کندھ کوٹ: پولنگ کا عملہ اغواء، جھگڑوں میں پی ٹی آئی امیدوار کابھائی جاں بحق

1sindhbaldiatielection.jpg

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران تصادم،پی ٹی آئی امیدوار کا بھائی جاں بحق،خاتون گرمی سے جاں بحق

سندھ کے چار ڈیویژن کے چودہ اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کیلیے پولنگ کا عمل جاری ہے، اس دروان تصادم،ہنگامہ آرائی ہوائی فائرنگ سمیت عملے کے اغوا کے واقعات بھی سامنے آگئے۔

سانگھڑمیں ٹنڈوآدم میونسپل وارڈ نمبر تیرا کے پولنگ اسٹیشن میں تصادم میں پی ٹی آئی کے امیدوار کا بھائی جاں بحق اور تین افراد زخمی ہوگئے،پولنگ اسٹیشن ہاشم خاصخیلی میں دو جماعتوں کے کارکنان میں تصادم میں سات افراد زخمی ہوگئے،، ادھر شہدادکوٹ کی یو سی نمبر سات کے پولنگ اسٹیشن میں گرمی سے خاتون بھی جاں بحق ہوگئی۔


جیکب آباد میں یونین کونسل کوٹ جنگو کی پولنگ اسٹیشن پر پیپلزپارٹی اور آزاد امیدواروں میں تصادم سے دو افراد زخمی ہوگئے،تصادم کےدوران ڈسٹرکٹ کونسل کیلئے آزاد امیدوار فاورق کھوسو مبینہ طور پر اغوا ہوگئے،مبینہ طور اغوا کی واردات کے باعث پولنگ کا عمل روک دیاگیا۔


کندھ کے مختلف پولنگ اسٹیشنز پر میدان جنگ کا سماں ہے، صورتحال کشیدہ ہے،کندھ کوٹ کی یوسی دڑی کے پولنگ اسٹیشن ٹوڑی بنگلو پر مسلح افراد نے حملہ کردیا، انتخابی عملے کے دس افراد کواغواکرلیا، کندھ کوٹ میں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات پر ووٹرز خوفزدہ ہیں۔



کندھ کوٹ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران وارڈ نمبردس میں جےیوآئی اورپی پی کےکارکنان میں تصادم ہوا، لاٹھیوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا، تیس سے زائد افراد زخمی ہوگئے، بیس کے قریب موٹرسائیکلوں کو توڑ پھوڑ دیا گیا، رینجرز طلب کرلی گئی ہے۔


کندھ کوٹ کی یونین کونسل وکڑو میں سیاسی کارکنان میں تصادم ہوگیا، خواتین بھی لڑائی میں کود پڑیں،، پانچ افراد زخمی ہوگئے،کشمور کی ٹاؤن کمیٹی گڈو کے وارڈ نمبر دس میں ایک بار پھر ووٹرز آپس میں لڑ پڑے،جھگڑا پولنگ اسٹیشن کے اندر آزاد امیدوار کی موجودگی پر ہوا، وارڈ نمبر دس پر وونٹگ کا عمل روک دیاگیا۔

نواب شاہ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشن نادر شاہ ڈسپنسری میں ہنگامہ آرائی ہوئی، بیلٹ پیپرز میں تحریک لبیک کا نشان نہ ہونے پر امیدواروں اور ووٹرز نے احتجاج کیا، پولنگ روک دی گئی۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کو تعینات کر دیا گیا۔

بے نظیر آباد کے تین پولنگ اسٹیشنز پر مسلح افراد نے دھاوا بول دیا، مسلح افراد بیلٹ پیپر چھین کر فرار ہوگئے،تینوں پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ کا عمل شروع نہ ہو سکا، الیکشن کمیشن نے واقعہ کا نوٹس لے لیا، الیکشن کمیشن نے ڈی سی اور ڈی آراو کو کارروائی کاحکم دے دیا۔

پنو عاقل کے پولنگ اسٹیشن فرید مہر پر سیاسی کارکنوں کے درمیان تصادم ہوگیا، سمیت چار افراد زخمی ہوگئے،جیکب آباد کے پولنگ اسٹیشن گل شیرکنرانی میں پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کے کارکنوں میں تصادم ہوگیا۔ دو امیدواروں سمیت دس افراد زخمی ہوگئےجس کےباعث ووٹنگ کا عمل معطل کردیاگیا۔

نوشہروفیروز میں یونین شاہین سلیمان پولنگ اسٹیشن پردو سیاسی جماعتوں میں تصادم سے پانچ افراد زخمی ہوگئے،جس کے باعث پولنگ کاعمل روک دیاگیا۔

سکھر کے گاؤں اللہ جڑیومیں دو امیدواروں کےحامیوں کےدرمیان جھگڑاہوگیا،جس میں چار افراد زخمی ہوگئے،پولنگ کا عمل روک دیا گیا،پولنگ اسٹاف اور پولیس اہلکار پولنگ اسٹیشن میں محصور ہوگئے۔

شہدادکوٹ کی یوسی نمبر پچاس پولنگ اسٹیشن کوٹ جھڑیو میں پیپلزپارٹی اور آزاد امیدوار کے حامیوں میں تصادم ہوگیا،تصادم میں آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔

امیدواروں کےغلط نام پرنٹ ہونے والے حلقوں میں انتخابات ملتوی کردیئے گئے،ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق دوبارہ انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نیا شیڈول جاری کرے گا، الیکشن کمیشن نے اس سلسلے میں انکوائری کاحکم بھی جاری کردیا۔

پاکستان تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے الزام لگایا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے ان کے امیدواروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے،پی ٹی آئی کے رہنما علی زیدی کا کہنا ہے کہ الیکشن کے دوران تصادم کا خطرہ ہے، ذمہ دار زرداری مافیا، سندھ حکومت اور الیکشن کمیشن ہوں گے، پی ٹی آئی امیدواروں کو اغوا کیا گیا، ڈرایا دھمکایا جارہا ہے، یہ الیکشن نہیں بلکہ مافیا کے خلاف جہاد ہے۔

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلےمیں 14 اضلاع میں میں 21 ہزار سے زائد امیدوار شریک ہیں،صبح 8 بجے شروع ہونے والی پولنگ شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی، 9 ہزار پولنگ اسٹیشنز پر بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کیلیے 21 ہزار سے زائد امیدوار میدان میں اترے ہیں۔

ان 14 اضلاع میں مجموعی طور پر رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 1 کروڑ 13 لاکھ 4 ہزار 860 ہے، انتخابی عمل کے لیے کُل 9 ہزار 23 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں، جن میں سے مردوں کے لیے 1 ہزار 910، جبکہ خواتین کے لیے 1 ہزار 895 پولنگ اسٹیشنز ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سندھ کے پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کی نگرانی کر رہے ہیں،ترجمان کے مطابق اسلام آباد میں مرکزی اور الیکشن کمشنر سندھ کے دفتر کراچی میں صوبائی مانیٹرنگ سیل قائم کر دیا گیا ہے،چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان نے کہا کہ پولنگ میں مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا،خلاف ورزی کرنے پر کارروائی ہوگی۔
 
Advertisement

Arshak

Minister (2k+ posts)
The next general election will be very violent.There will be massive rigging.Pakistan is already a laughing stock around the world.The country will the butt of jokes through out the world.
 
Sponsored Link