ہائے میری خوش فہمیاں

shh1b1121.jpg


عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونا مجھے بھی اچھا نہیں لگا، میرا خیال تھا کہ کسی حکومت کو بھی اس طرح لوٹے بناکر اور مینڈیٹ پرحملہ کرکے گھر بھیجنا ٹھیک نہیں ہے، کسی کو گھر بھیجنے کا طریقہ یہی ہے کہ نئے الیکشن کرالئے جائیں۔

ان سب کے باوجود میری خوش فہمیاں تھیں جب پتہ چلا کہ تحریک عدم اعتماد کے پیچھے امریکہ ہے اور اگر نئی حکومت آگئی تو امریکہ پاکستان کی بھرپور مدد کرے گا ااور پاکستان پر ڈالرز کی بارش کرکے پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کردے گا۔

میرا خیال تھا کہ امریکہ پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد دے گا، آئی ایم ایف آسان شرائط پر پاکستان کو قرضہ دے گا، ورلڈبنک بھی پاکستان کی مدد کو آن پہنچے گا، یورپ اور عرب دنیا بھی پاکستان کا ساتھ دے گی۔

خیال تھا کہ عمران حکومت گئی تو پاکستان ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکل آئے گا، یورپی یونین پاکستان سے فضائی پابندیاں ختم کردے گا، توانائی منصوبوں میں امریکہ پاکستان کی مدد کرے گا۔

ہم نے سنا تھا کہ شریف خاندان کے سعودی خاندان سے ذاتی تعلقات ہیں اور سعودی خاندان سب سے پہلے پاکستان کی مدد کرے گا اور ہم پر سعودی ریالوں کی بارش کردے گا، تیل کے جہاز ہمیں بھیجے گا، یواے ای سے بھی ہمیں بہت امیدیں تھیں۔

مجھے چند بزرگ صحافیوں نے بتایا تھا کہ شہبازشریف ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر ہے اور شہبازسپیڈ کے نام سے جانا جاتا ہے اسکی پرواز سے زمانہ جلتا ہے، اگر وہ وزیراعظم بنا تو وہ مہنگائی کو ختم کردے گا، پٹرول کی قیمت 100 روپے قریب لے آئے گا، چینی اور آٹا دوبارہ 55 روپے اور 40 روپے کلو پر پہنچادے گا، مرغی 200 کے قریب فروخت ہوگی

ن لیگ کے حامی صحافیوں نے بتایا تھا کہ ن لیگ کے پاس بہترین معاشی ٹیم ہےاسکے آنے سے ڈالر کی قیمت کم ہوگی، ایک صحافی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسحاق ڈار آیا تو ڈالر 150 سے بھی کم ہوجائے گا۔

پنجاب میں عثمان بزدار کی بیڈگورننس کے قصے تھے، امید تھی کہ اگر حمزہ شہباز وزیراعلیٰ بنا تو وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلے گا اور گڈگورننس کے راسے پر ڈال دے گا،

اسکے بعد تحریک عدم اعتماد آئی عمران خان ہٹاتو شہبازشریف وزاعظم بنا، عثمان بزدار ہٹا تو حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب بنا، امید تھی کہ اب پاکستان کے تمام مسائل آنا فانا حل ہوجائیں گے۔

شہبازشریف کے وزیراعظم بننے کے بعد سٹاک مارکیٹ نے چھلانگ لگائی اور ڈالر 181 پر آیا تو امید پیدا ہوئی کہ اب ڈالر 150 سے نیچے آنا یقینی ہے، پاکستان بہت تیزی سے ترقی کرے گا۔

شہبازشریف کے وزیراعظم بننے کے بعد خبر آئی کہ امریکہ پاکستان کو 230 ملین ڈالر دے رہا ہے ،خوش فہمی تھی کہ امریکہ اسکے بعد مختلف اقساط میں مزید امداد پاکستان کو دے گا، شہباز شریف نے سعودی عرب کادورہ کیاتو خبر آئی کہ سعودی عرب پاکستان کو 8 ارب ڈالر کا پیکیج دے گا۔

اسکے بعد خبر آئی کہ آئی ایم ایف بھی پاکستان کو 6 ارب ڈالر کی بجائے 8 ارب ڈالر دے گا مگر کچھ دن بعد پتہ چلا کہ آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ پہلے پٹرول پر سبسڈی ختم کرو پھر ہم سے بات کرنا، سعودی عرب بھی اسٹیٹ بنک میں رکھوائے ڈالرز واپس لینے پر غور کررہا ہے۔

اسکے بعد جو کچھ ہوا میرے دل کے ارمان آنسوؤں میں ہی رہ گئے،لوڈشیڈنگ بڑھ گئی، ڈالر 194 پر پہنچ گیا، سٹاک مارکیٹ آئے روز کریش ہونا شروع ہوگئی، دوست ممالک نے ہم سے ہاتھ کھینچ لئے، چین جیسے دوست ملک نے اپنے تمام کنفیوشش سنٹرز بندکردئیے اور عملے کو واپس بلوالیا۔

امریکہ جس کے کہنے پر حکومت تبدیل کی گئی، وہ ہمیں سری لنکا بنتا دیکھ رہا ہے ہماری مدد نہیں کررہا، چین سے تعلقات میں بھی سردمہری آگئی ہے اور وہ بجائے ہماری مدد کے سرمایہ نکال رہا ہے۔

دنیا ہماری مدد کرے گی یا نہیں یہ چھوڑیں سابقہ حکومت کے کچھ اچھے کام اس وقت مشکل میں ہیں اور بند یا معطل ہونیکا خدشہ ہے، احساس پروگرام تو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہوچکا ہے اور اب غریبوں کو پیسے لینے کیلئے بے نظیرانکم سپورٹ کارڈ بنوانا پڑے گا۔

صحت کارڈ، وزیراعظم سٹیزن پورٹل، گھر بنانے کیلئے قرضہ سکیم، کامیاب پاکستان پروگرام، کامیاب جوان پروگرام بھی ختم یا معطل ہونیکا خدشہ ہے۔

پنجاب میں گڈگورننس کا یہ عالم ہے کہ ابھی تک کابینہ نہیں بن پائی، سارا پنجاب حمزہ شہباز کے نازک کندھوں پر کھڑا ہے۔

اب ہم سوچ رہے ہیں کہ ہم نے کھویا کیا پایا؟ عمران خان کو کھوکر شہبازشریف پایا، شاہ محمودقریشی کو کھوکر ناتجربہ کار بلاول کو پایا، شوکت ترین ، رضاباقر کو کھوکر مفتاح اسماعیل پایا، مرادسعید کو کھوکر مولانا فضل الرحمان کے بیٹے کو پایا۔

مختلف مسالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنیوالے نورالحق قادری کی جگہ مفتی شکور کو پایا جس کیلئے حج سکیم پر پریس کانفرنس مولانا کے بیٹے کو کرنا پڑی، اسد عمر کی جگہ احسن اقبال کو پایا، حماداظہر کی جگہ خرم دستگیر کوپایا، شیخ رشید کو کھوکر راناثناء اللہ پایا، ثانیہ نشتر کوکھوکر شازیہ مری کو پایا اور ڈاکٹرفیصل سلطان کو کھوکر قادرپٹیل کو پایا۔

شاید مستقبل میں ہم عارف علوی کو کھوکر آصف زرداری یا مولانا فضل الرحمان کو پالیں اور ملک درست سمت پر چل پڑے۔
 
Advertisement

thinking

Prime Minister (20k+ posts)
Sawabi jalsa gah itni garmi mein abhi se full ho gia ha.hazaro log abhi rastay mein hain..Amazing Murshad jee..
Its only 6.24 pm..
 

samisam

Chief Minister (5k+ posts)
shh1b1121.jpg


عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونا مجھے بھی اچھا نہیں لگا، میرا خیال تھا کہ کسی حکومت کو بھی اس طرح لوٹے بناکر اور مینڈیٹ پرحملہ کرکے گھر بھیجنا ٹھیک نہیں ہے، کسی کو گھر بھیجنے کا طریقہ یہی ہے کہ نئے الیکشن کرالئے جائیں۔

ان سب کے باوجود میری خوش فہمیاں تھیں جب پتہ چلا کہ تحریک عدم اعتماد کے پیچھے امریکہ ہے اور اگر نئی حکومت آگئی تو امریکہ پاکستان کی بھرپور مدد کرے گا ااور پاکستان پر ڈالرز کی بارش کرکے پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کردے گا۔

میرا خیال تھا کہ امریکہ پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد دے گا، آئی ایم ایف آسان شرائط پر پاکستان کو قرضہ دے گا، ورلڈبنک بھی پاکستان کی مدد کو آن پہنچے گا، یورپ اور عرب دنیا بھی پاکستان کا ساتھ دے گی۔

خیال تھا کہ عمران حکومت گئی تو پاکستان ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکل آئے گا، یورپی یونین پاکستان سے فضائی پابندیاں ختم کردے گا، توانائی منصوبوں میں امریکہ پاکستان کی مدد کرے گا۔

ہم نے سنا تھا کہ شریف خاندان کے سعودی خاندان سے ذاتی تعلقات ہیں اور سعودی خاندان سب سے پہلے پاکستان کی مدد کرے گا اور ہم پر سعودی ریالوں کی بارش کردے گا، تیل کے جہاز ہمیں بھیجے گا، یواے ای سے بھی ہمیں بہت امیدیں تھیں۔

مجھے چند بزرگ صحافیوں نے بتایا تھا کہ شہبازشریف ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر ہے اور شہبازسپیڈ کے نام سے جانا جاتا ہے اسکی پرواز سے زمانہ جلتا ہے، اگر وہ وزیراعظم بنا تو وہ مہنگائی کو ختم کردے گا، پٹرول کی قیمت 100 روپے قریب لے آئے گا، چینی اور آٹا دوبارہ 55 روپے اور 40 روپے کلو پر پہنچادے گا، مرغی 200 کے قریب فروخت ہوگی

ن لیگ کے حامی صحافیوں نے بتایا تھا کہ ن لیگ کے پاس بہترین معاشی ٹیم ہےاسکے آنے سے ڈالر کی قیمت کم ہوگی، ایک صحافی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسحاق ڈار آیا تو ڈالر 150 سے بھی کم ہوجائے گا۔

پنجاب میں عثمان بزدار کی بیڈگورننس کے قصے تھے، امید تھی کہ اگر حمزہ شہباز وزیراعلیٰ بنا تو وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلے گا اور گڈگورننس کے راسے پر ڈال دے گا،

اسکے بعد تحریک عدم اعتماد آئی عمران خان ہٹاتو شہبازشریف وزاعظم بنا، عثمان بزدار ہٹا تو حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب بنا، امید تھی کہ اب پاکستان کے تمام مسائل آنا فانا حل ہوجائیں گے۔

شہبازشریف کے وزیراعظم بننے کے بعد سٹاک مارکیٹ نے چھلانگ لگائی اور ڈالر 181 پر آیا تو امید پیدا ہوئی کہ اب ڈالر 150 سے نیچے آنا یقینی ہے، پاکستان بہت تیزی سے ترقی کرے گا۔

شہبازشریف کے وزیراعظم بننے کے بعد خبر آئی کہ امریکہ پاکستان کو 230 ملین ڈالر دے رہا ہے ،خوش فہمی تھی کہ امریکہ اسکے بعد مختلف اقساط میں مزید امداد پاکستان کو دے گا، شہباز شریف نے سعودی عرب کادورہ کیاتو خبر آئی کہ سعودی عرب پاکستان کو 8 ارب ڈالر کا پیکیج دے گا۔

اسکے بعد خبر آئی کہ آئی ایم ایف بھی پاکستان کو 6 ارب ڈالر کی بجائے 8 ارب ڈالر دے گا مگر کچھ دن بعد پتہ چلا کہ آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ پہلے پٹرول پر سبسڈی ختم کرو پھر ہم سے بات کرنا، سعودی عرب بھی اسٹیٹ بنک میں رکھوائے ڈالرز واپس لینے پر غور کررہا ہے۔

اسکے بعد جو کچھ ہوا میرے دل کے ارمان آنسوؤں میں ہی رہ گئے،لوڈشیڈنگ بڑھ گئی، ڈالر 194 پر پہنچ گیا، سٹاک مارکیٹ آئے روز کریش ہونا شروع ہوگئی، دوست ممالک نے ہم سے ہاتھ کھینچ لئے، چین جیسے دوست ملک نے اپنے تمام کنفیوشش سنٹرز بندکردئیے اور عملے کو واپس بلوالیا۔

امریکہ جس کے کہنے پر حکومت تبدیل کی گئی، وہ ہمیں سری لنکا بنتا دیکھ رہا ہے ہماری مدد نہیں کررہا، چین سے تعلقات میں بھی سردمہری آگئی ہے اور وہ بجائے ہماری مدد کے سرمایہ نکال رہا ہے۔

دنیا ہماری مدد کرے گی یا نہیں یہ چھوڑیں سابقہ حکومت کے کچھ اچھے کام اس وقت مشکل میں ہیں اور بند یا معطل ہونیکا خدشہ ہے، احساس پروگرام تو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہوچکا ہے اور اب غریبوں کو پیسے لینے کیلئے بے نظیرانکم سپورٹ کارڈ بنوانا پڑے گا۔

صحت کارڈ، وزیراعظم سٹیزن پورٹل، گھر بنانے کیلئے قرضہ سکیم، کامیاب پاکستان پروگرام، کامیاب جوان پروگرام بھی ختم یا معطل ہونیکا خدشہ ہے۔

پنجاب میں گڈگورننس کا یہ عالم ہے کہ ابھی تک کابینہ نہیں بن پائی، سارا پنجاب حمزہ شہباز کے نازک کندھوں پر کھڑا ہے۔

اب ہم سوچ رہے ہیں کہ ہم نے کھویا کیا پایا؟ عمران خان کو کھوکر شہبازشریف پایا، شاہ محمودقریشی کو کھوکر ناتجربہ کار بلاول کو پایا، شوکت ترین ، رضاباقر کو کھوکر مفتاح اسماعیل پایا، مرادسعید کو کھوکر مولانا فضل الرحمان کے بیٹے کو پایا۔

مختلف مسالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنیوالے نورالحق قادری کی جگہ مفتی شکور کو پایا جس کیلئے حج سکیم پر پریس کانفرنس مولانا کے بیٹے کو کرنا پڑی، اسد عمر کی جگہ احسن اقبال کو پایا، حماداظہر کی جگہ خرم دستگیر کوپایا، شیخ رشید کو کھوکر راناثناء اللہ پایا، ثانیہ نشتر کوکھوکر شازیہ مری کو پایا اور ڈاکٹرفیصل سلطان کو کھوکر قادرپٹیل کو پایا۔

شاید مستقبل میں ہم عارف علوی کو کھوکر آصف زرداری یا مولانا فضل الرحمان کو پالیں اور ملک درست سمت پر چل پڑے۔
 

pkpatriot

Minister (2k+ posts)
I think after regime change you wanted to say......
Ae Tair e Lahoti Us Rizq Se Mout Achi
Jis Rizq Se Ati Ho Parwaz Mein Kotahi
اے طائر لاہوتی اُس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

But like many other you ended up saying

Ae Tair e Lahoti....
Jitnay di khoti
Uthay aan khaloti..
 

PakistanFIRST1

Senator (1k+ posts)
shh1b1121.jpg


عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونا مجھے بھی اچھا نہیں لگا، میرا خیال تھا کہ کسی حکومت کو بھی اس طرح لوٹے بناکر اور مینڈیٹ پرحملہ کرکے گھر بھیجنا ٹھیک نہیں ہے، کسی کو گھر بھیجنے کا طریقہ یہی ہے کہ نئے الیکشن کرالئے جائیں۔

ان سب کے باوجود میری خوش فہمیاں تھیں جب پتہ چلا کہ تحریک عدم اعتماد کے پیچھے امریکہ ہے اور اگر نئی حکومت آگئی تو امریکہ پاکستان کی بھرپور مدد کرے گا ااور پاکستان پر ڈالرز کی بارش کرکے پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کردے گا۔

میرا خیال تھا کہ امریکہ پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد دے گا، آئی ایم ایف آسان شرائط پر پاکستان کو قرضہ دے گا، ورلڈبنک بھی پاکستان کی مدد کو آن پہنچے گا، یورپ اور عرب دنیا بھی پاکستان کا ساتھ دے گی۔

خیال تھا کہ عمران حکومت گئی تو پاکستان ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکل آئے گا، یورپی یونین پاکستان سے فضائی پابندیاں ختم کردے گا، توانائی منصوبوں میں امریکہ پاکستان کی مدد کرے گا۔

ہم نے سنا تھا کہ شریف خاندان کے سعودی خاندان سے ذاتی تعلقات ہیں اور سعودی خاندان سب سے پہلے پاکستان کی مدد کرے گا اور ہم پر سعودی ریالوں کی بارش کردے گا، تیل کے جہاز ہمیں بھیجے گا، یواے ای سے بھی ہمیں بہت امیدیں تھیں۔

مجھے چند بزرگ صحافیوں نے بتایا تھا کہ شہبازشریف ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر ہے اور شہبازسپیڈ کے نام سے جانا جاتا ہے اسکی پرواز سے زمانہ جلتا ہے، اگر وہ وزیراعظم بنا تو وہ مہنگائی کو ختم کردے گا، پٹرول کی قیمت 100 روپے قریب لے آئے گا، چینی اور آٹا دوبارہ 55 روپے اور 40 روپے کلو پر پہنچادے گا، مرغی 200 کے قریب فروخت ہوگی

ن لیگ کے حامی صحافیوں نے بتایا تھا کہ ن لیگ کے پاس بہترین معاشی ٹیم ہےاسکے آنے سے ڈالر کی قیمت کم ہوگی، ایک صحافی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسحاق ڈار آیا تو ڈالر 150 سے بھی کم ہوجائے گا۔

پنجاب میں عثمان بزدار کی بیڈگورننس کے قصے تھے، امید تھی کہ اگر حمزہ شہباز وزیراعلیٰ بنا تو وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلے گا اور گڈگورننس کے راسے پر ڈال دے گا،

اسکے بعد تحریک عدم اعتماد آئی عمران خان ہٹاتو شہبازشریف وزاعظم بنا، عثمان بزدار ہٹا تو حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب بنا، امید تھی کہ اب پاکستان کے تمام مسائل آنا فانا حل ہوجائیں گے۔

شہبازشریف کے وزیراعظم بننے کے بعد سٹاک مارکیٹ نے چھلانگ لگائی اور ڈالر 181 پر آیا تو امید پیدا ہوئی کہ اب ڈالر 150 سے نیچے آنا یقینی ہے، پاکستان بہت تیزی سے ترقی کرے گا۔

شہبازشریف کے وزیراعظم بننے کے بعد خبر آئی کہ امریکہ پاکستان کو 230 ملین ڈالر دے رہا ہے ،خوش فہمی تھی کہ امریکہ اسکے بعد مختلف اقساط میں مزید امداد پاکستان کو دے گا، شہباز شریف نے سعودی عرب کادورہ کیاتو خبر آئی کہ سعودی عرب پاکستان کو 8 ارب ڈالر کا پیکیج دے گا۔

اسکے بعد خبر آئی کہ آئی ایم ایف بھی پاکستان کو 6 ارب ڈالر کی بجائے 8 ارب ڈالر دے گا مگر کچھ دن بعد پتہ چلا کہ آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ پہلے پٹرول پر سبسڈی ختم کرو پھر ہم سے بات کرنا، سعودی عرب بھی اسٹیٹ بنک میں رکھوائے ڈالرز واپس لینے پر غور کررہا ہے۔

اسکے بعد جو کچھ ہوا میرے دل کے ارمان آنسوؤں میں ہی رہ گئے،لوڈشیڈنگ بڑھ گئی، ڈالر 194 پر پہنچ گیا، سٹاک مارکیٹ آئے روز کریش ہونا شروع ہوگئی، دوست ممالک نے ہم سے ہاتھ کھینچ لئے، چین جیسے دوست ملک نے اپنے تمام کنفیوشش سنٹرز بندکردئیے اور عملے کو واپس بلوالیا۔

امریکہ جس کے کہنے پر حکومت تبدیل کی گئی، وہ ہمیں سری لنکا بنتا دیکھ رہا ہے ہماری مدد نہیں کررہا، چین سے تعلقات میں بھی سردمہری آگئی ہے اور وہ بجائے ہماری مدد کے سرمایہ نکال رہا ہے۔

دنیا ہماری مدد کرے گی یا نہیں یہ چھوڑیں سابقہ حکومت کے کچھ اچھے کام اس وقت مشکل میں ہیں اور بند یا معطل ہونیکا خدشہ ہے، احساس پروگرام تو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہوچکا ہے اور اب غریبوں کو پیسے لینے کیلئے بے نظیرانکم سپورٹ کارڈ بنوانا پڑے گا۔

صحت کارڈ، وزیراعظم سٹیزن پورٹل، گھر بنانے کیلئے قرضہ سکیم، کامیاب پاکستان پروگرام، کامیاب جوان پروگرام بھی ختم یا معطل ہونیکا خدشہ ہے۔

پنجاب میں گڈگورننس کا یہ عالم ہے کہ ابھی تک کابینہ نہیں بن پائی، سارا پنجاب حمزہ شہباز کے نازک کندھوں پر کھڑا ہے۔

اب ہم سوچ رہے ہیں کہ ہم نے کھویا کیا پایا؟ عمران خان کو کھوکر شہبازشریف پایا، شاہ محمودقریشی کو کھوکر ناتجربہ کار بلاول کو پایا، شوکت ترین ، رضاباقر کو کھوکر مفتاح اسماعیل پایا، مرادسعید کو کھوکر مولانا فضل الرحمان کے بیٹے کو پایا۔

مختلف مسالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنیوالے نورالحق قادری کی جگہ مفتی شکور کو پایا جس کیلئے حج سکیم پر پریس کانفرنس مولانا کے بیٹے کو کرنا پڑی، اسد عمر کی جگہ احسن اقبال کو پایا، حماداظہر کی جگہ خرم دستگیر کوپایا، شیخ رشید کو کھوکر راناثناء اللہ پایا، ثانیہ نشتر کوکھوکر شازیہ مری کو پایا اور ڈاکٹرفیصل سلطان کو کھوکر قادرپٹیل کو پایا۔

شاید مستقبل میں ہم عارف علوی کو کھوکر آصف زرداری یا مولانا فضل الرحمان کو پالیں اور ملک درست سمت پر چل پڑے۔
this is called NANGI HAQEEQAT
 

Nice2MU

Prime Minister (20k+ posts)
اسٹبلشمنٹ نے بدقسمت پاکستان کو ریسورس گیئر لگوا کے سیدھا 2008 میں پہنچا دیا ۔۔۔
 

miafridi

Prime Minister (20k+ posts)
Noon leak was always a corrupt and an incompetent party. Their only good performance was free tours and plots for journalists who in return created these stories of them being the best administrators.

امپورٹڈ_حکومت_نامنظور
 
Last edited:
Sponsored Link