گوجرہ زیادتی کیس، متاثرہ خاتون کا مختلف نمبرز سے ہراساں کئے جانے کا انکشاف

rape.jpg


گوجرہ میں موٹروے پر زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کو مختلف نمبرز سے ہراساں کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق گوجرہ میں زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون نے انکشاف کیا ہے کہ اُسے مختلف نمبروں سے کال کر کے ہراساں کیا جا رہا ہے جبکہ کیس واپس لینے کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

متاثرہ خاتون نے علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش ہوکر بیان دیا اور ایف آئی آر میں درج واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے پولیس کی تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔متاثرہ لڑکی نے مجسٹریٹ کو بتایا کہ وہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کی تحقیقات سے مطمئن نہیں ہے، لڑکی نے تحقیقات کے غیر شفاف ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔


متاثرہ خاتون نے بیان میں مزید کہا کہمختلف نمبروں سے کال کر کے ہراساں کیا جا رہا ہے، ملزمان بااثر ہیں، دھمکیاں دی جا رہی ‏ہیں، کیس واپس لینے کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔مجسٹریٹ نے خاتون کے بیان کو سن کر تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر پیشرفت سے آگاہ کرنے اور چالان جمع کرانے کی ہدایت کی۔

عدالت نے پولیس کی استدعا پر گرفتار ملزمان حماد اور رحمان کا مزید 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

واضح رہے کہ گوجرہ میں نوکری کا جھانسہ دے کر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیاتھا، تفصیلات کے مطابق متاثرہ خاتون اپنے شوہر کے ساتھ جارہی تھی جب مسلح افراد نے اغوا کیا اور جنگل میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کر کے ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا تھا۔
 
Advertisement

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
آج ایک مفتی کو عدالت نے چھوڑ دیا تو انصاف کسے ملے گا؟ یہ حکمران اس قابل نہیں کہ ریپسٹ کوسزا دے سکیں عجیب طرح کی بے حسی اور نااہلی ہے کہ بیان سے باہر
میرے خیال میں جونہی یہ تبدیل ہوں نئے آنے والے یا عوام خود سب سے پہلے ان کو پکڑ کر درختوں سے لٹکا کر ماریں یہاں تک کہ یہ مرجائیں مگر ان کی لاشیں بھی لٹکتی رہنے دیں
 

arifkarim

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member
میرے خیال میں جونہی یہ تبدیل ہوں نئے آنے والے یا عوام خود سب سے پہلے ان کو پکڑ کر درختوں سے لٹکا کر ماریں یہاں تک کہ یہ مرجائیں مگر ان کی لاشیں بھی لٹکتی رہنے دیں
کل تو سب سے پہلے باہر نکل کر سانحہ ماڈل کرنے والوں کو جوتے لگانے رائیونڈ نکل جا۔
 

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
کل تو سب سے پہلے باہر نکل کر سانحہ ماڈل کرنے والوں کو جوتے لگانے رائیونڈ نکل جا۔
دونوں واقعات میں زمین آسمان کا فرق ہے چول، ماڈل ٹاون میں مولوی کینیڈی نے اپنے بندے خود مرواے، جو لیڈر اپنے چیلوں کو پولیس سے بھڑنے کا حکم دے، بعد میں نقصان کا بھی وہ خود ذمہ دار ہوگا
دوسرے واقعہ میں بے چاری ایک مظلوم عورت جس کا ریپ ہوا ہے اسے کیس واپس لینے کیلئے دھمکایا جارہا ہے
یوتھیوں کی تو مت ہی ماری گئی ہے
 

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
کل کو لبیک کے شرپسند جو دھرنا دے کر سڑک روک کر عوام کو تنگ کررہے ہیں پولیس سے لڑای کرتے ہیں تو ان میں جو مریں گے ان کا ذمہ دار ان کا لیڈر ہوگا یا پولیس؟
 
Sponsored Link