کپتان ایکس دی شیم آف پنکی

Shah Shatranj

Chief Minister (5k+ posts)
چ جی بے حرمتی سے یاد آیا تمہاری بے بے بینظیر مرحوم کی تذلیل اس عورت کے باپ نے کروائی جس کو تم نے بے بے بنا رکھا ہے آج کل۔۔۔ اور دوسرا یہ عورت ایک مجرم کو ستھن میں چھپا کے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ ایڈا توں حرمت دا ماما

منافق ۔۔۔ کنجر۔۔۔ چوروں کے دلالی دار
تمہیں کیوں تکلیف ہونے والی بینظیر کی . تم نے تو اس کے نام سے انکم سپورٹ پروگرام بند کر دیا ... تمہاری ذہنیت کیا کم ہے تمھارے اندر بھی اتنی ہی گندگی ہے ....
اگر ایسے تمہاری پارٹی کی خواتین کو گھسیٹا گیا تو تم بہت انجواے کرو گے
 

Shah Shatranj

Chief Minister (5k+ posts)
Filthy pig - Now you are threatening to say things about Pinky Benazir's body. Son of a bloody bitch. Leave the dead alone. Saying things about her ugly daughters would be bad but atleast they are alive. I think it would be better to spew your filth talking about 'David'.
I can't think how you was born that filth in your mind ??? why pain in the name of pinki ..... every one know who she is and one day she will be facing a hamulating fate
 

karachiwala

Chief Minister (5k+ posts)
لیکن دوسروں کی خواتین کو دروازے توڑ کر بے حرمتی کرو
خواتین کی سیاست کی بات ہو تو ضرور کریں لیکن کسی کے ذاتی معاملات میں نا دخل اندازی کریں۔ رہا مریم صفدر کا مسئلہ تو اس کو بھی سیاسی حرکتوں پر ضرور پکڑین مگر در خانہ باتوں سے پرہیز بہتر ہے
 

Shah Shatranj

Chief Minister (5k+ posts)
خواتین کی سیاست کی بات ہو تو ضرور کریں لیکن کسی کے ذاتی معاملات میں نا دخل اندازی کریں۔ رہا مریم صفدر کا مسئلہ تو اس کو بھی سیاسی حرکتوں پر ضرور پکڑین مگر در خانہ باتوں سے پرہیز بہتر ہے
جب چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہو گا تو ذاتی معاملات میں مداخلت نہیں ہو گی
 

jakfh

MPA (400+ posts)
یہ پانچ ہزار سال پرانا قصہ ہے دنیا گلگا میش کے مظالم سے تنگ آ چکی تھی تب اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اور طاقتور انسان کی ضرورت محسوس ہوئی . ایک شکاری نے جنگل میں ٹارزن جیسا انسان انکیدو دیکھا جو جنگلی جانوروں کے ساتھ جانوروں کی سی زندگی گزارتا تھا . لوگوں نے سوچا یہ ہی گلگا میش کا مقابلہ کر سکتا ہے . اس کو مہذب دنیا میں لانے کے لیے جادو گرنی شهمت نے جنگل کا رخ کیا . اس کو انسانیت کی طرف مائل کرنے کے لیے اس کے ساتھ تعلقات قائم کیے. وہ اسے انسانی دنیا میں لے ائی . لیکن وہ جنگلی انسان انسانی دنیا میں کامیاب نہ ہو سکا . نہ تو وہ گلگا میش کو ہرا سکا اور نہ ہی انسانوں کی طرح بن سکا وہ ایک حیوان تھا اور اس کا اصل گھر جنگل ہی تھا اس لیے اسے دوبارہ جنگل میں واپس چھوڑ دیا گیا . اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ ایک کھلاڑی کبھی حکمران نہیں بن سکتا اسے کھیل کے میدان میں ہی چھوڑ دینا چاہئیے . جب ایک کھلاڑی کے ہاتھ سے بلا لے کر اسے قلم تھمایا جاتا ہے تو وہ کوئی کام کی بات نہیں لکھ سکتا نہ کوئی مضمون لکھ سکتا ہے وہ جاہل لکھنا پڑھنا نہیں جانتا وہ صرف شاٹیں مارنا جانتا ہے . جیسے گدھا دولتیاں مارتا ہے ویسے ہی ایک کھلاڑی جب حکومت میں آتا ہے تو بے قابو ہو کر ادھر ادھر ٹامک ٹویاں مارتا ہے . اسے کیا پتا ملک کیسے چلایا جاتا ہے . اس کی مہارت کی دو تین باتیں ہوتی ہیں ایک چرس پی کے کرکٹ کھیلنا دوسرا پوڈر پی کے غلط حرکتیں کرنا. کہتے ہیں اکھی دیکھ کر مکھی نگلنا اس کا عملی مظاہرہ کپتان ہے جب قوم کو پتا تھا کہ وہ ایک ناجائز بچی کا باپ ہے اور خواتین کو گندے گندے میسج بھیجتا ہے تب اس سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہئیے تھی لیکن قوم نے اکھی دیکھ کر مکھی نگل لی اور اور اب اس قوم کی حالت تشویش ناک ہے
tum kissi kutti kai bachay ho ... samnay hotay mai nai tumhare gand mai dhaga daal kai tumharay moo sai nikalana tha harami suar
 

karachiwala

Chief Minister (5k+ posts)
جب چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہو گا تو ذاتی معاملات میں مداخلت نہیں ہو گی
مگر یہ چادر اور چار دیواری کا تقدس کا مسئلہ تو میاں صاحب کے زمانے میں کہیں زیادہ تھا۔ آج بھی طلال صاحب تنظیم سازی میں مار کھا کر آگئے۔ آپ نے کچھ سوچ کر نہیں لکھا۔
 

Shah Shatranj

Chief Minister (5k+ posts)
مگر یہ چادر اور چار دیواری کا تقدس کا مسئلہ تو میاں صاحب کے زمانے میں کہیں زیادہ تھا۔ آج بھی طلال صاحب تنظیم سازی میں مار کھا کر آگئے۔ آپ نے کچھ سوچ کر نہیں لکھا۔
جب تمھارے گھروں کی باری اۓ گی تب تمہیں پتا لگ جاۓ گا سیاسی انتقام کیا ہوتا ہے
 

Shah Shatranj

Chief Minister (5k+ posts)
PPP should be ashamed for this

Billo shouldnt go to this level to lick the balls of GHQ
Why ? because the selected pm got kidnapped ig sindh and did a shameful act

everything changes some days those who are doing this act will come under same fate
 

stoic

Minister (2k+ posts)
پنکی آکسفورڈ میں خان اور بہت سارے گوروں سے چدوا چدوا کملی ہو گی تھی یہ بات تو سب کو پتہ ہے۔ وہاں پر اسکو ایک دیو گلگامش ملا جس کی وہ دیوانی تھی پھر یہ ہوا کہ اسکی شادی زرداری انکادو سے ہوگئے اور اُسنے تین سور کے بچوں کو جنم دیا اور خود ایک سانپ کی طرح کچلی گئی
 

NasNY

Chief Minister (5k+ posts)
یہ پانچ ہزار سال پرانا قصہ ہے دنیا گلگا میش کے مظالم سے تنگ آ چکی تھی تب اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اور طاقتور انسان کی ضرورت محسوس ہوئی . ایک شکاری نے جنگل میں ٹارزن جیسا انسان انکیدو دیکھا جو جنگلی جانوروں کے ساتھ جانوروں کی سی زندگی گزارتا تھا . لوگوں نے سوچا یہ ہی گلگا میش کا مقابلہ کر سکتا ہے . اس کو مہذب دنیا میں لانے کے لیے جادو گرنی شهمت نے جنگل کا رخ کیا . اس کو انسانیت کی طرف مائل کرنے کے لیے اس کے ساتھ تعلقات قائم کیے. وہ اسے انسانی دنیا میں لے ائی . لیکن وہ جنگلی انسان انسانی دنیا میں کامیاب نہ ہو سکا . نہ تو وہ گلگا میش کو ہرا سکا اور نہ ہی انسانوں کی طرح بن سکا وہ ایک حیوان تھا اور اس کا اصل گھر جنگل ہی تھا اس لیے اسے دوبارہ جنگل میں واپس چھوڑ دیا گیا . اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ ایک کھلاڑی کبھی حکمران نہیں بن سکتا اسے کھیل کے میدان میں ہی چھوڑ دینا چاہئیے . جب ایک کھلاڑی کے ہاتھ سے بلا لے کر اسے قلم تھمایا جاتا ہے تو وہ کوئی کام کی بات نہیں لکھ سکتا نہ کوئی مضمون لکھ سکتا ہے وہ جاہل لکھنا پڑھنا نہیں جانتا وہ صرف شاٹیں مارنا جانتا ہے . جیسے گدھا دولتیاں مارتا ہے ویسے ہی ایک کھلاڑی جب حکومت میں آتا ہے تو بے قابو ہو کر ادھر ادھر ٹامک ٹویاں مارتا ہے . اسے کیا پتا ملک کیسے چلایا جاتا ہے . اس کی مہارت کی دو تین باتیں ہوتی ہیں ایک چرس پی کے کرکٹ کھیلنا دوسرا پوڈر پی کے غلط حرکتیں کرنا. کہتے ہیں اکھی دیکھ کر مکھی نگلنا اس کا عملی مظاہرہ کپتان ہے جب قوم کو پتا تھا کہ وہ ایک ناجائز بچی کا باپ ہے اور خواتین کو گندے گندے میسج بھیجتا ہے تب اس سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہئیے تھی لیکن قوم نے اکھی دیکھ کر مکھی نگل لی اور اور اب اس قوم کی حالت تشویش ناک ہے
So we have a choice of
Teen dabbay wala
Cinema Ticket seller
a mystified gender species
calibari Nani 420
or the Non-Shariah compliant Maulvis

You make a good case bring back Military rule.
Military generals are leaders managers trained from their young age to prepare for any possibility.

Just like Gilgamesh.
 
Last edited:

karachiwala

Chief Minister (5k+ posts)
جب تمھارے گھروں کی باری اۓ گی تب تمہیں پتا لگ جاۓ گا سیاسی انتقام کیا ہوتا ہے
ہم نے تو نہیں کہا کہ آپ اپنی اوقات دکھا دیں مگر آپ پھر بھی باز نہیں آئے۔ ہم کونسے سیاست میں ہیں اور ہم کونسے پے رول پر ہیں اور ہم نے کون سے مال کھائیں ہیں کہ ہمارے گھر والوں پر ایسے حالات آئیں۔ آپ بھی اگر حلال کی سوچیں تو دنیا اور آخرت دونوکی کامیابی ہے اس میں۔
 

باس از باس

MPA (400+ posts)
تمہیں کیوں تکلیف ہونے والی بینظیر کی . تم نے تو اس کے نام سے انکم سپورٹ پروگرام بند کر دیا ... تمہاری ذہنیت کیا کم ہے تمھارے اندر بھی اتنی ہی گندگی ہے ....
اگر ایسے تمہاری پارٹی کی خواتین کو گھسیٹا گیا تو تم بہت انجواے کرو گے

او ہیلو حرمت کے ٹھیکے دار مجھے قطعاً تکلیف نہی بینظیر کی، مرحومہ کی تکلیف تمہیں ہونی چاہیے جو کہ نہی ہے۔۔۔ اور مجھے کیوں ہونے لگی اُس عورت کی تکلیف جو مر کے بھی عذاب بنی ہوئی ہے ملک کے لئیے اور وجہ ہیں تم جیسےمردوں اور قبروں کے پجاری
 

باس از باس

MPA (400+ posts)
جب چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہو گا تو ذاتی معاملات میں مداخلت نہیں ہو گی


کوئی چادر چار دیواری کا تقدس پامال نہی ہوا وہ چورنی مجرم اپنے پالتو مجرم کھسم کو ستھن میں چھپا کے بیٹھی ہوئی تھی اور تمہارے زرادی کی پولیس نے اس عورت کی ستھن سے مجرم نکال لیا۔۔ دیٹس اٹ
 

Billo darmyani

Councller (250+ posts)
یہ پانچ ہزار سال پرانا قصہ ہے دنیا گلگا میش کے مظالم سے تنگ آ چکی تھی تب اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اور طاقتور انسان کی ضرورت محسوس ہوئی . ایک شکاری نے جنگل میں ٹارزن جیسا انسان انکیدو دیکھا جو جنگلی جانوروں کے ساتھ جانوروں کی سی زندگی گزارتا تھا . لوگوں نے سوچا یہ ہی گلگا میش کا مقابلہ کر سکتا ہے . اس کو مہذب دنیا میں لانے کے لیے جادو گرنی شهمت نے جنگل کا رخ کیا . اس کو انسانیت کی طرف مائل کرنے کے لیے اس کے ساتھ تعلقات قائم کیے. وہ اسے انسانی دنیا میں لے ائی . لیکن وہ جنگلی انسان انسانی دنیا میں کامیاب نہ ہو سکا . نہ تو وہ گلگا میش کو ہرا سکا اور نہ ہی انسانوں کی طرح بن سکا وہ ایک حیوان تھا اور اس کا اصل گھر جنگل ہی تھا اس لیے اسے دوبارہ جنگل میں واپس چھوڑ دیا گیا . اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ ایک کھلاڑی کبھی حکمران نہیں بن سکتا اسے کھیل کے میدان میں ہی چھوڑ دینا چاہئیے . جب ایک کھلاڑی کے ہاتھ سے بلا لے کر اسے قلم تھمایا جاتا ہے تو وہ کوئی کام کی بات نہیں لکھ سکتا نہ کوئی مضمون لکھ سکتا ہے وہ جاہل لکھنا پڑھنا نہیں جانتا وہ صرف شاٹیں مارنا جانتا ہے . جیسے گدھا دولتیاں مارتا ہے ویسے ہی ایک کھلاڑی جب حکومت میں آتا ہے تو بے قابو ہو کر ادھر ادھر ٹامک ٹویاں مارتا ہے . اسے کیا پتا ملک کیسے چلایا جاتا ہے . اس کی مہارت کی دو تین باتیں ہوتی ہیں ایک چرس پی کے کرکٹ کھیلنا دوسرا پوڈر پی کے غلط حرکتیں کرنا. کہتے ہیں اکھی دیکھ کر مکھی نگلنا اس کا عملی مظاہرہ کپتان ہے جب قوم کو پتا تھا کہ وہ ایک ناجائز بچی کا باپ ہے اور خواتین کو گندے گندے میسج بھیجتا ہے تب اس سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہئیے تھی لیکن قوم نے اکھی دیکھ کر مکھی نگل لی اور اور اب اس قوم کی حالت تشویش ناک ہے
ABAY KYA CHOUTYA HAY? MARYAM KI JHAANT KAY BAAL
 
Sponsored Link