یہودی اور اسرائیل ترقی کا راز کیا ہے !!

Syed Haider Imam

Chief Minister (5k+ posts)

یہودی اور اسرائیل ترقی کا راز کیا ہے !!


اس وقت یہودی بزنس، انجینئرنگ سائنس اور دیگر شعبوں میں باقی قوموں سے بہت آگے ہیں، پوری دنیا کے بزنس کا 70 فیصد حصہ یہودیوں کے ہاتھ میں ہے اس وقت دنیا میں عالمی سطح پر ہونے والے فیصلوں پر یہودی پوری طرح اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ اکثر فیصلے انکی مرضی اور منشا کے مطابق ہوتے ہیں۔


اس کے علاوہ سیاسی طور پر یہودی دنیا کے بہت سے ممالک کی حکومتوں پر نہ صرف اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ حکومتوں کو کنٹرول بھی کرتے ہیں۔ اکثر ممالک کے حکمران یہودیوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں اور وہ وہی کچھ کرتے ہیں جو یہودی سے بھی یہ بات عام ہے کہ دنیا کے بیشتر میڈیا پر یہودیوں کا قبضہ ہے اور وہی میڈیا کو کنٹرول کرتے ہیں اور عالمی سطح پر رائے عامہ کا رُخ کسی بھی سمت موڑنے کے لئے یہودی میڈیا کو استعمال کرتے ہیں۔

بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں یہودیوں کی ہیں جن کا نیٹورک پوری دنیا میں ہے خاص طور پر فیشن کاسمیٹکٹس، فوڈ آئٹمز، مشروبات، ہوٹلز، کمپیوٹرز انفارمیشن سسٹم، میڈیسن، آپٹکس، سافٹ ویئرز، کنزیومر گڈز، فلم انڈسٹری (ہالی وڈ) اور ایڈوانس ٹیکنالوجیز میں ان کی سبقت مسلّم ہے۔

بزنس کی دنیا میں اسٹیبلشڈ اور کامیاب ترین برانڈز یہودیوں کے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں یہودی بہت آگے ہیں ۔صرف آج تک ملنے والے نوبل پرائز پر ہی نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ انعامات حاصل کرنے میں یہودی سب سے آگے ہیں۔ اب تک مختلف شعبوں میں جو نوبل انعام یہودیوں کے حصے میں آئے وہ یہ ہیں ::
کیمسٹری 32، اکنامکس 25، لٹریچر 13، امن 9، فزکس 47، بیالوجی/مڈیسن 54 جبکہ آج تک صرف 2 مسلمانوں کو نوبل انعام حاصل ہو سکا ہے۔ بعض لوگ نوبل انعام پر تنقید بھی کرتے ہیں کہ یہ زیادہ تر یہودیوں، عیسائیوں کو ہی دئیے جاتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے یہ تمام انعامات میرٹ پر دئیے جاتے ہیں کسی بھی نوبل انعام یافتہ شخص کو دیکھ لیں آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ اس کا حقدار نہیں تھا۔


مختصر یہ کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہودی ہر میدان میں آگے ہیں حالانکہ اسرائیل کی آبادی 60 لاکھ سے بھی کم ہے اور اسرائیل کا رقبہ تقریباً پاکستان کے جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے برابر ہے۔ مگر انہوں نے اپنی کم آبادی اور کم رقبے کو اپنی ترقی اور کامیابی کے آڑے نہیں آنے دیا ۔

آخرکیا وجہ ہے کہ یہودی عملاً ہر میدان پر غالب ہیں اگرچہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے مذہبی رجحان رکھنے والے کئی لوگ تسلیم نہیں کرتے مگر یہودیوں کی بالادستی حقیقت ہے جسے تسلیم کئے بغیرچارہ نہیں۔

لیکن ہم اس بحث میں پڑے بغیر اتنا تو سوچ سکتے ہیں کہ آخر ان میں کوئی تو ایسا گن، خوبی اور صلاحیت ہے کہ یہ اتنے قابل ہیں۔ کیا ان کی یہ خوبیاں اور صلاحیتیں خداداد ہیں یا انہوں نے ان خوبیوں میں کمال حاصل کرنے کے لئے کوئی محنت کی ہے؟

آیئے اس بات کاجائزہ لیتے ہیں ،ڈاکٹر اسٹیفن کارلیو ون جنہوں تین سال اسرائیل میں گزارے نے بھی اپنی تحقیق کو اسی پر فوکس کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہودیوں کا ایک خاص طرزِ زندگی اورلائف سٹائل ہے اور یہ طرزِ زندگی نسلوں سے ان کے اندر موجود ہے ان کی جو بھی نئی نسل آتی ہے اپنے خاص لائف سٹائل کے سبب ان کے اندر کمال درجے کی خوبیاں اور صلاحیتیں موجود ہوتی ہے، اور ان کا ہر بندہ انتہائی قابل اور جینیئس شخص ہوتا ہے۔

ڈاکٹر اسٹیفن حیرت کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہودیوں میں جو اضافی خوبیاں ہیں وہ خداداد نہیں ہیں بلکہ خداداد صلاحیتیں تو اتنی ہی ہیں جتنی کہ ایک عام انسان میں ہوتی ہیں مگر وہ اپنے آپ کو بالا تر رکھنے کے لئے قابلیت اور صلاحیت کو اس طرح پیدا کرتے ہیں جیسے کسی فیکٹری سے کوئی پروڈکٹ پیدا ہوتی ہے۔

ڈاکٹر اسٹیفن نے یہودی طرزِ زندگی پر انتہائی گہری نظر ڈالتے ہوئے دیکھا کہ یہودی بچوں کی مائیں حمل کے بالکل ابتدائی ایام میں جب کہ حمل ٹھہرتا ہی ہے اُسی وقت سے وہ اپنے بچے کی پرورش شروع کر دیتی ہیں۔ اور یہ بات تو ایک حقیقت ہے کہ ماں کی حرکات و سکنات اور عادات و معمولات کا پیدا ہونے والے بچے کی صحت، صلاحیت، قابلیت اور شخصیت پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔

یہودی مائیں حمل کے آغاز سے ہی باقاعدہ طور پر ریاضی کے سوالات حل کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ حمل کے دوران وہ خوش رہتی ہیں ان کی خوراک کا پورا خیال رکھا جاتا ہے وہ خاص طور پر گانا گاتی ہیں، پیانو اور وائلن بجاتی ہیں۔

جہاں تک میتھمیکٹس کا تعلق ہے اس معاملے میں وہ بہت زیادہ سریس ہوتی ہیں اور عورتیں اپنے شوہروں کے ساتھ مل کر میتھ کے سوالات اور مساوات حل کرتی ہیں۔ ایسے سوالات بھی حل کئے جاتے ہیں جن میں میاں بیوی آپس میں بول کر سوالات حل کرتے ہیں جیسے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں دو اور دو کتنے ہوئے دوسرا کہتا ہے چار، ڈاکٹر اسٹیفن کہتے ہیں میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ حاملہ عورتیں ہر وقت میتھ کی کتابیں اٹھائے پھرتی ہیں اور سوالات حل کرتی رہتی ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات میں نے بھی کئی خواتین کو سوال حل کرنے میں مدد دی پھر میں نے ایک خاتون سے پوچھ ہی لیا کہ؛۔ ” کیا آپ یہ اپنے رحم میں موجود بچے کے لئے کر رہی ہیں“ تو اس نے جواب دیا ”ہاں! یہ اس کو ٹرینڈ کرنے کے لئے ہے تاکہ وہ بعد میں ہوشیار اور جینیئس ہو سکے“۔ اور وہ اسی طرح بچے کی پیدائش تک ریاضی کے سوالات حل کرتی رہتی ہیں۔

گانے اور پیانو کے بارے میں میرا خیال تھا کہ شاید یہ صرف پر سکون اور خوش رہنے کے لئے بجاتی ہیں۔ لیکن مجھے حیرت ہوئی جب مجھے پتا چلا کہ یہودی سائنسدانوں کی ریسرچ ہے کہ پیانو اور وائلن کی پریکٹس سے پیدا ہونے والے بچے کی عقل بڑھتی ہے اور وہ چست ہوتا ہے ان کا مزید کہنا ہے کہ میوزک کی وائبریشن دماغ کی نشوونما کرتی ہے۔ بچہ پیدا ہونے کے بعد بھی بچے کو پیانو، وائلن اور میوزک کی مشق کروائی جاتی ہے شاید اسی لئے یہودیوں میں بے شمار جینیئس لوگ موجو ہیں۔

دوسری چیز جس کا ڈاکٹر اسٹیفن جائزہ لیتے ہیں وہ حاملہ خواتین کی خوراک ہے۔ وہ خوراک میں ہمیشہ، بادام، کھجوریں، دودھ اور مچھلی شوق سے لیتی ہیں۔ سلاد میں بادام اور دیگر گری والے میوے مکس کر کے کھاتی ہیں۔ ان کا یقین اور تحقیق ہے کہ مچھلی دماغ کی نشوونما کے لئے بہت مفید ہے۔ اور یہ یہودیوں کا کلچر بھی ہے کہ حاملہ خواتین سمندری مچھلی کا تیل بھی استعمال کرتی ہیں۔

حاملہ خواتین کے لنچ اور ڈنر میں مچھلی ضرور شامل ہوتی ہے۔ مجھے جب ڈنر پر انوائیٹ کیا گیا تو میں نے نوٹ کیا کہ وہ ہمیشہ مچھلی کھانا پسند کرتی ہیں جبکہ گوشت نہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مچھلی اور گوشت اکٹھے لئے جائیں تو اس کا ہمارے جسم کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا ہے اگر اکیلی مچھلی کھائی جائے تو بہت فائدہ مند ہوتی ہے اور ڈنر میں سلاد میوے اور بادام لازمی ہوتے ہیں۔

وہ فروٹ جب بھی کھاتی ہیں کھانے سے پہلے کھاتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ کھانے (روٹی یا چاول) کے بعد فروٹ کھائیں گے تو اس سے آپ کے جسم میں (اور آنے والے بچے کے جسم میں) سستی پیدا ہوتی ہے اور بچے کو سکول میں سبق یاد کرنے میں بھی مشکل پیش آتی ہے۔

حمل کے دوران انہیں پرسکون اور ریلیکس ماحول فراہم کیا جاتا ہے انہیں کوئی ذہنی پریشانی، ڈپریشن نہیں ہوتا بلکہ ہر وقت ان کی سوچ مثبت تعمیری اور بچے کی قابلیت کے لئے مصروف رہتی ہے۔

پورے نو ماہ کے دوران ان کی پوری توجہ، محنت اور سرگرمیاں صرف اسی بات پر فوکس ہوتی ہیں کہ ہم نے ایک انتہائی قابل، ذہین اور جینیئس بچہ پیدا کرنا ہے۔ اور یہ ایک ناقابل یقین حقیقت ہے کہ جیسے کسی معیاری فیکٹری میں سے کوئی انتہائی معیاری چیز بن کر باہر آتی ہے اسی طرح یہودیوں کی محنت ،کوشش ،خوراک اور حمل کے دوران معمولات کے نتیجے میں ایک انتہائی ذہین اور قابل بچہ اس دنیا میں آتا ہے۔ اور اس پر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ جس بچے کی تربیت حمل کے پہلے دن سے ہی شروع ہو جائے کیا وہ بچہ اور وہ قوم دوسرے لوگوں سے بر تر و بالا نہیں ہوںگے۔

جملہ معترضہ کے طور پر اضافہ کرنا چاہوں گا کہ مسلمانوں کی اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جن ماﺅں نے روز اول سے ہی بچے کی تربیت کی تو ان کی کوکھ سے جنم لینے والے بچوں نے دنیا میں انتہائی اعلیٰ کارہائے نمایاں سر انجام دیئے مثلاً بعض مائیں بچوں کو وضو کر کے اور نفل پڑھ کے دودھ پلاتی تھیں تو ان کے بچے بڑے ہو کر آئمہ اور مجتہدین بنے ۔جومائیں بچوں کو جرات و بہادری کی لوریاں دیتی اور بچپن سے ہی انہیں سخت جان بناتی انہی کے بچے فاتحین اورسپہ سالار بنے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں پورا فوکس اس بات پر ہوتا ہے کہ صرف اور صرف بچے ہی پیدا کرنے ہیں اور زیادہ سے زیادہ پیدا کرتے ہیں اور خاندان بڑھانا ہے ان کی تربیت ان کا مقصدِ حیات اور اکثر ماں کی صحت کو بھی نظر انداز کر جاتے ہیں یہاں تک کہ بعض مائیں تو بچے جنتے جنتے خود اس دنیا سے رخصت ہوجاتی ہیں۔

اسرائیلی معاشرے میں حاملہ عورت کو انتہائی اہم مقام اور ایک قسم کا پروٹوکول دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی قوم کے لئے ایک قابل انسان کو جنم دینے والی ہوتی ہے ایسا انسان جو اس دنیا میں آ کر اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کا لوہا منوائے گا۔ آنے والے بچے کےلئے نہ صرف ماں باپ بلکہ پورے یہودی خاندان کی سوچ بالکل واضح اور کلیئر ہوتی ہے اور پورے خاندان کا ایک ہی مطمع نظر اور ٹارگٹ ہوتا ہے کہ بس ”ذہین، قابل اور جینیئس بچہ“ پیدا کرنا ہے۔

جب بچہ اس دنیامیں آنکھ کھول لیتا ہے اور ان کی توقع کے عین مطابق جس طرح کی صلاحیتیں وہ چاہتے ہیں اس بچے میں موجود ہوتی ہیں تو پھر بچے کی ان صلاحیتوں پر محنت شروع ہو جاتی ہے۔ بچوں کو خوراک میں دیگر چیزوں کے علاوہ فروٹ، دودھ، مچھلی ، بادام اورمچھلی کا تیل خصوصیت کے ساتھ دیئے جاتے ہیں۔ بچوں کی خوراک ہمیشہ والدین کی نگرانی میں رہتی ہے انکو کوئی اوٹ پٹانگ چیزیں کھانے کو نہیں دی جاتیں۔

بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے بھی یہودیوں کا طرزِ عمل انتہائی حیرت انگیز ہے ہمارے ہاں تو بچوں کو انتہائی نازک بنا کے رکھا جاتا ہے اور کئی سال تک بچوں کو کارٹون فلموں اور ویڈیو اور کمپیوٹر گیموں سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ یہودیوں کے بچے کم از کم دو سال کی عمر میں کنڈر گارٹن میں داخل ہوجاتے ہیں اور اس سے پہلے ان کی گھر پر تربیت ہوتی ہے۔

ہمارے سکول کے بچوں کو عجیب و غریب قسم کے مشاغل میں الجھا کر رکھا جاتا ہے یہاں تک کہ بعض کام ایسے ہوتے ہیں کہ نہ ٹیچر کو پتہ ہوتا ہے اور نہ والدین کو کہ یہ کام بچوں سے کیوں کروائے جاتے ہیں۔ جبکہ اسرائیلی بچوں کی سب سے زیادہ جسمانی فٹنس اور ایکسرسائز پر توجہ دی جاتی ہے اس کے بعد دوڑ کے مقابلے کثرت سے کروائے جاتے ہیں تاکہ بچہ جسمانی لحاظ سے تیز اور پھرتیلا ہو جائے اور اسکا دماغ بھی تیز ہوجائے، پھر اس سے بھی بڑھ کر بچے کو تیر اندازی اور نشانہ بازی (شوٹنگ) سکھائی جاتی ہے۔

جسمانی ایکسرسائز، دوڑ، تیر اندازی اور نشانہ بازی کی مسلسل مشق اور پریکٹس کروائی جاتی رہتی ہے۔ تیر اندازی اور شوٹنگ کے حوالے سے یہودیوں کا کہنا ہے کہ اس کی مشق کرنے سے بچے کی دماغی اور جسمانی صحت کو توانائی ملتی ہے اور ان کی سوچ کسی بھی مسئلے پر فوکس کرنے کے لئے تیار رہتی ہے اس طرح انہیں اپنی زندگی میں مشکل فیصلے کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔

کتنے افسوس کی بات ہے کہ تاریخ اسلام کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ تیر اندازی، نشانہ بازی، دوڑ اور گھڑ سواری مسلمانوں کاشعار تھا اور صرف یہی ہمارے کھیل تھے ہمیں یہ چیزیں سیکھنے اور کرنے کا حکم دیا گیا تھا مگر ہم نے انہیں ترک کر دیا ہے اور سیکھنے والے انہی چیزوں سے سیکھ رہے ہیں۔

بہرحال یہودی بچوں کو گریڈ 1 سے 6 تک جب بچے کی عمر چھ سے گیارہ سال کے درمیان ہوتی ہے بزنس میتھ میکٹس اور سائنس کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں تین زبانیں عبرانی، عربی اور انگلش سکھائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر اسٹیفن کا کہنا ہے کہ جب میں نے اسرائیلی بچوں کا موازنہ کیلی فورنیا کے بچوں سے کیا تو ذہنی استعداد کے لحاظ سے کیلی فورنیا کے امریکی بچے اسرائیلی بچوں سے چھ سال پیچھےتھے۔

کتنی حیرت کی بات ہے کہ ہمارے بچے ویڈیو گیموں، کارٹونوں اور کمپیوٹر گیموں میں الجھے رہتے ہیں اور ان کے زیادہ تر سافٹ ویئرز یہودیوں ہی کے تیار کردہ ہوتے ہیں لیکن خود ان کے بچے ان چیزوں سے دور رہتے ہیں اور وہ اپنے بچوں کو صحیح معنوں میں عملی زندگی میں حصہ لینے والا ایک قابل انسان بنا دیتے ہیں۔

اسرائیل میں دو سال سے لے کر سترہ سال تک کے ہر بچے کے لئے تعلیم لازمی اور فری ہے۔ تعلیم کے شعبے پر حکومت کا انتہائی سخت کنٹرول ہے، 90 فیصد تعلیمی ادارے گورنمنٹ خود چلا رہی ہے جبکہ 10 فیصد پرائیویٹ بھی ہیں لیکن انکو بھی حکومتی پالیسیوں کو فالو کرنا ہوتا ہے۔

اسرائیلی تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ تعلیم کے ساتھ بچوں کو ایسا ماحول دیا جائے جس میں ان کا سیاسی، مذہبی اور کلچرل بیک گراﺅنڈ بھی انہیں مکمل سپورٹ کر رہا ہو تاکہ وہ آگے چل کر دنیا کو اپنی انگلیوں پر نچا سکیں۔ جبکہ ہمارے ہاں نظام تعلیم کا ایسا ملغوبہ تیار کیا گیا ہے جسے آج تک کوئی نہیں سمجھ سکا۔

معیار تعلیم کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ میٹرک کا سرٹیفکیٹ اس طالب علم کو دیا جاتا ہے جو اپنے انتہائی مشکل کورس کے علاوہ کسی ایک پراجیکٹ یا سبجیکٹ پر ریسرچ کرتا ہے ہمارے ہاں یہ کام عموماً ماسٹرز یا پی ایچ ڈی کی سطح پر ہوتا ہے جو اسرائیلی بچے میٹرک سے شروع کر دیتے ہیں۔

سیکنڈری ایجوکیشن کے بعد اسرائیل کا تقریباً ہر طالب علم اسرائیلی ڈیفنس فورسز میں شامل ہو جاتا ہے جبکہ بیچلر ڈگری کی سطح پر طلباء فوج میں کام کرنے کےلئے 2 یا 3 سال کا ایگریمنٹ سائن کرتے ہیں جن کے عوض ان کی فیس بھی اسرائیلی فوج ادا کرتی ہے یعنی اس طرح اسرائیل کا ہر نوجوان مرد اور عورت تعلیم سے فارغ ہونے تک مکمل تربیت یافتہ سپاہی بھی ہوتا ہے۔

بزنس فیکلٹی میں ماسٹر کرنے والے طلباءکے لئے لازمی ہوتا ہے کہ وہ عملی طور پر بزنس کے منافع بخش پراجیکٹ تیار کریں، طلبا کا ایک گروپ جس میں عموماً 10 طالب علم شامل ہوتے ہیں جب تک 1ملین ڈالر منافع نہیں کماتا اسے ماسٹر کی ڈگری نہیں مل سکتی۔

ہمارے ہاں تو معیارات ہی الٹ ہیں اول تو ہائی اسکول بلکہ کالج تک بچے کو بلا مقصد پڑھاتے رہتے ہیں نہ پڑھانے والوں کو اور نہ والدین کو پتہ ہوتا ہے کہ ہماری اس تعلیم کا مقصد کیا ہے۔ اگر کوئی مقصد متعین کرنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو 90 بلکہ 95 فیصد لوگوں کا مطمع نظر کوئی اچھی سی جاب، نوکری یا عہدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔

اپنا بزنس اسٹیبلش کرنا لوگوں کی ترجیح نہیں ہوتی بلکہ ہماری تعلیم کا ہدف کوئی نہ کوئی نوکری ہی ہوتی ہے جبکہ اسلام میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ روزی (معشیت) کا 70 فیصد حصہ کاروبار میں ہے اور باقی 30 فیصد باقی تمام شعبوں میں ہے۔ ہم لوگ بزنس کی طرف توجہ نہیں دیتے اور عام طور پر پڑھے لکھے لوگ کاروبار کو معیوب ہی سمجھتے ہیں عموماً ہمارے کاروبار بھی ان پڑھ یا نیم خواندہ لوگوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ جبکہ پڑھے لکھے لوگ نوکریوں کے لئے دھکے کھا کر خودکشیوں پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اسرائلیوں کا فوکس ہی بزنس پر ہوتا ہے وہ اس مائنڈ سیٹ کے ساتھ کام کرتے ہیں کہ انہیں نوکری حاصل نہیں کرنی ہوتی بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں نوکریاں پیدا کرنی ہوتی ہیں اور پھر ہم جیسے نوکریوں کے شیدائی ان کے ہاں ملازمت کرتے ہیں اور بعض اوقات نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی شرائط، خواہشات، مطالبات اور ایجنڈے کے مطابق ہمیں کام کرنا پڑتا ہے۔

عالمی شماریاتی ادارے ویبو میٹرک کی رینکنگ کے مطابق اسرائیل کی چھ یونیورسٹیاں ایشیاء کی 100 یونیورسٹیوں میں سب سے ٹاپ پر ہیں۔ جبکہ اسرائیل کی چار یونیورسٹیاں پوری دنیا کی 150 یونیورسٹیوں میں سے ٹاپ پر ہیں جبکہ ہائر_ایجوکیشن کی 1,200 یونیورسٹیوں میں سے اسرائیل کی تین یونیورسٹیاں ٹاپ پر ہیں اس کے علاوہ سائنس، انجینئرنگ، میتھمیٹکس، کمپیوٹر سائنس، کیمسٹری اور لائف سائنس میں اسرائیلی یونیورسٹیاں پوری دنیا میں ٹاپ پر ہیں جبکہ ہماری یونیورسٹیاں اس طرح کی کسی لسٹ میں سرے سے شامل ہی نہیں ہیں۔

ایک اور حیرت انگیز بات جو اسرائیل کے حوالے سے سامنے آتی ہے جس کا ذکر ڈاکٹر اسٹیفن بھی اپنے مقالے میں کرتے ہیں، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سگریٹ کے جتنے بھی مشہور اور زیادہ سیل ہونے والے برانڈز ہیں تقریباً تمام یہودیوں کے ہیں اور وہ ان کے ذریعے پوری دنیا سے اربوں ڈالر کما رہے ہیں لیکن ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ اسرائیل کے اندر سگریٹ نوشی ممنوع ہے وہاں صرف کوئی غیر ملکی مہمان ہی سگریٹ پی سکتا ہے لیکن وہ بھی ایک دائرے کے اندر رہتے ہوئے۔

اگر آپ کسی کے ہاں مہمان ہیں اور آپ سگریٹ پینا چاہتے ہیں تو یہ ناممکن ہے کہ آپ ان کے سامنے یا گھر میں سگریٹ پی سکیں بلکہ وہ آپ کو شائستگی سے کہہ دیں گے آپ باہر جا کر سگریٹ پی آئیں۔ سگریٹ نوشی کے بارے میں یونیورسٹی آف اسرائیل کے سائنسدانوں کا کہنا ہے نیکوٹین ہمارے دماغ کے خلیوں کو تباہ کرتی ہے اوریہ ہمارے جینز اور ڈی این اے کو بری طرح متاثر کرتی ہے جس کے نتیجے میں آنے والی نسل میں دماغی کمزوری یاذہنی خلل پیدا ہو سکتا ہے۔

یہودیوں کے بارے میں حقائق سنتے جائیے اور پریشان ہوتے جائیے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ یہودی بچے کے حمل سے لے کر پیدائش تک اور پھر تمام عمر ایسے افعال سر انجام دیتے ہیں جن سے ان کے دماغ کی نشوونما ہوتی رہے، ایسی خوراک کھاتے ہیں جس سے دماغ کو تقویت ملتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ جب دعا مانگتے ہیں تو وہ ہمیشہ اپنے سر کو ہلاتے رہتے ہیں ان کا یقین ہے کہ اس طرح دماغ کو آکسیجن مہیا ہوتی ہے۔

نیویارک میں یہودیوں کا ایک مرکز ہے جسے (Jewish comunity center) کہا جاتا ہے۔ یہاں یہودیوں کی فلاح و بہبود کے لئے بے شمار کام کئے جاتے ہیں۔ سوشل، کلچر، ایجوکیشنل، ری کری ایشن اور فٹنس کے متعدد پروگرام یہاں چلتے رہتے ہیں لیکن جو سب سے اہم کام یہاں ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی بھی یہودی جس کے پاس بزنس کے لئے کوئی قابل عمل اور منافع بخش منصوبہ ہے مگر پیسہ نہیں ہے تو یہ سنٹر اس کو بغیر سود کے قرضہ فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنا بزنس اسٹیبلش کرسکے۔ اسی سنٹر کی سپانسر شپ سے بڑی بڑی کمپنیاں وجود میں آچکی ہیں۔۔۔ مثلاً Star Bucks, Dell Computer, Coca Cola, DKNY, Oracle, Levis, Duck in Donut, and many Holly Wood films.۔

ان کے علاوہ بھی سینکڑوں ایسے منصوبے ہیں جو اسی ادارے کے تعاون سے کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔لیکن یہی یہودی جب دوسروں کو قرضہ دیتے ہیں تو ان کے سود در سود چنگل سے نکلنا مشکل ہوجاتا ہے۔

کتنی افسوسناک بات ہے کہ مسلمان کو مسلمان کا بھائی قرار دیا گیا ہے اور پوری امت کو ایک جسم کی مانند کہا گیا ہے مگر ہم نے سب کچھ بھلا دیااور غیروں نے انہی سنہری اصولوں کو پلے باندھ کر کامیابیاں سمیٹ لی ہیں یہودی ایک دوسرے کا بہت زیادہ ساتھ دیتے ہیں۔ انکرج اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں خاص طور پر کاروبار کےلئے بھرپور تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔

ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ لوگوں میں عموماً یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ میڈیکل جیسے شعبے میں نوکری اور جاب ہی کرنی پڑتی ہے لیکن یہودی اس فیلڈ میں بھی اپنا الگ بزنس قائم کرتے ہیں اور نوکریوں سے پرہیز کرتے ہیں۔

ڈاکٹراسٹیفن کا کہنا ہے کہ میں سوچتا تھا کہ نیویارک، کیلی فورنیا اور دیگر بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں اور یہودیوں کی کمی کیوں ہے تو مجھے پتہ چلا کہ یہودی میڈیکل میں بھی بزنس کو ترجیح دیتے ہیں اور نوکری کی بجائے پرائیویٹ پریکٹس کرتے ہیں یا اپنا کوئی میڈیکل کا ادارہ کھول لیتے ہیں۔

اس سلسلے میں بھی ”جیویش گریجوایٹ فرام فیکلٹی آف میڈیسن نیویارک“ یہودیوں کا ایک ادارہ ہے جو پرائیویٹ پریکٹس اور بزنس کے لئے یہودی ڈاکٹر وں کو Free Intrest Loan مہیا کرتا ہے تاکہ ڈاکٹرز اپنا کاروبار کر سکیں۔ اسی لئے یہودی ڈاکٹرز نوکریوں میں بہت کم اور پرائیویٹ پریکٹس میں زیادہ نظر آتے ہیں۔

جو قوم بچے کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ریاضی اور حساب کتاب سکھانا شروع کر دے اور پھر ہر قدم پر اسے ایک اعلیٰ تعلیم مہیا کرے اور اس کی ذہنی صلاحیتوں کی بھرپور نشوونما اس کے حمل سے لے کر ساری زندگی کی جائے تو بتائیےکہ وہ بچہ بڑا ہوکر کیاکچھ نہیں کرگزرے گا؟ جتنا اسرائیل کا رقبہ ہے یہاں کوئی بھی بڑا انڈسٹریل یا بزنس سیٹ اپ نہیں بن سکتا مگر اسرائیلیوں نے پھر بھی پوری دنیا کے کاروبار پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔

در حقیقت یہودیوں نے اس چھوٹے سے ملک کو اپنا ایک ٹریننگ سینٹر، تربیت گاہ اور ریکروٹنگ کی جگہ بنایا ہوا ہے جہاں قابل انسان تیار کئے جاتے ہیں جو اسرائیل سے اٹھ کر امریکہ، یورپ اور دیگر ملکوں میں میں جا کرپوری دنیا کی معیشت، سیاست اور حکومت کو سنبھال لیتے ہیں۔ اگر دل لگتی بات کہیں تو واقعی ایسی قوم کا حق ہے کہ وہ دنیا کی قیادت اور سیاست سنبھال لے۔

اگر یہاں اسرائیل معیشت اور تجارت کے اعداد و شمار پیش کئے جائیں تو مزید کئی صفحات درکار ہوں گے۔ صرف اتنا ہی کافی ہے کہ اسرائیل ہر سال بلینز آف بلینزڈالر منافع کما رہا ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا کوئی اور شخص یا کوئی اور قوم بھی اس قدر قابل ذہین اور کامیاب بن سکتی ہے اس کا جو اب ہے، جی ہاں بالکل بن سکتی ہے مگر شرط یہی ہے کہ اپنی بنیادوں کو ٹھیک کریں ان کو مضبوط کریں اپنی آنے والی نسل کے ایک ایک فرد کو قیمتی بنائیں، بچے پیدا کریں نہ کہ پیدا کرکے پھینکتے چلے جائیں۔

اقبالؒ نے تو صحیح فرمایا تھا کہ۔۔ ” ہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ “مگر افسوس صد افسوس ہم نے تو ملت کا تصور بھی بھلا دیا اور ہرفرد جو ملت کے مقدر کا ستارہ تھا ہم نے ان ستاروں کو بھکاری اور مقروض بنا دیا ہے۔ ہماری آبادی تو بہت زیادہ ہے مگر قابلیت کا جو ہر کم ہو چکا ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں قحط الرجال کا دور ہے اور کئی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہماری مائیں قابل اور دنیا کی قیادت کرنے والے بچے پیدا کرنے سے بانجھ ہو گئی ہیں۔

یہ کسی حد تک تو سچ ہے مگر در حقیقت بانجھ ہوئی نہیں انہیں بانجھ کر دیا گیا ہے ہم نے کبھی سوچا کہ ہم ماﺅں کو کیا تربیت دے رہے ہیں ان کو کیا سکھا رہے حالانکہ یہ تو وہی مائیں ہیں جن کے بطن سے ابن سینا، فارابی، ابن الہیشم، رومی اور جامی جیسے لوگ پیدا ہوئے جن کے بطن سے بڑے بڑے سپہ سالار، فاتحین، آئمہ اور مجتہدین پیدا ہوئے۔
مگر جب ہم نے علم سے منہ موڑ لیا اور سنت نبویہ سے ناطہ توڑ لیا تو ترقی کامیابی، اور سربلندی بھی ہم سے روٹھ گئی اور پھر در در کی ٹھوکریں، ناکامی ذلت اور حقارت ہمارا مقدر بن گئی۔


لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئیے بلکہ کوشش کرنی چاہیئے کہ ہم مسلمان کسی کے غلام نہ بنیں کیونکہ اللہ نے ہمیں ایسے اصولوں کیساتھ بھیجا ہے کہ اگر ہم بھی ان اصولوں پر عمل کریں تو یقیناً ایسے نتائج برآمد ہوں گے جسکا تصور یہود و اسرائیل نہیں کر سکتے۔



 
Advertisement

Syed Haider Imam

Chief Minister (5k+ posts)
Those who could not catch up with my "Ertughal Ghazi " series. They could find my blogs here. We are generation of lost decades.
ہم گزشتہ چار دہائی کھو چکے ہیں
اس دوران ہم لوگ بطور دولے شاہ کے چوہے جی رہے تھے ، اب وقت ہے کے اپنی معلومات کو اپڈیٹ کریں


 

Syed Haider Imam

Chief Minister (5k+ posts)
جو ایمانداری سے محنت کرے گا وہ آگے نکل جائے گا۔
There is no magic formula to greatness.

پہلے آپ ایمانداری سے پورا بلاگ پڑھ تو لیتے
یہی فرق ہے ہم میں
لیکچر ایمانداری کے اور حرکتیں پاکستانیوں والی
 

taban

Chief Minister (5k+ posts)

یہودی اور اسرائیل ترقی کا راز کیا ہے !!


اس وقت یہودی بزنس، انجینئرنگ سائنس اور دیگر شعبوں میں باقی قوموں سے بہت آگے ہیں، پوری دنیا کے بزنس کا 70 فیصد حصہ یہودیوں کے ہاتھ میں ہے اس وقت دنیا میں عالمی سطح پر ہونے والے فیصلوں پر یہودی پوری طرح اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ اکثر فیصلے انکی مرضی اور منشا کے مطابق ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ سیاسی طور پر یہودی دنیا کے بہت سے ممالک کی حکومتوں پر نہ صرف اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ حکومتوں کو کنٹرول بھی کرتے ہیں۔ اکثر ممالک کے حکمران یہودیوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں اور وہ وہی کچھ کرتے ہیں جو یہودی سے بھی یہ بات عام ہے کہ دنیا کے بیشتر میڈیا پر یہودیوں کا قبضہ ہے اور وہی میڈیا کو کنٹرول کرتے ہیں اور عالمی سطح پر رائے عامہ کا رُخ کسی بھی سمت موڑنے کے لئے یہودی میڈیا کو استعمال کرتے ہیں۔

بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں یہودیوں کی ہیں جن کا نیٹورک پوری دنیا میں ہے خاص طور پر فیشن کاسمیٹکٹس، فوڈ آئٹمز، مشروبات، ہوٹلز، کمپیوٹرز انفارمیشن سسٹم، میڈیسن، آپٹکس، سافٹ ویئرز، کنزیومر گڈز، فلم انڈسٹری (ہالی وڈ) اور ایڈوانس ٹیکنالوجیز میں ان کی سبقت مسلّم ہے۔

بزنس کی دنیا میں اسٹیبلشڈ اور کامیاب ترین برانڈز یہودیوں کے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں یہودی بہت آگے ہیں ۔صرف آج تک ملنے والے نوبل پرائز پر ہی نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ انعامات حاصل کرنے میں یہودی سب سے آگے ہیں۔ اب تک مختلف شعبوں میں جو نوبل انعام یہودیوں کے حصے میں آئے وہ یہ ہیں ::
کیمسٹری 32، اکنامکس 25، لٹریچر 13، امن 9، فزکس 47، بیالوجی/مڈیسن 54 جبکہ آج تک صرف 2 مسلمانوں کو نوبل انعام حاصل ہو سکا ہے۔ بعض لوگ نوبل انعام پر تنقید بھی کرتے ہیں کہ یہ زیادہ تر یہودیوں، عیسائیوں کو ہی دئیے جاتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے یہ تمام انعامات میرٹ پر دئیے جاتے ہیں کسی بھی نوبل انعام یافتہ شخص کو دیکھ لیں آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ اس کا حقدار نہیں تھا۔

مختصر یہ کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہودی ہر میدان میں آگے ہیں حالانکہ اسرائیل کی آبادی 60 لاکھ سے بھی کم ہے اور اسرائیل کا رقبہ تقریباً پاکستان کے جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے برابر ہے۔ مگر انہوں نے اپنی کم آبادی اور کم رقبے کو اپنی ترقی اور کامیابی کے آڑے نہیں آنے دیا ۔

آخرکیا وجہ ہے کہ یہودی عملاً ہر میدان پر غالب ہیں اگرچہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے مذہبی رجحان رکھنے والے کئی لوگ تسلیم نہیں کرتے مگر یہودیوں کی بالادستی حقیقت ہے جسے تسلیم کئے بغیرچارہ نہیں۔

لیکن ہم اس بحث میں پڑے بغیر اتنا تو سوچ سکتے ہیں کہ آخر ان میں کوئی تو ایسا گن، خوبی اور صلاحیت ہے کہ یہ اتنے قابل ہیں۔ کیا ان کی یہ خوبیاں اور صلاحیتیں خداداد ہیں یا انہوں نے ان خوبیوں میں کمال حاصل کرنے کے لئے کوئی محنت کی ہے؟

آیئے اس بات کاجائزہ لیتے ہیں ،ڈاکٹر اسٹیفن کارلیو ون جنہوں تین سال اسرائیل میں گزارے نے بھی اپنی تحقیق کو اسی پر فوکس کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہودیوں کا ایک خاص طرزِ زندگی اورلائف سٹائل ہے اور یہ طرزِ زندگی نسلوں سے ان کے اندر موجود ہے ان کی جو بھی نئی نسل آتی ہے اپنے خاص لائف سٹائل کے سبب ان کے اندر کمال درجے کی خوبیاں اور صلاحیتیں موجود ہوتی ہے، اور ان کا ہر بندہ انتہائی قابل اور جینیئس شخص ہوتا ہے۔

ڈاکٹر اسٹیفن حیرت کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہودیوں میں جو اضافی خوبیاں ہیں وہ خداداد نہیں ہیں بلکہ خداداد صلاحیتیں تو اتنی ہی ہیں جتنی کہ ایک عام انسان میں ہوتی ہیں مگر وہ اپنے آپ کو بالا تر رکھنے کے لئے قابلیت اور صلاحیت کو اس طرح پیدا کرتے ہیں جیسے کسی فیکٹری سے کوئی پروڈکٹ پیدا ہوتی ہے۔

ڈاکٹر اسٹیفن نے یہودی طرزِ زندگی پر انتہائی گہری نظر ڈالتے ہوئے دیکھا کہ یہودی بچوں کی مائیں حمل کے بالکل ابتدائی ایام میں جب کہ حمل ٹھہرتا ہی ہے اُسی وقت سے وہ اپنے بچے کی پرورش شروع کر دیتی ہیں۔ اور یہ بات تو ایک حقیقت ہے کہ ماں کی حرکات و سکنات اور عادات و معمولات کا پیدا ہونے والے بچے کی صحت، صلاحیت، قابلیت اور شخصیت پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔

یہودی مائیں حمل کے آغاز سے ہی باقاعدہ طور پر ریاضی کے سوالات حل کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ حمل کے دوران وہ خوش رہتی ہیں ان کی خوراک کا پورا خیال رکھا جاتا ہے وہ خاص طور پر گانا گاتی ہیں، پیانو اور وائلن بجاتی ہیں۔

جہاں تک میتھمیکٹس کا تعلق ہے اس معاملے میں وہ بہت زیادہ سریس ہوتی ہیں اور عورتیں اپنے شوہروں کے ساتھ مل کر میتھ کے سوالات اور مساوات حل کرتی ہیں۔ ایسے سوالات بھی حل کئے جاتے ہیں جن میں میاں بیوی آپس میں بول کر سوالات حل کرتے ہیں جیسے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں دو اور دو کتنے ہوئے دوسرا کہتا ہے چار، ڈاکٹر اسٹیفن کہتے ہیں میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ حاملہ عورتیں ہر وقت میتھ کی کتابیں اٹھائے پھرتی ہیں اور سوالات حل کرتی رہتی ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات میں نے بھی کئی خواتین کو سوال حل کرنے میں مدد دی پھر میں نے ایک خاتون سے پوچھ ہی لیا کہ؛۔ ” کیا آپ یہ اپنے رحم میں موجود بچے کے لئے کر رہی ہیں“ تو اس نے جواب دیا ”ہاں! یہ اس کو ٹرینڈ کرنے کے لئے ہے تاکہ وہ بعد میں ہوشیار اور جینیئس ہو سکے“۔ اور وہ اسی طرح بچے کی پیدائش تک ریاضی کے سوالات حل کرتی رہتی ہیں۔

گانے اور پیانو کے بارے میں میرا خیال تھا کہ شاید یہ صرف پر سکون اور خوش رہنے کے لئے بجاتی ہیں۔ لیکن مجھے حیرت ہوئی جب مجھے پتا چلا کہ یہودی سائنسدانوں کی ریسرچ ہے کہ پیانو اور وائلن کی پریکٹس سے پیدا ہونے والے بچے کی عقل بڑھتی ہے اور وہ چست ہوتا ہے ان کا مزید کہنا ہے کہ میوزک کی وائبریشن دماغ کی نشوونما کرتی ہے۔ بچہ پیدا ہونے کے بعد بھی بچے کو پیانو، وائلن اور میوزک کی مشق کروائی جاتی ہے شاید اسی لئے یہودیوں میں بے شمار جینیئس لوگ موجو ہیں۔

دوسری چیز جس کا ڈاکٹر اسٹیفن جائزہ لیتے ہیں وہ حاملہ خواتین کی خوراک ہے۔ وہ خوراک میں ہمیشہ، بادام، کھجوریں، دودھ اور مچھلی شوق سے لیتی ہیں۔ سلاد میں بادام اور دیگر گری والے میوے مکس کر کے کھاتی ہیں۔ ان کا یقین اور تحقیق ہے کہ مچھلی دماغ کی نشوونما کے لئے بہت مفید ہے۔ اور یہ یہودیوں کا کلچر بھی ہے کہ حاملہ خواتین سمندری مچھلی کا تیل بھی استعمال کرتی ہیں۔

حاملہ خواتین کے لنچ اور ڈنر میں مچھلی ضرور شامل ہوتی ہے۔ مجھے جب ڈنر پر انوائیٹ کیا گیا تو میں نے نوٹ کیا کہ وہ ہمیشہ مچھلی کھانا پسند کرتی ہیں جبکہ گوشت نہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مچھلی اور گوشت اکٹھے لئے جائیں تو اس کا ہمارے جسم کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا ہے اگر اکیلی مچھلی کھائی جائے تو بہت فائدہ مند ہوتی ہے اور ڈنر میں سلاد میوے اور بادام لازمی ہوتے ہیں۔

وہ فروٹ جب بھی کھاتی ہیں کھانے سے پہلے کھاتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ کھانے (روٹی یا چاول) کے بعد فروٹ کھائیں گے تو اس سے آپ کے جسم میں (اور آنے والے بچے کے جسم میں) سستی پیدا ہوتی ہے اور بچے کو سکول میں سبق یاد کرنے میں بھی مشکل پیش آتی ہے۔

حمل کے دوران انہیں پرسکون اور ریلیکس ماحول فراہم کیا جاتا ہے انہیں کوئی ذہنی پریشانی، ڈپریشن نہیں ہوتا بلکہ ہر وقت ان کی سوچ مثبت تعمیری اور بچے کی قابلیت کے لئے مصروف رہتی ہے۔

پورے نو ماہ کے دوران ان کی پوری توجہ، محنت اور سرگرمیاں صرف اسی بات پر فوکس ہوتی ہیں کہ ہم نے ایک انتہائی قابل، ذہین اور جینیئس بچہ پیدا کرنا ہے۔ اور یہ ایک ناقابل یقین حقیقت ہے کہ جیسے کسی معیاری فیکٹری میں سے کوئی انتہائی معیاری چیز بن کر باہر آتی ہے اسی طرح یہودیوں کی محنت ،کوشش ،خوراک اور حمل کے دوران معمولات کے نتیجے میں ایک انتہائی ذہین اور قابل بچہ اس دنیا میں آتا ہے۔ اور اس پر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ جس بچے کی تربیت حمل کے پہلے دن سے ہی شروع ہو جائے کیا وہ بچہ اور وہ قوم دوسرے لوگوں سے بر تر و بالا نہیں ہوںگے۔

جملہ معترضہ کے طور پر اضافہ کرنا چاہوں گا کہ مسلمانوں کی اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جن ماﺅں نے روز اول سے ہی بچے کی تربیت کی تو ان کی کوکھ سے جنم لینے والے بچوں نے دنیا میں انتہائی اعلیٰ کارہائے نمایاں سر انجام دیئے مثلاً بعض مائیں بچوں کو وضو کر کے اور نفل پڑھ کے دودھ پلاتی تھیں تو ان کے بچے بڑے ہو کر آئمہ اور مجتہدین بنے ۔جومائیں بچوں کو جرات و بہادری کی لوریاں دیتی اور بچپن سے ہی انہیں سخت جان بناتی انہی کے بچے فاتحین اورسپہ سالار بنے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں پورا فوکس اس بات پر ہوتا ہے کہ صرف اور صرف بچے ہی پیدا کرنے ہیں اور زیادہ سے زیادہ پیدا کرتے ہیں اور خاندان بڑھانا ہے ان کی تربیت ان کا مقصدِ حیات اور اکثر ماں کی صحت کو بھی نظر انداز کر جاتے ہیں یہاں تک کہ بعض مائیں تو بچے جنتے جنتے خود اس دنیا سے رخصت ہوجاتی ہیں۔

اسرائیلی معاشرے میں حاملہ عورت کو انتہائی اہم مقام اور ایک قسم کا پروٹوکول دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی قوم کے لئے ایک قابل انسان کو جنم دینے والی ہوتی ہے ایسا انسان جو اس دنیا میں آ کر اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کا لوہا منوائے گا۔ آنے والے بچے کےلئے نہ صرف ماں باپ بلکہ پورے یہودی خاندان کی سوچ بالکل واضح اور کلیئر ہوتی ہے اور پورے خاندان کا ایک ہی مطمع نظر اور ٹارگٹ ہوتا ہے کہ بس ”ذہین، قابل اور جینیئس بچہ“ پیدا کرنا ہے۔

جب بچہ اس دنیامیں آنکھ کھول لیتا ہے اور ان کی توقع کے عین مطابق جس طرح کی صلاحیتیں وہ چاہتے ہیں اس بچے میں موجود ہوتی ہیں تو پھر بچے کی ان صلاحیتوں پر محنت شروع ہو جاتی ہے۔ بچوں کو خوراک میں دیگر چیزوں کے علاوہ فروٹ، دودھ، مچھلی ، بادام اورمچھلی کا تیل خصوصیت کے ساتھ دیئے جاتے ہیں۔ بچوں کی خوراک ہمیشہ والدین کی نگرانی میں رہتی ہے انکو کوئی اوٹ پٹانگ چیزیں کھانے کو نہیں دی جاتیں۔

بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے بھی یہودیوں کا طرزِ عمل انتہائی حیرت انگیز ہے ہمارے ہاں تو بچوں کو انتہائی نازک بنا کے رکھا جاتا ہے اور کئی سال تک بچوں کو کارٹون فلموں اور ویڈیو اور کمپیوٹر گیموں سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ یہودیوں کے بچے کم از کم دو سال کی عمر میں کنڈر گارٹن میں داخل ہوجاتے ہیں اور اس سے پہلے ان کی گھر پر تربیت ہوتی ہے۔

ہمارے سکول کے بچوں کو عجیب و غریب قسم کے مشاغل میں الجھا کر رکھا جاتا ہے یہاں تک کہ بعض کام ایسے ہوتے ہیں کہ نہ ٹیچر کو پتہ ہوتا ہے اور نہ والدین کو کہ یہ کام بچوں سے کیوں کروائے جاتے ہیں۔ جبکہ اسرائیلی بچوں کی سب سے زیادہ جسمانی فٹنس اور ایکسرسائز پر توجہ دی جاتی ہے اس کے بعد دوڑ کے مقابلے کثرت سے کروائے جاتے ہیں تاکہ بچہ جسمانی لحاظ سے تیز اور پھرتیلا ہو جائے اور اسکا دماغ بھی تیز ہوجائے، پھر اس سے بھی بڑھ کر بچے کو تیر اندازی اور نشانہ بازی (شوٹنگ) سکھائی جاتی ہے۔

جسمانی ایکسرسائز، دوڑ، تیر اندازی اور نشانہ بازی کی مسلسل مشق اور پریکٹس کروائی جاتی رہتی ہے۔ تیر اندازی اور شوٹنگ کے حوالے سے یہودیوں کا کہنا ہے کہ اس کی مشق کرنے سے بچے کی دماغی اور جسمانی صحت کو توانائی ملتی ہے اور ان کی سوچ کسی بھی مسئلے پر فوکس کرنے کے لئے تیار رہتی ہے اس طرح انہیں اپنی زندگی میں مشکل فیصلے کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔

کتنے افسوس کی بات ہے کہ تاریخ اسلام کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ تیر اندازی، نشانہ بازی، دوڑ اور گھڑ سواری مسلمانوں کاشعار تھا اور صرف یہی ہمارے کھیل تھے ہمیں یہ چیزیں سیکھنے اور کرنے کا حکم دیا گیا تھا مگر ہم نے انہیں ترک کر دیا ہے اور سیکھنے والے انہی چیزوں سے سیکھ رہے ہیں۔

بہرحال یہودی بچوں کو گریڈ 1 سے 6 تک جب بچے کی عمر چھ سے گیارہ سال کے درمیان ہوتی ہے بزنس میتھ میکٹس اور سائنس کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں تین زبانیں عبرانی، عربی اور انگلش سکھائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر اسٹیفن کا کہنا ہے کہ جب میں نے اسرائیلی بچوں کا موازنہ کیلی فورنیا کے بچوں سے کیا تو ذہنی استعداد کے لحاظ سے کیلی فورنیا کے امریکی بچے اسرائیلی بچوں سے چھ سال پیچھےتھے۔

کتنی حیرت کی بات ہے کہ ہمارے بچے ویڈیو گیموں، کارٹونوں اور کمپیوٹر گیموں میں الجھے رہتے ہیں اور ان کے زیادہ تر سافٹ ویئرز یہودیوں ہی کے تیار کردہ ہوتے ہیں لیکن خود ان کے بچے ان چیزوں سے دور رہتے ہیں اور وہ اپنے بچوں کو صحیح معنوں میں عملی زندگی میں حصہ لینے والا ایک قابل انسان بنا دیتے ہیں۔

اسرائیل میں دو سال سے لے کر سترہ سال تک کے ہر بچے کے لئے تعلیم لازمی اور فری ہے۔ تعلیم کے شعبے پر حکومت کا انتہائی سخت کنٹرول ہے، 90 فیصد تعلیمی ادارے گورنمنٹ خود چلا رہی ہے جبکہ 10 فیصد پرائیویٹ بھی ہیں لیکن انکو بھی حکومتی پالیسیوں کو فالو کرنا ہوتا ہے۔

اسرائیلی تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ تعلیم کے ساتھ بچوں کو ایسا ماحول دیا جائے جس میں ان کا سیاسی، مذہبی اور کلچرل بیک گراﺅنڈ بھی انہیں مکمل سپورٹ کر رہا ہو تاکہ وہ آگے چل کر دنیا کو اپنی انگلیوں پر نچا سکیں۔ جبکہ ہمارے ہاں نظام تعلیم کا ایسا ملغوبہ تیار کیا گیا ہے جسے آج تک کوئی نہیں سمجھ سکا۔

معیار تعلیم کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ میٹرک کا سرٹیفکیٹ اس طالب علم کو دیا جاتا ہے جو اپنے انتہائی مشکل کورس کے علاوہ کسی ایک پراجیکٹ یا سبجیکٹ پر ریسرچ کرتا ہے ہمارے ہاں یہ کام عموماً ماسٹرز یا پی ایچ ڈی کی سطح پر ہوتا ہے جو اسرائیلی بچے میٹرک سے شروع کر دیتے ہیں۔

سیکنڈری ایجوکیشن کے بعد اسرائیل کا تقریباً ہر طالب علم اسرائیلی ڈیفنس فورسز میں شامل ہو جاتا ہے جبکہ بیچلر ڈگری کی سطح پر طلباء فوج میں کام کرنے کےلئے 2 یا 3 سال کا ایگریمنٹ سائن کرتے ہیں جن کے عوض ان کی فیس بھی اسرائیلی فوج ادا کرتی ہے یعنی اس طرح اسرائیل کا ہر نوجوان مرد اور عورت تعلیم سے فارغ ہونے تک مکمل تربیت یافتہ سپاہی بھی ہوتا ہے۔

بزنس فیکلٹی میں ماسٹر کرنے والے طلباءکے لئے لازمی ہوتا ہے کہ وہ عملی طور پر بزنس کے منافع بخش پراجیکٹ تیار کریں، طلبا کا ایک گروپ جس میں عموماً 10 طالب علم شامل ہوتے ہیں جب تک 1ملین ڈالر منافع نہیں کماتا اسے ماسٹر کی ڈگری نہیں مل سکتی۔

ہمارے ہاں تو معیارات ہی الٹ ہیں اول تو ہائی اسکول بلکہ کالج تک بچے کو بلا مقصد پڑھاتے رہتے ہیں نہ پڑھانے والوں کو اور نہ والدین کو پتہ ہوتا ہے کہ ہماری اس تعلیم کا مقصد کیا ہے۔ اگر کوئی مقصد متعین کرنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو 90 بلکہ 95 فیصد لوگوں کا مطمع نظر کوئی اچھی سی جاب، نوکری یا عہدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔

اپنا بزنس اسٹیبلش کرنا لوگوں کی ترجیح نہیں ہوتی بلکہ ہماری تعلیم کا ہدف کوئی نہ کوئی نوکری ہی ہوتی ہے جبکہ اسلام میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ روزی (معشیت) کا 70 فیصد حصہ کاروبار میں ہے اور باقی 30 فیصد باقی تمام شعبوں میں ہے۔ ہم لوگ بزنس کی طرف توجہ نہیں دیتے اور عام طور پر پڑھے لکھے لوگ کاروبار کو معیوب ہی سمجھتے ہیں عموماً ہمارے کاروبار بھی ان پڑھ یا نیم خواندہ لوگوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ جبکہ پڑھے لکھے لوگ نوکریوں کے لئے دھکے کھا کر خودکشیوں پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اسرائلیوں کا فوکس ہی بزنس پر ہوتا ہے وہ اس مائنڈ سیٹ کے ساتھ کام کرتے ہیں کہ انہیں نوکری حاصل نہیں کرنی ہوتی بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں نوکریاں پیدا کرنی ہوتی ہیں اور پھر ہم جیسے نوکریوں کے شیدائی ان کے ہاں ملازمت کرتے ہیں اور بعض اوقات نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی شرائط، خواہشات، مطالبات اور ایجنڈے کے مطابق ہمیں کام کرنا پڑتا ہے۔

عالمی شماریاتی ادارے ویبو میٹرک کی رینکنگ کے مطابق اسرائیل کی چھ یونیورسٹیاں ایشیاء کی 100 یونیورسٹیوں میں سب سے ٹاپ پر ہیں۔ جبکہ اسرائیل کی چار یونیورسٹیاں پوری دنیا کی 150 یونیورسٹیوں میں سے ٹاپ پر ہیں جبکہ ہائر_ایجوکیشن کی 1,200 یونیورسٹیوں میں سے اسرائیل کی تین یونیورسٹیاں ٹاپ پر ہیں اس کے علاوہ سائنس، انجینئرنگ، میتھمیٹکس، کمپیوٹر سائنس، کیمسٹری اور لائف سائنس میں اسرائیلی یونیورسٹیاں پوری دنیا میں ٹاپ پر ہیں جبکہ ہماری یونیورسٹیاں اس طرح کی کسی لسٹ میں سرے سے شامل ہی نہیں ہیں۔

ایک اور حیرت انگیز بات جو اسرائیل کے حوالے سے سامنے آتی ہے جس کا ذکر ڈاکٹر اسٹیفن بھی اپنے مقالے میں کرتے ہیں، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سگریٹ کے جتنے بھی مشہور اور زیادہ سیل ہونے والے برانڈز ہیں تقریباً تمام یہودیوں کے ہیں اور وہ ان کے ذریعے پوری دنیا سے اربوں ڈالر کما رہے ہیں لیکن ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ اسرائیل کے اندر سگریٹ نوشی ممنوع ہے وہاں صرف کوئی غیر ملکی مہمان ہی سگریٹ پی سکتا ہے لیکن وہ بھی ایک دائرے کے اندر رہتے ہوئے۔

اگر آپ کسی کے ہاں مہمان ہیں اور آپ سگریٹ پینا چاہتے ہیں تو یہ ناممکن ہے کہ آپ ان کے سامنے یا گھر میں سگریٹ پی سکیں بلکہ وہ آپ کو شائستگی سے کہہ دیں گے آپ باہر جا کر سگریٹ پی آئیں۔ سگریٹ نوشی کے بارے میں یونیورسٹی آف اسرائیل کے سائنسدانوں کا کہنا ہے نیکوٹین ہمارے دماغ کے خلیوں کو تباہ کرتی ہے اوریہ ہمارے جینز اور ڈی این اے کو بری طرح متاثر کرتی ہے جس کے نتیجے میں آنے والی نسل میں دماغی کمزوری یاذہنی خلل پیدا ہو سکتا ہے۔

یہودیوں کے بارے میں حقائق سنتے جائیے اور پریشان ہوتے جائیے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ یہودی بچے کے حمل سے لے کر پیدائش تک اور پھر تمام عمر ایسے افعال سر انجام دیتے ہیں جن سے ان کے دماغ کی نشوونما ہوتی رہے، ایسی خوراک کھاتے ہیں جس سے دماغ کو تقویت ملتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ جب دعا مانگتے ہیں تو وہ ہمیشہ اپنے سر کو ہلاتے رہتے ہیں ان کا یقین ہے کہ اس طرح دماغ کو آکسیجن مہیا ہوتی ہے۔

نیویارک میں یہودیوں کا ایک مرکز ہے جسے (Jewish comunity center) کہا جاتا ہے۔ یہاں یہودیوں کی فلاح و بہبود کے لئے بے شمار کام کئے جاتے ہیں۔ سوشل، کلچر، ایجوکیشنل، ری کری ایشن اور فٹنس کے متعدد پروگرام یہاں چلتے رہتے ہیں لیکن جو سب سے اہم کام یہاں ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی بھی یہودی جس کے پاس بزنس کے لئے کوئی قابل عمل اور منافع بخش منصوبہ ہے مگر پیسہ نہیں ہے تو یہ سنٹر اس کو بغیر سود کے قرضہ فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنا بزنس اسٹیبلش کرسکے۔ اسی سنٹر کی سپانسر شپ سے بڑی بڑی کمپنیاں وجود میں آچکی ہیں۔۔۔ مثلاً Star Bucks, Dell Computer, Coca Cola, DKNY, Oracle, Levis, Duck in Donut, and many Holly Wood films.۔

ان کے علاوہ بھی سینکڑوں ایسے منصوبے ہیں جو اسی ادارے کے تعاون سے کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔لیکن یہی یہودی جب دوسروں کو قرضہ دیتے ہیں تو ان کے سود در سود چنگل سے نکلنا مشکل ہوجاتا ہے۔

کتنی افسوسناک بات ہے کہ مسلمان کو مسلمان کا بھائی قرار دیا گیا ہے اور پوری امت کو ایک جسم کی مانند کہا گیا ہے مگر ہم نے سب کچھ بھلا دیااور غیروں نے انہی سنہری اصولوں کو پلے باندھ کر کامیابیاں سمیٹ لی ہیں یہودی ایک دوسرے کا بہت زیادہ ساتھ دیتے ہیں۔ انکرج اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں خاص طور پر کاروبار کےلئے بھرپور تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔

ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ لوگوں میں عموماً یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ میڈیکل جیسے شعبے میں نوکری اور جاب ہی کرنی پڑتی ہے لیکن یہودی اس فیلڈ میں بھی اپنا الگ بزنس قائم کرتے ہیں اور نوکریوں سے پرہیز کرتے ہیں۔

ڈاکٹراسٹیفن کا کہنا ہے کہ میں سوچتا تھا کہ نیویارک، کیلی فورنیا اور دیگر بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں اور یہودیوں کی کمی کیوں ہے تو مجھے پتہ چلا کہ یہودی میڈیکل میں بھی بزنس کو ترجیح دیتے ہیں اور نوکری کی بجائے پرائیویٹ پریکٹس کرتے ہیں یا اپنا کوئی میڈیکل کا ادارہ کھول لیتے ہیں۔

اس سلسلے میں بھی ”جیویش گریجوایٹ فرام فیکلٹی آف میڈیسن نیویارک“ یہودیوں کا ایک ادارہ ہے جو پرائیویٹ پریکٹس اور بزنس کے لئے یہودی ڈاکٹر وں کو Free Intrest Loan مہیا کرتا ہے تاکہ ڈاکٹرز اپنا کاروبار کر سکیں۔ اسی لئے یہودی ڈاکٹرز نوکریوں میں بہت کم اور پرائیویٹ پریکٹس میں زیادہ نظر آتے ہیں۔

جو قوم بچے کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ریاضی اور حساب کتاب سکھانا شروع کر دے اور پھر ہر قدم پر اسے ایک اعلیٰ تعلیم مہیا کرے اور اس کی ذہنی صلاحیتوں کی بھرپور نشوونما اس کے حمل سے لے کر ساری زندگی کی جائے تو بتائیےکہ وہ بچہ بڑا ہوکر کیاکچھ نہیں کرگزرے گا؟ جتنا اسرائیل کا رقبہ ہے یہاں کوئی بھی بڑا انڈسٹریل یا بزنس سیٹ اپ نہیں بن سکتا مگر اسرائیلیوں نے پھر بھی پوری دنیا کے کاروبار پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔

در حقیقت یہودیوں نے اس چھوٹے سے ملک کو اپنا ایک ٹریننگ سینٹر، تربیت گاہ اور ریکروٹنگ کی جگہ بنایا ہوا ہے جہاں قابل انسان تیار کئے جاتے ہیں جو اسرائیل سے اٹھ کر امریکہ، یورپ اور دیگر ملکوں میں میں جا کرپوری دنیا کی معیشت، سیاست اور حکومت کو سنبھال لیتے ہیں۔ اگر دل لگتی بات کہیں تو واقعی ایسی قوم کا حق ہے کہ وہ دنیا کی قیادت اور سیاست سنبھال لے۔

اگر یہاں اسرائیل معیشت اور تجارت کے اعداد و شمار پیش کئے جائیں تو مزید کئی صفحات درکار ہوں گے۔ صرف اتنا ہی کافی ہے کہ اسرائیل ہر سال بلینز آف بلینزڈالر منافع کما رہا ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا کوئی اور شخص یا کوئی اور قوم بھی اس قدر قابل ذہین اور کامیاب بن سکتی ہے اس کا جو اب ہے، جی ہاں بالکل بن سکتی ہے مگر شرط یہی ہے کہ اپنی بنیادوں کو ٹھیک کریں ان کو مضبوط کریں اپنی آنے والی نسل کے ایک ایک فرد کو قیمتی بنائیں، بچے پیدا کریں نہ کہ پیدا کرکے پھینکتے چلے جائیں۔

اقبالؒ نے تو صحیح فرمایا تھا کہ۔۔ ” ہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ “مگر افسوس صد افسوس ہم نے تو ملت کا تصور بھی بھلا دیا اور ہرفرد جو ملت کے مقدر کا ستارہ تھا ہم نے ان ستاروں کو بھکاری اور مقروض بنا دیا ہے۔ ہماری آبادی تو بہت زیادہ ہے مگر قابلیت کا جو ہر کم ہو چکا ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں قحط الرجال کا دور ہے اور کئی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہماری مائیں قابل اور دنیا کی قیادت کرنے والے بچے پیدا کرنے سے بانجھ ہو گئی ہیں۔

یہ کسی حد تک تو سچ ہے مگر در حقیقت بانجھ ہوئی نہیں انہیں بانجھ کر دیا گیا ہے ہم نے کبھی سوچا کہ ہم ماﺅں کو کیا تربیت دے رہے ہیں ان کو کیا سکھا رہے حالانکہ یہ تو وہی مائیں ہیں جن کے بطن سے ابن سینا، فارابی، ابن الہیشم، رومی اور جامی جیسے لوگ پیدا ہوئے جن کے بطن سے بڑے بڑے سپہ سالار، فاتحین، آئمہ اور مجتہدین پیدا ہوئے۔
مگر جب ہم نے علم سے منہ موڑ لیا اور سنت نبویہ سے ناطہ توڑ لیا تو ترقی کامیابی، اور سربلندی بھی ہم سے روٹھ گئی اور پھر در در کی ٹھوکریں، ناکامی ذلت اور حقارت ہمارا مقدر بن گئی۔

لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئیے بلکہ کوشش کرنی چاہیئے کہ ہم مسلمان کسی کے غلام نہ بنیں کیونکہ اللہ نے ہمیں ایسے اصولوں کیساتھ بھیجا ہے کہ اگر ہم بھی ان اصولوں پر عمل کریں تو یقیناً ایسے نتائج برآمد ہوں گے جسکا تصور یہود و اسرائیل نہیں کر سکتے۔



یہودیوں کی ترقی کا جو بھی راز ہے ہماری بربادی کا کیا راز ہے یہ بتاو
 

The Sane

Senator (1k+ posts)

پہلے آپ ایمانداری سے پورا بلاگ پڑھ تو لیتے
یہی فرق ہے ہم میں
لیکچر ایمانداری کے اور حرکتیں پاکستانیوں والی
شاہ جی آپ کا کالم پڑھ لیا ہے۔ جو میں نے کہا ہے وہ میرا ماننا ہے۔ اگر آپ کو میرے بیان کی صحت سے انکار ہے تو ارشاد فرمائیے
 

desan

Prime Minister (20k+ posts)

Superior view of Einstein’s brain, with frontal lobes at the top. The shaded convolution labeled K is the Omega Sign (or knob), which is associated with enlargement of primary motor cortex for the left hand in right-handed experienced string-players.


One can tell if someone is a Piano or a Violin player by the "Knob" above. Violin players have this knob on the left, while Piano players have the same knob on the opposite side.

Not sure if this anatomical difference accounts for any changes in IQ.
 

Syed Haider Imam

Chief Minister (5k+ posts)
شاہ جی آپ کا کالم پڑھ لیا ہے۔ جو میں نے کہا ہے وہ میرا ماننا ہے۔ اگر آپ کو میرے بیان کی صحت سے انکار ہے تو ارشاد فرمائیے



یہی تو مسلہ ہے حضور . اپنے بلکل بھی نہیں پڑھا
یہ میرا بلاگ ہر گز نہیں ، میرا بلاگ میرے" زیرو ٹالرنس" کے لوگو کے ساتھ اتا ہے
یہ میں نے ریسرچ کر کے ڈھونڈھا ہے اور ساتھ لنک بھی دیا ہے . اس سے زیادہ کیا عرض کروں ؟

میں جب لکھ رہا تھا کے ہم گزشہ چار دہایوں سے دولے شاہ کے چوہے بن چکے ہیں ، اپکا کمینٹ فوری ا گیا
یہ شاندار آرٹیکل یہودیوں کی ایمانداری کے متعلق نہیں ہے . ایمانداری کا ویسے بھی یہودیوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں . یہودی ہمیشہ اپنی سازشوں کی وجہ سے ہمیشہ تاریخ میں پہچانے جاتے ہیں

یہ آرٹیکل یہددیوں کی شاندار خاندانی روایات ، نظم ضبط ، ویژن اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے انکی پیدائش سے پہلے اور بعد کی پلاننگ کی متعلق ہے . میرے بھائی ، ہم لوگ ہتھیلی پر سرسوں جمانے کے عادی ہیں اور فوری فتویٰ دے دیتے ہیں . کچھ آرٹیکل کو صرف اچھی طرح پڑھ کر سمجھنا چاہئے

اس سے ہمیں اپنے گریبانوں میں جھاکنے کا موقع ملے گا . ہماری حالت تو بکرا عید کے جانوروں جیسی ہے . ایک ریوڑ میں ، عید کے دن تک اپنے گلے پر چھری چلنے کا انتظار کر رہے ہیں . ہمیں تو یہ بھی نہیں پتا کے ہمارے اندرونی دشمن کون ہیں ؟

جو ہمارے محافظ ہیں ، انہوں نے ہمارا سودا کتنے میں کیا ہے ؟
جو ہمارے منصف ہیں ، انہوں نے انصاف کو کتنا ارزاں بیچا ؟
جو علماء ہیں ، وہ جہاد کے وقت کیوں سو رکعت نفل پڑھ رہے ہیں ؟

جو سیاستدان ہیں ، ہم انکا تمام وارداتیں جانتے ہوے بھی ....انکی کھالیں انکے جسموں سے علیحدہ کر کے ................ انہیں ابھی تک نشان عبرت کیوں نہیں بنایا ؟

بجائے نشان عبرت بنانے کے ، ہم انھیں روزانہ زیر بحث کیوں لاتے ہیں ؟

 

The Sane

Senator (1k+ posts)

Superior view of Einstein’s brain, with frontal lobes at the top. The shaded convolution labeled K is the Omega Sign (or knob), which is associated with enlargement of primary motor cortex for the left hand in right-handed experienced string-players.


One can tell if someone is a Piano or a Violin player by the "Knob" above. Violin players have this knob on the left, while Piano players have the same knob on the opposite side.

Not sure if this anatomical difference accounts for any changes in IQ.
آپ نے بجا فرمایا لیکن کیا ہر ہر یہودی کا دماغ پیدائشی طور پر آئینسٹائن کی طرح بڑا ہوتا ہے؟ ایسا نہیں ہے۔ وہ اس لیے آگے ہیں کہ ان کا مقصد یکجا ہے، وہ فوکسڈ ہیں آپ اپنے مقصد کے حصول کی خاطر دل و جان سے محنت کرتے ہیں۔ ان کا مولوی دنیا اور آخرت میں کامیابی کےلیے ٹوٹکےاور چلے نہیں بتاتا
 

taban

Chief Minister (5k+ posts)
آپ نے بجا فرمایا لیکن کیا ہر ہر یہودی کا دماغ پیدائشی طور پر آئینسٹائن کی طرح بڑا ہوتا ہے؟ ایسا نہیں ہے۔ وہ اس لیے آگے ہیں کہ ان کا مقصد یکجا ہے، وہ فوکسڈ ہیں آپ اپنے مقصد کے حصول کی خاطر دل و جان سے محنت کرتے ہیں۔ ان کا مولوی دنیا اور آخرت میں کامیابی کےلیے ٹوٹکےاور چلے نہیں بتاتا
عام یہودی بھی ہم لوگوں کی ہی طرح ہوتے ہیں کچھ ہنس مکھ کچھ سڑے ہوئے کچھ چور کچھ ایماندار کچھ یاروں کے یار اور کچھ مردم بیزار ان آرٹیکلز کو پڑھ کے کچھ ایسا تاثر بنتا ہے کہ ہر یہودی جینئیس ہے اور ہاتھ میں ہتھیار پکڑے مسلمانوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کے قتل کر رہا ہے یا مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے حالنکہ ایسا بالکل نہیں ہے یہ انکے لیڈر اور اسرائیل کی حکومت ہے جو ایسا کرتی ہے مگر ہمارے عظیم دانشور ایسا تاثر دیتے ہیں اور ہمارے ملا ایسا تاثر دیتے ہیں مگر جب عرب اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں تو یہ انکے لئے دعائے خیر کرتے ہیں میں یہودیوں کی خدا نخواستہ تعریف نہیں کر رہا مگر انصاف کی بات یہ ہے کہ جیسے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ایسے ہی ہر قوم میں سب ایک جیسے نہیں ہوتے ہمیں بجائے دوسروں کی ترقی پہ نظر رکھنے کے اپنی خامیوں کو دور کرکے ترقی کی منازل کی طرف بہت تیزی سے جانا چاہئیے ---آگےلوکاں دی مرضی
 

Pakistani1947

Minister (2k+ posts)
یہودی اور اسرائیل ترقی کا راز کیا ہے !!


اس وقت یہودی بزنس، انجینئرنگ سائنس اور دیگر شعبوں میں باقی قوموں سے بہت آگے ہیں، پوری دنیا کے بزنس کا 70 فیصد حصہ یہودیوں کے ہاتھ میں ہے اس وقت دنیا میں عالمی سطح پر ہونے والے فیصلوں پر یہودی پوری طرح اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ اکثر فیصلے انکی مرضی اور منشا کے مطابق ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ سیاسی طور پر یہودی دنیا کے بہت سے ممالک کی حکومتوں پر نہ صرف اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ حکومتوں کو کنٹرول بھی کرتے ہیں۔ اکثر ممالک کے حکمران یہودیوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں اور وہ وہی کچھ کرتے ہیں جو یہودی سے بھی یہ بات عام ہے کہ دنیا کے بیشتر میڈیا پر یہودیوں کا قبضہ ہے اور وہی میڈیا کو کنٹرول کرتے ہیں اور عالمی سطح پر رائے عامہ کا رُخ کسی بھی سمت موڑنے کے لئے یہودی میڈیا کو استعمال کرتے ہیں۔

بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں یہودیوں کی ہیں جن کا نیٹورک پوری دنیا میں ہے خاص طور پر فیشن کاسمیٹکٹس، فوڈ آئٹمز، مشروبات، ہوٹلز، کمپیوٹرز انفارمیشن سسٹم، میڈیسن، آپٹکس، سافٹ ویئرز، کنزیومر گڈز، فلم انڈسٹری (ہالی وڈ) اور ایڈوانس ٹیکنالوجیز میں ان کی سبقت مسلّم ہے۔

بزنس کی دنیا میں اسٹیبلشڈ اور کامیاب ترین برانڈز یہودیوں کے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں یہودی بہت آگے ہیں ۔صرف آج تک ملنے والے نوبل پرائز پر ہی نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ انعامات حاصل کرنے میں یہودی سب سے آگے ہیں۔ اب تک مختلف شعبوں میں جو نوبل انعام یہودیوں کے حصے میں آئے وہ یہ ہیں ::
کیمسٹری 32، اکنامکس 25، لٹریچر 13، امن 9، فزکس 47، بیالوجی/مڈیسن 54 جبکہ آج تک صرف 2 مسلمانوں کو نوبل انعام حاصل ہو سکا ہے۔ بعض لوگ نوبل انعام پر تنقید بھی کرتے ہیں کہ یہ زیادہ تر یہودیوں، عیسائیوں کو ہی دئیے جاتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے یہ تمام انعامات میرٹ پر دئیے جاتے ہیں کسی بھی نوبل انعام یافتہ شخص کو دیکھ لیں آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ اس کا حقدار نہیں تھا۔

مختصر یہ کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہودی ہر میدان میں آگے ہیں حالانکہ اسرائیل کی آبادی 60 لاکھ سے بھی کم ہے اور اسرائیل کا رقبہ تقریباً پاکستان کے جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے برابر ہے۔ مگر انہوں نے اپنی کم آبادی اور کم رقبے کو اپنی ترقی اور کامیابی کے آڑے نہیں آنے دیا ۔

آخرکیا وجہ ہے کہ یہودی عملاً ہر میدان پر غالب ہیں اگرچہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے مذہبی رجحان رکھنے والے کئی لوگ تسلیم نہیں کرتے مگر یہودیوں کی بالادستی حقیقت ہے جسے تسلیم کئے بغیرچارہ نہیں۔

لیکن ہم اس بحث میں پڑے بغیر اتنا تو سوچ سکتے ہیں کہ آخر ان میں کوئی تو ایسا گن، خوبی اور صلاحیت ہے کہ یہ اتنے قابل ہیں۔ کیا ان کی یہ خوبیاں اور صلاحیتیں خداداد ہیں یا انہوں نے ان خوبیوں میں کمال حاصل کرنے کے لئے کوئی محنت کی ہے؟

آیئے اس بات کاجائزہ لیتے ہیں ،ڈاکٹر اسٹیفن کارلیو ون جنہوں تین سال اسرائیل میں گزارے نے بھی اپنی تحقیق کو اسی پر فوکس کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہودیوں کا ایک خاص طرزِ زندگی اورلائف سٹائل ہے اور یہ طرزِ زندگی نسلوں سے ان کے اندر موجود ہے ان کی جو بھی نئی نسل آتی ہے اپنے خاص لائف سٹائل کے سبب ان کے اندر کمال درجے کی خوبیاں اور صلاحیتیں موجود ہوتی ہے، اور ان کا ہر بندہ انتہائی قابل اور جینیئس شخص ہوتا ہے۔

ڈاکٹر اسٹیفن حیرت کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہودیوں میں جو اضافی خوبیاں ہیں وہ خداداد نہیں ہیں بلکہ خداداد صلاحیتیں تو اتنی ہی ہیں جتنی کہ ایک عام انسان میں ہوتی ہیں مگر وہ اپنے آپ کو بالا تر رکھنے کے لئے قابلیت اور صلاحیت کو اس طرح پیدا کرتے ہیں جیسے کسی فیکٹری سے کوئی پروڈکٹ پیدا ہوتی ہے۔

ڈاکٹر اسٹیفن نے یہودی طرزِ زندگی پر انتہائی گہری نظر ڈالتے ہوئے دیکھا کہ یہودی بچوں کی مائیں حمل کے بالکل ابتدائی ایام میں جب کہ حمل ٹھہرتا ہی ہے اُسی وقت سے وہ اپنے بچے کی پرورش شروع کر دیتی ہیں۔ اور یہ بات تو ایک حقیقت ہے کہ ماں کی حرکات و سکنات اور عادات و معمولات کا پیدا ہونے والے بچے کی صحت، صلاحیت، قابلیت اور شخصیت پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔

یہودی مائیں حمل کے آغاز سے ہی باقاعدہ طور پر ریاضی کے سوالات حل کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ حمل کے دوران وہ خوش رہتی ہیں ان کی خوراک کا پورا خیال رکھا جاتا ہے وہ خاص طور پر گانا گاتی ہیں، پیانو اور وائلن بجاتی ہیں۔

جہاں تک میتھمیکٹس کا تعلق ہے اس معاملے میں وہ بہت زیادہ سریس ہوتی ہیں اور عورتیں اپنے شوہروں کے ساتھ مل کر میتھ کے سوالات اور مساوات حل کرتی ہیں۔ ایسے سوالات بھی حل کئے جاتے ہیں جن میں میاں بیوی آپس میں بول کر سوالات حل کرتے ہیں جیسے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں دو اور دو کتنے ہوئے دوسرا کہتا ہے چار، ڈاکٹر اسٹیفن کہتے ہیں میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ حاملہ عورتیں ہر وقت میتھ کی کتابیں اٹھائے پھرتی ہیں اور سوالات حل کرتی رہتی ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات میں نے بھی کئی خواتین کو سوال حل کرنے میں مدد دی پھر میں نے ایک خاتون سے پوچھ ہی لیا کہ؛۔ ” کیا آپ یہ اپنے رحم میں موجود بچے کے لئے کر رہی ہیں“ تو اس نے جواب دیا ”ہاں! یہ اس کو ٹرینڈ کرنے کے لئے ہے تاکہ وہ بعد میں ہوشیار اور جینیئس ہو سکے“۔ اور وہ اسی طرح بچے کی پیدائش تک ریاضی کے سوالات حل کرتی رہتی ہیں۔

گانے اور پیانو کے بارے میں میرا خیال تھا کہ شاید یہ صرف پر سکون اور خوش رہنے کے لئے بجاتی ہیں۔ لیکن مجھے حیرت ہوئی جب مجھے پتا چلا کہ یہودی سائنسدانوں کی ریسرچ ہے کہ پیانو اور وائلن کی پریکٹس سے پیدا ہونے والے بچے کی عقل بڑھتی ہے اور وہ چست ہوتا ہے ان کا مزید کہنا ہے کہ میوزک کی وائبریشن دماغ کی نشوونما کرتی ہے۔ بچہ پیدا ہونے کے بعد بھی بچے کو پیانو، وائلن اور میوزک کی مشق کروائی جاتی ہے شاید اسی لئے یہودیوں میں بے شمار جینیئس لوگ موجو ہیں۔

دوسری چیز جس کا ڈاکٹر اسٹیفن جائزہ لیتے ہیں وہ حاملہ خواتین کی خوراک ہے۔ وہ خوراک میں ہمیشہ، بادام، کھجوریں، دودھ اور مچھلی شوق سے لیتی ہیں۔ سلاد میں بادام اور دیگر گری والے میوے مکس کر کے کھاتی ہیں۔ ان کا یقین اور تحقیق ہے کہ مچھلی دماغ کی نشوونما کے لئے بہت مفید ہے۔ اور یہ یہودیوں کا کلچر بھی ہے کہ حاملہ خواتین سمندری مچھلی کا تیل بھی استعمال کرتی ہیں۔

حاملہ خواتین کے لنچ اور ڈنر میں مچھلی ضرور شامل ہوتی ہے۔ مجھے جب ڈنر پر انوائیٹ کیا گیا تو میں نے نوٹ کیا کہ وہ ہمیشہ مچھلی کھانا پسند کرتی ہیں جبکہ گوشت نہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مچھلی اور گوشت اکٹھے لئے جائیں تو اس کا ہمارے جسم کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا ہے اگر اکیلی مچھلی کھائی جائے تو بہت فائدہ مند ہوتی ہے اور ڈنر میں سلاد میوے اور بادام لازمی ہوتے ہیں۔

وہ فروٹ جب بھی کھاتی ہیں کھانے سے پہلے کھاتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ کھانے (روٹی یا چاول) کے بعد فروٹ کھائیں گے تو اس سے آپ کے جسم میں (اور آنے والے بچے کے جسم میں) سستی پیدا ہوتی ہے اور بچے کو سکول میں سبق یاد کرنے میں بھی مشکل پیش آتی ہے۔

حمل کے دوران انہیں پرسکون اور ریلیکس ماحول فراہم کیا جاتا ہے انہیں کوئی ذہنی پریشانی، ڈپریشن نہیں ہوتا بلکہ ہر وقت ان کی سوچ مثبت تعمیری اور بچے کی قابلیت کے لئے مصروف رہتی ہے۔

پورے نو ماہ کے دوران ان کی پوری توجہ، محنت اور سرگرمیاں صرف اسی بات پر فوکس ہوتی ہیں کہ ہم نے ایک انتہائی قابل، ذہین اور جینیئس بچہ پیدا کرنا ہے۔ اور یہ ایک ناقابل یقین حقیقت ہے کہ جیسے کسی معیاری فیکٹری میں سے کوئی انتہائی معیاری چیز بن کر باہر آتی ہے اسی طرح یہودیوں کی محنت ،کوشش ،خوراک اور حمل کے دوران معمولات کے نتیجے میں ایک انتہائی ذہین اور قابل بچہ اس دنیا میں آتا ہے۔ اور اس پر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ جس بچے کی تربیت حمل کے پہلے دن سے ہی شروع ہو جائے کیا وہ بچہ اور وہ قوم دوسرے لوگوں سے بر تر و بالا نہیں ہوںگے۔

جملہ معترضہ کے طور پر اضافہ کرنا چاہوں گا کہ مسلمانوں کی اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جن ماﺅں نے روز اول سے ہی بچے کی تربیت کی تو ان کی کوکھ سے جنم لینے والے بچوں نے دنیا میں انتہائی اعلیٰ کارہائے نمایاں سر انجام دیئے مثلاً بعض مائیں بچوں کو وضو کر کے اور نفل پڑھ کے دودھ پلاتی تھیں تو ان کے بچے بڑے ہو کر آئمہ اور مجتہدین بنے ۔جومائیں بچوں کو جرات و بہادری کی لوریاں دیتی اور بچپن سے ہی انہیں سخت جان بناتی انہی کے بچے فاتحین اورسپہ سالار بنے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں پورا فوکس اس بات پر ہوتا ہے کہ صرف اور صرف بچے ہی پیدا کرنے ہیں اور زیادہ سے زیادہ پیدا کرتے ہیں اور خاندان بڑھانا ہے ان کی تربیت ان کا مقصدِ حیات اور اکثر ماں کی صحت کو بھی نظر انداز کر جاتے ہیں یہاں تک کہ بعض مائیں تو بچے جنتے جنتے خود اس دنیا سے رخصت ہوجاتی ہیں۔

اسرائیلی معاشرے میں حاملہ عورت کو انتہائی اہم مقام اور ایک قسم کا پروٹوکول دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی قوم کے لئے ایک قابل انسان کو جنم دینے والی ہوتی ہے ایسا انسان جو اس دنیا میں آ کر اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کا لوہا منوائے گا۔ آنے والے بچے کےلئے نہ صرف ماں باپ بلکہ پورے یہودی خاندان کی سوچ بالکل واضح اور کلیئر ہوتی ہے اور پورے خاندان کا ایک ہی مطمع نظر اور ٹارگٹ ہوتا ہے کہ بس ”ذہین، قابل اور جینیئس بچہ“ پیدا کرنا ہے۔

جب بچہ اس دنیامیں آنکھ کھول لیتا ہے اور ان کی توقع کے عین مطابق جس طرح کی صلاحیتیں وہ چاہتے ہیں اس بچے میں موجود ہوتی ہیں تو پھر بچے کی ان صلاحیتوں پر محنت شروع ہو جاتی ہے۔ بچوں کو خوراک میں دیگر چیزوں کے علاوہ فروٹ، دودھ، مچھلی ، بادام اورمچھلی کا تیل خصوصیت کے ساتھ دیئے جاتے ہیں۔ بچوں کی خوراک ہمیشہ والدین کی نگرانی میں رہتی ہے انکو کوئی اوٹ پٹانگ چیزیں کھانے کو نہیں دی جاتیں۔

بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے بھی یہودیوں کا طرزِ عمل انتہائی حیرت انگیز ہے ہمارے ہاں تو بچوں کو انتہائی نازک بنا کے رکھا جاتا ہے اور کئی سال تک بچوں کو کارٹون فلموں اور ویڈیو اور کمپیوٹر گیموں سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ یہودیوں کے بچے کم از کم دو سال کی عمر میں کنڈر گارٹن میں داخل ہوجاتے ہیں اور اس سے پہلے ان کی گھر پر تربیت ہوتی ہے۔

ہمارے سکول کے بچوں کو عجیب و غریب قسم کے مشاغل میں الجھا کر رکھا جاتا ہے یہاں تک کہ بعض کام ایسے ہوتے ہیں کہ نہ ٹیچر کو پتہ ہوتا ہے اور نہ والدین کو کہ یہ کام بچوں سے کیوں کروائے جاتے ہیں۔ جبکہ اسرائیلی بچوں کی سب سے زیادہ جسمانی فٹنس اور ایکسرسائز پر توجہ دی جاتی ہے اس کے بعد دوڑ کے مقابلے کثرت سے کروائے جاتے ہیں تاکہ بچہ جسمانی لحاظ سے تیز اور پھرتیلا ہو جائے اور اسکا دماغ بھی تیز ہوجائے، پھر اس سے بھی بڑھ کر بچے کو تیر اندازی اور نشانہ بازی (شوٹنگ) سکھائی جاتی ہے۔

جسمانی ایکسرسائز، دوڑ، تیر اندازی اور نشانہ بازی کی مسلسل مشق اور پریکٹس کروائی جاتی رہتی ہے۔ تیر اندازی اور شوٹنگ کے حوالے سے یہودیوں کا کہنا ہے کہ اس کی مشق کرنے سے بچے کی دماغی اور جسمانی صحت کو توانائی ملتی ہے اور ان کی سوچ کسی بھی مسئلے پر فوکس کرنے کے لئے تیار رہتی ہے اس طرح انہیں اپنی زندگی میں مشکل فیصلے کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔

کتنے افسوس کی بات ہے کہ تاریخ اسلام کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ تیر اندازی، نشانہ بازی، دوڑ اور گھڑ سواری مسلمانوں کاشعار تھا اور صرف یہی ہمارے کھیل تھے ہمیں یہ چیزیں سیکھنے اور کرنے کا حکم دیا گیا تھا مگر ہم نے انہیں ترک کر دیا ہے اور سیکھنے والے انہی چیزوں سے سیکھ رہے ہیں۔

بہرحال یہودی بچوں کو گریڈ 1 سے 6 تک جب بچے کی عمر چھ سے گیارہ سال کے درمیان ہوتی ہے بزنس میتھ میکٹس اور سائنس کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں تین زبانیں عبرانی، عربی اور انگلش سکھائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر اسٹیفن کا کہنا ہے کہ جب میں نے اسرائیلی بچوں کا موازنہ کیلی فورنیا کے بچوں سے کیا تو ذہنی استعداد کے لحاظ سے کیلی فورنیا کے امریکی بچے اسرائیلی بچوں سے چھ سال پیچھےتھے۔

کتنی حیرت کی بات ہے کہ ہمارے بچے ویڈیو گیموں، کارٹونوں اور کمپیوٹر گیموں میں الجھے رہتے ہیں اور ان کے زیادہ تر سافٹ ویئرز یہودیوں ہی کے تیار کردہ ہوتے ہیں لیکن خود ان کے بچے ان چیزوں سے دور رہتے ہیں اور وہ اپنے بچوں کو صحیح معنوں میں عملی زندگی میں حصہ لینے والا ایک قابل انسان بنا دیتے ہیں۔

اسرائیل میں دو سال سے لے کر سترہ سال تک کے ہر بچے کے لئے تعلیم لازمی اور فری ہے۔ تعلیم کے شعبے پر حکومت کا انتہائی سخت کنٹرول ہے، 90 فیصد تعلیمی ادارے گورنمنٹ خود چلا رہی ہے جبکہ 10 فیصد پرائیویٹ بھی ہیں لیکن انکو بھی حکومتی پالیسیوں کو فالو کرنا ہوتا ہے۔

اسرائیلی تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ تعلیم کے ساتھ بچوں کو ایسا ماحول دیا جائے جس میں ان کا سیاسی، مذہبی اور کلچرل بیک گراﺅنڈ بھی انہیں مکمل سپورٹ کر رہا ہو تاکہ وہ آگے چل کر دنیا کو اپنی انگلیوں پر نچا سکیں۔ جبکہ ہمارے ہاں نظام تعلیم کا ایسا ملغوبہ تیار کیا گیا ہے جسے آج تک کوئی نہیں سمجھ سکا۔

معیار تعلیم کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ میٹرک کا سرٹیفکیٹ اس طالب علم کو دیا جاتا ہے جو اپنے انتہائی مشکل کورس کے علاوہ کسی ایک پراجیکٹ یا سبجیکٹ پر ریسرچ کرتا ہے ہمارے ہاں یہ کام عموماً ماسٹرز یا پی ایچ ڈی کی سطح پر ہوتا ہے جو اسرائیلی بچے میٹرک سے شروع کر دیتے ہیں۔

سیکنڈری ایجوکیشن کے بعد اسرائیل کا تقریباً ہر طالب علم اسرائیلی ڈیفنس فورسز میں شامل ہو جاتا ہے جبکہ بیچلر ڈگری کی سطح پر طلباء فوج میں کام کرنے کےلئے 2 یا 3 سال کا ایگریمنٹ سائن کرتے ہیں جن کے عوض ان کی فیس بھی اسرائیلی فوج ادا کرتی ہے یعنی اس طرح اسرائیل کا ہر نوجوان مرد اور عورت تعلیم سے فارغ ہونے تک مکمل تربیت یافتہ سپاہی بھی ہوتا ہے۔

بزنس فیکلٹی میں ماسٹر کرنے والے طلباءکے لئے لازمی ہوتا ہے کہ وہ عملی طور پر بزنس کے منافع بخش پراجیکٹ تیار کریں، طلبا کا ایک گروپ جس میں عموماً 10 طالب علم شامل ہوتے ہیں جب تک 1ملین ڈالر منافع نہیں کماتا اسے ماسٹر کی ڈگری نہیں مل سکتی۔

ہمارے ہاں تو معیارات ہی الٹ ہیں اول تو ہائی اسکول بلکہ کالج تک بچے کو بلا مقصد پڑھاتے رہتے ہیں نہ پڑھانے والوں کو اور نہ والدین کو پتہ ہوتا ہے کہ ہماری اس تعلیم کا مقصد کیا ہے۔ اگر کوئی مقصد متعین کرنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو 90 بلکہ 95 فیصد لوگوں کا مطمع نظر کوئی اچھی سی جاب، نوکری یا عہدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔

اپنا بزنس اسٹیبلش کرنا لوگوں کی ترجیح نہیں ہوتی بلکہ ہماری تعلیم کا ہدف کوئی نہ کوئی نوکری ہی ہوتی ہے جبکہ اسلام میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ روزی (معشیت) کا 70 فیصد حصہ کاروبار میں ہے اور باقی 30 فیصد باقی تمام شعبوں میں ہے۔ ہم لوگ بزنس کی طرف توجہ نہیں دیتے اور عام طور پر پڑھے لکھے لوگ کاروبار کو معیوب ہی سمجھتے ہیں عموماً ہمارے کاروبار بھی ان پڑھ یا نیم خواندہ لوگوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ جبکہ پڑھے لکھے لوگ نوکریوں کے لئے دھکے کھا کر خودکشیوں پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اسرائلیوں کا فوکس ہی بزنس پر ہوتا ہے وہ اس مائنڈ سیٹ کے ساتھ کام کرتے ہیں کہ انہیں نوکری حاصل نہیں کرنی ہوتی بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں نوکریاں پیدا کرنی ہوتی ہیں اور پھر ہم جیسے نوکریوں کے شیدائی ان کے ہاں ملازمت کرتے ہیں اور بعض اوقات نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی شرائط، خواہشات، مطالبات اور ایجنڈے کے مطابق ہمیں کام کرنا پڑتا ہے۔

عالمی شماریاتی ادارے ویبو میٹرک کی رینکنگ کے مطابق اسرائیل کی چھ یونیورسٹیاں ایشیاء کی 100 یونیورسٹیوں میں سب سے ٹاپ پر ہیں۔ جبکہ اسرائیل کی چار یونیورسٹیاں پوری دنیا کی 150 یونیورسٹیوں میں سے ٹاپ پر ہیں جبکہ ہائر_ایجوکیشن کی 1,200 یونیورسٹیوں میں سے اسرائیل کی تین یونیورسٹیاں ٹاپ پر ہیں اس کے علاوہ سائنس، انجینئرنگ، میتھمیٹکس، کمپیوٹر سائنس، کیمسٹری اور لائف سائنس میں اسرائیلی یونیورسٹیاں پوری دنیا میں ٹاپ پر ہیں جبکہ ہماری یونیورسٹیاں اس طرح کی کسی لسٹ میں سرے سے شامل ہی نہیں ہیں۔

ایک اور حیرت انگیز بات جو اسرائیل کے حوالے سے سامنے آتی ہے جس کا ذکر ڈاکٹر اسٹیفن بھی اپنے مقالے میں کرتے ہیں، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سگریٹ کے جتنے بھی مشہور اور زیادہ سیل ہونے والے برانڈز ہیں تقریباً تمام یہودیوں کے ہیں اور وہ ان کے ذریعے پوری دنیا سے اربوں ڈالر کما رہے ہیں لیکن ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ اسرائیل کے اندر سگریٹ نوشی ممنوع ہے وہاں صرف کوئی غیر ملکی مہمان ہی سگریٹ پی سکتا ہے لیکن وہ بھی ایک دائرے کے اندر رہتے ہوئے۔

اگر آپ کسی کے ہاں مہمان ہیں اور آپ سگریٹ پینا چاہتے ہیں تو یہ ناممکن ہے کہ آپ ان کے سامنے یا گھر میں سگریٹ پی سکیں بلکہ وہ آپ کو شائستگی سے کہہ دیں گے آپ باہر جا کر سگریٹ پی آئیں۔ سگریٹ نوشی کے بارے میں یونیورسٹی آف اسرائیل کے سائنسدانوں کا کہنا ہے نیکوٹین ہمارے دماغ کے خلیوں کو تباہ کرتی ہے اوریہ ہمارے جینز اور ڈی این اے کو بری طرح متاثر کرتی ہے جس کے نتیجے میں آنے والی نسل میں دماغی کمزوری یاذہنی خلل پیدا ہو سکتا ہے۔

یہودیوں کے بارے میں حقائق سنتے جائیے اور پریشان ہوتے جائیے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ یہودی بچے کے حمل سے لے کر پیدائش تک اور پھر تمام عمر ایسے افعال سر انجام دیتے ہیں جن سے ان کے دماغ کی نشوونما ہوتی رہے، ایسی خوراک کھاتے ہیں جس سے دماغ کو تقویت ملتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ جب دعا مانگتے ہیں تو وہ ہمیشہ اپنے سر کو ہلاتے رہتے ہیں ان کا یقین ہے کہ اس طرح دماغ کو آکسیجن مہیا ہوتی ہے۔

نیویارک میں یہودیوں کا ایک مرکز ہے جسے (Jewish comunity center) کہا جاتا ہے۔ یہاں یہودیوں کی فلاح و بہبود کے لئے بے شمار کام کئے جاتے ہیں۔ سوشل، کلچر، ایجوکیشنل، ری کری ایشن اور فٹنس کے متعدد پروگرام یہاں چلتے رہتے ہیں لیکن جو سب سے اہم کام یہاں ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی بھی یہودی جس کے پاس بزنس کے لئے کوئی قابل عمل اور منافع بخش منصوبہ ہے مگر پیسہ نہیں ہے تو یہ سنٹر اس کو بغیر سود کے قرضہ فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنا بزنس اسٹیبلش کرسکے۔ اسی سنٹر کی سپانسر شپ سے بڑی بڑی کمپنیاں وجود میں آچکی ہیں۔۔۔ مثلاً Star Bucks, Dell Computer, Coca Cola, DKNY, Oracle, Levis, Duck in Donut, and many Holly Wood films.۔

ان کے علاوہ بھی سینکڑوں ایسے منصوبے ہیں جو اسی ادارے کے تعاون سے کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔لیکن یہی یہودی جب دوسروں کو قرضہ دیتے ہیں تو ان کے سود در سود چنگل سے نکلنا مشکل ہوجاتا ہے۔

کتنی افسوسناک بات ہے کہ مسلمان کو مسلمان کا بھائی قرار دیا گیا ہے اور پوری امت کو ایک جسم کی مانند کہا گیا ہے مگر ہم نے سب کچھ بھلا دیااور غیروں نے انہی سنہری اصولوں کو پلے باندھ کر کامیابیاں سمیٹ لی ہیں یہودی ایک دوسرے کا بہت زیادہ ساتھ دیتے ہیں۔ انکرج اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں خاص طور پر کاروبار کےلئے بھرپور تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔

ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ لوگوں میں عموماً یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ میڈیکل جیسے شعبے میں نوکری اور جاب ہی کرنی پڑتی ہے لیکن یہودی اس فیلڈ میں بھی اپنا الگ بزنس قائم کرتے ہیں اور نوکریوں سے پرہیز کرتے ہیں۔

ڈاکٹراسٹیفن کا کہنا ہے کہ میں سوچتا تھا کہ نیویارک، کیلی فورنیا اور دیگر بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں اور یہودیوں کی کمی کیوں ہے تو مجھے پتہ چلا کہ یہودی میڈیکل میں بھی بزنس کو ترجیح دیتے ہیں اور نوکری کی بجائے پرائیویٹ پریکٹس کرتے ہیں یا اپنا کوئی میڈیکل کا ادارہ کھول لیتے ہیں۔

اس سلسلے میں بھی ”جیویش گریجوایٹ فرام فیکلٹی آف میڈیسن نیویارک“ یہودیوں کا ایک ادارہ ہے جو پرائیویٹ پریکٹس اور بزنس کے لئے یہودی ڈاکٹر وں کو Free Intrest Loan مہیا کرتا ہے تاکہ ڈاکٹرز اپنا کاروبار کر سکیں۔ اسی لئے یہودی ڈاکٹرز نوکریوں میں بہت کم اور پرائیویٹ پریکٹس میں زیادہ نظر آتے ہیں۔

جو قوم بچے کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ریاضی اور حساب کتاب سکھانا شروع کر دے اور پھر ہر قدم پر اسے ایک اعلیٰ تعلیم مہیا کرے اور اس کی ذہنی صلاحیتوں کی بھرپور نشوونما اس کے حمل سے لے کر ساری زندگی کی جائے تو بتائیےکہ وہ بچہ بڑا ہوکر کیاکچھ نہیں کرگزرے گا؟ جتنا اسرائیل کا رقبہ ہے یہاں کوئی بھی بڑا انڈسٹریل یا بزنس سیٹ اپ نہیں بن سکتا مگر اسرائیلیوں نے پھر بھی پوری دنیا کے کاروبار پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔

در حقیقت یہودیوں نے اس چھوٹے سے ملک کو اپنا ایک ٹریننگ سینٹر، تربیت گاہ اور ریکروٹنگ کی جگہ بنایا ہوا ہے جہاں قابل انسان تیار کئے جاتے ہیں جو اسرائیل سے اٹھ کر امریکہ، یورپ اور دیگر ملکوں میں میں جا کرپوری دنیا کی معیشت، سیاست اور حکومت کو سنبھال لیتے ہیں۔ اگر دل لگتی بات کہیں تو واقعی ایسی قوم کا حق ہے کہ وہ دنیا کی قیادت اور سیاست سنبھال لے۔

اگر یہاں اسرائیل معیشت اور تجارت کے اعداد و شمار پیش کئے جائیں تو مزید کئی صفحات درکار ہوں گے۔ صرف اتنا ہی کافی ہے کہ اسرائیل ہر سال بلینز آف بلینزڈالر منافع کما رہا ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا کوئی اور شخص یا کوئی اور قوم بھی اس قدر قابل ذہین اور کامیاب بن سکتی ہے اس کا جو اب ہے، جی ہاں بالکل بن سکتی ہے مگر شرط یہی ہے کہ اپنی بنیادوں کو ٹھیک کریں ان کو مضبوط کریں اپنی آنے والی نسل کے ایک ایک فرد کو قیمتی بنائیں، بچے پیدا کریں نہ کہ پیدا کرکے پھینکتے چلے جائیں۔

اقبالؒ نے تو صحیح فرمایا تھا کہ۔۔ ” ہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ “مگر افسوس صد افسوس ہم نے تو ملت کا تصور بھی بھلا دیا اور ہرفرد جو ملت کے مقدر کا ستارہ تھا ہم نے ان ستاروں کو بھکاری اور مقروض بنا دیا ہے۔ ہماری آبادی تو بہت زیادہ ہے مگر قابلیت کا جو ہر کم ہو چکا ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں قحط الرجال کا دور ہے اور کئی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہماری مائیں قابل اور دنیا کی قیادت کرنے والے بچے پیدا کرنے سے بانجھ ہو گئی ہیں۔

یہ کسی حد تک تو سچ ہے مگر در حقیقت بانجھ ہوئی نہیں انہیں بانجھ کر دیا گیا ہے ہم نے کبھی سوچا کہ ہم ماﺅں کو کیا تربیت دے رہے ہیں ان کو کیا سکھا رہے حالانکہ یہ تو وہی مائیں ہیں جن کے بطن سے ابن سینا، فارابی، ابن الہیشم، رومی اور جامی جیسے لوگ پیدا ہوئے جن کے بطن سے بڑے بڑے سپہ سالار، فاتحین، آئمہ اور مجتہدین پیدا ہوئے۔
مگر جب ہم نے علم سے منہ موڑ لیا اور سنت نبویہ سے ناطہ توڑ لیا تو ترقی کامیابی، اور سربلندی بھی ہم سے روٹھ گئی اور پھر در در کی ٹھوکریں، ناکامی ذلت اور حقارت ہمارا مقدر بن گئی۔

لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئیے بلکہ کوشش کرنی چاہیئے کہ ہم مسلمان کسی کے غلام نہ بنیں کیونکہ اللہ نے ہمیں ایسے اصولوں کیساتھ بھیجا ہے کہ اگر ہم بھی ان اصولوں پر عمل کریں تو یقیناً ایسے نتائج برآمد ہوں گے جسکا تصور یہود و اسرائیل نہیں کر سکتے۔
میری تجویز یہ ہے کہ ہر بیرون ملک مقیم پاکستانی کو ایک مستحق بچے کی میٹرک تک تعلیم کے تمام اخراجات، جس میں بورڈنگ اور قیام شامل ہو ، کی ذمہ داری لینی چاہئے۔ میرا اندازہ ہے کہ یہ ٹارگٹ ہر ماہ $ 100 - $ 200 کا عطیہ دے کر حاصل کیا جاسکتا ہے۔
اس طرح سے 10 سالوں میں ہم غریب خاندانوں کی آمدنی کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے قابل ہوجائیں گے اور ساتھ ہی ساتھ مزید توانا اور ویلیو ایڈڈ ورک فورس کو بھی پاکستان کی ترقی میں حصہ لے سکے گی۔ یہ ایک کم از کم ہدف ہے جو کہ ہر بیرون ملک باروزگار پاکستانی کو اپنا فرض سمجھ کر کرنا چاہئیے۔

میں اس مقصد کے لئے مالی مدد کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتا ہوں اگر مجھے یقین ہو کہ میرے پیسے مذکورہ کاز پر خرچ ہو رہے ہیں اور انتظامی کمیٹی اس پروجیکٹ پر عمل کرنے کے قابل ، مخلص ہو اور دیانتداری سے انتظام سنبھال سکتی ہو۔ اگر عمران خان چند دیانت دار ارکان پر مشتمل ایک ٹیم کی تشکیل دے دیں یا نمل یونیورسٹی کے دائرہ کر میں اس پروجیکٹ تو ڈال دیا جاۓ تو کیا ہی بات ہو ۔

اس پروجیکٹ کے کئی فوائد ہیں ان میں سے چند ایک نیچے بیان کئے جا رہے ہیں:ہ

١- قابل اور توانا افرادی قوت میں اضافہ
٢- والدین کے لئے ریلیف
٣- چائلڈ لیبر میں کمی
٤- اچھے کردار کے نوجوانوں میں اضافہ
٥ - جرائم کی شرع میں کمی
٧- پی ٹی آئ کے لئے ہر سال مخلص اور باکردار نئی ووٹر کی کھیپ تیار
٨- مدرسوں میں طلبہ کے دباؤ میں کمی
٩- مولانا ڈیزل کی غلامانہ سوچ رکھنے والے انتہا پسند طالبان میں کمی
١٠- بغیر قیمہ نان کے صرف مخلص امیدوار کو ووٹ دینے والوں کی تعداد میں اضافہ
١١- ہاری ، کسان کا زمیداروں کے ہاتھوں بلیک میلنگ میں کمی
١٢- اساتذہ کے لیے روزگار میں اضافہ
١٣- بورڈنگ اور قیام کی سہولت کا انتظام کرنے کے لئے دیگر ملازمین کے لئے روزگار کے موا قعے
١٤- اس پروجیکٹ میں حصہ ڈالنے والے بیرون ملک پاکستانیوں کا اپنے ملک کے ساتھ تعلق میں اضافہ
١٥- معاون پاکستانیوں کو دلی تسکین کے ساتھ انشاء اللہ آخرت میں جزاء


 

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)
یہودیوں کی ترقی کا راز جاننا ہو تو بوبی فشر کی ویڈیوز دیکھ لو
نوٹ : بوبی فشر ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوا ، اور شطرنج کا عالمی چیمپئن تھا
 

MADdoo

Senator (1k+ posts)
But mother in Pakistan and muslim world busy in following things
- Shopping
- Netflix
- Movies
- Hum TV
- Saas Baho and family politics
- Feeling all time depressed
- Highly ungrateful to Allah
- Gossips with mama, cousin and friends

P.S Above list is not only from my home :D
 

knowledge88

Minister (2k+ posts)
یہودیوں کی ترقی کا راز جاننا ہو تو بوبی فشر کی ویڈیوز دیکھ لو
نوٹ : بوبی فشر ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوا ، اور شطرنج کا عالمی چیمپئن تھا
No secret is mentioned in the above video.
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں