی صنعتوں کے معیشت پر اثرات

ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید نے اس حوالے سے کہا کہ کرونا وبا کے دوران پاکستان میں صنعتوں کو فروغ ملنا خوش آئند ہے۔ 'پی ٹی آئی حکومت کا منشور تھا کہ درآمدات کم کرکے برآمدات میں اضافہ معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔'

انہوں نے کہا کہ حکومت انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے سستی اور بلاتعطل بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنانے کا جامع پلان بنا رہی ہے، اسی طرح ٹیکسوں اور دیگر ادارہ جاتی رکاوٹیں دور کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فروری تک ماسک اور سینیٹائزر درآمد کیے جا رہے تھے لیکن مختصر عرصے میں یہ سب مقامی سطح پر تیار ہونا شروع ہوگیا۔ 'بلکہ اب تو دیگر میڈیکل سامان کے ساتھ وینٹی لیٹرز کی تیاری بھی شروع ہوگئی ہے۔ جلد ہی ہم یہاں بننے والی اشیا کی ایکسپورٹ میں غیر معمولی اضافہ کریں گے۔'

ماہر معیشت الماس حیدر کے مطابق پاکستان میں صنعتی ترقی اس وجہ سے رکی ہوئی تھی کہ یہاں صنعتوں کو حکومتی سطح پرمناسب توجہ نہیں مل سکی لیکن اب کرونا وبا کی وجہ سے یہاں صنعتوں کو فروغ ملنے کا عمل تیزی سے جاری ہے جسے برقراررکھنے کے لیے جامع اور بہترین پالیسیاں بنانی ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ پیداواری لاگت جتنی کم ہوگی اتنی ہی پاکستانی اشیا ایشیا اور عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا سکیں گی۔ 'زراعت اور صنعت کے شعبے میں حکومتی ریلیف اس وقت اہم کردارادا کر سکتا ہے۔

'ان حالات میں جب ہر ملک اپنی معیشت نئے سرے سے تشکیل دینے کی منصوبہ بندی کر رہاہے تو پاکستان کو بھی موقعے سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔'

 
Advertisement

ali-raj

Chief Minister (5k+ posts)
میں نے کسی سے کہا تھا
کرونا عمران کیلئے ایک بہت بڑا امتحان ہے
پر یہ امتحان پاکستان کو کچھ بنا دے گا
عمران کی توسط سے
 

Arshad50

Senator (1k+ posts)
کچھ پٹواری کی کوالٹی بہتر کرنے کی طرف بھی توجہ دیں
باہر کے کسی ملک میں دستیاب نہیں ہے لوکل پروڈکشن کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔



ُ
patwario ki quality hum ne Allah pe choora hay ke wo betar kare warna hamare bas ki bat nahi no chance
 

miafridi

Prime Minister (20k+ posts)
Made in Pakistan is a great project. And each industry has many benefits attach to it. But along all this we should never ignore the importance of agriculture and live stock because if you have a robust agriculture and live stock industry then you can absorb any global industrial recession.
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں