یورپ گھسنے کی کوشش کرنے والے پاکستانیوں کو انڈرویئر اتار کرمارا گیا

Majid Sheikh

MPA (400+ posts)

یہ پاکستانی بہتر زندگی کی تلاش کیلئے غیر قانونی طور پر یورپ میں گھسنے کی کوشش کررہے تھے کہ کروشیا میں پکڑے گئے، وہاں ان کو پولیس نے انڈرویئر اتار کر ننگا کرکے مارا۔۔ یہ خود بتارہے ہیں کہ کس طرح ان کو گھنٹوں تک مارا پیٹا گیا۔ مسلمان ملکوں سے یورپ میں گھسنے کے واقعات میں بہت اضافہ ہوگیا ہے، ترکی نے حال ہی میں بدمعاشی دکھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اب کسی مسلمان کو نہیں روکے گا، پسماندہ ملکوں کے تمام مسلمان اس کی حدود سے ہوتے ہوئے بذریعہ یونان یورپ میں گھسیں۔ ترکی اسکی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔ جواب میں یونان نے کہا ہے کہ ہم یہ کچرا یورپ میں داخل نہیں ہونے دیں گے، یونان نے اب ترکی کے ساتھ سرحد پر سٹیل کی دیوار کھڑی کرنے کا اعلان کیا ہے۔۔ پاکستان سے بھی بے شمار مسلمان براستہ یونان یورپ میں غیر قانونی طور پر گھسنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور کئی بار خبر سننے کو ملتی ہے کہ یورپ جانے کی کوشش میں پاکستانی نوجوان کشتی ڈوبنے پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بے شمار لوگوں کی موت کے بعد بھی یہ سلسلہ رک نہیں رہ رہا۔۔ یعنی عملاً مسلمانوں کا نعرہ کچھ یوں ہے کہ یورپ جانے کیلئے موت بھی قبول ہے۔۔

یہ وہ پاکستانی ہیں جو پاکستان میں ہر وقت اسلام اسلام کے نعرے لگاتے رہتے ہیں، پاکستان میں کوئی بھی حکومتی اقدام جو ملک کی بہتری کیلئے اٹھایا گیا ہو اور وہ ان کی نظر میں کسی بھی طرح مذہب سے متصادم ہو تو یہ پاکستانی مسلمان ہنگامہ مچادیتے ہیں، سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور حکومت مجبور ہوجاتی ہے کہ ایسے اقدامات سے باز رہے۔ کچھ عرصہ قبل عمران خان نے عاطف میاں کو اپنی اقتصادی ٹیم میں شامل کرنے کی کوشش کی تو اس پر جو الباکستانی مسلمانوں کی طرف سے ردعمل آیا، وہ اس کی تازہ مثال ہے۔ پاکستانی مسلمانوں کے اسی رویہ کی وجہ سے آج تک پاکستان میں کوئی حکومت آبادی کو کنٹرول کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کرپائی ہے۔۔ ان الباکستانی مسلمانوں نے اپنی بھرپور کوششوں سے پاکستان کو چودہ صدیاں پرانے زمانے کے ساتھ ہم آہنگ رکھا ہوا ہے۔۔

دوسری طرف یورپ ہے، جنہوں نے مذہب کو فرد کا پرائیویٹ معاملہ قرار دے کر اس کو ریاستی امور سے الگ کردیا ہے اور ریاست کو خالصتاً تکنیکی بنیادوں پر چلایا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مغرب میں فکری آزادی کو ترویج ملی ہے، لوگوں کو کھل کر سوچنے سمجھنے اور دماغ استعمال کرنے کی فضاء ملی تو وہاں علوم کے چشمے پھوٹ پڑے، نت نئی ایجادات، دریافتیں، سائنسی تحقیقات اور خلا کے اسرار کھلنے لگے۔ جدید دنیا کی تشکیل انہی معاشروں نے کی ہے، اس میں قدامت پسند، مذہب پرست مسلمانوں کا حصہ صفر ہے ۔۔

یورپی ممالک نے کئی صدیوں کی مسلسل محنت اور کاوش سے اپنے معاشرے بہتر کئے، وہاں صنفی امتیاز کو بتدریج ختم کیا گیا، مذہب کی بنیاد پر تفریق کو ختم کیا گیا، آج وہاں کوالٹی آف لائف مسلمان ممالک کی بہ نسبت اتنی بہتر ہے کہ مسلمان ممالک سے بے شمار لوگ وہاں غیر قانونی طور پر گھسنے کے چکر میں جان گنوا بیٹھتے ہیں۔ یورپی ممالک میں لاکھوں مسلمان اپنے پسماندہ ممالک سے اٹھ کر جارہائش پذیر ہوئے ہیں، وہاں کی دی ہوئی آزادیوں، تحفظ اور سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان ملکوں کی شہریت لے لیتے ہیں، مگر سوچ وہی فرسودہ رہتی ہے۔ یہ بھوکے ننگے مسلمان جب روزی روٹی کی تلاش میں یورپ پہنچتے ہیں تو وہاں ہر قسم کا گھسا پٹا کام کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ یہ سڑکوں پر جھاڑو لگاتے ہیں، یہ ہوٹلوں میں ویٹرز کا کام کرتے ہیں، یہ ان گوروں کے جھوٹے برتن دھوتے ہیں جن کو یہاں پاکستان میں نفرت سے گالیاں دیتے ہیں۔ یہ ڈالرز اور پاؤنڈز کیلئے ان کے ٹوائلٹ تک صاف کرتے ہیں۔۔

پھر جب ان کی جیب میں کچھ ڈالرز آجاتے ہیں، زندگی کچھ بہتر ہوجاتی ہے، پیچھے پاکستان میں بھوک سے مرتے ان کے خاندان کو زندگی بھی کچھ بہتر ہوجاتی ہے تو پھر یہ وہاں کے معاشروں پر اپنی سوچ لاگو کرنے کی کوشش میں جت جاتے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ وہ لوگ ان کی مذہبی سوچ کے مطابق چلیں، جو شخصیت ان کیلئے مقدس ہے، اس کو وہ بھی مقدس مانیں۔۔ یورپ کے لوگوں نے تو دو صدیوں کے مسلسل ارتقاء سے برداشت سیکھی ہے، مگر مسلمان ان معاشروں سے اٹھ کر آئے ہوتے ہیں جہاں بات بات پر ایک دوسرے سے ہاتھا پائی ہوجانا، یا قتل کردینا بھی عام بات ہے۔ یہ ان کے معاشروں میں جاکر وہی بدتہذیبیاں شروع کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ کو آہستہ آہستہ احساس ہورہا ہے کہ مسلمان ان کے معاشروں میں رہنے کے قابل نہیں ہیں۔

اس ویڈیو میں یہ جو بھوکے ننگے بے حال مسلمان بوسنیا کے مہاجر کیمپ میں پڑے ہیں اور یونائیٹڈ نیشن سے مدد کی اپیل کررہے ہیں، یہ جو یورپ جانے کیلئے اپنے انڈروئیر اتروا کر ننگے ہوکر مار بھی کھا آئے ہیں، انہی سے آپ پوچھ لیں تو یہ اپنے ملک کو اس نظام پر استوار کرنے کی مخالفت کریں گے جس پر یورپی ممالک استوار ہیں۔ اپنے ملک میں ان کو جبراً اسلام چاہئے، اپنے ملک میں یہ اقلیتوں کو دبا کر رکھنے کے حامی ہیں، اپنے ملک میں یہ عورتوں کو برقعوں میں لپیٹ کر معاشرے کی آدھی آبادی کو گھروں میں بٹھانے کے حامی ہیں، اپنے ملک میں یہ مذہب اور ریاستی امور کو الگ کرنے کے مخالف ہیں، مگر یورپ میں یہ سب ہونے کے باوجود یہ وہاں جانے کیلئے ننگا ہوکر مار کھانے کو بھی تیار ہیں۔

اس وقت دنیا میں کم و بیش پونے دو ارب مسلمان ہیں، پچاس سے زائد اسلامی ممالک ہیں، کسی ایک بھی اسلامی ملک میں صحیح معنوں میں جمہوریت نہیں ہے، مسلمان ابھی تک اپنے ممالک میں جمہوریت تک نہیں قائم کرپائے ہیں، تو یہ تہذیب، شائستگی، برداشت، صنفی امتیاز سے چھٹکارا اور آزادی فکر کے مدارج کیسے طے کرسکتے ہیں، ان کو تو پتا ہی نہیں کہ یہ کن چڑیاؤں کے نام ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ مسلمان بہ حیثیت مجموعی غیر مہذب، بدتہذیب، بدتمیز اور عدم برداشت کے حامل لوگ ہیں اور یہ آج کے مہذب معاشروں میں رہنے کے قابل نہیں ہیں۔ فرانس نے پہل کردی ہے، باقی یورپی ممالک کو بھی فرانس کی پیروی کرنی چاہئے، اپنے معاشروں سے مسلمانوں کو ان کے ملکوں میں واپس بھیجیں، یہ اپنی الگ دنیا بنا کر رہیں، آئسولیٹ ہوکر رہیں،یہی ان کیلئے اور باقی دنیا کیلئے بہتر ہے۔۔
 

چاند

Citizen

یہ پاکستانی بہتر زندگی کی تلاش کیلئے غیر قانونی طور پر یورپ میں گھسنے کی کوشش کررہے تھے کہ کروشیا میں پکڑے گئے، وہاں ان کو پولیس نے انڈرویئر اتار کر ننگا کرکے مارا۔۔ یہ خود بتارہے ہیں کہ کس طرح ان کو گھنٹوں تک مارا پیٹا گیا۔ مسلمان ملکوں سے یورپ میں گھسنے کے واقعات میں بہت اضافہ ہوگیا ہے، ترکی نے حال ہی میں بدمعاشی دکھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اب کسی مسلمان کو نہیں روکے گا، پسماندہ ملکوں کے تمام مسلمان اس کی حدود سے ہوتے ہوئے بذریعہ یونان یورپ میں گھسیں۔ ترکی اسکی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔ جواب میں یونان نے کہا ہے کہ ہم یہ کچرا یورپ میں داخل نہیں ہونے دیں گے، یونان نے اب ترکی کے ساتھ سرحد پر سٹیل کی دیوار کھڑی کرنے کا اعلان کیا ہے۔۔ پاکستان سے بھی بے شمار مسلمان براستہ یونان یورپ میں غیر قانونی طور پر گھسنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور کئی بار خبر سننے کو ملتی ہے کہ یورپ جانے کی کوشش میں پاکستانی نوجوان کشتی ڈوبنے پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بے شمار لوگوں کی موت کے بعد بھی یہ سلسلہ رک نہیں رہ رہا۔۔ یعنی عملاً مسلمانوں کا نعرہ کچھ یوں ہے کہ یورپ جانے کیلئے موت بھی قبول ہے۔۔

یہ وہ پاکستانی ہیں جو پاکستان میں ہر وقت اسلام اسلام کے نعرے لگاتے رہتے ہیں، پاکستان میں کوئی بھی حکومتی اقدام جو ملک کی بہتری کیلئے اٹھایا گیا ہو اور وہ ان کی نظر میں کسی بھی طرح مذہب سے متصادم ہو تو یہ پاکستانی مسلمان ہنگامہ مچادیتے ہیں، سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور حکومت مجبور ہوجاتی ہے کہ ایسے اقدامات سے باز رہے۔ کچھ عرصہ قبل عمران خان نے عاطف میاں کو اپنی اقتصادی ٹیم میں شامل کرنے کی کوشش کی تو اس پر جو الباکستانی مسلمانوں کی طرف سے ردعمل آیا، وہ اس کی تازہ مثال ہے۔ پاکستانی مسلمانوں کے اسی رویہ کی وجہ سے آج تک پاکستان میں کوئی حکومت آبادی کو کنٹرول کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کرپائی ہے۔۔ ان الباکستانی مسلمانوں نے اپنی بھرپور کوششوں سے پاکستان کو چودہ صدیاں پرانے زمانے کے ساتھ ہم آہنگ رکھا ہوا ہے۔۔

دوسری طرف یورپ ہے، جنہوں نے مذہب کو فرد کا پرائیویٹ معاملہ قرار دے کر اس کو ریاستی امور سے الگ کردیا ہے اور ریاست کو خالصتاً تکنیکی بنیادوں پر چلایا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مغرب میں فکری آزادی کو ترویج ملی ہے، لوگوں کو کھل کر سوچنے سمجھنے اور دماغ استعمال کرنے کی فضاء ملی تو وہاں علوم کے چشمے پھوٹ پڑے، نت نئی ایجادات، دریافتیں، سائنسی تحقیقات اور خلا کے اسرار کھلنے لگے۔ جدید دنیا کی تشکیل انہی معاشروں نے کی ہے، اس میں قدامت پسند، مذہب پرست مسلمانوں کا حصہ صفر ہے ۔۔

یورپی ممالک نے کئی صدیوں کی مسلسل محنت اور کاوش سے اپنے معاشرے بہتر کئے، وہاں صنفی امتیاز کو بتدریج ختم کیا گیا، مذہب کی بنیاد پر تفریق کو ختم کیا گیا، آج وہاں کوالٹی آف لائف مسلمان ممالک کی بہ نسبت اتنی بہتر ہے کہ مسلمان ممالک سے بے شمار لوگ وہاں غیر قانونی طور پر گھسنے کے چکر میں جان گنوا بیٹھتے ہیں۔ یورپی ممالک میں لاکھوں مسلمان اپنے پسماندہ ممالک سے اٹھ کر جارہائش پذیر ہوئے ہیں، وہاں کی دی ہوئی آزادیوں، تحفظ اور سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان ملکوں کی شہریت لے لیتے ہیں، مگر سوچ وہی فرسودہ رہتی ہے۔ یہ بھوکے ننگے مسلمان جب روزی روٹی کی تلاش میں یورپ پہنچتے ہیں تو وہاں ہر قسم کا گھسا پٹا کام کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ یہ سڑکوں پر جھاڑو لگاتے ہیں، یہ ہوٹلوں میں ویٹرز کا کام کرتے ہیں، یہ ان گوروں کے جھوٹے برتن دھوتے ہیں جن کو یہاں پاکستان میں نفرت سے گالیاں دیتے ہیں۔ یہ ڈالرز اور پاؤنڈز کیلئے ان کے ٹوائلٹ تک صاف کرتے ہیں۔۔

پھر جب ان کی جیب میں کچھ ڈالرز آجاتے ہیں، زندگی کچھ بہتر ہوجاتی ہے، پیچھے پاکستان میں بھوک سے مرتے ان کے خاندان کو زندگی بھی کچھ بہتر ہوجاتی ہے تو پھر یہ وہاں کے معاشروں پر اپنی سوچ لاگو کرنے کی کوشش میں جت جاتے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ وہ لوگ ان کی مذہبی سوچ کے مطابق چلیں، جو شخصیت ان کیلئے مقدس ہے، اس کو وہ بھی مقدس مانیں۔۔ یورپ کے لوگوں نے تو دو صدیوں کے مسلسل ارتقاء سے برداشت سیکھی ہے، مگر مسلمان ان معاشروں سے اٹھ کر آئے ہوتے ہیں جہاں بات بات پر ایک دوسرے سے ہاتھا پائی ہوجانا، یا قتل کردینا بھی عام بات ہے۔ یہ ان کے معاشروں میں جاکر وہی بدتہذیبیاں شروع کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ کو آہستہ آہستہ احساس ہورہا ہے کہ مسلمان ان کے معاشروں میں رہنے کے قابل نہیں ہیں۔

اس ویڈیو میں یہ جو بھوکے ننگے بے حال مسلمان بوسنیا کے مہاجر کیمپ میں پڑے ہیں اور یونائیٹڈ نیشن سے مدد کی اپیل کررہے ہیں، یہ جو یورپ جانے کیلئے اپنے انڈروئیر اتروا کر ننگے ہوکر مار بھی کھا آئے ہیں، انہی سے آپ پوچھ لیں تو یہ اپنے ملک کو اس نظام پر استوار کرنے کی مخالفت کریں گے جس پر یورپی ممالک استوار ہیں۔ اپنے ملک میں ان کو جبراً اسلام چاہئے، اپنے ملک میں یہ اقلیتوں کو دبا کر رکھنے کے حامی ہیں، اپنے ملک میں یہ عورتوں کو برقعوں میں لپیٹ کر معاشرے کی آدھی آبادی کو گھروں میں بٹھانے کے حامی ہیں، اپنے ملک میں یہ مذہب اور ریاستی امور کو الگ کرنے کے مخالف ہیں، مگر یورپ میں یہ سب ہونے کے باوجود یہ وہاں جانے کیلئے ننگا ہوکر مار کھانے کو بھی تیار ہیں۔

اس وقت دنیا میں کم و بیش پونے دو ارب مسلمان ہیں، پچاس سے زائد اسلامی ممالک ہیں، کسی ایک بھی اسلامی ملک میں صحیح معنوں میں جمہوریت نہیں ہے، مسلمان ابھی تک اپنے ممالک میں جمہوریت تک نہیں قائم کرپائے ہیں، تو یہ تہذیب، شائستگی، برداشت، صنفی امتیاز سے چھٹکارا اور آزادی فکر کے مدارج کیسے طے کرسکتے ہیں، ان کو تو پتا ہی نہیں کہ یہ کن چڑیاؤں کے نام ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ مسلمان بہ حیثیت مجموعی غیر مہذب، بدتہذیب، بدتمیز اور عدم برداشت کے حامل لوگ ہیں اور یہ آج کے مہذب معاشروں میں رہنے کے قابل نہیں ہیں۔ فرانس نے پہل کردی ہے، باقی یورپی ممالک کو بھی فرانس کی پیروی کرنی چاہئے، اپنے معاشروں سے مسلمانوں کو ان کے ملکوں میں واپس بھیجیں، یہ اپنی الگ دنیا بنا کر رہیں، آئسولیٹ ہوکر رہیں،یہی ان کیلئے اور باقی دنیا کیلئے بہتر ہے۔۔

روز قیامت ۹۹% مسلمان بمعہ تھریڈ اسٹاٹر کے جہنم رسید ہونگے
بامشکل ایک فیصد مسلمان ہی جنت کے حقیقی حقدار کہلائیں گے
 

thinking

Chief Minister (5k+ posts)
This is the collective failure of all Muslims countries rulers.. religious Mullahs that peoples running from Thiers countries for better life..no matter illegally or legally..They put Thiers lives in danger..This trend a big slap on ours all so called Ummah political and religious leaders from all sects..We Muslims paying the price what we have done in ours lives..We accepted..worships ours corrupt.. munafiq rulers and religious Mullahs..We can't blame others..
 
Last edited:

thinking

Chief Minister (5k+ posts)
Apart from Muslims Ummah Collective failure...which I admitted..Baqi user ne jo gun ghaya Hain west society ke..wo one sided hain...West aik spiritualess..madar pidar azaad moushra ha.jahan morallity. sirf apni society ke norms k lia used hoti ha.hamjins parasti galio sarko .gharo mein aam ha..Larki baligh honey ke pehlay Saal hi Kae dafah abortion karwa chuki hoti ha.larka bhi baligh hotey hi sex start Kar deta ha..Family..maan.baap.Behan..beta.beti Ka rishta intah ki pasti mein gir chuka ha... Paisay k lia sab jaiz ha..azadi ke naam par Shaitaniat nanga nachti ha wahan.. Capitalism ne panjay gharay howay hain..human rights sirf politics use ke lia hota ha..warna US smait jitna Innocent blood west ne bahaya ha.. shayad hi kisi ne bahaya ho..taraqi apni jagah..lekan rohani ikhlaqi pasti jitni west mein ha dunia mein kaheen nahi..
 

Rio

Citizen
یو ٹیوب پر کچھ چنیل ایسے ہیں جو ان لڑکوں نے بنائے ہوۓ ہیں جو اس راستے سے ہوتے ہوۓ غیر قانونی طور پر اٹلی پہنچے. ان ویڈیوز میں وہ اپنی بہادری کے قصّے سناتے ہیں اور فخر سے بتاتے ہیں کہ راستے میں آنے والے کسی گھر سے انہوں نے کیسے کھانے پینے کی چیزیں چوری کیں، اور کسی کے پھلوں کے باغ میں گھس کر کیسے پھل چوری کئے وغیرہ. اور ساتھ ہی وہ پاکستان میں رہنے والوں کوں ترغیب دیتے ہیں کہ وہ کیسے ان راستوں سے آ سکتے ہیں.

پہلے یہ لوگ ہنگری اور آسٹریا کے راستے جاتے تھے لیکن اب انہوں نے بہت سختی کر دی ہے تو یہ اب بوسنیا اور کروشیا کے راستے جاتے ہیں، اور چونکہ بہت بڑی تعداد میں لوگ جانے لگ گئے ہیں تو وہاں کی پولیس نے بھی لحاظ کرنا چھوڑ دیا ہے اور ان کے ساتھ پاکستانیوں جیسا سلوک ہی کرنا شروع کر دیا ہے.

یہ سب دیکھ کر اتنا افسوس ہوتا ہے کہ یہ پاکستان کو کس طرح بدنام کر رہے ہیں .
 

Tit4Tat

Senator (1k+ posts)
Sad to read but
Jub ae ga Imran sub ke jaan banay ga naya Pakistan bana ga naya Pakistan

Imran has said when he becomes pm people from all over the world will be coming to Pakistan so I suggest we should do some legislations in parliament so that our citizens get priority
 

khipk

Senator (1k+ posts)
Apart from Muslims Ummah Collective failure...which I admitted..Baqi user ne jo gun ghaya Hain west society ke..wo one sided hain...West aik spiritualess..madar pidar azaad moushra ha.jahan morallity. sirf apni society ke norms k lia used hoti ha.hamjins parasti galio sarko .gharo mein aam ha..Larki baligh honey ke pehlay Saal hi Kae dafah abortion karwa chuki hoti ha.larka bhi baligh hotey hi sex start Kar deta ha..Family..maan.baap.Behan..beta.beti Ka rishta intah ki pasti mein gir chuka ha... Paisay k lia sab jaiz ha..azadi ke naam par Shaitaniat nanga nachti ha wahan.. Capitalism ne panjay gharay howay hain..human rights sirf politics use ke lia hota ha..warna US smait jitna Innocent blood west ne bahaya ha.. shayad hi kisi ne bahaya ho..taraqi apni jagah..lekan rohani ikhlaqi pasti jitni west mein ha dunia mein kaheen nahi..
Madar pidar azad ka matlab yeh hay kay hukomat aap kay personal mamlat main dakhal nahi degi. Jin rishton kee tum nay baat kee woh Pakistan main zinda hain kia? kia Pakistan main capitalism ka haath nahi ? West nay nahaq jang kee hain, is hee tarah Musalmanon nay bhi kee hain, yaad rakho Iran Iraq jang 10 saal chali thee, yemen kee jang abhi bhi chal rahi hay, Syria main bhi jang chal rahi hay jis nay dunia ko hila ker rakh dia hay. Atleast west main log is kay khilaf awaz utha saktay hain, musalman mulkon main Kashogi wala haal hota hay.
Secondly Poora west USA nahi, USA capitalism kee worst misal hay, europe, Canada Australia jaisee jagahon per social security bahut ziada hay. Capitalist itna exploit nahi ker saktay. balkay Pakistan main capitalist ziada exploit kertay hain in countries say.
Rahi baat sex kee,atleast wahan consensual hotay hain, Pakistan main ayay din khabar atee hay rape kee, or bahut sari khabrain to leak bhi nahi hoteen jo feudals kertay hain. islam main Zina bil raza kee saza koray hain, or jabar kee saza e maut, Pakistan main to biljabar hota hay! koi roknay wala hay ?? abhi tumhara bhi visa ajayay to khushi say nacho gay itni jo barhkain mar rahay ho.
 

kayawish

Chief Minister (5k+ posts)
یو ٹیوب پر کچھ چنیل ایسے ہیں جو ان لڑکوں نے بنائے ہوۓ ہیں جو اس راستے سے ہوتے ہوۓ غیر قانونی طور پر اٹلی پہنچے. ان ویڈیوز میں وہ اپنی بہادری کے قصّے سناتے ہیں اور فخر سے بتاتے ہیں کہ راستے میں آنے والے کسی گھر سے انہوں نے کیسے کھانے پینے کی چیزیں چوری کیں، اور کسی کے پھلوں کے باغ میں گھس کر کیسے پھل چوری کئے وغیرہ. اور ساتھ ہی وہ پاکستان میں رہنے والوں کوں ترغیب دیتے ہیں کہ وہ کیسے ان راستوں سے آ سکتے ہیں.

پہلے یہ لوگ ہنگری اور آسٹریا کے راستے جاتے تھے لیکن اب انہوں نے بہت سختی کر دی ہے تو یہ اب بوسنیا اور کروشیا کے راستے جاتے ہیں، اور چونکہ بہت بڑی تعداد میں لوگ جانے لگ گئے ہیں تو وہاں کی پولیس نے بھی لحاظ کرنا چھوڑ دیا ہے اور ان کے ساتھ پاکستانیوں جیسا سلوک ہی کرنا شروع کر دیا ہے.

یہ سب دیکھ کر اتنا افسوس ہوتا ہے کہ یہ پاکستان کو کس طرح بدنام کر رہے ہیں .
98% punjabi hain illegal immigrants.yea banchode log punjab main ek keeme wale naan par N-league ko vote deh kar mulk se yea keh kaar illegaly nikal jatay hain ke Pakistan main koi rozgaar nahin hai.Suwar ke pilo jaab tum vote hi chor ko do ge tu rozgar kaha se ayee ga...
 

Rio

Citizen
98% punjabi hain illegal immigrants.yea banchode log punjab main ek keeme wale naan par N-league ko vote deh kar mulk se yea keh kaar illegaly nikal jatay hain ke Pakistan main koi rozgaar nahin hai.Suwar ke pilo jaab tum vote hi chor ko do ge tu rozgar kaha se ayee ga...

میرا اپنا تعلق پنجاب سے ہے، لیکن آپ کی بات میں کافی حد تک سچائی ہے. میرا خیال ہے زیادہ تر لوگ پنجاب سے ہی جاتے ہیں. گجرات، سیالکوٹ، کھاریاں کے علاقے اس کام میں مشہور ہیں، وہاں کوئی ایسا گھر نہیں ہوتا جنکا کوئی نہ کوئی بندہ یونان نہ گیا ہو.

جب کسی گاؤں کا ایک بندہ یونان جاتا ہے اور اس کے گھر والے نیا گھر بناتے ہیں اور گاڑی لیتے ہیں تو دس بندے اور تیار ہو جاتے ہیں کہ وہ بھی وہاں جا کے ان جیسے امیر بن جایئں گے.
 

Eagle-on-the-green

MPA (400+ posts)
I haven’t seen saudis, malays and thais seeking to stay in a western country after stydying. They go. Ack because they have better futures in their respective countries......in case of jndka, pakustan, bangladesh etc it’s quite opposite
 

BrotherKantu

Chief Minister (5k+ posts)



اپنے ملک میں محنت کرنے کی بجاۓ یورپ جا کے ڈیوڈ کے کتے نہلا لیں گے.

میں نے اک بندے کو آواری میں بیرے کی جاب دلوا دی انٹرویو کے بعد نوکری پر نہیں گیا . میں نے فون کر کے پوچھا کام پر کیوں نہیں گئے کہنے لگا لوگ کیا کہیں گے بٹان دا منڈا ٹرے چکدا اے.


.
.
 

surfer

Minister (2k+ posts)
Sad to read but
Jub ae ga Imran sub ke jaan banay ga naya Pakistan bana ga naya Pakistan

Imran has said when he becomes pm people from all over the world will be coming to Pakistan so I suggest we should do some legislations in parliament so that our citizens get priority
Obviously he was wrong as following are not coming back

Nawaz sharif
Hassan sharif
Hussein sharif
Ishaq dar
Ali Imran
Hussein haqqani
 

Ikram Aziz

Citizen
98% punjabi hain illegal immigrants.yea banchode log punjab main ek keeme wale naan par N-league ko vote deh kar mulk se yea keh kaar illegaly nikal jatay hain ke Pakistan main koi rozgaar nahin hai.Suwar ke pilo jaab tum vote hi chor ko do ge tu rozgar kaha se ayee ga...
AGREED 100%
 

awam

MPA (400+ posts)
Yes muslims have hypocritical and ideological problems but most of these European countries are also responsible for such a condition of Muslims. They plundered their countries, looted all the resources, suppressed the true leadership and installed the puppets. So in a bigger scenario both parties are responsible for such a mess
please give me a reason why European countries will work towards making "Muslims" strong?
Every country make policies for "their" supremacy.
 

khipk

Senator (1k+ posts)
Yes muslims have hypocritical and ideological problems but most of these European countries are also responsible for such a condition of Muslims. They plundered their countries, looted all the resources, suppressed the true leadership and installed the puppets. So in a bigger scenario both parties are responsible for such a mess
dosron kee ghaltion ko kostay rehna khud kuch na kerna yahi wateera hay humara. 73 saal ho gayay hain azaad hoay way. Korea, Singapore, China, Malaysia, Indonesia in ka haal hum say ziada badtar thaa.. aaj woh kahan hain or hum kahan paray hain. balkay 50 saal pehlay Bangladesh ka kia haal thaa, or ab woh mulk hum say her maidan main agay hay. Cricket or Atomic power ko hata ker
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں