آدھے سے زیادہ سندھ کی سرکاری زمینوں پر قبضہ ہے،کہانیاں مت سناؤ:چیف جسٹس

sindh%20cjp.jpg


پورے کراچی پر قبضہ ہے اور صرف9 کیسز ہیں،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سرکاری زمینوں کےریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،عدالت سینئرممبر بورڈ آف ریونیو پر برہم کا اظہار کیا اور رپورٹ مسترد کردی۔

چیف جسٹس نے بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہمارے ساتھ کھیل مت کھیلیں، جائیں جاکر قبضہ ختم کرائیں،آدھے سے زیادہ زمینوں پرقبضہ آپ کو نظرنہیں آتا،ہمیں بیوقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں،حکم پر عمل درآمد کریں ورنہ توہین عدالت کا کیس چلے گا۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ کیا یہ 15،20 منزلہ عمارتیں قانونی ہیں؟ کمیٹی کی کہانیاں مت سنائیں،سکھر جیسے شہر میں صرف ایک کیس ہے،اینٹی انکروچمنٹ عدالتیں بھی کچھ نہیں کر رہیں،جائیں اور جاکر قبضہ ختم کرائیں۔


چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آدھا کراچی قبضہ ہوا ہے، ملیر چلے جائیں ، گلستان جوہر ، یونیورسٹی روڈ سب دیکھ لیں ، یہ جو 15 اور بیس بیس منزلہ عمارتیں بن گئیں کیا قانونی ہیں ؟ سب غیر قانونی ہے،حیدرآباد، لاڑکانہ، اور بینظیر آباد میں کوئی کیس نہیں؟پورا حیدر آباد انکروچڈ ہے۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ آپ مافیا کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ؟ ان کا تحفظ کررہے ہیں ؟ آپ شکایت کیوں نہیں بھیجتے ؟ کیا مفادات ہیں آپ کے ؟جسٹس اعجاز الاحسن نےریمارکس دیے پورے کراچی پر قبضہ ہے، صرف نو کیسز ہیں، بتائیں اب تک کتنی سرکاری زمینیں واگزار کرائیں؟

سینئر ممبر نے کہا کہ ہم کوشش کررہے ہیں ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کررہے ہیں ، کورنگی میں قبضے کے خلاف کارروائی بھی شروع کررہے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ اب تو آپ کہیں گے سپریم کورٹ کا حکم ہے لہذا زیادہ ریٹ ہوں گے، اب تو وہاں ریٹ بڑھ گئے ہوں گے آپ کے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی کے گرد و نواح میں جائیں دیکھیں سب غیر قانونی تعمیرات ہورہی ہیں،جائیں جو نام نہاد موٹر وے بنایا ہے وہاں سب قبضہ ہے ، ایئرپورٹ کے ساتھ بھی یہ زمینیں نظر نہیں آتیں ، غیرقانونی ہے؟ آپ حکم پر عمل درآمد کریں ورنہ توہین عدالت کا کیس چلے گا اور جیل جائیں گے ، آپ کا کام عملی نظر آنا چاہیے۔

چیف جسٹس نے قبضہ ختم کرنے سے متعلق سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی رپورٹ مسترد کردی، عدالت نے سندھ میں سرکاری زمینوں سے قبضہ ختم کرانے کا حکم دیتے ہوئے ایک ماہ میں جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
 
Advertisement
Sponsored Link