یہ تو کمال ہو گیا

The Sane

Minister (2k+ posts)

Chicken price sees record hike this year with Rs365 per kg

LAHORE: The price of chicken meat reached Rs365 per kilogramme on Sunday, setting a new record for the ongoing year.

The white meat has registered a Rs34 per kg increase in a week to the disadvantage of those who cannot afford red meat – mutton and beef.

The price of eggs, after relenting a bit in the last couple of weeks at the end of the winter season, has again begun its upward trend, as a dozen is selling for over Rs165 against the official rate of Rs158. They were selling for Rs150 a dozen a week ago.

Poultry farmers blame the exorbitant hike in the rate of poultry feed for the increase in prices of chicken meat and eggs.


They say that the price of maize, the main component of the poultry feed, has gone up over twofold this year, as it is selling for Rs1,800 per 40kg against Rs850 last year.

The government had for the first time allowed poultry feed mills to buy wheat from the open market in the last season to replace maize in the feed, but its official rate too went up from Rs1,400 per 40kg last year to Rs1,800 this year, while its rate in the open market is Rs2,200 per 40kg, they claim.

The farmers also claim that the cost of energy as well as poultry medicines had registered a 100pc increase during the year and all these factors added to their production cost.

Meanwhile, meat sellers bemoan that the rising chicken prices have hit their business. Yasin, a shopkeeper in Canal Park, Gulberg, says his daily sale has plummeted by around 30pc as his customers have either stopped purchasing the meat altogether or reduced their consumption.

 
Advertisement
Last edited by a moderator:

hello

Minister (2k+ posts)
نونی لیگ اور بیوروکریسی
فردوس عاشق اعوان نے جو لب لہجہ اختیار کیا وہ قابل قبول نہیں لیکن آپ کو یہ بات ماننی پڑے گی اس ملک میں بیوروکریسی جو کھیل اس وقت کھیل رہی ہے وہ بھی قابل قبول نہیں حکومت بہت سارے فیصلے عوام کی فلاح بہبود کے لیے کرتی ہے لیکن اس کے اثرات نیچے عوام تک نہیں پہنچتےاس کی بڑی رکاوٹ بیوروکریسی کے پراسرار مقاصد ہیں جو اپنی لالچ ذاتی پسند ناپسند کے چکر میں ہے یہ افسرز بڑی مکاری سے اپنے چھپے ہوئے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے کرتے ہیں جنہوں نے غلامی کی قیمت پر ان کی بیوروکریسی کی زندگی شروع کروائی ہوتی ہے

کہا جاتا ہے نونی لیگ کے دور میں کہ اگر کسی نے ڈی سی او لگنا ہوتا تو اس کا انٹرویو سلمان شہباز یا حمزہ شہباز لیا کرتے تھے اور ان کے پاس انہیں ریجیکٹ کرنے کا مکمل اختیار ہوتا تھا حمزہ شہباز کے متعلق یہ بات بیوروکریٹ بتاتے ہیں کہ جہاں انٹرویو ہوتا تھا وہاں ایک بڑی کرسی رکھواتا اور ایک چھوٹی سی کرسی رکھواتا بڑی کرسی پر خود بیٹھ جاتا اور چھوٹی کرسی وہاں خالی پڑی ہوتی اب جس کو بھرتی کرنا ہوتا تھا اس کا وہاں انٹر ویو ہوتا سب سے پہلے اس کا امتحان یہ ہوتا اگر وہ آتے ہی چھوٹی کرسی پرحمزہ کے سامنے بیٹھ جاتا تو اسے فوری ریجیکٹ کر دیا جاتا کہ اس کی جرات کے میرے سامنے چھوٹی کرسی پر بیٹھ گیا ہاں اس کو حمزہ کی نظروں سلیکٹ ہونے کے لیے ضروری تھا کہ وہ ہاتھ باندھ حمزہ کے سامنے انتہائی غلامانہ انداز میں مودبانہ کھڑا رہے پھر اس کے سلیکٹ ہونے کے چانس ہوتے تھےاور جو سوال پوچھا جائے اس میں اس بات کی یقین دہانی کروائے کہ مائی باپ آپ جو کہیں گیں میں وہی کرنے کا پابند ہوں گا

ان میں ایک خوبی تھی یہ اپنے علاوہ کہ ہمارے مفادات کو نقصان نا پہنچے کی شرط پر یہ کھلی چھٹی دیتے تھے جہاں سے چاہو جتنا مرضی لوٹو لیکن ہمارے مفادات کو نقصان نہ پہچانا یہ تمھاری ریڈ لائن ہے جو تم نے کراس نہیں کرنی اور وہ بیوروکریٹ خوب لٹ مار کرتا ایسے کھانچے مارتا بس کچھ نہ پوچھیے میں ایک ایسے ڈی سی او کو جانتا ہوں اس نے حمزہ شہباز کے دور میں اربوں کمائے اور آج تک انجوائے کر رہا ہے وہ اور اس کی فیملی ایک عام فیملی تھی بس یہ کہیں اپنی غلامی کا حمزہ شہباز سلمان شہباز کو یقین دہانی کروانے میں کامیاب ہو گیا بس پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ کڑورں میں کھلنے لگا آج وہ اربوں کا مالک ہے اب تو اس کی یہ حالت کہ وہ آدھا لاہور خریدنے کے چکر میں ہے لوہے ہاؤسنگ سوسائٹی کون سا کاروبار نہیں جسمیں اس کا ہاتھ نہیں ۔۔ جب کے وہ ان کا ایک پیادہ تھا اور ہے بھی تو یہ لوگ کتنے طاقتور ہوں گیں
 

peaceandjustice

Chief Minister (5k+ posts)
اب آپ کو سمجھ آۓ گی کہ پنجاب کی حرام خور بیوروکریسی کام کیوں نہیں کرتی
مرغی انڈوں/ آٹا/چینی کے کاروبار میں نونی لید مافیاز نے اپنے ایجنٹس بیٹھائے ہوئے ہیں اور اس کے زریعے پہلے بھی اپنی حکومت میں زخیرہ اندوزی کرا کر مہنگائی کے زریعے عوام کو لوٹتے تھے اور آج بھی ان کے ایجنٹس انھی کاروائیوں میں ملوث ہیں اور بیوروکریسی اس مہنگائی مافیاز کو چھپ چھپ کر سپورٹ کر رہا ھے لیکن بہت جلد اس کرپٹ بیوروکریسی کا خاتمہ ہونے والا ھے کیونکہ حکومت ان مافیاز کی جڑوں تک پہنچ گئی ھے
 

Syaed

MPA (400+ posts)
اب آپ کو سمجھ آۓ گی کہ پنجاب کی حرام خور بیوروکریسی کام کیوں نہیں کرتی
یہی تو رونا ہے کہ تین سال سے ہم ہر ایک کی سازشوں کا زکر کرتے نظر آتے ہیں مگر تدارک کرنے کےلیے ہم نے بزدار جیسا نااہل اور نکما کھلاڑی رکھا ہوا ہے جس کی بات کوئی اسسٹنٹ کمشنر لیول کا بندہ ہی سنتا ہے۔
 

peaceandjustice

Chief Minister (5k+ posts)
ڈان میڈیا گروپ،میڈیا مافیاز پوری طرح سے مہنگائی کی خبروں کے زریعے حکومت کو بدنام کرنے کی شازیشوں میں ملوث ہیں
 

Syaed

MPA (400+ posts)
مرغی انڈوں/ آٹا/چینی کے کاروبار میں نونی لید مافیاز نے اپنے ایجنٹس بیٹھائے ہوئے ہیں اور اس کے زریعے پہلے بھی اپنی حکومت میں زخیرہ اندوزی کرا کر مہنگائی کے زریعے عوام کو لوٹتے تھے اور آج بھی ان کے ایجنٹس انھی کاروائیوں میں ملوث ہیں اور بیوروکریسی اس مہنگائی مافیاز کو چھپ چھپ کر سپورٹ کر رہا ھے لیکن بہت جلد اس کرپٹ بیوروکریسی کا خاتمہ ہونے والا ھے کیونکہ حکومت ان مافیاز کی جڑوں تک پہنچ گئی ھے
کیا ہی بہتر ہوتااگر ہماری حکومت بیوروکریٹس پہ سختی کرتی کہ جس ڈی سی کی عملداری میں کوئی چیز ابنارمل طریقے سے مہنگی یا غائب ہوئی تو اس ڈی سی کے خلاف ایکشن لیا جائیگا؟ اور کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ اب تک ہمارے سفید ہاتھی عثمان بزدار نے سوائے ملتان اور لاہور میں پراپرٹیز بنانے اور تونسہ میں زمین ہڑپنے کے اور کونسا کام کیا ہے؟ہر پالیسی ردعمل پہ بنتی ہے یعنی سوشل میڈیا پہ شور مچ گیا تو کچھ نوٹس لے لیا جاتا ہے ورنہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔یہی چیز تحریک انصاف کو غیر مقبول بنانے میں سب سے زیادہ کار فرما ہے۔
 

The Sane

Minister (2k+ posts)
یہی تو رونا ہے کہ تین سال سے ہم ہر ایک کی سازشوں کا زکر کرتے نظر آتے ہیں مگر تدارک کرنے کےلیے ہم نے بزدار جیسا نااہل اور نکما کھلاڑی رکھا ہوا ہے جس کی بات کوئی اسسٹنٹ کمشنر لیول کا بندہ ہی سنتا ہے۔
جو ڈکیت ۷۰ سال میں بیوروکریسی اور ججوں کی شکل میں پیدا ہو چکے ہیں، ان حالات میں بزدار کا باپ بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ اگر آپ کسی حرام خور بیوروکریٹ کو نکالیں گے وہ عدالت سے سٹے لے آئے گا۔ کیا آپ کو پتہ یہ کہ حکومت نے جب قاتلِ ماڈل ٹاؤن مشتاق سکھیرا کو وفاقی محتسب کے عہدے سے فارغ کیا تو اطہر من اللہ نے وہ فیصلہ ہی اڑا دیا
 

Islamabadiya

Minister (2k+ posts)
مرغی انڈوں/ آٹا/چینی کے کاروبار میں نونی لید مافیاز نے اپنے ایجنٹس بیٹھائے ہوئے ہیں اور اس کے زریعے پہلے بھی اپنی حکومت میں زخیرہ اندوزی کرا کر مہنگائی کے زریعے عوام کو لوٹتے تھے اور آج بھی ان کے ایجنٹس انھی کاروائیوں میں ملوث ہیں اور بیوروکریسی اس مہنگائی مافیاز کو چھپ چھپ کر سپورٹ کر رہا ھے لیکن بہت جلد اس کرپٹ بیوروکریسی کا خاتمہ ہونے والا ھے کیونکہ حکومت ان مافیاز کی جڑوں تک پہنچ گئی ھے
Don’t forget desi anda and katta scheme will further bring down prices soon
 

Syaed

MPA (400+ posts)
جو ڈکیت ۷۰ سال میں بیوروکریسی اور ججوں کی شکل میں پیدا ہو چکے ہیں، ان حالات میں بزدار کا باپ بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ اگر آپ کسی حرام خور بیوروکریٹ کو نکالیں گے وہ عدالت سے سٹے لے آئے گا۔ کیا آپ کو پتہ یہ کہ حکومت نے جب قاتلِ ماڈل ٹاؤن مشتاق سکھیرا کو وفاقی محتسب کے عہدے سے فارغ کیا تو اطہر من اللہ نے وہ فیصلہ ہی اڑا دیا
کم از کم کچھ تو کریں کہ جس سے عوام کو ریلیف ملے۔اس طرح تو ن لیگ اور پی پی پہ الزامات لگاتے لگاتے پانچ سال پورے ہوجائیں گے
 

The Sane

Minister (2k+ posts)
کم از کم کچھ تو کریں کہ جس سے عوام کو ریلیف ملے۔اس طرح تو ن لیگ اور پی پی پہ الزامات لگاتے لگاتے پانچ سال پورے ہوجائیں گے
تو پھر جو فردوس اعوان نے کیا وہی طریقہ چلنے دیں۔ قیمتوں کو کنڑول کرنا صرف اور صرف علاقے کے اسسٹنٹ کمشنر کا کام ہے کیونکہ پرائس کنڑول کمیٹیاں اسی کے نیچے آتی ہیں۔ مگر یہ سالے حرام خور نونییوں کے کاروبار کو دوام بخشنے کے چکر میں عوام کا ملیدہ بنوا رہے ہیں
 

NCP123

Senator (1k+ posts)
نونی لیگ اور بیوروکریسی
فردوس عاشق اعوان نے جو لب لہجہ اختیار کیا وہ قابل قبول نہیں لیکن آپ کو یہ بات ماننی پڑے گی اس ملک میں بیوروکریسی جو کھیل اس وقت کھیل رہی ہے وہ بھی قابل قبول نہیں حکومت بہت سارے فیصلے عوام کی فلاح بہبود کے لیے کرتی ہے لیکن اس کے اثرات نیچے عوام تک نہیں پہنچتےاس کی بڑی رکاوٹ بیوروکریسی کے پراسرار مقاصد ہیں جو اپنی لالچ ذاتی پسند ناپسند کے چکر میں ہے یہ افسرز بڑی مکاری سے اپنے چھپے ہوئے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے کرتے ہیں جنہوں نے غلامی کی قیمت پر ان کی بیوروکریسی کی زندگی شروع کروائی ہوتی ہے

کہا جاتا ہے نونی لیگ کے دور میں کہ اگر کسی نے ڈی سی او لگنا ہوتا تو اس کا انٹرویو سلمان شہباز یا حمزہ شہباز لیا کرتے تھے اور ان کے پاس انہیں ریجیکٹ کرنے کا مکمل اختیار ہوتا تھا حمزہ شہباز کے متعلق یہ بات بیوروکریٹ بتاتے ہیں کہ جہاں انٹرویو ہوتا تھا وہاں ایک بڑی کرسی رکھواتا اور ایک چھوٹی سی کرسی رکھواتا بڑی کرسی پر خود بیٹھ جاتا اور چھوٹی کرسی وہاں خالی پڑی ہوتی اب جس کو بھرتی کرنا ہوتا تھا اس کا وہاں انٹر ویو ہوتا سب سے پہلے اس کا امتحان یہ ہوتا اگر وہ آتے ہی چھوٹی کرسی پرحمزہ کے سامنے بیٹھ جاتا تو اسے فوری ریجیکٹ کر دیا جاتا کہ اس کی جرات کے میرے سامنے چھوٹی کرسی پر بیٹھ گیا ہاں اس کو حمزہ کی نظروں سلیکٹ ہونے کے لیے ضروری تھا کہ وہ ہاتھ باندھ حمزہ کے سامنے انتہائی غلامانہ انداز میں مودبانہ کھڑا رہے پھر اس کے سلیکٹ ہونے کے چانس ہوتے تھےاور جو سوال پوچھا جائے اس میں اس بات کی یقین دہانی کروائے کہ مائی باپ آپ جو کہیں گیں میں وہی کرنے کا پابند ہوں گا

ان میں ایک خوبی تھی یہ اپنے علاوہ کہ ہمارے مفادات کو نقصان نا پہنچے کی شرط پر یہ کھلی چھٹی دیتے تھے جہاں سے چاہو جتنا مرضی لوٹو لیکن ہمارے مفادات کو نقصان نہ پہچانا یہ تمھاری ریڈ لائن ہے جو تم نے کراس نہیں کرنی اور وہ بیوروکریٹ خوب لٹ مار کرتا ایسے کھانچے مارتا بس کچھ نہ پوچھیے میں ایک ایسے ڈی سی او کو جانتا ہوں اس نے حمزہ شہباز کے دور میں اربوں کمائے اور آج تک انجوائے کر رہا ہے وہ اور اس کی فیملی ایک عام فیملی تھی بس یہ کہیں اپنی غلامی کا حمزہ شہباز سلمان شہباز کو یقین دہانی کروانے میں کامیاب ہو گیا بس پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ کڑورں میں کھلنے لگا آج وہ اربوں کا مالک ہے اب تو اس کی یہ حالت کہ وہ آدھا لاہور خریدنے کے چکر میں ہے لوہے ہاؤسنگ سوسائٹی کون سا کاروبار نہیں جسمیں اس کا ہاتھ نہیں ۔۔ جب کے وہ ان کا ایک پیادہ تھا اور ہے بھی تو یہ لوگ کتنے طاقتور ہوں گیں
ye Beureaucracy bohat ZALEM hey.....Angrez ka tohfaa hey......
 

Syaed

MPA (400+ posts)
تو پھر جو فردوس اعوان نے کیا وہی طریقہ چلنے دیں۔ قیمتوں کو کنڑول کرنا صرف اور صرف علاقے کے اسسٹنٹ کمشنر کا کام ہے کیونکہ پرائس کنڑول کمیٹیاں اسی کے نیچے آتی ہیں۔ مگر یہ سالے حرام خور نونییوں کے کاروبار کو دوام بخشنے کے چکر میں عوام کا ملیدہ بنوا رہے ہیں
فردوس نے وہی کیا جو ایک عوامی نمائندے کو کرنا چاہیے تھاسر!
آپ خو د سوچیں غریب عوام کی سہولت کے لیے رمضان بازار بنائے گئے ہوں مگر وہاں وزراء کی موجودگی میں گلے سڑے پھل بک رہے ہوں اور حکومتی سبسڈی کے باوجود چینی کی کم مقدار عوام کو فراہم کی جارہی ہو تو ایک عوامی نمائندہ کیا کرے؟آپ کیوں بھول جاتے ہیں کہ انہیں بیوروکریٹس کو جب شہباز شریف گدلا پانی پینے کے لیے کہہ رہا ہوتا تھا تب وہ صحیح تھا؟یہ سیدھے ہی تب ہوتے ہیں جب ان کو کبڑے کی طرح پچھواڑے پہ لات ماری جائے ورنہ پھر چلنے دیں پنجاب کو آٹو موڈ پہ اور بھول جائیں تبدیلی کو
 

Resident Evil

Senator (1k+ posts)
یہی تو رونا ہے کہ تین سال سے ہم ہر ایک کی سازشوں کا زکر کرتے نظر آتے ہیں مگر تدارک کرنے کےلیے ہم نے بزدار جیسا نااہل اور نکما کھلاڑی رکھا ہوا ہے جس کی بات کوئی اسسٹنٹ کمشنر لیول کا بندہ ہی سنتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات نے انسانی، اور حتیٰ کہ حیوانی "باڈی لیگویج" پر ھزاروں کتابیں لکھی ہیں
کپتان نے پنجاب جیسے بڑے، اور اہم صوبے میں ایک ایسے بندے کو وزیراعلیٰ کے سیٹ پر بٹھایاہے، جس کی باڈی لینگویج کو دیکھتے ہوئے شاید اُسکے اپنے دفتر کا اردلی بھی نہیں ڈرتا ہوگا،،اسسٹنٹ کمشنر جیسی چمک چھلّو تو بہت دور کی بات ہپے

کپتان کے ذیادہ تر مسائل کی بنیادی وجہ ہی بُز دار جیسے بندوں کو ایسے سیٹوں پر بٹھانا ہے
 

Haha

MPA (400+ posts)
بزدار کا لگایا ہوا بزدار کا پالتو کتا چیف سکریٹری بزدار کے پھپھے کو شاید کئی کروڑ روپے دے کر لگا ہوگا یا رشتہ دار ہی ہوگا اب ظاہر ہے کئی ارب روپے بنا چکا ہوگا بزدار۔ کے پھپھڑ کی طرح
 

Goldfinger

Citizen
کم از کم کچھ تو کریں کہ جس سے عوام کو ریلیف ملے۔اس طرح تو ن لیگ اور پی پی پہ الزامات لگاتے لگاتے پانچ سال پورے ہوجائیں گے
تو ہونے دو اب اس میں کیا
 

sensible

Chief Minister (5k+ posts)
Don’t forget desi anda and katta scheme will further bring down prices soon
کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے نورے کیا اس ملک کو جیتا چھوڑ کر گیے تھے جو اب مہنگای کی تکلیف ہو رہی ہے کرونا نا بھی آتا تو چوروں کی چوری کا بل عام شہری کو ہی دینا تھا
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں