
اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں گورننس سے متعلق تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے اپنے وفد کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے اعلیٰ سطحی ذرائع نے ڈان نیوز کو تصدیق کی ہے کہ آئی ایم ایف کا یہ وفد پاکستان کے دورے پر آ رہا ہے، جہاں وہ گورننس کے مختلف پہلوؤں پر تکنیکی مشاورت فراہم کرے گا۔
ذرائع کے مطابق، اس دورے کا مقصد گورننس سے متعلق امور کا فالو اپ کرنا ہے۔ تاہم، اس دوران آئی ایم ایف کا پاکستان کے بجٹ کے حوالے سے کوئی دورہ یا بات چیت شیڈول نہیں ہے۔ یہ دورہ اس وقت اہمیت اختیار کرتا ہے جب آئی ایم ایف کی جانب سے گورننس اور کرپشن کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات کی تعریف کی جا چکی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے، آئی ایم ایف کے مشن نے 6 فروری سے 14 فروری 2025 تک پاکستان کا دورہ کیا تھا، جس کا مقصد گورننس اور بدعنوانی کے تشخیصی جائزے کی تیاری کے لیے ابتدائی کام مکمل کرنا تھا۔ اس مشن کا اہم مقصد ریاست کے چھ بنیادی افعال میں گورننس اور بدعنوانی کے خطرات کا جائزہ لینا تھا، جن میں مالیاتی حکمرانی، مرکزی بینک کی حکمرانی اور آپریشنز، مالیاتی شعبے کی نگرانی، مارکیٹ کے ضوابط، قانون کی حکمرانی، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد کے اقدامات شامل تھے۔
آئی ایم ایف کے اس مشن نے پاکستان کے مختلف اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کیں، جن میں وزارت خزانہ، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، وزارت قانون اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکام شامل تھے۔ اس کے علاوہ، ایس ای سی پی اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے حکام سے بھی ملاقاتیں کی گئیں۔ وفد نے کاروباری برادری، سول سوسائٹی اور عالمی پارٹنرز سے بھی مشاورت کی۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کی حکومت کے گورننس سے متعلق سنجیدہ اقدامات اور عزم کو سراہا اور تعاون بڑھانے کی امید ظاہر کی۔ اس کے بعد، 26 مارچ کو وفاقی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کے نئے معاہدے اور 37 ماہ کے بیل آؤٹ پروگرام کے پہلے جائزے پر اتفاق بھی ہوا۔