قادیانی رہنما مرزا ناصر نے پارلیمان میں کیا کہا؟ آصف محمود

Raaz

(50k+ posts) بابائے فورم
Mullahs (in Pakistan specially) will object to every one who will talk about Quran ONLY because their religion is every thing but Quran. Most unfortunate thing is 90% of people from Sunni and Shia sects believe their Mullahs blindly without even studying and reflecting on Glorious Quran.
G.A.Pervez sahib's crime was to ask people to focus on Quran and Mullahs hate all such persons
.
lol ....
All problems r in the translation of Quran ....nothing wrong with Quran it self ....
 

karachiwala

Prime Minister (20k+ posts)
اٹارنی جنرل یحیی بختیار صاحب نے سوال کیا کہ مرزا بشیر نے25 اکتوبر 1920ء کے الفضل میں لکھا کہ مسلمانوں یعنی غیر احمدیوں سے رشتہ حرام ہے۔ مرزا ناصر نے جواب دیا کہ جو چیز فساد پیدا کرتی ہے، وہ ناجائز اور حرام ہے


بہت تکلیف ہو رہی لبرلوں کو مگر سیدھی سادھی بات کریں تو اوپر والے تمہارے پیر کی بات مان کر ہی عاطف قادیانی کو نکالا کیونکہ اس کی وجہ سے فساد پیدا ہو رہا تھا لہذا وہ بند حرام ہو گیا
۔​
 

Raaz

(50k+ posts) بابائے فورم
What part of his Quran translation do you object to?
Most of It ....almost all..
the best way to realize is to learn Arabic a bit ..just basic and translate it and then find out the difference in real Quran and translations of different thoughts ...
i don't have personal difference with you or any person ....
But it is fact ...and I did that by myself ....
 

Wake up Pak

(50k+ posts) بابائے فورم
Most of It ....almost all..
the best way to realize is to learn Arabic a bit ..just basic and translate it and then find out the difference in real Quran and translations of different thoughts ...
i don't have personal difference with you or any person ....
But it is fact ...and I did that by myself ....
Its ok if you have an issue with his translation but, unfortunately, the majority of our Muslim brothers just argue on hearsay without learning and investigating on their own.
 

Wake up Pak

(50k+ posts) بابائے فورم
Most of It ....almost all..
the best way to realize is to learn Arabic a bit ..just basic and translate it and then find out the difference in real Quran and translations of different thoughts ...
i don't have personal difference with you or any person ....
But it is fact ...and I did that by myself ....
And by the way, i am just a plain Muslim still learning do not belong to any sect. (not sunny/shia/wahabi/deobandi/braveli/qadiani and so many other sects)
 

Raaz

(50k+ posts) بابائے فورم
Its ok if you have an issue with his translation but, unfortunately, the majority of our Muslim brothers just argue on hearsay without learning and investigating on their own.
yes ...u r right ...but I want to tell u that I found Pervaiz is very different ...
It is up to u , anyways ..
better to learn Arabic a bit ....
 

Raaz

(50k+ posts) بابائے فورم
And by the way, i am just a plain Muslim still learning do not belong to any sect. (not sunny/shia/wahabi/deobandi/braveli/qadiani and so many other sects)
Thats is good ...but learn Arabic when u got time ...u will enjoy the wisdom of Quran ....
 

LovePK-or-LeavePK

Senator (1k+ posts)
۔ قادیانی بطور اقلیت دستور میں طے کردہ حدود و قیود کو تسلیم کر لیں تو معاملہ بہت آسان ہو جائے۔ بصورت دیگر یہ بات تو طے ہے کہ اسلام پر قادیانیوں کا دعوی ناقص ہے جسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ نہ کل قبول کیا گیا نہ آج قبول کیا جائے گا اور نہ ہی آئندہ اس کی گنجائش ہوگی۔

Is Islam a 500 yard plot that they are trying to occupy without permission. What a freaking idiotic logic is this.

Islam is not anyone's property. Not yours or mines. Leave the judging part on Allah.
 

Smiter

MPA (400+ posts)

میں ایک خلاصہ آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔ یاد رہے کہ کہ یہ صرف اس گفتگو کا خلاصہ ہے جو نقل کفر کفر نہ باشد کے طور پر بیان کر رہا ہوں۔ مرزا ناصر نے وہاں جو کچھ کہا اس کو مکمل بیان کرنا میرے لیے ممکن ہی نہیں۔ خدا کی پناہ۔ اسی لیے اٹارنی جنرل نے اس کارروائی کو خفیہ قرار دے دیا کہ یہ گفتگو اگر سامنے آ گئی تو ملک میں طوفان کھڑا ہو جائے گا۔
اس کارروائی کے دوران مرزا ناصر نے تسلیم کیا کہ ان کے نزدیک ہر وہ شخص کافر ہے جو مرزا غلام احمد کی نبوت کو نہیں مانتا۔ اٹارنی جنرل نے پوچھا کیا مرزا کی نبوت کا منکر کافر ہے۔ جواب آیا: ’’ منکر کو کیسے کہیں کہ وہ مانتا ہے‘‘۔ مرزا نے بات گھمانے کی کوشش کی تو اٹارنی جنرل نے بہ صرار سوال کیا کیا مرزا کا منکر کافر ہے۔ جواب آیا: ’’جی کافر،گنہ گار اور قابل مواخذہ ‘‘۔
اٹارنی جنرل نے کلمۃ الفصل کا حوالہ دے کر سوال کیا کہ کیا آپ کا یہی عقیدہ ہے کہ بھلے کوئی حضرت محمد ﷺ کو مانتا ہو لیکن مرزا کو نہیں مانتا تو کافر ہے۔ جواب آیا جی ہاں کافر ہے۔
اٹارنی جنرل نے مرزا محمود کی انوار خلافت کا حوالہ دے کر پوچھا کہ کیا یہی آپ کا عقیدہ ہے کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ جواب آ یا جی ہاں۔ اٹارنی جنرل نے پھر پوچھا، یعنی احمدیوں کے علاوہ سب کافر، جواب آیا جی ہاں دائرہ اسلام سے خارج۔
سوال پوچھا گیا کیا آپ غیر احمدیوں کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ جواب آیا نہیں۔ سوال ہوا کیا غیر احمدی بچے کا جنازہ بھی نہیں پڑھتے۔ جواب آیا نہیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کیا یہ درست ہے کہ انوار خلافت میں آپ کے والد نے صفحہ 93 پر لکھا ہے کہ لوگ پوچھتے ہیں غیر احمدیوں کے بچے کی نماز جنازہ کیوں نہیں پڑھی جا سکتی؟ تو میں کہتا ہوں پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔ مرزا ناصر نے اس کی تائید کی۔
سوال کیا گیا قائد اعظم کی نماز جنازہ قادیانی وزیر نے کیوں نہ پڑھی۔ جواب آیا قائد اعظم کے سامنے بدایونی نے ہمارے خلاف فتوی دیا اور وہ خاموش رہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا ہم قائد اعظم کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ جواب آیا آ پ سمجھتے ہوں گے۔
سوال ہوا تم نے کبھی کسی امام کے پیچھے کسی غیر احمدی کا جنازی پڑھا۔ جواب آیا معلوم نہیں۔
سوال ہوا کیا مرزا بشیر نے کہا کہ غیر احمدیوں سے رشتہ حرام ہے۔ جواب آ یا جی ہاں۔
سوال ہوا نائجیریا میں آپ نے کلمہ لکھا ہوا ہے جس میں محمد کی جگہ احمد لکھا ہے۔ جواب آیا غلط فہمی ہوئی ہے۔
سوال ہوا اگر اسمبلی یہ کہہ دے کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو آپ کو اعتراض نہ ہوگا۔جواب آیا نہ ہوگا، مگر یہ وضاحت کر دیں کہ ہم دائرہ اسلام سے خارج ہو کر بھی ملت اسلامیہ کا حصہ ہوں گے
سوال ہوا کسی کو آپ نے کافر کہا اور کسی نے آپ کو کافر کہا، کیا اسمبلی غور کر سکتی ہے کہ آپ کی بات درست ہے کہ نہیں۔ جواب آیا کر سکتی ہے۔
سوال ہوا روحانی خزائن اور اربعین میں مرزا نے لکھا ہے کہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی، میں شریعت والا نبی ہوں۔ جواب آیا جی وہ تو میں نے دیکھا ہے۔
سوال ہوا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد کی فضیلت (نعوذ باللہ) حضرت محمد ﷺ سے بڑھ کر ہے، اس فضیلت کے اشعار مرزا کو سنائے گئے۔ اس نے کہا جزاک اللہ۔ جواب آیا ثبوت کیا ہے؟ غلام غوث ہزاروی صاحب نے البدر کا شمارہ پیش کر دیا۔ مرزا ناصر خاموش ہوگیا۔
سوال ہوا جس نے مرزا کو دیکھا نہیں، نام نہیں سنا، اگر وہ مرزا کو نبی نہ مانے تو کیا وہ بھی کافر۔ جواب آیا محدود معنوں میں وہ بھی کافر۔
اٹارنی جنرل نے کہا مرزا نے روحانی خزائن میں صفحہ ایک سو تین ج تیرہ میں لکھا کہ میں خود خدا ہوں۔ جواب آیا یہ تو کشف ہے۔
سوال ہوا سارے غیر احمدی جن پر اتمام حجت ہو چکا ہے، کافر ہیں۔ جواب آیا کہہ تو دیا ہے اور کتنی دفعہ کہلوائیں گے۔
مرزا نے دوران سماعت دعوی کیا چودہ سو سالوں میں سینکڑوں انبیاء آئے۔ اٹارنی جنرل نے کہا وہ کون کون سے تو جواب آیا مجھے کیا معلوم۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ مرزا محمود انوار خلافت میں صفحہ 62 پر لکھتے ہیں، ’’میری گردن کے دونوں طرف تلوار رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی نہیں آ ئے گا تو میں اسے کہوں گا تو جھوٹا ہے کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آ سکتے ہیں اور ضرور آ سکتے ہیں‘‘ تو مرزا ناصر نے کہا حوالے درست ہیں، یہ امکان کی بات ہے۔
اٹارنی جنرل یحیی بختیار صاحب نے سوال کیا کہ مرزا بشیر نے25 اکتوبر 1920ء کے الفضل میں لکھا کہ مسلمانوں یعنی غیر احمدیوں سے رشتہ حرام ہے۔ مرزا ناصر نے جواب دیا کہ جو چیز فساد پیدا کرتی ہے، وہ ناجائز اور حرام ہے۔
اٹارنی جنرل نے مزید وضاحت کے لیے سوال کیا کہ مسلمانوں سے رشتہ باعث فساد ناجائز اور حرام ہے؟ جواب آیا جی بالکل۔

یہ بھی پڑھیں: ہیلی کاپٹر کے خرچے کا چرچہ - امجد طفیل بھٹی

سوال ہوا جو مرزا کو نہیں مانتا؟ جواب آیا وہ اللہ رسول کو نہیں مانتا۔ سوال ہوا جو اللہ رسول کو نہیں مانتا؟ جواب آیا وہ ملت اسلامیہ سے خارج، دائرہ اسلام سے خارج ہے، مسلمان نہیں ہے۔ سوال ہوا خدا اور رسول کا منکر کافر تو اس کا مطلب ہوا مرز ا کا منکر بھی کافر؟ جواب ملا جی بالکل مرزا کا منکر بھی ایسے ہے۔
اس پر شرکاء نے قہقہہ لگایا تو مرزا ناصر نے کہا آپ کیوں قہقہے لگاتے ہیں، میں نے بتا دیا کہ ایسے ہے۔
سوال ہوا کلمۃ الفصل میں صفحہ 110 پر لکھا ہے کہ ہر وہ شخص جو موسی ؑ کو مانتا ہے لیکن عیسی ؑ کو نہیں مانتا۔ یا عیسی ؑ کو مانتا ہے لیکن محمد ﷺ کو نہیں مانتا۔ یا محمد ﷺ کو مانتا ہے لیکن مرزا کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ تو کیا سارے کے سارے غیر احمدی کافر ہیں۔ جواب آیا جی ہاں! جن پر اتمام حجت ہو چکا ہے اور نہیں مانے، وہ کافر ہیں۔
یحی بختیار نے پھر یہی سوال کیا کہ کیا سارے غیر احمدی جن پر اتمام حجت ہو چکا ہے، کافر ہیں تو جواب آیا کہہ تو دیا ہے کتنی دفعہ کہلوائیں گے۔
سوال ہوا کہ مرزا نے اپنی کتاب ایک غلطی کا ازالہ میں صفحہ 6 پر لکھا ’’میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے اوپر نازل ہوتی ہے، وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسی ؑ اور حضرت عیسی ؑ اور حضرت محمد مصطفی ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا ‘‘۔ جواب آیا عبارت کی تصدیق کرتا ہوں، یہ صحیح ہے۔
یحیی بختیار نے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ مسلمانوں کے بارہ مہینوں یعنی محرم، صفر، ربیع الاول وغیرہ کی طرح آپ نے اپنے الگ مہینے بھی قائم کیے ہوئے ہیں (جو یہ ہیں: صلح، تبلیغ، امان، شہادت، ہجرت، احسان، وفا، ظہور، تبوک، اخاء، نبوت، اور فتح تو مرزا ناصر نے جواب دیا کہ افغانستان میں ایک کیلنڈر رائج ہے تو ہمارا بھی دل چاہا کہ ایک کیلنڈر شروع کریں تو ان مہینوں کے نام رکھ دیے، ورنہ ہمارا علیحدہ کوئی کیلنڈر نہیں۔
سوال ہوا کیا مرزا کا کلام قرآن مجید کی طرح اللہ کا کلام ہے۔ جواب آیا دونوں کا سرچشمہ ایک ہے۔ اٹارنی جنرل نے پوچھا کیا دونوں کا لیول (سطح) بھی ایک ہے؟ جواب آیا ہاں ایک ہے۔
اٹارنی جنرل نے پوچھا مرزا محمود نے الفضل 25 اپریل1915ء میں لکھا ہے کہ حدیث تو بیس راویوں کے پھیر سے ہمیں ملی، جبکہ الہام براہ راست ملا تو الہام مقدم ہے۔ مرزا کے منہ سے ہم نے جو باتیں سنیں، وہ احادیث و روایات سے زیادہ معتبر ہیں۔
مرزا ناصر نے کہا یہاں جو گھنڈی ہے وہ دیکھیں۔ یہاں راویوں کی بات آ جاتی ہے۔ تو کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ احادیث تو بیسیوں راویوں کے پھیر سے ملیں اور الہام مرزا صاحب کو براہ راست ملے، اس لیے مرزا صاحب کے الہام احادیث سے مقدم ہیں، جواب ملا جی ہاں۔
اٹارنی جنرل نے اب کے سوال کیا کہ مرزا صاحب! حدیث خواہ وہ سو گنا بھی صحیح ہو۔ امام بخاری کی ہو یا کسی اور کی، وہ مرزا کے کلام سے اوپر نہیں۔ مرزا غلام احمد کا کلام احادیث پر مقدم ہے۔ اس پر مرزا ناصر بولے کہ یہ مطلب تو آ ٹھویں کا بچہ بھی نہیں لے سکتا۔ حالانکہ وہ یہ بات پہلے تسلیم کر چکے تھے۔
اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں بے وقوف ہوں، موٹے دماغ کا ہوں، مگر آپ سے عرض کر رہا ہوں کہ آپ کے عقائد سے یہی نتیجہ نکلتا ہے۔
سوال ہوا کہ احمدیت اور سچا اسلام کے صفحہ0 1 پر لکھا ہے ’’ہمارا ایمان ہے کہ جیسا ماضی میں ہوتا رہا ہے، مستقبل میں بھی نبیوں کی جانشینی جاری رہے گی، کیونکہ سلسلہ نبوت کے مستقل اختتام کو عقل رد کرتی ہے یعنی تسلیم نہیں کرتی‘‘۔ مرزا ناصر نے اس کی تردید یا تائید نہیں کی بلکہ یہ کہہ کر ٹال دیا کہ دیکھ کر بتاؤں گا۔
اس پر آگے جا کر اٹارنی جنرل نے انہیں یاد دلایا کہ جب مرزا غلام احمد کہتے ہیں کہ نبوت میں ایک کھڑکی کھلی ہے تو آپ ہی کی جماعت کے آٹھ نو آدمیوں نے مرزا کی دیکھا دیکھی نبوت کا دعوی کر دیا جن میں ایک چراغ دین جمونی بھی ہے۔
اگلا سوال تھا مرزا غلام احمد کو کس کس زبان میں وحی آتی رہی۔ جواب آیا عربی، اردو، بعض دفعہ انگلش، پنجابی، فارسی۔
سوال ہوا مرزا غلام احمد نے کہا ہے (بحوالہ تحفہ گولڑویہ ص67 ۔روحانی خزائن صفحہ 153۔ج 21) کہ حضور نبی رحمت ﷺ کے معجزات تین ہزار اور مرزا کے معجزات کئی لاکھ ہیں (نعوذ باللہ)۔ جواب آیا مرزا صاحب کے معجزات بھی تو حضور ہی کے ہوتے۔
اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آ پ لوگوں کے نزدیک مرزا قادیانی اور حضور علیہ السلام میں کوئی فرق نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر پوری امت محمدیہ آپ لوگوں سے نالاں ہے کہ نعوذ باللہ آپ لوگوں نے مرزا کو آ نحضرت ﷺ کے ہم پلہ بنا دیا۔
اگلا سوال تھا جنہوں نے مرزا کو دیکھا کیا آپ ان کو صحابی سمجھتے ہیں۔ مرزا ناصر نے کہا ایک رنگ میں وہ بھی صحابی ہیں۔
یہاں مولانا ظفر انصاری بولے اور بتایا کہ مرزا نے اپنی کتاب (’’خطبہ الہامیہ‘‘ مندرجہ روحانی خزائن ص258.259 ج16) میں لکھا ہے کہ ’’من دخل فی جماعتی دخل فی اصحاب سید المرسلین‘‘ ۔کہ جو میری جماعت میں ڈاخل ہوا وہ سید المرسلین کے صحابہ میں شامل ہو گیا۔ اس کے جواب میں مرزا ناصر نے کہا جو کچھ ملا، وہ حضور کا فیض تھا۔


مولانا انصاری نے ترجمے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ’’جو میری جماعت میں داخل ہو گیا وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی جماعت میں داخل ہو گیا‘‘۔ تو مرزا ناصر نے کہا کہ ٹھیک ہے، ہم انہیں بھی صحابی مانتے ہیں جنہوں نے مرزا صاحب کا فیض پایا۔

مولانا انصاری نے سوال کیا آپ کے ہاں ام المؤمنین کسے کہا جاتا ہے۔ جواب آیا ہمارے ہاں جو ازواج مطہرات کی خادمہ ہیں اور مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کے ماننے والوں کی ماں ہیں۔
سوال ہوا کیا مسجد اقصی جہاں سے حضور ﷺ کو معراج پر لے جایا گیا، یہ قادیان کی کسی مسجد کا نام ہے جواب آیا مسجد اقصی قادیان میں بھی ہے۔
مولانا انصاری نے در ثمین اردو صفحہ 54 سے یہ شعر پڑھا
’’یہ پانچوں جو کہ نسل سیدہ ہیں
یہی ہیں پنج تن جس پر بنا ہے‘‘
شعر سنا کر انہوں نے مرزا ناصر نے سوال کیا کہ آ پ کے نزدیک پنج تن سے کیا مراد ہے۔ جواب آیا یہ وہ افراد ہیں جن کے بارے میں مرزا غلام احمد کو الہام ہوا تھا کہ ان کی نسل اور ان کے خاندان کی نسل آئندہ ان پانچ افراد سے چلے گی۔
مولانا انصاری نے سوال کیا کہ قرآن پاک میں بیت اللہ شریف کے لیے کہا گیا ہے من دخلہ کان امنا۔ یہ آیت تو مسجد حرام کے لیے ہے جبکہ مرزا نے یہی آیت قادیان کی اپنی عبادت گاہ کے لیے قرار دی ہوئی ہے۔ جواب آیا حضور ﷺ صرف مکہ مکرمہ کے لیے نہیں تھے۔
مولانا نے سوال کیا کہ مرزا نے آئینہ کمالات مندرجہ روحانی خزائن ج 5 صفحہ 352 پر لکھا ہے کہ قادیان میں حاضری نفلی حج سے زیادہ ثواب ہے۔ جواب آیا فرض حج کے بعد نفلی حج ہوتا ہے۔ احمدیوں کو ایسا کرنا چاہیے۔ قادیان آنا چاہیے۔ اچھی بات ہے۔آ کر اللہ رسول کی باتیں سنے گا۔ ویسے مولانا مودودی نے بھی کہا ہے کہ حج کے کچھ فوائد حاصل نہیں ہو رہے۔
اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیا مودودی صاحب نے یہ بھی کہا کہ حج کے فوائد حاصل نہیں ہو رہے تو مکہ جانے کے بجائے اب منصورہ آ جاؤ، وہاں حج ہو جاؤ۔ مرزامحمود تو کہتے ہیں یہاں قادیان میں سالانہ جلسہ حج کی طرح ہوگا۔
یہ ایک طویل روداد ہے جو کالم کی تنگنائے میں نہیں سموئی جا سکتی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ریاست نے جو فیصلہ کیا وہ کھڑے کھڑے نہیں کر دیا۔ ان کو سن کر کیا اور اسی بات کا اظہار بھٹو صاحب نے اپنی تقریر میں بھی کیا کہ مجھے سیاسی شہرت مقصود ہوتی تو میں کھڑے کھڑے یہ فیصلہ کر دیتا لیکن ہم نے یہ فیصلہ اسلامی اور جمہوری اصولوں کے تحت کیا۔
قادیانیوں کے حقوق کے حوالے سے بھی بات بہت واضح ہے۔ ان کو غیر مسلم قرار دینے کی جو قرارداد اسمبلی میں پیش کی گئی، خود اس میں ان کے حقوق کے تحفظ کی بات موجود ہے۔ اس کا آ خری پیراگراف پڑھ لیجیے، اس میں لکھا ہے:
’’اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کی کارروائی کرنی چاہیے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے، مسلمان نہیں، اور یہ کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تا کہ اس اعلان کو مؤثر بنانے کے لیے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں‘‘
ان کے حقوق کی بات اٹارنی جنرل نے بھی کی اور خود بھٹو صاحب نے بھی۔ اقلیتوں کے حقوق کی بات دستور پاکستان میں بھی کی گئی ہے۔
خلط مبحث سے اجتناب کرنا چاہیے۔ قادیانیوں پر کہیں ظلم ہوتا ہے تو اس کی مذمت ہونی چاہیے اور کھل کر ہونی چاہیے۔ ان کے حقوق کہیں پامال ہوتے ہیں تو ریاست کا فرض ہے ان کی داد رسی کرے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمدردی میں انہیں مسلمان تسلیم کر لیا جائے۔ اسی طرح وہ غیر مسلم ہیں اس میں کوئی شک نہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے حقوق سلب ہو گئے۔ انہیں وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو نبی رحمت ﷺ نے اقلیتوں کے لیے طے کر رکھے ہیں۔
اگر وہ خود کو غیر مسلم مان لیں توان حقوق کی دستیابی کا معاملہ مزید آسان ہو سکتا ہے۔ مسلمانوں کا مسئلہ سمجھیے۔ ایک صاحب کے پیچھے نماز تک پڑھ لینے کے بعد اگر اسے معلوم ہو کہ وہ تو مسلمان نہیں قادیانی تھا تو پھر معاملہ کچھ اور ہو جاتا ہے۔ مسلمانوں پر جبرا یہ مسلط نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ختم نبوت کے منکرین کو مسلمان تسلیم کر لیں۔ قادیانی بطور اقلیت دستور میں طے کردہ حدود و قیود کو تسلیم کر لیں تو معاملہ بہت آسان ہو جائے۔ بصورت دیگر یہ بات تو طے ہے کہ اسلام پر قادیانیوں کا دعوی ناقص ہے جسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ نہ کل قبول کیا گیا نہ آج قبول کیا جائے گا اور نہ ہی آئندہ اس کی گنجائش ہوگی۔


https://daleel.pk/2018/09/07/84619/amp?__twitter_impression=true
یہ بات سچ ہے کہ مرزائی مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ اس بنیاد پر کہ عیسیٰ کو نہ ماننے والا کافر ہے، اور مرزا خود عیسیٰ تھا۔
 

gorgias

Chief Minister (5k+ posts)
یار سیدھی مثال سے آپکو سمجھاتا ہوں
عیسائی رسول کریم کو نہی مانتے ، سب جانتے ہیں
اگر کوئی عیسائی رسول کریم پر ایمان لے آئے کہ یہ نبی ہیں اور خود کو عیسائی کہتا رہے تو عیسائی کبھی نہی مانیں گے
اسکو غیر عیسائی یا مرتد ہی سمجھیں گے


اسی طرح مرزا صاحب نے خود کو نبی تو بنا دیا لیکن ڈرتے مارے اپنی قوم کو کوئی نام نہی دیا بلکہ کہا کہ ہم ہی اصل مسلمان ہیں

اب ہماری قوم ایک نمبر کی پیر پرست ہے
مرزا صاحب کے پیروکاروں نے دوسروں کا کافر سمجھنا شرو کر دیا اور خود کو مسلمان
اب اصل مسلمانوں کو ہوش آیا تو انہو نے چک کے باہر پھینکا ہے


ان کو چاہئے کہ اپنا نام کوئی دوسرا رکھ لیں جو" مسلمان" نہی ہو

اور اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ جو شخص حضرت عیسیٰ کو نبی مانتا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ کو نبی نہیں مانتا تو عیسائی یا مسیحی ہے۔
جو شخص حضرت عیسیٰ کے بعد رسول اللہ ﷺ کو بھی نبی مانتا ہے وہ مسلمان ہے۔

اب جو رسول اللہ کے بعد بھی کسی کو نبی مانتا ہے وہ اپنے مذہب کا کچھ اور نام رکھے۔
 

gorgias

Chief Minister (5k+ posts)
یہ بات سچ ہے کہ مرزائی مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ اس بنیاد پر کہ عیسیٰ کو نہ ماننے والا کافر ہے، اور مرزا خود عیسیٰ تھا۔

ارے بھائی مراز حرف عیسیٰ نہیں تھا۔
وہ آدم تھا، وہ موسیٰ تھا،وہ عیسیٰ تھا،وہ مہدی تھا، وہ محمد تھا۔۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ وہ خُدا بھی تھا۔۔۔۔
بس جب اسے خفقان کا دورہ پڑتا وہ بہت کچھ ہو جاتا۔۔
 

gorgias

Chief Minister (5k+ posts)
جو جو دعوے مرزا نے وحی کے متعلق کیئے ہیں ایسی ہی چولیں ہمارے کئی صوفیاء نے بھی ماری ہیں ۔
ابن عربی کو پڑھ لیں ، منصور کے متعلق پڑھ لیں وغیرہ وغیرہ ۔
لیکن وہ پھر بھی مسلمان کے مسلمان ۔ کیسے منافق لوگ ہیں ۔

کیا ان لوگوں نے بنوت کا دعویٰ کیا تھا؟
 

Vitamin_C

Chief Minister (5k+ posts)
I dont think learning Arabic will solve all the problem, Arabic just like any language also evolved over time. What makes it harder is that the Quran is not ordered in Chronological order. The easiest way to do it is to read with reference to authentic Tafsirs and you can compare it with Hadith and Prophets biography. This requires a bit of work as Tabari and Ibn Ishaq are written in chronological order but Quran is not, so you have to match parts of the Quran to the biography with help from the Tafsir. To be honest many hadiths are taken from the biography and the biography was written centuries before the hadiths were compiled so you can just use the quran with Tafsir and biography and refer to the hadiths if you want more context.

Most of It ....almost all..
the best way to realize is to learn Arabic a bit ..just basic and translate it and then find out the difference in real Quran and translations of different thoughts ...
i don't have personal difference with you or any person ....
But it is fact ...and I did that by myself ....
 

patriot

Minister (2k+ posts)

کیا ان لوگوں نے بنوت کا دعویٰ کیا تھا؟
جی نہیں ، نبوت کا دعوٰی نہیں کیا تھا مگر نئے نبی کے آنے کو ممکن ضرور کہا تھا ۔
اب یہ نہ سمجھ لیں کہ میں بھی ان سے متفق ہوں ۔
ختم نبوت پر کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیئے ۔
قرآن محفوظ ہے ۔
 

patriot

Minister (2k+ posts)
شاید اپ کی یہ بات بالکل بھی درست نہیں - آپ ایک بے بنیاد بات نہ کریں -منصور یا ابنِ عربی کے فرمودات کا مکمل طور پر مختلف کنٹکست ہے اور معنی ہیں ـ اس بات کی ہرعام و خاص کو سمجھ ہے ـ تصوف کا ویسے بھی تعلق" اخلاق" اور اور "ذات" کی نو عیت سے ہے نہ کہ شریعت سے - حنفی ہوں یا بریلوی وہ تصوف کو مانتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں، وحدت الوجود اور شہود سے بعض اختلاف ہے مگر در اصل وہ بھی فروعی ہیں ـآپ کا دل چاہیں تو مانیں کہ ہم جیسے جاہل انکی تحریر کو پڑھ اور سمجھ چکےـ
، خیر سب بات فضول ہے کہ آپ نے پھر بھی منافق اور جھوٹا قراد دے دینا ہے، جیسا آپ کا دل چاہے اور خوش رہیںــ

مگر ان سب معاملات اور اختلافات میں ایک لٹمس ٹیسٹ ہے جو منطق کے مطاابق ہے ،ـــ
وہ یہ کہ ہم کسی کے عقاید میں شاید مکمل کبھی نہ جھانک سکیں مگر یہ سوال تو کر سکتے ہیں کہ کسی کے عقاید کے مطابق ہم (یا وہ جو انکے پیروکار نہیں) مسلمان ہیں یا نہیں - واضح انکار کی صورت میں یہی بچا کہ یا ان کا انکار کریں یا اپنا کر لیں، تیسری تو کچھ راہ نہیں ــ انہی کو خوارج کہا جاتا ہے جو اپنے "عقاید" کی بنا پر امتِ مسلمہ کو غیر مسلم قرار دے دیں اور منطق کی رو سے انہیں رد کیا جاتا ہے ــ
تصوف کے کسی بھی سلسلے میں یا مختلف دوسرے مختلف فرقوں کے "عقاید" کے حوالے سے یہ مسلہ سرے سے در پیش ہی نہیں -
جب بہائیوں کے حوالے سے ایسا مسلہ پیش آیا تھا تو خیر و خوبی سے انہوں نے اپنے مذہب کو علیحدہ کر لیا - اب قادیانیوں کے پاس بھی یہی حل ہے ، یا تو ہمیں بھی مسلمان مان لیں یا پھر اپنے علیحدہ مذہب کو مان لین ـ امید ہے آپ قادیانیوں سے التجا کریں گے کہ وہ اپنے پرانے عقاید سے رجوع کر کے مسلمانون کو غیر مسلم اور کافر نہ مانیںــ


محترم آپ نے میرے بارے غلط رائے قائم کی ہے ۔ میں آپ کو منافق اور جھوٹا کیوں کہوں گا؟ قیاس ہے کہ آپ بھی میری طرح ایک طالب علم ہیں ۔
اب آتے ہیں صوفیاء کی طرف ۔
ان لوگوں نے رسول اللہﷺ کی وحی کے بعد وحی کو ممکن کرار دیا بس نام بدل لیا ، الہام رکھ لیا مگر سر چشمہ ایک ہی کہا۔
گو کہ خود نبوت کا دعویٰ نہیں کیا ، جرأت نہیں کی مگر نئی نبوت کو ممکن کہا۔
مرزا صاحب نے ایسی ہی تحریروں سے اپنے دعوے کی بنیاد رکھی اور ہمارے نام نہاد علماء کی طرف سے عیسیٰؑ اور امام مہدی کے لیئے بنائی گئی کرسیوں پر بیٹھ گئے ۔
احمدی ہمیں کافر سنجھتے ہیں ان کے کہنے یا سمجھنے سے ہم کافر نہیں ہو جاتے ۔
ہم ان کو کافر کہتے ہیں اور ہمارے کہنے سے وہ خود کو کافر نہیں مانتے ۔
میرے خیال میں کافر مسلم کا فیصلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا چاہیئے یہ فیصلے اللہ کے ہیں اسی کو کرنے دیں ۔
 

Smiter

MPA (400+ posts)
ارے بھائی مراز حرف عیسیٰ نہیں تھا۔
وہ آدم تھا، وہ موسیٰ تھا،وہ عیسیٰ تھا،وہ مہدی تھا، وہ محمد تھا۔۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ وہ خُدا بھی تھا۔۔۔۔
بس جب اسے خفقان کا دورہ پڑتا وہ بہت کچھ ہو جاتا۔۔
ویسے تو اسے جو چاہے بنا دیں، لیکن مرزا کا بنیادی
دعویٰ یہ تھا کہ وہ عیسیٰ ہے۔
اسی لیئے مرزائی مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں، کہ کسی نبی کا انکار کرنے والا کافر ہے۔
تو بات صرف اتنی ہے کہ اگر مرزائی ہمیں کافر کہتے ہیں تو ہمارے انہیں کافر کہنے پر اعتراض کیوں کرتے ہیں۔
 

Raaz

(50k+ posts) بابائے فورم
اور اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ جو شخص حضرت عیسیٰ کو نبی مانتا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ کو نبی نہیں مانتا تو عیسائی یا مسیحی ہے۔
جو شخص حضرت عیسیٰ کے بعد رسول اللہ ﷺ کو بھی نبی مانتا ہے وہ مسلمان ہے۔
اب جو رسول اللہ کے بعد بھی کسی کو نبی مانتا ہے وہ اپنے مذہب کا کچھ اور نام رکھے۔
یہی تو مرزا نے دھوکہ دیا کہ لوگوں کو کہا کہ تم مسلمان ہو
اگر کہتا کہ جو مجھے نبی مانتا ہےوہ مسلمان نہی بلکہ" غلامی" ہے تو سب بھاگ جاتے ، کوئی اسکو نہ مانتا

مزے کی بات ہے مرزے کا نام بھی غلام احمد تھا
کبھی کسی نبی کا نام
غلام یا عبد سے نہی ہوتا ، نبیوں کے نام الله تعالیٰ خود رکھتا ہے
 

Raaz

(50k+ posts) بابائے فورم
محترم آپ نے میرے بارے غلط رائے قائم کی ہے ۔ میں آپ کو منافق اور جھوٹا کیوں کہوں گا؟ قیاس ہے کہ آپ بھی میری طرح ایک طالب علم ہیں ۔
اب آتے ہیں صوفیاء کی طرف ۔
ان لوگوں نے رسول اللہﷺ کی وحی کے بعد وحی کو ممکن کرار دیا بس نام بدل لیا ، الہام رکھ لیا مگر سر چشمہ ایک ہی کہا۔
گو کہ خود نبوت کا دعویٰ نہیں کیا ، جرأت نہیں کی مگر نئی نبوت کو ممکن کہا۔
مرزا صاحب نے ایسی ہی تحریروں سے اپنے دعوے کی بنیاد رکھی اور ہمارے نام نہاد علماء کی طرف سے عیسیٰؑ اور امام مہدی کے لیئے بنائی گئی کرسیوں پر بیٹھ گئے ۔
احمدی ہمیں کافر سنجھتے ہیں ان کے کہنے یا سمجھنے سے ہم کافر نہیں ہو جاتے ۔
ہم ان کو کافر کہتے ہیں اور ہمارے کہنے سے وہ خود کو کافر نہیں مانتے ۔
میرے خیال میں کافر مسلم کا فیصلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا چاہیئے یہ فیصلے اللہ کے ہیں اسی کو کرنے دیں ۔
چلو کافرکے فیصلے کو تو چھوڑو ، کیا کوئی نبی رسول کریم کے بعد ہو سکتا ہے یا ہو گا ؟؟؟ یا آیا ہے ؟؟
الہام اور چیز ہے اور وحی اور چیز ہے
الحاموں کی بنیاد پر کوئی نبی نہی بنتا سواے مرزے کے

کس قسم کی کچی عقل ہے آپ کی اور کچی معلومات ہیں
پرویز کے قرانی ترجمے اور مرزے کے ترجمے میں بہت ہی کم فرق ہے
 

Back
Top