اسلام اتحاد , امن ،محبت ،رواداری کا مذہب ہے

Sarfraz1122

MPA (400+ posts)
-----------اسلام اتحاد اور امن ،محبت ،رواداری کا مذہب ہے نہ کہ تفریق کا -------


ہمارے معاشرے میں مسلکی اور مذہبی اختلافات کی بنا پر نفرت اور عدم برداشت عام
ہے -ہر انسان کا مذہبی عقیدہ رکھنا اس کا حق ہے لیکن کسی دوسرے کو اس کے مختلف عقیدے کی بنا پر نشانہ بنانا ظلم ہے -بات شرک کے تصور سے شروع کرتے ہیں-یہ انسان کی فطری کمزوری ہے کہ وہ کچھ شخصیا ت اور اشیاء کو ان کے منفرد خواص کی بنا پر خدا کے بہت قریب یا خدا جیسا تصور کرنے لگتا ہے - اکثر مذہبی رہنماء اس تصور کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں -اور پھر یہاں سے قبروں کا کاروبار شروع ہوتا ہے -لیکن اکثر لوگ ان چیزوں کو صرف محبت ،احترام اور تقدس کی نیت سے مانتے ہیں -لہذا یہ شرک کا زمرے میں نہیں آتا -لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ ہمارے فرقوں کے دینی مدارس میں اکابر نامی بت کی پرستش سکھائی جاتی ہے۔...بہت سے مذہبی رہنما لوگوں پر اپنی سوچ کو لوگوں پر حد سے زیادہ خوف اور لالچ میں مبتلا کر کے مسلط کرتے ہیں اور پھر اس سے اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں -ان کے ماننے والوں کو اپنے خاص مسلک کے مذھبی رہنماو ں کی سوچ کے علاوہ دنیا میں کوئی دوسرا سچ اور حقیقت نظر نہیں آتی -اور پھر یہ لوگ ان مذھبی رہنما و ں کی تقلید میں ہر غلط کام بھی کر گزرتے ہیں - یہ لوگ دراصل فطرت کے قوانین کا انکار کرتے ہیں -جو تمام دنیا کے انسانوں پر بلا تفریق لاگو ہوتے ہیں --


اکثر لوگ تمام غیر مسلم کو کافر بتا کر سب کو ایک ہی پلڑے میں تولتے ہیں جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے اگر ہم قرآن کی سہی فکر کو سمجھیں تو یہ نظریہ غلط ثابت ہوتا ہے--سورہ البقرہ کی آیات ٦٢ میں ہے -
"بے شک جو ایمان لائے، جو یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابئی۔ ان میں سے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان لایا اور جس نے عمل صالح کیا تو اس کے لیے اس کے رب کے پاس اجر ہے اور ان کے لیے کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے"

اسلام سے پہلے عرب معاشر ہ ظلم کے نظام میں گھرا ہوا تھا-عرب کےمشرک ،یہودی عیسائی مذہبی رہنماؤں نے مذہب کو دولت کمانے اور عوام پر ظلم کرنے کا ذرریعہ بنا لیا تھا -ظالم حکمرانوں کو ان ظالم مذھبی لوگوں کا ساتھ حاصل تھا --عام لوگ اس ناانصافی اور ظلم کے نظام سے تنگ تھے-محمّد (ص) نے پہلے تو لوگوں کو اپنے حسن سلوک اور بردارشت ،اخلاق کی طاقت سے لوگوں کو زیر کیا-لیکن اس کے بعد اسلام کی مقبولیت کو دیکھ کر مخالفین طاقت کے زور پر اسلام کو روکنا چا ہتے تھے -لہذا ایسے حا لا ت میں جنگ کا ہونا لازمی امر تھا -لازمی کافر وہ جنہوں نے نبی (ص ) کی مجودگی میں حق سے انکار ہے -کیونکہ اس وقت حق کو تسلیم کرنے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا -نبی (ص ) خود سچ ،انصاف ،برابری پر کھڑے تھے اور ان کے دشمن باطل ،ناانصا فی اور ظلم کے ساتھ کھڑے تھے --اس سلسلے میں قرآن میں نبی پر نہ ایمان لانے والوں کو جہنم کی سزا دی گئی ہے وہ اصل میں نبی (ص ) کے دور کے ان مخالفین کی سزا ہے جن پر سچ واضح ہو چکا تھا لیکن وہ اپنی آنا ،غرور ،ظلم کی وجہ سے سچ کو نہیں مان رہے تھے ---


ماضی کے دنیا کے بہت سے علاقوں ،ہزاروں کی تعداد میں جزیروں اور بڑے بڑے براعظمو ں کا باقی دنیا سے کوئی رابطہ ہی نہیں ہوتا تھا -اور وہاں پر رہنے والے لوگوں کے اپنے مختلف علا قا ی عقید ے اور مذہب ہوتے تھے - اسلام تو اپنے آغاز سے اب تک دنیا کے بہت سے حصوں میں پہنچ ہی نہیں سکا -اور دنیا کہ بہت سے حصوں میں بہت دیر بعد پہنچا-ان لوگوں نے اپنی سا ری زندگی میں نہ اسلام کا نام سنا اور نہ ہی اسلام کا پیغام ان تک واضح صورت میں پہنچا-جیسے چین ،کوریا ،افریقہ،براعظم اسٹریلیا اور امریکا وغیرہ کے بہت سے علاقے اور جزیرے - اس کے علاوہ وقت کے ساتھ مسلمان آپس کی لڑائیوں ، ،مفاد پرستی حکومت اور دولت کے لئے لوٹ مار اور قتل و غارت،اکثر مذھبی لوگوں کی مذھب کی غلط تشریحات اور غلط استعمال،تفرقہ بازی، کی وجہ سے اسلام کا اصل پیغام جو کے امن اور انصاف ،رواداری اور برابری کا تھا بری طرح مسخ ہو گیا -اور دوسرے غیر مسلموں کے لئے اسلام کے حقیقی پیغام کو سمجنا بہت مشکل ہو گیا
--اور اگر خدا نے اسلام کو ماننے اور نہ ماننے کی بنیاد پر ہی فیصلہ کرنا ہوتا تو جس طرح خدا نے نبی(ص ) کے ذ ریعے عرب لے لوگوں تک اسلام کا واضح پیغا م بھیجا اس طرح دنیا کے باقی علاقوں میں بھی اسی وقت اسلام کا واضح پیغام بھیج سکتا تھا -ا س لئے آج کے دور میں ہم یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کس پر اسلام کا اصل پیغا م واضح ہے اور کس پر نہیں ---اس لئے یہ فیصلہ الله پر چھوڑ دیں --اور غیر مسلم کو غیر مسلم ہی کہنا بہتر ہے


بہتر عقائد انسان کو اچھے کام کرنے کے قابل بناتے ہیں-اور عبادت انسان کو روحانی سکون اور مثبت سوچ دیتی ہیں-مذہب انسان کو یقین کی طاقت دیتا ہے جس سے انسان زندگی کی بہت سی مشکلات کا مقابلہ کرتا ہے-لیکن فطرت کا انصاف محظ عقائد پر نہیں بلکہ اعمال کا تقاضا کرتا ہے - کوئی بھی انسان اگر وہ ایسے اعمال اختیار کرتا ہے جس سے معاشرہ خوشحا لی ،انصاف ،امن ،برابری ،احساس کا گہوارہ بنتا ہے- اور جن کا یہ ایمان ہے کہ" جرم اور دوسروں کا نقصان کرنے والے کا انجام برا ہی ہوتا ہے" ان لوگوں کا یہ ماننا اسے ہی ہے جسے خدا کو ماننا - تو ایسے انسان اور معا شرے کے لئے دنیا کی زندگی بھی بہتر ہے اور دنیا کے بعد کی زندگی بھی پرسکون ہے --
اور یہی فطرت کا قانون ہے جو سب انسانوں پر برابر لاگو ہوتا ہے -اور سب کے لئے ایک ہے ایک ہے ایک ہے

 
Advertisement
Last edited by a moderator:

atensari

President (40k+ posts)
Re: اسلام اتحاد , امن ،محبت ،رواداری کا مذہب ہ&#1746

aPyBnWg_700b.jpg
 

Phoenix11230

MPA (400+ posts)
Re: اسلام اتحاد , امن ،محبت ،رواداری کا مذہب ہ&#


That is not democracy. It is imperialism at its finest. The spirit of democracy is not limited inside America it applies equally to all, a fact that Americans conveniently forget.
 

atensari

President (40k+ posts)
Re: اسلام اتحاد , امن ،محبت ،رواداری کا مذہب ہ&#

That is not democracy. It is imperialism at its finest. The spirit of democracy is not limited inside America it applies equally to all, a fact that Americans conveniently forget.
امریکہ دنیا میں جو کر رہا ہے تصویر میں وہی دیکھایا گیا ہے
 

نادان

Prime Minister (20k+ posts)
Re: اسلام اتحاد , امن ،محبت ،رواداری کا مذہب ہ&#1746



-----------اسلام اتحاد اور امن ،محبت ،رواداری کا مذہب ہے نہ کہ تفریق کا -------


اب اسلام میں جمع نہیں صرف تفریق ہوتی ہے
 

Haris Abbasi

Minister (2k+ posts)
Re: اسلام اتحاد , امن ،محبت ،رواداری کا مذہب ہ&#

بہت خوب لکھا ہے آپ نے ،یہ حقیقت ہے ہم نے اسلام کا غلط استعمال کیا اور اصل اسلام سے دور ہو گئے
 
Last edited:

saafsaaf

MPA (400+ posts)
Re: اسلام اتحاد , امن ،محبت ،رواداری کا مذہب ہ&#1746

​عمدہ تحریر،قابل قدر سوچ
 
Sponsored Link