Mughal1

Chief Minister (5k+ posts)
http://allama-mashriqi.blogspot.com/2010/03/moulvi-ka-galat-mazhab-by-allama.html

Moulvi ka Galat Mazhab ﴾مولوی کا غلط مذہب﴿ by Allama Mashriqi

Allama Mashriqi Address at Lyallpur 14th August 1938
Moulvi ka Galat Mazhab (مولوی کا غلط مذہب)
لائل پور کے خاکسار سپاہیوں ! تمہاری محبت نے مجھے آج یک لخت مجبور کردیا کہ سب کام چھوڑ کر تمہیں ملو ں اور شاندار کیمپ میں جو تمہارے جو ان ہمت سالارمحمد افضل اور اس کے قابل ِ رشک مددگاروں یعنی سالار محمد عزیز اور محترم محمد سعید کے جنو ن کا نتیجہ ہے ،تمہیں کچھ بات بطور یادگار کہوں ۔ محبت اور جنو ں نے پوچھ لو آج تک دنیا کے کیا چہر ے بدل دیئے ہیں۔ پو چھ لو کیا کیا رنگ جمائے ہیں ، پوچھ لو سلطنتوں اور طاقتوں کے کتنے تختے الٹ دیئے ہیں، تم دنیا کی کو ئی تا ریخ اٹھا کر دیکھو ، سب انقلاب ، سب اصلاح، سب طاقت ، سب آسمانی برکتیں ، سب زمینی اچھائیاں قوم میں اسی دلوں کے آپس میں میل ہی سے قلوب کی آپس میں صفائی ، اسی رحمت اور رافت کی باہمی لہروں یادرد مندلوگو ں کے مستقل ارادوں ان کی ہوشربا اور زہرہ گداز محنتوں ،ان کے پتو ں کو پانی پانی کردینے والی کو شششوں ، نہیں ان کے حیرت انگیز بلکہ اکثر اوقات مضحکہ خیز جنونوں سے پیدا ہوئی ہیں ۔ خدا کی نگاہ ِ لطف و عاطفت بار بار بلکہ ہمیشہ اسی قوم کی طرف ہوئی ہے جس نے محبت اور محنت کے ساتھ جذبات میں اطافت اور رافت پیدا کی ، جس کے دو لفظوں میں دل مل گئے ، جس نے سینو ن کی کدورتیں نکال پھینک دیں ، جس نے شیطان کو کعبہ دل سے نکال کر خدا بسالیا ، جس نے دل کے بتوں کی بندگی سے منہ موڑ کر اﷲسے لَو لگالی ، ایک انسان کے انسان سے عشق سے غور کرو کیا رنگ جم جاتا ہے ، عاشق کے ادنیٰ اور دنیاوی عشق سے بدن میں کیا کیا بجلیاں دوڑتی ہیں ،سینے میںکیا سوز و گداز ہوتا ہے ، قلب میں کیا کیفیت ، اعضا میں کیا حرکت ، جوڑوں میں کیا اضطراب ، ذہن مین کیا تصورات ،آنکھو ںکے سامنے کیا نقشے ،خیال میں کیا تصور یکدم پیدا ہوجاتی ہیں ، عاشق کو معشوق کے تخیل کے سوا کچھ نہیں سوجھتا ، وہ دنیا کی ہر شے کو اپنے معشوق کے رنگ میں دیکھتا ہے ، دوسرا کو ئی رنگ اس کو پسند نہیں آتا ۔ بس یہی تصور اور نقشے ، یہی اعضا میں حرکت اور اضطراب اس کو بالآخر معشوق تک پہنچا دیتی ہیں ، کٹھن اور مشکل منزلیں اس قدر آسان نظر آتی ہیں کہ گو یاوہ ان سے گذراہی نہ تھا ، بعینہ اسی طرح بلکہ اس سے بہت بڑھ چڑھ کر قومی محبت اور جنون نے دنیا میں کرشمے کر دکھائے ہیں ، قوموں نے اس وقت سے اپنے سالہا سال کے پرانے چولے بدلنے شروع کردیئے ہیں جب سے محبت اور جنون نے دنیا ان کے دلوں میں کارفرمابن کر چمکے ، یاد رکھو محبت اخلاق الہیٰ کا جز ہے ۔عیسائیوں کا مشہور مقولہ ہے کہ ”خدا محبت ہے “ نفرت ، کینے ، بغاو ت شیطانیت کے آثار ہیں ، جنون محبت کی شدت کی آخری منزل ہے ، قرآن میں اشدُّحباًﷲِ کا درجہ ایمان کا بہت بڑا اور آخری درجہ ہے ، جس قوم کے کارکن اور کارفرما طبقے میں یہ دونوں پیدا ہوگئے اس قوم کا بیڑا پار ہے۔
خاکسار سپاہیوں اور مسلمانوں! میں تمہیں اس کیمپ میں ذرا وضاحت سے بیان کرنا چاہتا ہوں کہ مولوی کا پچھلے سو سال کا مذہب کیوں غلط ہے ، مولوی میرے اس غلط مزہب کے الفاظ پر بیحد سیخ پا ہوتا ہے ، وہ کچھ سناٹے میں ہے کہ یہ از غیبی اور آسمانی گولہ اس کے کئی سو برس کے وقار پر کس نے پھینکا ، بڑا کھسیانہ ہے کہ امت کا ”عالم“ ہوکر ایک امتی نے کیونکر اس کو دو سو برس کی غفلت اور سو بر س کی ملی بھگت کا بھانڈا پھوڑدیا ، سفارشین کراتا پھرتا ہے کہ اس قرآنی اور تخیل ِاسلامی کو جو تم پیدا کررہے ہو ، کچھ کہدو مگر خدارا اس کو ” مولوی کا غلط مذہب “نہ کہو، مولوی کے مذہب کو غلط کہنے سے مولوی کا رہا سہا وقار خاک میں مل جائے گا ۔ وہ امت کو کچھ کہنے کے قاب لہرگز نہ رہے گا ، وغیرہ وغیرہ۔ ہا ں میں تمہیں بتلانا چاہتا ہوں کہ مولوی کے مزہب کو غلط کہنے میں کیا اشد شدید مجبوریاں ہیں اور کیا عظیم الشان فائدے اُمت کو مل سکتے ہیں سب سے پہلے مولوی نے پچھلے دوسو برس سے دینِ اسلام کو صرف نماز ،روزہ ، حج ، زکواة، اور کلمہ شہادت کے رسمی طور پر ادا کرلینے کو پورا اسلام سمجھا کر باقی تمام قرآن کو مسلمان کی نگاہون سے اوجھل کردیا ہے ، اب نیک مسلمان کو دینِ اسلام کا خلاصہ یہی پانچ فعل نظر آتے ہیں ، جن کو وہ بیچارہ اپنے زعم میں پورے طور پر ادا کرلینے کے بعد تسلی پاجاتا ہے کہ مسلمان ہے ، بُرا مسلمان ان پانچ میں ایک دو یا اگر اور کچھ نہیں تو صڑف کلمہ شہادت پڑھ لینے کے بعد خوش بخوش ہے کے اسلام میں شامل ہے ، جنت کا مستحق ہے ، دنیا کے تمام کافروں سے بہتر ہے ،اس تخیل کا عا م نتیجہ امت کے حق میں یہ ہوا کہ امت کے سامنے کوئی نصب العین نہیں رہا، اسلام کے معنی سرف چند مقدس افعال یا رسموں کو ادا کرلینا رہ گیا قرآن مسلمان کا دستور العمل کسی معنوں میں نہیں رہا ، اچھے سے اچھا مسلمان ان پانچ باتوں کے کر لینے کے بعد بُرے سے بُرا اور قرآن حکیم کے منافی فعل بھی بے روک ٹوک کرلیتا ہے اور دل کے اندر مطمعین ہے کہ مولوی کے بتائے ہوئے ”اسلام کے خلاصے“ پر عامل ہے ، الغرض قرآن حکیم کے نگاہون سے اوجھل ہوجانے اور اس کے مطلب اور روان پڑھ لینے کے بعد مسلمان کی تمام عملی قوتیں بیکار ہوچکی ہیں دشمن خوش ہے کہ تیرہ سو برس کی بے مثال سلطنت اور جبروت کے بعد اب مولوی کی برکت سے مسلمانی صرف چند پرائیوٹ اور نجی باتوں تک محدود رہ گئی ہے جو کسی کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتیں مسلامن سے اب دکھ ملنے کا کا کو ئی احتمال باقی نہیں رہا ، مسلمان تیرہ سو برس تک دنیا کا نگہبان جہوکر اب دوسروں کی پاسبانی میں اپنی نمازین اور روزے ، اپنے حج اور زکوٰة تین گو شوں کے اندر چین سے ادا کررہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس اسلام سے آج سب خوش ہیں انگریز خوش ہے کہ قرآن کی جگہ خدا خدا کرکے مولوی نے لے لی ہے اور مولوی نے قرآن کو عملاً مٹادیا ہے ، انگریزی حکومت اسی بناپر دین ِاسلام اور قرآن میں عدمِ مداخلت کا اعلان کرچکی ہے قرآن اور اسلام اس کے نزیک دونوں مردہ ہوچکے ہیں ۔ ہاں ! کسی دوسری قوم کہ مسلمانوں کی مولویوں والی نماز ، مولویوں والے روزے ، مولویوی والے حج مولویوی والی زکواة ، مولویوں والے کلمہ شہادت سے نہ خوش ہوتی پھرے ،مسلمان شوق سے رات دن لاکھ مولویانہ نمازیں پڑھتا رہے ،تمام عمر لاکھ مولویانہ روزہ رکھے ، تمام عمرپچاس مولویانہ حج کرتا رہے ۔ مولویانہ زکوٰتیںدے ، کسی کا سرپھرا ہے کہ ان کی اس روئی کے اندر آرام سے لپٹی ہوئی روحانیت سے کراہت کرے ،کسی اوسط مسجد کے اندر چلے جائیے یا کسی اوسط مسلمان سے پوچھ لیجئے اس کے پاس اسلام کے متعلق ان پانچ فعلوں کے لینے کو سوا کوئی دوسری تشریح موجود نہیں ، مولوی اگر ان پانچ ارکانِ اسلام کی بھی صحیح تشریحیں کرتا تو امت کو انہی پانچ سے سب کچھ مل رہتا مگر مولوی کی بے دماغی ان پانچ دین کے ستونوں کے متعلق بھی بھی یہی یقین دلارہی ہے کہ یہ آخر کے مقدس افعال ہیں ، ان کا اس دنیا سے کچھ لگاؤنہیں ، ان کو علی َالحساب اور بے سوچے سمجھے کرلینا عین دین ہے ان کا اجر اور بدلہ صرف آخرت میں ہے ، مسلمان کو گنجائش نہیں کہ ان کی حکمت کے متعلق ایک حرف زبان پر لائے ”کرلیا “ اور ”اداہوگیا“ یا ” پڑھ لی “ اور ”اداہوگئی “ کے الفاظ کے فرائض ادا کرلینے کا صحیح اجر ہیں ، رسید ان سب کی اکٹھی یوم آخر ت اور روزہ حساب ہی کو ملے گی ۔
مسلمانواور خاکسار سپاہیوں ! مولوی کا مذہب اس لئے سرتا پا غلط ہے کہ دینِ اسلام دشمنوں کی خوشی اور رضاکا مذہب ہرگز نہ تھا ۔ دینِ اسلام کے متعلق قرآن حکیم میں صاف صاف لکھا ہے کہ وہ دشمنوں کی کراہت کا مذہب ہے ، دینِ اسلام سے باہر کا کوئی شخص اس مذہب کو پسند نہیں کرسکتا ، اس دین کو ہر دشمن پھونکیں مار مار کر بجھانا چاہتا ہے لیکن خدا اس نو ر کے بجھنے پر راضی نہیں ، یہ مشرکوں کی کراہت اور ناخوشی کا مذہب ہے ، کا فروں کی کراہت اور ناخوشی کا مذہب ، سب دینوں پر غلبہ پانے کا مذہب ہے ،جاھد الکفار والمنفقین کا مذہب ہے، ولیحدوافیکم غلظة کا مذہب ہے ، حتیٰ لاتکو ن فتنة ویکون الدین کلہﷲکا مذہب ہے فیقتلون ویقیلون کا مذہب ہے ، لیظھرہ علی الدین کلہ مذہب ہے ، واﷲمتم نورہ کا مذہب ہے اشد اءعلی الکفار رحما بینھم کا مذہب ہے، ولوکرہ المشرکون والا دین الھق ہے ، ولو کرہ الکفرین والا صراط مستقیم ہے، قرآن کے کسی فحے کو کھول کر دیکھ لو کہ یہی مذہب ہر جگہ ملے گا،کسی مسجد کے مولوی سے پوچھ لو بغیر مطلب سمجھے ہوئے فرفر ئی آئیتیں اوّل سے آخر تک پڑھ دے گا اور انہی آئیتوں کو فرفر پڑھ لینے دینے کو اپنے ”عالم ِدین“ ہونے کا ثبوت سمجھے گا ، مولوی نے دینِ اسلام سے یہ عظیم الشان فریب اور مذہب ِخدا سے کا یہ پنج آتشہ ماءاللحم اس لئے تیار کیا ہے کہ اس اپنی گردن بچی رہے ، وہ آپ گو شے میں مزے سے بیٹھا رہے اور تمام امت کو گوشے میں سلاکر آپ اس کا چو ہدری بنے ، اس نے دین اسلام کے پانچ لمبے لمبے ستون کھڑے کرکے سب کو کہہ دیا ہے کہ تما م عمر ستو ن بناتے بناتے گذار دو ، ایک ستون ذرا دھے جائے پھر اسی چند گری ہوئی اینٹوں لگاتے رہو ، اﷲسے مکر کرتے رہو کہ ابھی ستون بنارہے ہیں ستونوں پر چھت ڈالنے یا عظیم الشان اور کئی منزلہ عمارت بنانے کا خیال تک نہ کرو ، خدا کو معاذ اﷲ اسی دھوکہ میں رکھو کہ ابھی ستون ہی درست نہیں ہوئے ۔یا رکھو !قرآن حکیم میں ایک لفظ اس امر کا کہیں نہیں موجود کہ یہ پانچ شعائر دینِ اسلام کے پانچ رکن ہین ، انہی کے کرلینے سے مسلمان کی نجات ہے ، یہی دینِ اسلام کا خلاصہ ہیں ،اگر حدیث شریف میں لکھا ہے کہ اسلام کی بنا ان پانچ رکنو ں پر ہے تو اس کے معنی قطعًااور ہیں ، حدیث شریف میں یہ بھی ہے کہ ”اسلام صرف سمع اور اطاعت اور جہاد فی سبیل اﷲکا نام ہے “۔ مولوی اس حدیث پر کیوں نہیں آتے ، حدیث شریف میں یہ بھی ہے کہ ”اے مسلمانوں !تم پر لازم ہے کہ ایک جماعت بنے رہو اور سمع وطاعتہ کرتے رہو “۔ مولوی اس حدیث کو کیوں نہیں دہراتے ،یہ سب اس لئے کہان حدیثوں کے دہرانے مین ان کی صاف موت ہے ، ان کو ایک جماعت بننا پڑے گا ،ایک نظام کے اندر ہوگا ایک کی اطاعت کرنت ہوگی ،ایک کا حکم سننا پڑے گا ، مولوی ان حدیثوں کو ہضم اس لئے کرجاتا ہے کہ ان پر عمل بے حد مشکل ہے ، ان میں اس کی روزی نہیں بنتی،نماز ،روزہ ، حج ، زکوٰة ، کلمہ شہادت ، والی حدیث اس لئے باربار کہتا ہے کہ ہے کہ نماز اس کی اپنی مسجد مین ہوتی ہے ، اس لئے روٹیا ن مل سکیں گی ، روزہ کے دنوں میں خوب حلوہ مانڈا ملتا ہے ، حج کرانے سے کچھ نہ کچھ ضرور مل رہے گا ، قربانیوں کے بکرے ذبح ہوں گے ، زکوٰة مسجد میں آیا کرے گی ، کلمہ شہادت پڑھادینے سے کچھ نہ کچھ نذرانہ ملے گا ، نیں تسلیم کرتا ہوں کہ اسلام کی بنیاد انہی پنج ارکان پر ہے ، جو حدیث شریف کہتی ہے انہی کے صحیح قیام پر دینِ اسلام کو پورا دارومدار ہے،لیکن ان معنو ں میں ہرکز نہیں ، جن معنوں میں مولوی ان پانچ ارکا ن کو اہنے مطلب کے لئے گھسیٹ رہا ہے ، یہ پانچ ارکان اس کی روزی پیداکرنے کے سامان نہیں ، ان کی بنیاد اسلام کی اجتماعیت اور امت مھمدیہ کی وحدت پر ہے ،اسی نماز کے اندر بے پناہ قیام ِ جماعت کا راز ہے ، اسی روزے میں کمال تحمل اور فتح امت کا بھید ہے ، اسی حج میں صحیح مرکزیت ہے ،اسی زکوٰةامت کے قیام کی داماندگیوں کا علاج ہے ، یہ باتیں تمام امت کی بہتری کے لئے ہیں ، مولوی کے نفس کو موٹا کرنے کے لئے ہرگز نہیں ۔اسلامکا صحیح خلاصہ کیوں سمجھتے کیونکہ حدیث میں صاف لکھا ہے کہ جہاد کی ایک رات ستر برس کی عبادت سے بہتر ہے ،کیا نماز روزہ ، حج ، زکوٰة ، کلمہ شہادت کی پانچوںعبادتیں ”جہاد “ کے سامنے مات نہیں ہوتیں۔
خاکسار سپاہیوں ! اصل یہ ہے کہ دینِ اسلام کا صحیح دستور العمل قرآن ہے ، نرے پنج ارکان دینِ اسلام کا خلاصہ ہرگز نہیں ، قرآن میں صاف لکھا ہے کہ جس قوم نے اس قرآن کے ایک حصے پر عمل کیا اور دوسرے سے کفر کیا سا کی سزا اس دنیا اور آخر ت دونوں میں رسوائی ہے ۔ یہ خدائی فیصلہ ہے اور اس کا صاف مطللب یہ ہے کہ مسلمان کو قرآن کی کسی ایک آیت سے مفر نہیں ، تمام کا تمام قرآن حکمنامہ ہے ، سب حکموں کی تکمیل یکساں طور پر لازم ہے ، اول سے آخر تک وہی ایک زبردست حکم دے رہی ہے ، اس میں چھوٹے سے حکم کو نہ ماننا بھی احکم الحاکمین کی صریح گستاخی یہ کیا مسخرہ پن ہے کہ خدا قرآن میں بار بار حکم دے کہ اے مسلمانوں ! ایک امت بنے رہو، آپس میں تفرقہ ڈال کر جہنم کے گڑھے پر کھڑے نہ ہو ، فرقہ نہ بنو کیونکہ یہی مشرک لوگ ہیں ، ان کو کبھی بخشش نہ ہوگی ، جو لوگ گروہ در گروہ بن گئے ،اے پیغبر ان سے الگ تھلگ رہو، اپنے امیر کی اطاعت کرو، آپس میں کامل محبت رکھو ، دو گروہ لڑیں تو ان میں صلح کرادو ، غالب بن کر رہو دشمن سے پیٹھ نہ پھیرو ، مومن صرف وہی ہیں جنہوں نے مال اور جا ن سے جہاد کیا ، ، غیبت نہ کرو وغیرہ وغیرہ ہاں یہ کیا مسخرہ پن ہے کہ خدائے برتر پزاروں حکم اس قرآن میں دے مولوی ان کی پر کاہ کے برابر پرواہ نہ کرے ، روزانہ اپنے مناظروں سے مسلمانوں کی ہزاروں ٹولیاں بناتا اور گلی گلی جمعہ کراتا پھر ے ، ہردم امت کو جہنم کے گڑھے پر کھڑے لیکن اس آسان اور اپنے نفس کو فائدہ دینے والی حدیث کو ہزارہا بار رٹتا پھرے کہ اسلام کی بنیاد نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰة اور کلمہ شہادت پر ہے اور پھر دیکھ لو کہ عنایت ا ﷲاس حدیث کا صاف منکر ہے ، اسلام کے ارکان سے صاف مخول کرتا ہے ، اس کے ستونوں کو گرانا چاہتا ہے اور اس لئے ملحد اور کافر ہے !
مسلمانوں اور خاکسار سپاہیوں ! مولوی کے قرآن حکیم سے مکر و فریب کی ایک وجہ بھی ہے جو اس سے بھی زیادہ جلد سمجھ میں آسکتی ہے میں تمہیں بتایا ہے کہ دین اسلام ہر مشرک اور کافر کی کراہت کا مذہب ہے ، تیرہ سو برس تک مسلمان دنیا میں پھیلتے رہے اور ہر غیر مسلم ان کے اس غلبے کو ناخوشی کی نظر سے دیکھتا رہا ۔ مولوی اب تمام قران کو امت اسے چھپا کر اور صرف پنج ارکا نِ اسلام کا گیت گا کر باقی تمام دنیا کو خوش رکھنا چاہتا ہے ، وہ خوب جانتا ہے کہ تماز ، روزہ ، حج ، زکوٰة اور کلمہ شہادت کے آسان عمل سیسے ہیں ان سے ہندو مسلامن ، پارسی ، عیسائی ، انگریز سب خوش رہیں گے لیکن قرآن کو پھر کھولا گیا تو سب ناراض ہوجائیں گے ، حکومت کی تلور گردن پر ہر دم لٹکتی رہے گی ، جیل خانہ کی ہوا کھانی پڑے گی ، پلاؤاورمرغ کی جگہ سوکھی روٹیاں ، چکی کی مصیبت اور مٹی میں ملی ہوئی دال ملے گی ، اسی لئے مولوی نماز کی ایک فضیلتین بیان کرے گے لیکن جہاد کا لفظ زبان پر نہ لائے گا ، اعتقاد کی بنا پر ایک لاکھ گالیاں دودسرے فرقے کے مسلمانوں کو دے گا ، ایک ایک گالی کی تائید میں دس دس حدیثیں سنائے گا ، لیکن اتھا د کا نام نہ لے گا ، روز روز فرقہ بندی کی ہوا پھیلاکر اپنا نذرانہ قبول کرے گا لیکن مسلمانون کو ای ککردینے کا نام تک نہ لے گا ، اِختلاف امتی رحمتہ کی حدیث بار بار رٹے گا لیکن المسلم من سلم المسلمون من یدہ وسانہ کا حرف زبان تک نہ لائے گا ۔ مسلمانوں ! مولوی کا مذہب غلط اس لئے ہے کہ مولوی نے تمام قرآن کی آیتوں کو ایک سو سال سے قطعًاچھپا رکھا ہے ۔ تاکہ اس کی گردن بچی رہے ، اس نے قرآن سے فریب اس لئے کیا ہے کہ اس کا اپنا حلوا مانڈا بنارہے ، وہ اسلام کو اس اسلام کا ایک حرف تمہیں کہیں نہی ملے گا ، مولوی کا نام قرآن مین نہ ملے گا ، مولوی کی بتائی ہوئی نماز نہ ملے گی ، مولوی کا روزہ نہ ملے گا مولوی کے حج اور زکوٰة نہ ملیں گے ، کلمہ شہادت نہ ملے گا ، سر پھٹول نہ ملے گی ، مناظر ے نہ ملیں گے ،ایک دوسرے پر کفر کے فتوے نہ ملیں گے مولوی کی مولوی سے جھڑپ نہ ملے گی ، سنی اور شیعہ ، وہابی اور اہل قرآن ، لالکی اور حنبلی ، شافعی اور حنفی کے الفاظ نہ ملیں گے صرف لفظ مسلم مے گا مومن ملے گا ، مسلم اور مومن بننے کے اعمال ملیں گے ، امت کو بلند کرنے والے حکم ملیں گے ، مولوی نے قرآن کو کم و بیش ایک سو برس چھپایا ہے ، لیکن اسی چھپانے والے مولوی کے متعلق قرآن میں صاف لکھاہےکہ جن لوگو ں نے ہماری آیتوں کو چھپایا انہوں نے اپنے پیٹ میں دوزخ بھرلیا ، خدا روز قیامت کو ان سے کلا م تک کرنا گوارانہ کرے گا!
خاکسار سپاہیوں اور مسلمانوں! مولوی کے مذہب کو غلط کہنے پر میں مجبور اس لئے ہوں کہ اب ایک سو برس کو مولوی اور پیر کے قرآن سے مکر و فریب کے بعد اگر کوئی شخص قرآن کی ایک چھوٹی سی آیت پر عمل کرانے کے لئے اٹھتا ہے ،اگر کوئی معمولی سے معمولی درد مند شخص ایک شہر میں صرف دو جمعہ کی مسجدوں کو ایک کرانے کے لئے ادنیٰ سی آواز اٹھاتا ہے تو حکومتِ وقت جھٹ کہہ دیتی ہے کہ یہ مذہب اسلام ہرگز نہیں ، یہ وہ نہیں جو مولوی نے پچھلے سو برس میں اسلام کے بارے میں کہا ہے ، یہ مذہب کی آڑ میں کھلی ”سیاست “ ہے ، یہ پولیٹکس ہے ، یہ سیاسی تحریک ، یہ انگریز حکومت سے دھوکہ ہے ، انگریز کی حکومت کی بیخ و بنیاد اکھاڑنے کی در پردہ تیاریاں ہیں ! انگریز چو نکہ بڑا ہوشمند اور اسلام کے مذہب کا بڑا ماہر ہے ، وہ مولویوں کے منہ سے مذہب اسلام کی تشریحیں کر اکر اب اس خو دساختہ مذہب پر تصدیق کی مہر لگانا چاہتا ہے تاکہ مسلمان ہمیشہ لے لئے قرآن پر عمل نہ کرسکے ، وہ جانتا ہے کہ بھو کا اور لو گو ں کی روٹیاں کھانے والا مولوی کبھی قرآن بولنے کی جرات نہی کرسکے گا اور دین سے ناآشنا اور مولویوں سے دبے وہئے مسلمان کبھی اس کے خلاف لہنے کی جرات نہ کرسکیں گے ۔ الغرض مسلمانو! مولوی کے مذہب صحیح کہنے میں اُمت کی صاف موت ہے ۔ لامتناہی شکت ہے ، کبھی نہ اٹھ سکنے کی تیاری ہے ، یاد رکھو یہودیوں کی قوم اس لئے ہلاک ہوئی کی انہوں نے اپنے پادریوں اور راہبوں کو خدا بنالیا تھا، وہ جس طرح چاہتے تھے ، امت کو اپنی انگلیوں پر نچاتے تھے ، جو کہتے تھے منوا لیتے تھے ، امت ان کے اثر کے نیچے دبی ہوئی تھی اور سر اٹھا نہ سکتی تھی ، آج مسلمان بھی اسی دردناک مصیبت میں گرفتا ر ہیں ، انہوں نے بھی مولویوں اور پیروں کو اپنا رب بنالیا ہے اور اس کی سزا صاف ہلاکت ہے!
لائل پور کے مسلمانوں ! تمہارا شہر کئی حیثیتوں سے ممتاز ہے ان امتیازات میں سب سے بڑی اور دل خوش تمیز یہ ہے کہ تم پنجاب کے سپاہیانہ علاقہ سے متعلق ہو ۔ ہندوستان میں پنجاب سب سے زیادہ سپاہیانہ صوبہ اور تم پنجاب میں سب زیادہ سپاہیانہ علاقہ ہو ، اگر میں کسی ایسے آزاد اسلامی ملک میں ہو تا جس کے مولوی اور مال کی نکیل حکومت اور بادشاہ کی ہاتھ میں ہوتی تو جھٹ اور بیدھڑک کہہ دیتا کہ تم خدا کے فضل سے کم از کم ہندوستان میں سب سے زیادہ مسلمان ہو ، لیکن مولوی کی کم نظری نہ تمہیں اپنی صحیح مسلمانی لحسوس ہونے دیتی ہے نہ میں اس امر کے الئے تیا ر ہوں کہ تمہیں اس وقت تک سب سے بڑے ہو نے کا لقب دوں ۔ جب تک کہ اس تمام عظیم الشان اور خو بصورت علاقے میںسے ایک ایک نوجوان ، ایک ایک قدر ااور گرانڈیل شخص وردی اور بیلچے سے مسلح ہوکر خاکسار تحریک میں شامل نہ ہوجائے یادرکھو ! مسلمانی اس میں نہیں کہ تم اسلام کی اس رسم کو پورا کرلو جو مولوی نے تمہیں خوش کرنے اور آرا م کرسیوں پر بٹھاکر جنت میں داخل کرنے کے لئے پیدا کرلی ہے ۔ ہم صحابہ کرام اور رسول ﷺ سے معاذ اﷲزیادہ لاڈلے نہیں کہ ان کو تمام عمر تکلیف اٹھانے کے بعد اسلام کا سچاعلمبردار سمجھا جائے اور ہمیں صرف چند آسان باتیں کرکے جنت کا حقداربنادیاجائے ۔ دینِ اسلام کی صحیح سے صحیح تعریف اگر چند الفاظ کے اندر ہوسکتی ہے تو یہ ہے کہ اسلام سپاہیانہ زندگی کا دوسرا نام ہے ۔ دینِ اسلام کے تمام شعائر ،اسلام کے تمام ظو اہر ، قرآن کا ایک ایک ھکم ، اس کا ہر امر و نہی،اس کے تمام نسک ، مسلمان کی موت ، مسلمان کی ھیات الغرض تمام وکمال دینِ خدا سی سپاہیانہ اور للہی زندگی کو مکمل کرنا ہے ، غور سے دیکھوکہی نماز اِسی پنج وقتہ تیاری ہے ، روزہ اِسی میدانِ جنگ میں بھوک کی برداشت کا پیش خیمہ ہے ، حج اسی الہی فوج کی مرکزیت کو قائم کرنا ہے ، زکوٰة اسی زندگی کے سازو سامان کی فراہمی کا دوسرا نام ہے ، کلمہ شہادت اسی خدا کے سپاہی ہونے کی بعینہ اسی طرح گو اہی ہے ، جس طرح کہ سڑک پر کھڑا ہو ا خاکی وردی میں ملبوس سپاہی انگریز کے بندہ ہونے کی عینی اور یقینی گواہی دے رہا ہے ۔ نہیں بلکہ مزید غور سے دیکھو تو یقین ہوجائے گا کہ قرآن میں اگر یہ لکھاہے کہ مسلمانو! اپنے وعدے پورے کرو ، اپنے امیر کی اطاعت کرو ، اپنے سلوک عمدہ کرو ، غیبت نہ کرو ، نیک گمانی کرو وغیرہ وغیرہ تو یہ حکم بھی بآخراسی لئے ہیں کہ مسلمان صحیح معنوں سچا اور ناقابلِ شکت سپاہی بن جائے ، الغرض دینِ اسلام کا نچوڑ صرف خدا کا سپاہی بننا ہے ، اسی سپا ہی بننے کا گر مُسلمان کی قرونِ اولےٰوالی سپاہیانہ نماز ہے ، سپاہیانہ حج ہے ،سپاہیانہ روزہ ہے ، سپاہیانہ زکوٰة ہے، نہیں بلکہ سپاہی والا کلمہ شہادت ہے، مولویانہ نماز ، مولویانہ حج ، مولویانہ روزہ ، مولویانہ زکوٰة ، مولویانہ کلمہ شہادت جو ہم آج جمائیاں لے لےکر ادا کرتے ہیں قرآن کی کسی آیت مین مذکورہ نہیں ، اسی نقطہ نظر سے لائل پور کے مسلمانو! تمہارے سپاہیانہ وجد کو دیکھکر میں چاہتا ہوں کہ مولوی کی اسلام سے تمام فریب کاریوں اور اس عنایت اللہ کے خلاف تمام چیخ پکار کو خیر باد کہہ کر تحریک میں شامل ہوجاؤ، تحریک بعینہ و بلفظہ اسلام ہے ،وہی اسلام جس پر چل کر قوموں کی دین و دنیا درست ہوسکتی ہے ،اس تحریک میں ایک لفظ کسی قوم کسی حکومت ، کسی طاقت ، کسی دوست ، کسی دشمن کے خلاف نہیں ، یہ صرف سپنے گھر کی درستی ہے ،اس کی بوسیدہ دیواروں کو پھر کھڑا کرنا ہے اپنی آخر ی نجات کی خاطر اپنی دنیا سنوارنا ہے ، خدمتِ خلق بلالحاظ مذہب و ملت ہے ، نفس کے بتوں کو تو ڑ کر پھر توحید کی طرف آنا ہے ، پھر خدا کا بندہ بننا ہے پھر رجوع اِلی اللہ ہے، وہ ہی دنیا سے دوستی اور نفس کے بتوں جنگ ہے ، ایسی پُر امن اور مرنجان مریخ حرکت میں شامل ہونا کسی پر گراں نہیں گذرسکتا ۔
خاکسار سپاہیوں اور مسلمانو! خاکسار تحریک پانچ برس سے خاموش طور پر جاری ہے ،اس میں کسی قوم سے چھیڑ نہیں ، ہمارا پانچ سا ل کا عمل صاف بتا رہا ہے کہ ہم حکومت کی کسی سیاست کی طرف توجہ نہیں کی ، ہم نے ایک لفظ ملکی سیاست کے متعلق اپنے اصولوں میں داخل نہیں کیا اگر کانگریس اس ملک میںانگریزی حکومت کی تمام احتیاطوں کے باوجود پچاس برس پھول پھل کر ملک کی سیاست پر قبضہ کرسکتی ہے اور آج وہی جھنڈا چھ بلکہ سات صوبوں میں لہرارہا ہے جس کو انگریز کسی زمانے میں دیکھنا بھی گوارا نہ کرسکتا تھا تو خاکسار وں کو بھی بدرجہ اولیٰ حق حاصل ہے ہے کہ وہ کھلے طور پر سیاسی بنیں اور کانگریس کی طرح عمل کرنے سے نہ شرمائیں ، لیکن ہم غیر سیاسی جماعت اس لئے نہیں کہ ہمیں سیاسی بن جانے میں کسی کا ڈر ہے ،ہماری تحریک کے بنیادی اصول مزہبی اور افعالی ہیں اور ہمارا منتہا قوم کی اندرونی تنظیم،اسکی قوت ِ عمل کا احیا ، دوسری قوموں سے روداری ، قرآن حکیم پر عمل ، خدمت عباد اور عبادتِ خدا ہے، یہ وہ اصول ہیں جن پر چل کر ہم اپنے زعم میں اپنی دین و انیا درست رکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی یا کسی حکومت کو ادنی ٰ سا حق نہیں کہ ان اصولوں کے احیا میں مداخلت کرے ۔ اگر انگریز مولوی کی آڑ لے کر عافانہ تجاہل سے کہتا ہے کہ یہ باتیں دینِ اسلام میں داکل نہیں تو انگریز کو چاہیئے کہ مسلمانکی مذہبی کتا ب قرآن پھر پٹھے ، وہ کتا ب پھر دیکھے جس کو وہ اپنے منہی سے حکو مت کی مداخت سے آزاد کہہ چکا ہے حکومت اور بالخصوص حکومت ِ سرحد کو معلوم ہوبا چاہیئے کہ خاکسار قرآن پر عمل کرنے کےلئے اٹھا ہے قرآن سے باہر ہرگز نہیں جانا چاہتا ، خاکسارکی مسلمانی کی سند اسلام کی تیرہ سو برس کی پہلی تاریخ ہے مولوی کا ایک سوبرس کا جھوٹ پرگز نہیں ، خاکسار کے نزدیک قرآن خدا کی کتا ب ہے اور اگر خاکسار کو قرآن پر عمل کرنےسے روکنے کی کسی طاقت نے دل میں ٹھان لی ہے تو خاکسار کاپہلا فرض ہے کہ قرآن کو دشمنوں کے پنجے سے آزاد کرے ،اس صورت میں سوائے اسکے کہ ایک ایک خاکسار قرآن کو آزاد کرنے میں مرمٹے اور کوئی صورت نہیں ہوسکتی ۔
مولویوں ، پیروں اور تمام مسلمانوں کو کہونگا کہ تمہارا اسلام کی غلط تصویر ایک مدت سے پیش کرنا تمہارا فعل نہیں یہ صدیوں کی بداعمالی اور غلفت کا نتیجہ ہے ۔ یہ آباؤ اجداد کے گناہوں کا ورثہ ہے ،قرنوں کی و اماندگیوں کا مجموعہ ہے ، اس میں کسی ایک مولوی یا ایک پیر یا ایک پیشوا ئے دین کا تصور نہیں ، سب اُمت او پیشوا یان اُمت کا مجموعی قصور ہے ، اُمت کی بگڑی ہوئی ہوا کا قصور ہے اسی بناپر ہمیں کسی ایک مولوی سے وجہ ِپرخاش نہیں ، کسی ایک سے ذاتی عناد نہیں ، میں سب مولویوں کی خواہ انہوں نے مجھ پر کفر کے کے فتوے لگائے ہوں یکساں عزت کرتا ہوں سب وک اپنے سے کم گنہگار سمجھتا ہوں ، کسی خاکسار کو ان سے بدسلوکی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا سب کو سمجھتا ہوں کہ دین کی رہی سہی عما رت کچھ نہ کچھ ضرور تھا م رہے ہیں ۔ سب مجھے کافر کہیں لیکن مین سب کو مسلمان سمجھتا ہون ،ایسی حالت میں جکہ سرحد اور سندھ کی دو حکومتیں مسلمان وزیروں کی قیادت میں ہمارے قرآن سے الجمہ رہی ہیںمولویوں اور پیشوایانِ دین کا فرض ہے کہ وہ قرآن کی حفاظت میں ہم خاکساروں سے ہم آہنگ ہوجائیں ، قرآن کی آبروپر مرمٹیں، قرآن کے اسلامی دستور العمل ہونے کا باردگر اعلان کریں ، قرآن کے لئے کٹ مریں ج، قرآن کے لئے جئیں ، قرآن کو مسلمان کی آخری پناہ گاہ یقین کرکے تمام ہندوستان کو ان حکومتوں کے بالمقابل لے آئیں ، اگر ایک مسجد کے گرانے پر مسلمان مٹ سکتا ہے تو آؤ آج قرآن کے گرنے پر مرنٹ کر دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے،کیا عجب ہے کہ اسی قرآن پر مر مٹنے میں مسلمانوں کی زندگی کا راز مضمر ہو!
میں نے حکومت سرحد کو کہہ دیا ہے کہ ۱۵ اکتوبر تک خاکساروں پر سے تمام پابندیاں اٹھالی جائیں، ان کو ہزاروں کی تعداد میں یکجا خدمتِ خلق کرنے کی اجازت دی جائے ، ان پر پندرہ سے زیادہ جمع نہ ہونے کی پابندی قطعاًاٹھادی جائے ، ہم نعرے خود نہیں لگاتے لیکن نعرے نہی لگانے کی پانبدی کرنا جبکہ تمام دنیا نعرے لگا سکتی ہے ہم پر بے وجہ تشدد اور انتہائی طور پر فضول ہے ۔اس پابندی کو ہٹادیا جائے ، ہم خود سیاسی نہیں بننا چاہتے لیکن ہمیں لینا کہ تم کبھی سیاسی نہ بنو درآنحالیکہ ہندوستان کی ہر انجمن جب چاہے سیاسی بن سکتی ہے ایک سب مذہبی فرائض آزادی سے ادا کرسکتی ہے ایک مجنونانہ ظلم ہے ، اس قید کو پٹا دیا جائے ، ہمین یہ کہنا دن کے وقت خاکسار وردی میں نہ آؤ سبب تظلم ہے اس وک دور کردیا جائے وغیرہ وغیرہ ۔ میں چاہتا ہوں کہ اگار حکومتِ سرحدنے پا بندیا ں ۱۵ اکتوبر سے پہلے پہلے نہ ہٹالیں تو تمام خاکسار اور غیر خاکسار مسلمان جن کو میرا پیغام کسی ذریعے سے پہنچ رہا ہے خاموش اور پرُامن طور پر صوبہ سرحد کے کسی سیک جگہ پر جس کا اعلان بعد میں کردوں گا خاکی وردی اور بیلچہ کے ساتھ حکومت کی زد سے بچ کر پہنچ جائیں میں وہاں حکومت ِ سرحد کو دعوت دوں گا کہ وہ قرآن اور اسلام کے متعلق اپنے غیر جانبدارانہ رویہ کا اعلان کریں اور اگر حکومت مسلمانوں کی کسی جماعت کے خدمتِ خلق یا ایک لباس میں باجماعت نماز ادا کرنے پر اعتراض کرتی ہے تو ہم سب مسلمان حکومت کی توپوں کے دہانوں کے آگے ہزاروں کی تعداد میں باجماعت نماز ادا کریں ، باجماعت خدمتِ عباد کریں ، باجماعت مارچ کریں ، باجماعت ایک صف میںہون ، باجماعت توپو ں کے آگے اپنے آپ کو خدا اور قرآن کے آگے مٹادیں !
یہ مرگ ِ ابنوہ یاد رکھوایک جشن ہوگا ، حکومت کو مسلمانوں کے قرآن پر استواری کا یقین کا ثبوت پھر مل جائے گا ۔ چند ہزار آدمی کٹ جائیں گے ، لیکن قرآن ایک ہزار برس تک پھر آزاد ہوجائے گا ۔
عنایت اللہ خان المشرقی
۱۴ اگست ۱۹۳۸ء
 

Mughal1

Chief Minister (5k+ posts)

Citizen X

Prime Minister (20k+ posts)
Did i ever say that he was perfect? We all are fallible. But at the same token he was 1000 times better then the mirzai fake engineer.
Well most of Perwez's deductions are similarly outrageous. And mirza's field is exposing deobandi, brelvism and sunni sects other than that he is just like regular old desi mullahs. Why he was even brought up in this discussion I don't know?
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs خبریں