کسان ڈٹ گئے،تحریک انصاف کا کسان لانگ مارچ کی حمایت کااعلان

kissan11n1.jpg


پاکستان تحریک انصاف کے نے کسان اتحاد سے اظہار یکجہتی کیا, فواد چوہدری نے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ اگر کسانوں کے پر امن احتجاج پر پولیس ایکشن کیا گیا تو تحریک انصاف کسانوں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن جائیگی ، یہ فاشسٹ حکومت ہر احتجاج کو بزور طاقت دبانا چاہتی ہے یہ اب ممکن نہیں۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے لکھا کہ تحریک انصاف کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے ان کے جائز مطالبات حکومت فوری تسلیم کرے ملک میں کسانوں کا بدترین معاشی استحصال ہو رہا ہے اور موجودہ صورتحال نا قابل قبول ہے۔

فواد چوہدری نے تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان کے میڈیا نے پھر ثابت کیا وہ صرف سیٹھ میڈیا ہے، مزدور کسان اور عام آدمی سے اور ان کے مسائلُ سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں۔

شہباز گل نے لکھا کہ کسان اس ملک کی ماں ہے۔کسان دھرتی کا سینہ چیر کر پوری عوام کے لئے اناج اگاتا ہے-کسان جو ہاتھ پھیلاتا نہیں بلکہ ہاتھ سے محنت مزدوری کر کے عزت اور غیرت کی زندگی جینے والا ہے اس امپورٹڈ حکومت نے زراعت اور کسان کو تباہ کر دیا۔ اگر کسی قسم کا تشدد ہوا تو پوری قوم کسان کے ساتھ کھڑی ہے۔

عمران اسماعیل نے لکھا کہ عمران خان کے دور میں بہترین زرعی پالیسیوں سے کسان خوشحال ہوا فصلوں کی ریکارڈ پیداوار، زرعی نظام میں اصلاحات شروع ہوئی مگر آج کسان روڈوں پر اپنے حقوق مانگ رہے ہیں امپورٹڈ حکومت کسانوں کے حقوق اور آواز دبانے میں لگی ہوئی ہے ہم سندھ کے لوگ اپنے کسان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

پاکستان کسان اتحاد کے فوکل پرسن کا کہنا ہے کہ پاکستان کسان اتحاد سے کیے گئے وعدے حکومت کو پورا کرنے ہوں گے۔ کسان اتحاد نے اسلام آباد میں دھرنا دے رکھا ہے۔


کسانوں کےاحتجاج کےباعث زیرو پوائنٹ جانے والی سڑک بند کردی گئی ہے ، اس دوران دفاتر کی چھٹیوں ہونےکےباعث خیبرپلازہ چوک پرگاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ ہوئی ہیں

چئیرمین کسان اتحاد خالد حسین کا کہنا تھا کہ جب تک مذاکرات نہیں ہونگے ہم نہیں جائیں گے،ابھی تک وفاقی حکومت میں سے کسی نے مذاکرات کیلئے رابطہ نہیں کیا،حکومت کسانوں کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حکومت اور کسان اتحاد کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے ، حکومت کی طرف سے راناثناءاللہ، اور طارق بشیر، چیمہ مذاکرات کررہے ہیں۔

مظاہرین کی طرف سے خالد باٹھ مذاکرات میں شامل ہیں۔

رانا ثناللہ نے کسانوں سے کہا کہ آپ احتجاج ختم کریں یا ایف نائن پارک جائیں ۔ جس پر کسان رہنماؤں نے دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم مطالبات کی منظوری تک واپس نہیں جائیں
 
Last edited by a moderator:

Fawad Javed

Minister (2k+ posts)
kissan11n1.jpg


پاکستان تحریک انصاف کے نے کسان اتحاد سے اظہار یکجہتی کیا, فواد چوہدری نے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ اگر کسانوں کے پر امن احتجاج پر پولیس ایکشن کیا گیا تو تحریک انصاف کسانوں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن جائیگی ، یہ فاشسٹ حکومت ہر احتجاج کو بزور طاقت دبانا چاہتی ہے یہ اب ممکن نہیں۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے لکھا کہ تحریک انصاف کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے ان کے جائز مطالبات حکومت فوری تسلیم کرے ملک میں کسانوں کا بدترین معاشی استحصال ہو رہا ہے اور موجودہ صورتحال نا قابل قبول ہے۔

فواد چوہدری نے تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان کے میڈیا نے پھر ثابت کیا وہ صرف سیٹھ میڈیا ہے، مزدور کسان اور عام آدمی سے اور ان کے مسائلُ سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں۔

شہباز گل نے لکھا کہ کسان اس ملک کی ماں ہے۔کسان دھرتی کا سینہ چیر کر پوری عوام کے لئے اناج اگاتا ہے-کسان جو ہاتھ پھیلاتا نہیں بلکہ ہاتھ سے محنت مزدوری کر کے عزت اور غیرت کی زندگی جینے والا ہے اس امپورٹڈ حکومت نے زراعت اور کسان کو تباہ کر دیا۔ اگر کسی قسم کا تشدد ہوا تو پوری قوم کسان کے ساتھ کھڑی ہے۔

عمران اسماعیل نے لکھا کہ عمران خان کے دور میں بہترین زرعی پالیسیوں سے کسان خوشحال ہوا فصلوں کی ریکارڈ پیداوار، زرعی نظام میں اصلاحات شروع ہوئی مگر آج کسان روڈوں پر اپنے حقوق مانگ رہے ہیں امپورٹڈ حکومت کسانوں کے حقوق اور آواز دبانے میں لگی ہوئی ہے ہم سندھ کے لوگ اپنے کسان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

پاکستان کسان اتحاد کے فوکل پرسن کا کہنا ہے کہ پاکستان کسان اتحاد سے کیے گئے وعدے حکومت کو پورا کرنے ہوں گے۔ کسان اتحاد نے اسلام آباد میں دھرنا دے رکھا ہے۔


کسانوں کےاحتجاج کےباعث زیرو پوائنٹ جانے والی سڑک بند کردی گئی ہے ، اس دوران دفاتر کی چھٹیوں ہونےکےباعث خیبرپلازہ چوک پرگاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ ہوئی ہیں

چئیرمین کسان اتحاد خالد حسین کا کہنا تھا کہ جب تک مذاکرات نہیں ہونگے ہم نہیں جائیں گے،ابھی تک وفاقی حکومت میں سے کسی نے مذاکرات کیلئے رابطہ نہیں کیا،حکومت کسانوں کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حکومت اور کسان اتحاد کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے ، حکومت کی طرف سے راناثناءاللہ، اور طارق بشیر، چیمہ مذاکرات کررہے ہیں۔

مظاہرین کی طرف سے خالد باٹھ مذاکرات میں شامل ہیں۔

رانا ثناللہ نے کسانوں سے کہا کہ آپ احتجاج ختم کریں یا ایف نائن پارک جائیں ۔ جس پر کسان رہنماؤں نے دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم مطالبات کی منظوری تک واپس نہیں جائیں
Perfect time for IK to call for long March
 
Sponsored Link