حامد میر کا ایک اور دعویٰ "جھوٹ" ثابت، شہباز گل نے فیک نیوز قرار دے دیا

10hamidmirfakenews.jpg

اسلام آباد میں صحافی محسن بیگ کی گرفتاری کےمعاملے پر سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر کے جھوٹ کا پردہ فاش ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل بول نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ محسن بیگ کے گھر چھاپے کے دوران ایف آئی اے کا جو اہلکار زخمی ہوا سے عدالتی حکم کے باوجود عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت میں اس اہلکار کو پیش نہ کرنے کی 2 وجوہات ہوسکتی ہیں کہ یا تو وہ شخص ایف آئی اے کا نہیں کسی اور ادارے کا اہلکار تھا یا پھر وہ شخص ا یف آئی اے کی اس چھاپہ مار ٹیم کا حصہ نہیں تھا جس نے محسن بیگ کے گھر پر چھاپہ مارا۔


حامد میر کے اس دعویٰ پر وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے ٹویٹر پر ردعمل دیتے ہوئے اسے "فیک نیوز" قرار دیا اور کہا کہ محسن بیگ کے ہاتھوں زخمی ہونے والے اہلکار کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔


ڈاکٹر شہباز گل کے علاوہ نجی خبررساں ادارے جی این این کے رپورٹر اور اسلام آباد کے ایک صحافی عمران محمد نے بھی حامد میر کے دعوے کو مسترد کیا اور کہا کہ میر صاحب آپ عدالت میں نہیں تھے، میں موجود تھا۔


انہوں نے مزید کہا کہ اُس زخمی اہلکار کو ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کے روبرو پیش کیا گیا تھا جس پر عدالت نے اس کے بارے میں استفسار بھی کیا تھا۔
 
Advertisement

samisam

Chief Minister (5k+ posts)
حامد میر جعفر فراڈیا اگر جھوٹ نہ بھونکے تو کیسے ثابت ہوگا کہ حرام کا نطفہ اور لعنتی لاوارث کا لعنتی وارث ہے
 

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
شہباز گل نے کچھ کہہ دیا تو وہ بات کنفرم نہیں ہوگئی ، عدالت کا اہلکار کے متعلق پوچھنا حامد میر کی بات کو تقویت دیتا ہے کہ شائد اہلکار عدالت میں نہیں گیا کیونکہ عدالت اس سے براہ راست بات نہیں کرسکی۔ اس کے متعلق حاضر اہلکاروں سے پوچھنا تو ثابت نہیں کررہا کہ وہ عدالت میں موجود تھا؟
اسکے علاوہ کیس درج ہونے کے بعد ایف آی اے نے ایکدم کیوں چھاپا مارا ؟ ملزم تو کہیں بھاگا نہیں جا رہا تھا اپنے گھر میں تھا اسے فون کر کے بلوا لیتے بعد میں ثابت بھی ہوگیا کہ وہ کہیں بھاگنے کی تیاری میں نہیں تھا؟
 

Eyeaan

Chief Minister (5k+ posts)
شہباز گل نے کچھ کہہ دیا تو وہ بات کنفرم نہیں ہوگئی ، عدالت کا اہلکار کے متعلق پوچھنا حامد میر کی بات کو تقویت دیتا ہے کہ شائد اہلکار عدالت میں نہیں گیا کیونکہ عدالت اس سے براہ راست بات نہیں کرسکی۔ اس کے متعلق حاضر اہلکاروں سے پوچھنا تو ثابت نہیں کررہا کہ وہ عدالت میں موجود تھا؟
اسکے علاوہ کیس درج ہونے کے بعد ایف آی اے نے ایکدم کیوں چھاپا مارا ؟ ملزم تو کہیں بھاگا نہیں جا رہا تھا اپنے گھر میں تھا اسے فون کر کے بلوا لیتے بعد میں ثابت بھی ہوگیا کہ وہ کہیں بھاگنے کی تیاری میں نہیں تھا؟
ماشا اللہ حامد میر کو لنگوٹی باندھنے کی کو شش ۔۔ یہ کمبخت تو مادر پدر ننگا ہے ( کبھی دل چاہتا ہے اسکے باپ کے کارناموں پر لکھا جائے مگر جو چلا گیا سو چلا گیا )
، شہباز گل کا اسمیں کیا لینا، کل یہ خبر اخبار میں رپورٹ ہوئی ہے ، عدالت میں جو رپورٹر تھے انکا ویلاگ ہے۔ ایک دوسرا ویلاگ بھی ہے۔ ظاہر ہے حامد میر غیر ملکی اور بھارتی میڈیا کیلئے دانستہ جھوٹ بول رہا ہے
 
Last edited:

Wakeel

MPA (400+ posts)
10hamidmirfakenews.jpg

اسلام آباد میں صحافی محسن بیگ کی گرفتاری کےمعاملے پر سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر کے جھوٹ کا پردہ فاش ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل بول نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ محسن بیگ کے گھر چھاپے کے دوران ایف آئی اے کا جو اہلکار زخمی ہوا سے عدالتی حکم کے باوجود عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت میں اس اہلکار کو پیش نہ کرنے کی 2 وجوہات ہوسکتی ہیں کہ یا تو وہ شخص ایف آئی اے کا نہیں کسی اور ادارے کا اہلکار تھا یا پھر وہ شخص ا یف آئی اے کی اس چھاپہ مار ٹیم کا حصہ نہیں تھا جس نے محسن بیگ کے گھر پر چھاپہ مارا۔


حامد میر کے اس دعویٰ پر وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے ٹویٹر پر ردعمل دیتے ہوئے اسے "فیک نیوز" قرار دیا اور کہا کہ محسن بیگ کے ہاتھوں زخمی ہونے والے اہلکار کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔


ڈاکٹر شہباز گل کے علاوہ نجی خبررساں ادارے جی این این کے رپورٹر اور اسلام آباد کے ایک صحافی عمران محمد نے بھی حامد میر کے دعوے کو مسترد کیا اور کہا کہ میر صاحب آپ عدالت میں نہیں تھے، میں موجود تھا۔


انہوں نے مزید کہا کہ اُس زخمی اہلکار کو ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کے روبرو پیش کیا گیا تھا جس پر عدالت نے اس کے بارے میں استفسار بھی کیا کنجر کا بچہ جھوٹا ہے یہ حرمی، ہر روز جھوٹ بولتا ہے
 

Husaink

Chief Minister (5k+ posts)
شہباز گل نے کچھ کہہ دیا تو وہ بات کنفرم نہیں ہوگئی ، عدالت کا اہلکار کے متعلق پوچھنا حامد میر کی بات کو تقویت دیتا ہے کہ شائد اہلکار عدالت میں نہیں گیا کیونکہ عدالت اس سے براہ راست بات نہیں کرسکی۔ اس کے متعلق حاضر اہلکاروں سے پوچھنا تو ثابت نہیں کررہا کہ وہ عدالت میں موجود تھا؟
اسکے علاوہ کیس درج ہونے کے بعد ایف آی اے نے ایکدم کیوں چھاپا مارا ؟ ملزم تو کہیں بھاگا نہیں جا رہا تھا اپنے گھر میں تھا اسے فون کر کے بلوا لیتے بعد میں ثابت بھی ہوگیا کہ وہ کہیں بھاگنے کی تیاری میں نہیں تھا؟
یہاں کیا کر رہے ہو عدالت جاؤ اطہر من الا کی معاونت کرو اور بڑی دیہاڑی لگاؤ
 

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
یہاں کیا کر رہے ہو عدالت جاؤ اطہر من الا کی معاونت کرو اور بڑی دیہاڑی لگاؤ
مجھے کوی خاص دلچسپی نہیں اس میں مگر اتنا جانتا ہوں کہ یہ کیس الٹا پڑنے والا ہے بہت جلد ماضٰی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے اب بھی ہوگا
 
Sponsored Link