حکومت نے مہنگی ایل این جی کی خریداری پر لوڈشیڈنگ کو ترجیح دے دی؟

loadsheding-and-govt-lng.jpg


ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ قیمتوں میں اضافہ بھی روز بروز ہورہاہے،شارٹ فال ساڑھےپانچ ہزارمیگا واٹ سے بڑھنے کا خدشہ ہے ، آئندہ دنوں میں بحران مزید بڑھ سکتا ہے،بجلی کی پیداوارایل این جی خریداروں کی عدم دلچسپی ہے،ایل این جیز کے تین کارگوزکیلئے صرف ایک کمپنی نے بولی میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

حکومت نے جولائی میں ایل این جی کارگو کی فراہمی کے لیے موصول ہونے والی واحد 39.8 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی مہنگی پیشکش قبول نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس جولائی میں ایک مرتبہ پھر صرف 800 ملین کیوبک فیٹ ،ایل این جی کے 8 کارگوز ہوں گے، جو قطر کے ساتھ طویل المدتی معاہدے سے ملیں گے۔

پیشکش جمع کرانے کے آخری روز جعمرات کو پاکستان کو جولائی کے ابتدائی تین ہفتوں 3 ایل این جی سلاٹس کے لیے کوئی پیشکش نہیں ملی لیکن جولائی کے آخری ہفتے کے سلاٹ کے لیے مہنگی ترین بولی موصول ہوئی۔

پیشکشیں نہ ملنے کی وجہ روس سے گیس سپلائی میں آنے والی رکاوٹوں کی وجہ سے یورپی صارفین کی اسپاٹ مارکیٹ میں زیادہ خریداری ہے۔

پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے جولائی کے پہلے اور دوسرے ہفتے میں ایک، ایک آخری ہفتے میں دو کارگوز کے لیے 16 جون کو ٹینڈر جاری کیا تھا لیکن 2-3 جولائی، 8-9 جولائی اور 25-26 جولائی کے لیے کوئی پیشکش موصول نہیں ہوئی۔

پی ایل ایل کی جانب سے جولائی کے پہلے ہفتے میں ایل این جی کارگو حاصل کرنے کی یہ تیسری ناکام کوشش تھی، اس سے پہلے 31 مئی اور 7 جون کو جاری کیے گئے دو ٹینڈرز پر بالترتیب دو اور ایک پیشکش موصول ہوئی تھی تکنیکی جواب نہیں مل سکا یوں وہ پیشکشیں ختم ہوگئیں۔

30 سے 31 جولائی کے لیے قطر انرجی ٹریڈنگ کی جانب سے 39.8 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی ریکارڈ بلند ترین قیمت پر ایک پیشکش موصول ہوئی تھی۔

ایک عہدیدار کے مطابق یہ پیشکش انتہائی مہنگی تھی اس لیے ہم نے ٹینڈر نہیں دیا پیشکش کی شرائط کے مطابق ہمارے پاس اسے مسترد کرنے کا خط لکھنے کے لیے 24 گھنٹے کا وقت ہے، اس کے بجائے لوڈشیڈنگ کی طرف جانا بہتر ہوگا‘۔

پاکستان نے 2015 میں ایل این جی کی درآمد شروع کرنے کے بعد سے اب تک کی سب سے مہنگی پیشکش نومبر 2021 میں 30.65 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو قبول کی تھی۔

ذرائع کتے مطابق مشرق وسطیٰ کے پروڈیوسرز کے علاوہ اسپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی سپلائیرز امریکی حکومت کے زیر اثر ہیں کہ وہ یورپی ممالک کو ایل این جی کی زیادہ سے زیادہ سپلائی یقینی بنائیں جو کہ روس سے سپلائی میں رکاوٹ کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی قیمت پر ایل این جی اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

سستے طویل مدتی معاہدوں سے آنے والے کارگوز کی ایک بڑی اکثریت کے باوجود پاکستان میں ریگیسیفائیڈ ایل این جی کی قیمتیں حالیہ مہینوں میں پہلے ہی 40 فیصد بڑھ کر 22-24 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ چکی ہیں۔
 
Advertisement

miafridi

Prime Minister (20k+ posts)
Corrupt incompetent beggars should know that by load shedding they mean to contain the local manufacturing as well as exports as well while it will give rise to imports to make up for the lost local manufacturing, so overall its a recipe for disaster.
 
Sponsored Link