تمام حساب کتاب قانون کے مطابق رکھنے پرفارن فنڈنگ کیس میں پکڑے گئے،صدر مملکت

13arifalvilahoremedia.jpg

تمام حساب کتاب قانون کے مطابق رکھنے پر فارن فنڈنگ کیس میں پکڑے گئے۔ امریکہ اور کینڈا کے قانون کے مطابق وہاں کمپنی کھولنے کیلئے کمپنی بنانا پڑتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ تمام حساب کتاب قانون کے مطابق رکھنے پر فارن فنڈنگ کیس میں پکڑے گئے۔ امریکہ اور کینڈا کے قانون کے مطابق وہاں کمپنی کھولنے کیلئے کمپنی بنانا پڑتی ہے۔ قانون کے مطابق کمپنی کھولی گئی جس پر کہا پرائیویٹ کمپنی ہے۔


صدر مملکت کا کہنا تھا کہ بطور تحریک انصاف کے سیکرٹری میں نے ہی سیما ضیاء اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو اکائونٹ کھولنے کا کہا تھا، تمام حساب کتاب قانون کے مطابق رکھنے پر فارن فنڈنگ کیس میں پکڑے گئے۔ عمران خان کا اقتدار ختم ہونے پر تحریک انصاف کے دوستوں نے بہت مشورے دیئے لیکن میرے پاس صرف آئینی بندوق ہے، اسی سے چڑیا مار سکتا ہوں یا میزائل لگا سکتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں سیاستدانوں کے ایک ساتھ نہ بیٹھنے کے حوالے سے پریشان ہوں اور سٹیک ہولڈرز کو بتاتا رہتا ہوں کہ خلیج بڑھتی جا رہی ہے، چیزیں ٹھیک نہیں، جب محسوس کیا مجھے کوئی کامیابی نظر آئے گی تو سب سے کہوں گا کہ ایک میز پر اکٹھے بیٹھ جائیں، صدر مملکت کی حیثیٹ سے خود انہیں اکٹھا نہیں کر سکتا، صرف کہہ سکتا ہوں، سیاستدانوں میں خلیج کو کم ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) منصوبہ میرا تصور ہے، نوازشریف اور آصف علی زرداری کے دور سے کوشش کر رہا ہوں، نوید قمر اور سازیہ مری قومی اسمبلی میں ای وی ایم پر بنی کمیٹی میں شامل تھے، اور سب اس پر متفق تھے۔اپنی آئینی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آگاہ ہوں، تمام سیاسی پارٹیوں کو پاکستان کے اہم معاملات افہام وتفسیم سے حل کرنے چاہئیں، کسی بھی حکومت کے آنے پر آئندہ کا لائحہ عمل موجود ہو گا۔

صدر مملکت نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ سب کو ایمنسٹی دے کر کلیئر کر دینا چاہیے۔ پاکستان میں مینجمنٹ کے حوالے سے سابق وزیراعظم عمران خان کو اآگاہ کرتا رہا لیکن ان کا اپنا موقف ہے، سوشل میڈیا 90فیصد اچھا ہے، سب کچھ برا نہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف سے میری جتنی ملاقات اور فون پر گفتگو ہوئی اتنی بطور وزیراعظم عمران خان سے بھی نہیں ہوئی، وہ میرے لیڈر اور دوست ہیں، وٹس ایپ پر رابطہ رکھتا ہوں۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ موجودہ اتحادی حکومت کی طرف سے صدر 85 سمریاں آئیں، صرف چار یا پانچ روکیں۔ چند ماہ قبل تمام سیاسی پارٹیاں جلد الیکشن پر قائل تھیں، اب رائے بدل لی ہے، انتخابات ہی بہترین حل ہیں، معاملات مل بیٹھ کر طے کرنے چاہئیں کہ کب انتخابات ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئینی سربراہ ہوں اور سب ادارے میرے ہیں، ان کا احترام کرتا ہوں، آرمی چیف اور عدلیہ کی تقرری پر بھی باتیں ہوتی رہتی ہیں، چیف جسٹس نے ججز کی تقرری پر کہا کوئی معیار ہوناچاہیے اور میں اس بات کا حامی ہوں۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کا حلف عدالتی حکم پر رات 2 بجے لیا، میں نے انہیں صبح حلف لینے کا مشورہ دیا تھا۔

فوج کو زیر بحث نہ لانے کے لیے سیاستدانوں کو سمجھاتا رہا ہوں کہ ایسا نہ کریں، فوج ملکی سلامتی کی ضامن، متنازع نہیں بنانا چاہیے، دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنا فوج کا ہی کام تھا، احترام کرنا چاہیے۔
 

sensible

Chief Minister (5k+ posts)
Very ambiguous statements by Arif Alvi.
Either the writer is confused, or Arif Alvi, something doesn't seem to be right
عارف علوی صاحب اب کس بات پر بٹھانا چاہتے ہیں؟ جو قوانین امپورٹڈ نے چینج کر لیے وہ کوی ملک دشمن ہی ان کے ساتھ بیٹھ کر چینج کر سکتا تھا جس نے ملک لوٹا نہ ہو وہ کیسے ایسے قوانین بنا سکتا ہے؟پہلے سے ان کے باوجود ایک ایلیٹ کلاس تھی جس کا کچھ بگڑ نہیں رہا تھا لیکن انہوں نے شرم کا پردہ بھی ختم کر دیا اب ان کو کسی قانون کے نہ ہوتے کون روکے گا بٹھانا اس بات پر ہے کہ عمران حکومت میں آئے تو یہ قوانین ریورس بلکہ اس سے بھی سخت نہ کر دے اور فوجی ایلیٹ اور ان کے رشتہ داروں کا بھی حساب نہ کرنے لگے
 

Arrest Warrant

Councller (250+ posts)
chahey saddar -e-Pakistan hai,
magar arif alvi insaan hai.
aur insaano ki families hoti hein.
establishement ke moonh jo soor ka khoon laga hai,
woh kamzarf kisi bhi level per jaa saktey hain
 
Sponsored Link